Skip to content
وشو گرو کے ڈھول کا پول ؟
ازقلم: ڈاکٹر سلیم خان
بی جے پی کے بابا آدم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے اپنی صد سالہ تقریبات کا آغاز دہلی کے وگیان بھون میں تین روزہ کانفرنس سےکیا۔ اس موقع پرآر ایس ایس کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت نے عصرِ حاضر میں اپنی تنظیم کی غرض و غایت اس طرح بیان کی کہ “سنگھ کی حقیقی معنویت تبھی ہے، جب بھارت وشوگرو (عالمی رہنما) بنے۔“ کاش کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آتا جب کانگریسیوں یامغلوں کی حکومت تھی تو سنگھ کے وجود کا جواز بھی موجود ہوتا لیکن پچھلے ۱۱؍ سالوں سے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت ہندوستان کو وشو گرو بنانے میں جٹی ہوئی ہے ۔ اس سے قبل ۶؍ سالوں تک اٹل بہاری واجپائی بھی ایک ناکام سعی کرچکے ہیں ۔ آپریشن سیندور کے دوران پاکستان پر قبضہ کرنے والے گودی میڈیا نے کروڈوں اندھ بھگتوں کو یہ باور کرادیا ہے کہ ہندوستان اور مودی دونوں وشو گرو بن چکےہیں۔ ان لوگوں کے لیے تو اب سنگھ کی کوئی ضرورت ہی نہیں بچی لیکن شاید موہن بھاگوت کے نزدیک مودی اور واجپئی اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوئے اس لیے وہ آر ایس ایس کے ذریعہ یہ ہدف حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔
ایک سو سال تک جدو جہد کرنے کے بعد آر ایس ایس اپنے سیوک کو وزیر اعظم بنانے میں تو کامیاب ہوگیا مگر کیا وہ رہنما سنگھ کی مدد کے باوجود ملک کو وشو گرو (عالمی قائد) بنانے میں کامیاب ہوسکا ؟ یا اس نے اقتدار کی خاطر خود کو وش گرو( زہریلا رہنما )بنادیا؟ان دونوں سوالات کا جواب جاننے کے لیے اگرعالمی قیادت کے تناظر میں وزیر اعظم نریندر مودی کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو مایوس کن صورتحال سامنے آتی ہے۔ وہ بغیر چیلوں کے گرو دکھائی دیتے ہیں ۔ چیلا تو دور کوئی قابلِ ذکر بڑا ملک ہندوستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کی خاطر تیار بھی نہیں ہے۔ دنیا کے بڑے ممالک کی بات کریں امریکہ جیسے سُپر پاور کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مودی جی سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ مودی کو رسوا کرنے کا وہ کوئی موقع نہیں گنواتے۔ انہوں نے اپنے قدیم دوست کے لیے جو برے بھلے القاب استعمال کیے ہیں اس کے سامنے بہار کی گالی تو بھی ہلکی لگتی ہے۔ٹرمپ کم ازکم چالیس مرتبہ تجارت کی دھمکی دے کر جنگ رکوانے کی بات کرچکے ہیں مگر مودی کے اندر ہمت نہیں ہے کہ ایک بار نام لے کر کہہ سکیں کے جناب عالی آپ کا ایک جھوٹ کو بار بار دوہرانااسے سچ نہیں بنا دیتا ۔ بعید نہیں کہ ٹرمپ درست ہو اور مودی جھوٹ بول رہے ہوں ۔ واللہ اعلم ۔
