Skip to content
جب جب یوگی ڈرتا ہے ، پولیس کو آگے کرتا ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
اتر پردیش میں مذکورہ بالا نعرہ سنگھ پریوار کی طلبا ء تنظیم لگا رہی ہے اور ساتھ میں یہ کبھی کہتی ہے’یوگی تم اب ہوش میں آو ، ہوش میں آو ہوش میں آو‘۔ اس کو کہتے ہیں’ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے ‘۔ یہ معاملہ بارہ بنکی میں رام سوروپ یونیورسٹی کا ہے۔ بی جے پی کی طرح اس نجی یونیورسٹی کے بھی ’منہ میں رام بغل میں چھری ‘ہے۔ وہاں ایل ایل بی کورس کارجسٹریشن منسوخ ہوچکا مگر طلباء سے فیس لی جارہی اور پچھلے ۳؍ سال سے کھلے عام تعلیمی مافیا کی لوٹ مار جاری ہے مگر بدعنوانی پر’ زیرو ٹالرنس‘ کا نعرہ لگانے والی یوگی سرکار یا تولٹیروں سے ملی ہوئی ہے یا خوابِ غفلت میں مبتلا ہے، وجہ جو بھی ہو طلبا کے مستقبل سے کھلواڑ ہورہا ہے ۔ اس استحصال کے خلاف خود ہندوتوا نواز اے بی وی پی کے طلباء نےاحتجاج کیا تو ان پر غنڈے پولیس سے ڈنڈے لے کر ٹوٹ پڑے۔ یہ غنڈوں کا غول کہاں سے آیا ؟ کس نے انہیں بھیجا اور پولیس نے ان کو روکنے کے بجائےتعاون کیوں کیا؟ ان سارے سوالات کا جواب یوگی کی قائم کردہ مافیا’ہندو یوا واہنی ‘ کے اندر چھپا ہوا ہے۔ یوگی ادیتیہ ناتھ چونکہ آر ایس ایس کی شاکھا سے نہیں آئے اس لیے انہوں نے اپنے تحفظ کی خاطر 2002 میں اس تنظیم کی داغ بیل ڈالی لیکن وزیر اعلیٰ بننے کے بعد جب سرکاری حفاظتی بندو بست ہوگیا تو 2022 کے اندر اسے تحلیل کردیا۔ ایسا لگتا ہے کہ شاید امیت شاہ کی جانب سے پیدا ہونے والے عدم تحفظ نے اس کی ضرورت کاپھر سے اجاگر کردیا ہے۔
بارہ بنکی میں آر ایس یو کے خلاف احتجاج کے دوران اے بی وی پی کا ایک رہنما کیمرے کے سامنے یہ الزام لگا چکا ہے کہ احتجاجی طلباء پر پہلے پولیس کی لاٹھیوں سے لیس غنڈوں نے حملہ کیا اور جب وہ ان سے قابو میں نہیں آئے تو یوگی کی پولیس خود اپنے ہی طلبا کو دوڑا دوڑا کے مارا۔ یوپی پولیس کو یوگی پولیس اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ موصوف ریاست کے وزیر داخلہ بھی ہیں اور پولیس کا محکمہ انہیں کے تحت چلتا ہے۔ بارہ بنکی میں جن طلبا کی کٹائی ہوئی ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انتظامیہ اب بھی نئے داخلے کروا رہا ہے جبکہ 2022 میں بار کونسل آف انڈیا نے یونیورسٹی کے ایل ایل بی کورس کا رجسٹریشن منسوخ کر دیا ہے۔ اس معاملے کولےکر ایک ہفتہ قبل اے بی وی پی کارکنان نے یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ مل کر احتجاج شروع کیا جو ان کی ذمہ داری اور حق ہے ۔ اس کے بعد یہ احتجاج ’مشعل ریلی‘ کی شکل میں صوبے کے مختلف ضلعی ہیڈ کوارٹرس تک پہنچ گیا مگر یوگی کمبھ کرن کی نیند سوتےرہے یا سونے کا ناٹک کرتےرہے ۔ ابتدا میں طلبا کا غصہ یوگی کی طرف تھا مگر درمیان میں مرکزی وزیرارون راج بھر کے باپ اور صوبائی وزیر او پی راج بھر نے اچانک یہ کہہ دیا کہ ملک قانون اور آئین سے چلے گا نیز غنڈہ گردی ہوگی تو اس پر پولیس کارروائی بھی کی جائے گی۔ اس بیان میں یوگی کا دفاع کیا گیا تھا مگر اس سے اے بی وی پی کو اپنا نزلہ اتارنے کے لیےنیا ہدف مل گیا۔
اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشدجن کے اندر ہمت نہیں ہے کہ لکھنؤ جاکر وزیر اعلیٰ یوگی کے گھر پرمظاہرہ کرسکیں اس لیےنرم چارہ یعنی ریاستی وزیر اوم پرکاش راج بھر کی رہائش گاہ پہنچ کر ان کے الزام کو درست ثابت کرنے کے لیے پتھر بازی کرنے لگے ۔ ان کی ذات کو نشانہ بناکر گالی گلوچ کرنے پر اتر آئے۔ طلباء نے نہ صرف نعرے لگائے بلکہ وزیر کا پتلا بھی نذر آتش کیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ اوم پرکاش راج بھر اے بی وی پی پر لاٹھی چارج کی حمایت کررہے ہیں اور تنظیم سے وابستہ طلبہ کو ’’اے بی وی پی کے غنڈے‘‘ کہہ رہے ہیں۔ یہ عجب تماشا ہے کہ جو ڈنڈے لگوا رہا ہے اس کا پتلا تو ان سے جلایا نہیں جاتا لیکن اس کی زبانی بلا واسطہ حمایت کرنے والے کاپتلا پھونکا جاتا ہے۔ او پی راج بھر نے دیکھا کہ یوگی ڈر گئے ہیں تو انہوں نےبھی پلٹی مارلی اور بولے وہ طلبا پر تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں اے بی وی پی کا نام نہیں لیا بلکہ یہ عمومی بات کہی کہ غنڈہ گردی کرنے والوں پرآئین کے مطابق کارروائی ہوگی کیونکہ ملک دستور سے چلتاہے۔
او پی راج بھر نے اپنی اور اپنے بیٹے ارون راج بھرکی مرکزی وزارت بچانے کے لیے جو بھی منافقانہ بیان دیا ہو لیکن سچائی تو وہی ہے جو سہیل دیوسماجوادی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری ارون راج بھر نے ابتداء میں کہی تھی کہ کچھ لوگوں نے ایک وزیر کی رہائش گاہ پر پتھراؤ کیا اور بدسلوکی کی۔ ایک انتہائی پسماندہ طبقے کے رہنما سے ایسا سلوک نامناسب ہے اوریہ غنڈہ گردی ہی ہے۔ اس وقت مرکزی وزیر ارون راج بھر نے انتظامیہ سے مطالبہ کیاتھا کہ ایسے شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کے اظہار کا حق ہے لیکن تشدد اور بے ضابطگی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔اصولاً یہ بات درست ہےلیکن اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد تو اپنے آپ کو قانون سےبالاتر سرکاری داماد سمجھتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے ایک رکن نے اتر پردیش کے وزیر اور سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر کو قانونی نوٹس دےچوری اور سینہ زوری کی مصداق ان پر ہتک و توہین آمیز تبصرہ کرنے کا الزام لگادیا ۔ یعنی اپنی غنڈہ گردی تو جائز ہے مگر اس پر کسی قسم کی تنقید گوارہ نہیں ہے۔ یہ سب اسی لیےہورہاہے کیونکہ اے بی وی پی کو انتظامیہ اور عدلیہ کاتحفظ ملاہوا ہے ورنہ کیا پدیّ اور کیا پدیّ کا شوربہ؟
