Skip to content
یورپی یونین ،9ستمبر(ایجنسیز)یورپی یونین کے ترجمان انور العنونی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے فلسطینی غیر سرکاری تنظیموں پر عائد حالیہ پابندیاں "افسوس ناک اور غیر منصفانہ” ہیں۔
انھوں نے "العربیہ” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی پابندیاں انسانی حقوق کے کارکنوں کے کام کے منافی ہیں، کیونکہ یہ افراد معاشروں کی تعمیر اور جمہوری اقدار کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ العنونی کا مزید کہنا تھا کہ "ان لوگوں کو تحفظ دینا اور ان کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔ ججوں پر حملے یا ان پر پابندیاں عائد کرنا، جیسا کہ اس معاملے میں عالمی فوجداری عدالت کے ججوں یا منتخب نمائندوں پر کیا جا رہا ہے، ناقابل قبول ہے”۔
ترجمان نے زور دیا کہ یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک دو ریاستی حل پر متفق ہیں اور اسے امن قائم کرنے کا واحد راستہ سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یورپی یونین غزہ میں فوری فائر بندی اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ العنونی نے ساتھ ہی اسرائیل پر زور دیا کہ وہ امدادی سامان کی ترسیل میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کرے۔ ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ یورپی یونین انسانی بحران میں کمی لانے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ جمعرات کو یورپی کمیشن کی نائب صدر تریزا ربیرا نے کہا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں "نسل کشی” کے مترادف ہیں۔ وہ کمیشن کی پہلی اعلیٰ شخصیت بن گئیں جنھوں نے اسرائیل پر یہ الزام عائد کیا۔
اسرائیل نے ربیرا کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ "حماس کی پروپیگنڈا مشین” کی زبان بول رہی ہیں۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان اورن مارموراسٹین نے "ایکس” پلیٹ فارم پر لکھا کہ "ہم کمیشن کی نائب صدر کے ان بے بنیاد دعووں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ حماس کی پھیلائی ہوئی نسل کشی کی اصطلاح دہرانے کے بجائے انھیں یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا اور حماس کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہیے تھا تاکہ جنگ ختم ہو سکے”۔
یورپی یونین اس معاملے پر منقسم ہے، اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے کے آغاز سے ہی 27 رکن ممالک کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔کئی ممالک بالخصوص جرمنی، اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق پر زور دیتے ہیں، جبکہ اسپین سمیت کچھ ممالک مہینوں سے اسرائیلی کارروائیوں کو "نسل کشی” قرار دیتے آ رہے ہیں۔ یہی اختلاف رائے یورپی یونین کے کسی اجتماعی اقدام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
جون کے آخر میں یورپی کمیشن نے رائے دی تھی کہ اسرائیل، یورپی یونین کے ساتھ شراکت داری معاہدے کی اس شق کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو انسانی حقوق کے احترام سے متعلق ہے۔ کمیشن نے تجویز دی تھی کہ اس کے جواب میں اسرائیلی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے لیے یورپی فنڈنگ کا کچھ حصہ معطل کیا جائے، تاہم کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات کے باوجود یہ تجویز اب تک رکن ممالک کی منظوری حاصل نہیں کر سکی۔
Like this:
Like Loading...