بنگلور کا مستقبل اور ’’گریٹر بنگلور اتھارٹی‘‘
امید یا ایک اور بیوروکریٹک تجربہ؟
از : عبدالحلیم منصور
بنگلور، جو کبھی باغات اور جھیلوں کا شہر کہلاتا تھا اور آج آئی ٹی انڈسٹری کی بدولت عالمی شہرت رکھتا ہے، ایک ایسے تضاد کا شکار ہے جس نے اسے ترقی اور بدنظمی کے بیچ لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف اربوں روپے کی معیشت اور دنیا بھر کی سرمایہ کاری ہے، تو دوسری طرف ٹریفک جام، کچرے کے ڈھیر، پانی کی قلت، جھیلوں کی تباہی اور غیر منصوبہ بند تعمیرات شہریوں کے روزمرہ عذاب کو بڑھا رہی ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں ریاستی حکومت نے ’’گریٹر بنگلور اتھارٹی‘‘ (جی بی اے) کے قیام کا فیصلہ کیا ہے، جو بظاہر شہری مسائل کے حل کے لیے ایک بڑا قدم کہا جا رہا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ نیا ڈھانچہ واقعی کارگر ہوگا یا پھر ایک اور بیوروکریٹک تجربہ بن کر رہ جائے گا؟
اس قانون کے تحت بروہت بنگلورو مہا نگر پالیکے (بی بی ایم پی) کی جگہ اب گریٹر بنگلورو اتھارٹی (جی بی اے) قائم ہو چکی ہے، اور ستمبر 2025 میں حکومت نے باضابطہ طور پر پانچ نئے کارپوریشنز کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت کی دلیل یہ ہے کہ ایک بڑے ادارے کی جگہ پانچ کارپوریشنز شہری مسائل کو بہتر طریقے سے سنبھال سکیں گی، اور جی بی اے ان سب کا ناظم و نگران ہوگا۔
بنگلور میونسپل ایڈمنسٹریشن کا آغاز انگریزی دور سے ہوا، جب 1862 میں پہلی بار شہری بلدیہ وجود میں آئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ وسعت اختیار کرتا گیا اور آزادی کے بعد کئی مرتبہ اس کا ڈھانچہ بدلا گیا۔ 2007 میں جب بڑے پیمانے پر انضمام ہوا تو بی بی ایم پی کے تحت آٹھ میونسپل کونسلیں، ایک سو گیارہ دیہات اور چند ٹاؤن شپ شامل کیے گئے، تاکہ ایک متحدہ شہری ادارہ بنایا جا سکے۔ اس فیصلے کے بعد توقع تھی کہ تیز رفتار ترقی کو منظم طریقے سے آگے بڑھایا جائے گا، مگر عملی صورت اس کے برعکس نکلی۔ شہری آبادی کے پھیلاؤ اور غیر متوازن ترقی نے بی بی ایم پی کو ایک بے ربط اور بوجھل ادارہ بنا دیا جس میں شفافیت اور جوابدہی کا فقدان نمایاں ہے۔
وقت نے یہ بھی ثابت کیا کہ اختیارات اور وسائل کے بغیر کوئی ادارہ محض کاغذی حیثیت رکھتا ہے۔ بی بی ایم پی کو نہ وہ مالی طاقت ملی، نہ منصوبہ بندی کی آزادی، جس کی ضرورت تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسائل جوں کے توں رہے اور عوامی اعتماد کمزور ہوتا گیا۔ مزید یہ کہ گزشتہ دس برس سے زائد عرصے سے شہر بلدیاتی نمائندوں سے محروم ہے۔ نہ کونسلرز ہیں، نہ میئر، اور نہ ہی کمیٹیاں۔ پورا نظام افسروں کے رحم و کرم پر ہے۔ یہ ایک جمہوری شہر کے لیے نہ صرف بدقسمتی ہے بلکہ جمہوریت کی روح کے بھی خلاف ہے کہ لاکھوں ٹیکس دہندگان کو نمائندگی ہی نہ ملے۔
اسی خلا میں حکومت نے گریٹر بنگلور اتھارٹی کی تشکیل کا راستہ اختیار کیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ شہر کی بڑھتی آبادی اور پھیلاؤ نے مسائل کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا ہے کہ ایک مربوط اور وسیع اختیارات والی اتھارٹی کے بغیر بہتری ممکن نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ پانی، سڑکیں، ٹرانسپورٹ اور صفائی جیسے شعبے مختلف محکموں میں بٹے ہوئے ہیں اور ایک مرکزی ادارہ ہم آہنگی کے ساتھ کام کر سکے گا۔ اسی لیے نئے قانون کے تحت بی بی ایم پی کو تحلیل کر کے شہر کو متعدد کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ مقامی سطح پر مسائل جلدی حل ہوں اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبے جی بی اے کے تحت مربوط انداز میں آگے بڑھ سکیں۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ بنگلور اپنی معتدل اور خوشگوار آب و ہوا کی وجہ سے ہمیشہ ملک بھر کے طلبہ، مزدوروں، آئی ٹی ملازمین اور صنعتکاروں کو اپنی طرف کھینچتا رہا ہے۔ شہر کی آبادی میں مسلسل اضافہ روزگار کی تلاش میں آنے والے لاکھوں مہاجرین کی وجہ سے ہوا ہے۔ ایک طرف یہ لوگ شہر کی معیشت کو مضبوط کرتے ہیں، تو دوسری طرف انہی کی بڑھتی ہوئی تعداد نے بنیادی سہولتوں پر بے پناہ دباؤ ڈال دیا ہے۔ کچرے کا ڈھیر، ٹریفک کا بحران، پانی کی کمی اور رہائش کے مسائل اسی بے قابو شہری پھیلاؤ کا نتیجہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا گریٹر بنگلور اتھارٹی ان زمینی حقائق کو دھیان میں رکھ کر کوئی دیرپا حل نکال پائے گی یا نہیں؟