مودی ابھی حال میں چین گئے تو گودی میڈیا ان کے حوالے سے خوب جھوٹ پھیلایا ۔ کسی اور موقع کی تصویر کو چین سے جوڑ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ان کا بہت زبردست استقبال کیا گیا ۔ یہاں تک کہ چینی ذرائع کو اس کی تردید کرنی پڑی۔ ان کے خیر مقدم کی خاطر لگائے جانے والے الکٹرانک بینر کے بارے میں انکشاف ہوا کہ اس میں فریب دینے کےلیے فوٹو شاپ کی مدد سےمودی کا نام لکھ دیا گیا ۔ مودی کی احمقانہ ہنسی کی بے شمار تعریف توصیف کی گئی۔ عالمی رہنماوں کو انگلی دکھانے کوجو درحقیقت بدتمیزی کا مظاہرہ تھا مودی کے طاقتور ہونے کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا حالانکہ شی جن پنگ نے انہیں دو دن بعد وکٹری پریڈمیں بلانے کی زحمت تک نہیں کی جو ایک معنیٰ میں توہین ہے ۔ ہندوستان کےپڑوسیوں میں نیپال سے لے مالدیپ تک سارے ممالک کو بلانا اور پاکستان سے تو وزیر اعظم کے ہمراہ کمانڈر ان چیف عاصم منیر کو دعوت دینا اسے غیر معمولی اہمیت دینے کے مترادف تھا۔
یہ عجیب اتفاق ہے کہ وزیر اعظم مودی جی 20؍ نشست سے فارغ ہوکر نکل رہے ہوتے ہیں تو پاکستانی آرمی چیف امریکہ کی تاریخ میں پہلی بارایک فوجی سربارہ کی حیثیت سے ٹرمپ کے ساتھ دعوت طعام اڑا رہے ہوتے ہیں۔ چین سے جس وقت وزیر اعظم نریندر مودی لوٹنے کی تیاری کے وقت پاکستانی جنرل چین کی جانب رواں دواں تھے۔ آپریشن سیندو میں ۶؍ پاکستانی جنگی جہازوں کو گرانے والے ہندوستانی ائیر مارشل جنرل سنگھ یا سی ایس ڈی چوہان کو یہ اعزاز کیوں حاصل نہیں ہوتا ؟امریکہ کے دشمن نمبر ایک چین کا تو یہ حال کہ جب راجناتھ سنگھ سی ایس او کے وزرائے دفاع کی نشست میں مشترکہ اعلانیہ کے اندر پہلگام کے نہ ہونے اور جعفر آباد کے تذکرے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہیں تو انہیں نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ کیا کسی وشو گرو کے ساتھ ایسا سلوک بھی ہوتا ہے؟ کاش کے اندھ بھگت اس سوال پر غور فرمائیں۔ ویسے اگر وہ اسے راجناتھ کی ذاتی ناکامی کہہ کر اس کو کامیابی میں بدلنے کی خاطر مودی جی کے دورے کی بات کی جائے تو وہ خوش فہمی بھی وزیر اعظم کے حالیہ دورے سے دور ہوگئی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے چین جانے سے قبل توازن قائم رکھنے کے چکر میں جاپان جاکر جو عظیم غلطی کی اس نے بیجنگ کو مزید ناراض کردیا۔ چین کی حالیہ وکٹری پریڈ جاپان کی شکست کا جشن تھا کیونکہ اس نے لاکھوں چینیوں کو نہایت بے دردی سے قتل کیا تھا۔ جاپان کے خلاف چین کے اندر زبردست نفرت اور غم و غصہ ہے۔ ایسے میں اگر کوئی سربراہِ مملکت چین آنے سے قبل جاپان چلا جائے تو ان کے زخموں پر نمک پاشی ہوتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسےخدا نخواستہ ہندوستان آتے ہوئے پوتن اسلام آباد جاکر بڑے بڑے اعلانات فرما دیں ۔ اس کے بعد ہندوستانی کیسامحسوس کریں گے ؟ حکومتِ چین نے اپنی ناراضی کا اظہار وزارت خارجہ کے ذریعہ نشر کیے جانے والے ایس سی او اجلاس کے خلاصے میں کیا ۔ اس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے سوا سارے شرکاء کا ذکر ملک کے ساتھ درج کیا گیا ۔ ہندوستان کے بارے میں لکھا گیا اس کے نمائندے نے شرکت کی ۔ یہ ملک کی نہیں فرد کی توہین ہے اور اس کے لیے جاپانی دورہ ذمہ دار ہے۔