اے بی وی پی والوں میں یوگی سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کی ہمت نہیں ہے اس لیے راج بھر کےپتلے جلا کر ان کے استعفیٰ اور معافی کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ او پی راج بھر کے بیٹے ارون نے اپنے گھر کے باہر تشدد کو ” طلباء کی سرگرمی نہیں بلکہ غنڈہ گردی ” مانتے ہیں ۔ او پی راج بھر اونچے درجہ کے ابن الوقت ہیں جنہیں نظریات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ موصوف ہمیشہ کرسی کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں ـانہیں سماجوادی اور بی جے پی کے ساتھ کھڑے رہنے میں کوئی عار نہیں محسوس ہوتی اور وہ اس کو چھپاتے بھی نہیں مگر اس بار وہ بری طرح پھنس گئے کیونکہ ایک طرف یوگی سے وفاداری اور دوسری جانب سنگھ پریوار کی اے بی وی پی سےغداری کا معاملہ ہے۔ ان کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ ان دونوں کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے؟ ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کے خلاف جو سب سے زہریلا نعرہ وضع کیا گیا وہ تھا ’جب ملےّ کاٹے جائیں گے، رام رام چلّائیں گے‘۔ ایسا نہ ہوا اور نہ ہوگا کیونکہ مسلمانوں پرجب حملے ہوتے ہیں تو وہ اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہیں مگر اے بی وی پی والوں پر یوگی کی پولیس نے ڈنڈے برسائے تو وہ راج بھر کے پتلے جلانے لگے یعنی اب ان کی لبوں پر یہ نعرہ ہے ’یوگی ڈنڈے برسائیں گے ہم راج بھر چلاّئیں گے‘۔
اے بی وی پی میں اول تو ہمت نہیں تھی کہ یوگی کا نام لیتے جیسے مودی میں جرأت نہیں ہے کہ ٹرمپ یا جن پنگ کا نام لیں لیکن یہ معاملہ اتنا بگڑ گیا کہ کئی طلباء شدید زخمی ہو گئے تو مجبوراً وہ یوگی کا نام لے کر نعرے بازی کرنے لگے۔طلبا کو بارہ بنکی کے ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا تو وہاں زخمی کارکنوں کو بستر دستیاب کرانےمیں آنا کانی کی گئی ۔ اس پر سی ایم او اودھیش یادو کے سامنے نعرے بازی کرنی پڑی ۔ حالات کو بگڑتا دیکھ کر گھبرائے ہوئے سی ایم او نے فوری طور پر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد لکھنؤ ٹراما سینٹر اسپتال ریفر کرکے اپنی جان چھڑائی ۔ 25 سے زائدزخمی کارکنان کی بارات لکھنو پہنچی تو یوپی حکومت کے وزیر ستیش شرما نے ان کی عیادت کی۔ ان سے قبل ڈی ایم ایس پی کو مشتعل طلباء نے اسپتال کے گیٹ پر روک کر اتنی نعرے بازی کی کہ ان دونوں کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا تھا۔آگے چل کر ڈی ایم-ایس پی کی رہائش گاہ پر پولیس فورس تعینات کر نا پڑی۔ دیر رات نگر کوتوالی کے انچارج انسپکٹر رانا کو فوری طور پر معطل کر کے سدھیر سنگھ کو نیا کوتوال بنا یا گیا۔ اے بی پی کے نزدیک کل تک تو یوپی کی پولیس تو وہ مقدس سانڈ تھی جس کی ہر زیادتی پر وہ بغلیں بجاتے تھے اب جب اپنے پر آئی تو وہ فرشتہ سے شیطان ہوگئی اور اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ ہونے لگا ۔ اتر پردیش کے انکاونٹر راج پر خوشیاں منانے والوں کو اب دال آٹے کا بھاو پتہ چل رہا ہے کیونکہ کانٹے بن گئے پھول ۔ سچ تو یہ ہے کانٹے کی ٹیس کا پتہ اسی وقت چلتا ہے کہ جب وہ اپنے پاوں میں چبھے ۔ ایسے میں عرفان صدیقی کا یہ شعر یاد آتا ہے؎
ذرا سوچو تو اس دنیا میں شاید کچھ نہیں بدلا
وہی کانٹے ببولوں میں، وہی خوشبو گلابوں میں
Like this:
Like Loading...
بہت خوب تبصرہ
بہت خوب تجزیہ۔ جزاک اللہ