بنگلور صرف آئی ٹی ہب نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور ثقافتی مرکز بھی ہے۔ یہاں کے باغات، جھیلیں، تاریخی عمارتیں اور قدیم روایات اس کی شناخت کا حصہ ہیں۔ لیکن آج اندھا دھند ترقی اور لالچ نے شہر کی اصل روح کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جھیلیں سکڑ کر رہ گئی ہیں، درخت کٹ رہے ہیں اور ماحولیاتی توازن بگڑ رہا ہے۔ اگر نئی اتھارٹی نے ترقی کے نام پر ماحولیات کو قربان کر دیا تو یہ شہر اپنی پہچان کھو دے گا۔
تاہم اپوزیشن اور ماہرین اس پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب پچھلے کئی برسوں سے بلدیاتی انتخابات ہی نہیں کرائے گئے اور عوامی نمائندگی کو مسلسل کمزور کیا گیا تو ایک نئی اتھارٹی محض اختیارات کو مزید بیوروکریسی اور وزیروں کے ہاتھوں میں مرکوز کرنے کا حربہ ہے۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت عوامی رائے سے بھاگ رہی ہے اور اس نئے ڈھانچے کے پیچھے دراصل سیاسی کنٹرول کو بڑھانے کی نیت چھپی ہے۔ بعض ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر ریونیو شیئرنگ کا شفاف نظام نہ بنایا گیا تو امیر اور غریب علاقوں کے درمیان فرق مزید بڑھے گا اور نئے ادارے بھی پرانی ناکامیوں کو دہرا دیں گے۔
یہ اعتراضات محض خدشات نہیں بلکہ عملی تجربات سے جڑے ہوئے ہیں۔ دہلی اور دیگر شہروں کے تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ محض ادارہ بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اصل مسئلہ سیاسی عزم، شفافیت اور عوامی شمولیت کی کمی ہے۔ بی بی ایم پی کے بجٹ میں ہر سال اربوں روپے مختص ہوتے ہیں لیکن عملی طور پر ترقیاتی منصوبے زمین پر نہیں اترتے۔ بدعنوانی، بدنظمی اور جوابدہی کی کمی ہر سطح پر دیکھی جاتی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو گریٹر بنگلور اتھارٹی بھی صرف ایک نیا دفتر اور نیا نام ہی ثابت ہوگی۔
یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ شہر کا اصل مسئلہ انفراسٹرکچر سے زیادہ حکمرانی کا ہے۔ جب تک عوامی نمائندے بااختیار نہیں ہوں گے اور بلدیاتی انتخابات شفافیت کے ساتھ نہیں کرائے جائیں گے، تب تک شہر کی تقدیر افسروں کے فیصلوں تک محدود رہے گی۔ اگر واقعی گریٹر بنگلور اتھارٹی کو کامیاب بنانا ہے تو سب سے پہلے انتخابات کی تاریخ واضح کی جائے، ریونیو شیئرنگ کا فارمولہ شفاف بنیادوں پر طے کیا جائے، وارڈ کمیٹیوں کو حقیقی اختیار دیا جائے اور عوامی نگرانی کو لازمی بنایا جائے۔ اس کے بغیر شہریوں کی روزمرہ مشکلات — ٹریفک جام، کچرے کا انتظام، پانی کی قلت، ٹوٹی سڑکیں اور آلودہ جھیلیں — جوں کی توں رہیں گی۔
بنگلور کا مستقبل محض ایک نئے ادارے کے قیام پر نہیں بلکہ اس بات پر منحصر ہے کہ کیا حکومت جمہوریت، شفافیت اور عوامی شمولیت کا احترام کرتی ہے یا نہیں۔ اگر یہ اتھارٹی عوامی کنٹرول اور جوابدہی کے تحت کام کرے گی تو یہ ایک سنگ میل بن سکتی ہے، لیکن اگر یہ محض سیاسی ارادوں کا کھیل ثابت ہوئی تو شہری مسائل مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔ ایک کروڑ سے زائد آبادی والے اس شہر کے عوام اب یہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ آخر کب تک ان کی زندگی کاغذی وعدوں اور بیوروکریٹک تجربات کی نذر کی جاتی رہے گی؟
"حقیقی امتحان ناموں یا ڈھانچوں کا نہیں، بلکہ عوام کی زندگی بدلنے کا ہے۔ اگر شہریوں کی مشکلات کم نہیں ہوتیں تو چاہے ادارے کا نام کچھ بھی ہو، تاریخ اسے ناکامی ہی کہے گی۔‘‘