عالمی سیاست کی بساط چین کے علاوہ امریکہ بھی مودی جی سے کھیل رہا ہے۔ ٹرمپ ایک دن ڈانٹتے ہیں تو دوسرے دن دوست کو گنوانے پر افسوس کا اظہار کرکے امید جگاتے ہیں ۔ تیسرے دن تعریف کرکے پچکارتے ہیں اور چوتھے دن اپنے وزیر خزانہ نے مزید ٹیرف کے بڑھانے کی دھمکی دے دیتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی شریر بچے کو پہلے ڈانٹا جائے اور وہ منہ بسور کر بیٹھ جائے تو لالی پاپ پکڑا کر خوش کردیا جائے۔وہ اسے لے کر اچھلنے کودنے لگے اور پھر سے شرارت کا خطرہ لاحق ہوجائےتو دوبارہ ڈانٹ ڈپٹ دیا جائے۔ امریکہ یہی کررہا ہے اور اسی لیے وزیر اعظم نے اس بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے بذاتِ خود امریکہ جانے کے بجائے وزیر خارجہ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن یہ حل نہیں ہے۔ ملک کی خارجہ پالیسی فی الحال تین پہیوں پر چلتی ہے۔ وزیر اعظم اکیلے چین جاتے ہیں اور روس اجیت ڈوبھال کو بھیجا جاتا ہے جبکہ امریکہ جانے کے لیے ایس جئے شنکر کا انتخاب ہوتا ہے یعنی مودی امریکہ و روس نہیں جاتے۔ دوبھال چین اور امریکہ کا رخ نہیں کرتے اور جئے شنکر کو چین یا روس نہیں بھیجا جاتا۔ اس طرح کی کٹی پھٹی خارجہ ٹیم دنیا پر کیسے اثر انداز ہو گی؟
دو قطبی دنیا میں ہندوستان کو آزادی ملی اور ملک تقسیم ہوا تو پاکستان نے امریکہ کا دامن تھاما اور ہندوستان کا جھکاو سوویت یونین کی جانب ہوگیا ۔ ایک زمانے میں پوری دنیا ہندوستان کے ساتھ تھی ۔ اس دور میں یہ نغمہ خوب چلا تھا ’میرا جوتا ہے جاپانی اور پتلون انگلستانی ، سرپہ لال ٹوٹی لیکن پھر بھی دل ہے ہندوستانی‘۔ سر پہ لال ٹوپی کی علامت امتیاز وتفاخر کے ساتھ ساتھ اشتراکی فکر کا قلب وذہن پر تسلط بھی تھا۔ اس کے بعد آگے بات آگے بڑھی تو پنڈت نہرو نے ناصر اور ٹیٹو کے ساتھ مل ’غیر جانبدار ممالک ‘ کی تحریک نہ صرف شروع کی بلکہ قیادت بھی کی ۔ اس تحریک میں ڈیڑھ سو سے زیادہ ممالک شامل ہوگئے۔ اس کے باوجود سوویت یونین نےہر دُکھ سُکھ میں ہندوستان کا ساتھ دیا۔ درمیان میں ہندی چینی بھائی بھائی نعرہ لگایا جسے ایک 1962کی جنگ نے باہمی تعلقات کو جھٹکا دیا ۔ آگے چل کر امریکہ سے قربت بڑھی یہاں تک وزیر اعظم نریندر مودی ٹرمپ کے پرچار منتری بن گئے۔ نمستے ٹرمپ کہہ کر ’اب کی بار ٹرمپ سرکار ‘ کا نعرہ تک لگادیا لیکن اب یہ حال ہے کہ روس ، امریکہ اور چین ہندوستان کا ساتھ چھوڑ کر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ جی ہاں اسی پاکستان کے ساتھ جس کو ناکام ریاست کہتے کہتے ہمارے مبصرین اور دانشوروں کی زبانیں گھِس چکی ہیں۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس ہندوستان کو پنڈت نہرو نے کم ازک غیر سُپر پاور ممالک کا عالمی رہنما بنایا تھا مودی جی جیسے نام نہاد وشوگرو نے اس مقامِ بلند سے بھی ہندوستان کو محروم کردیا ہے ۔ اس انحطاط میں آر ایس ایس کا بھی حصہ ہے کیونکہ وزیر اعظم ملک کے نہیں بلکہ سنگھ کے سیوک( خادم ) ہیں۔ کاش کے یہ بات موہن بھاگوت کی سمجھ میں آجائے کہ ملک کو وشو گرو بنانا کم از کم مودی جی کے بس کا روگ نہیں ہے۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...