Skip to content
مانیٹر یا حکمران؟ بچپن کی یادوں کا آئینہ
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
اسکول کی زندگی انسان کے حافظے کی سب سے رنگین البم ہوتی ہے۔ یہ ایسی البم ہے جس کے اوراق کبھی پیلے نہیں پڑتے، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور بھی زیادہ جگمگاتے ہیں۔ اس البم کے ہر صفحے پر کبھی مارکر کی سیاہی کے دھبّے مسکرا رہے ہوتے ہیں، کبھی ماسٹر صاحب کی ڈانٹ کی بازگشت سنائی دیتی ہے، کبھی بریک ٹائم کے سموسوں کی خوشبو پھیلی ہوئی ہوتی ہے، اور کبھی دوستوں کی شرارتیں چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح روشنی بکھیر رہی ہوتی ہیں۔
ان یادوں میں کہیں کھڑکی سے جھانکتی روشنی میں لکھی گئی کاپیوں کا عکس ہے، کہیں پرانی تختی پر سفید چاک کے لکیروں کی کہانی، کہیں کرسیوں پر کندہ دلوں کے خواب، اور کہیں بلیک بورڈ کے گرد گھومتے ہوئے معصوم قہقہے۔ ہر صفحہ اپنی جگہ پر ایک الگ داستان ہے، ایک الگ منظرنامہ ہے جو بچپن کے معصوم جہاں کو روشن کرتا ہے۔ لیکن ان سب کے بیچ ایک ایسی "منصب داری” بھی ہوا کرتی تھی جس کے لیے دل بے چین رہتا تھا، اور جس پر فائز ہونے کے بعد بچّے کے کانوں میں خود بخود فوجی بینڈ بجنے لگتا تھا، جیسے کسی کی coronation ceremony ہو رہی ہو۔ یہ منصب تھا "مانیٹر” کا جی ہاں، وہی چھوٹا سا عہدہ جس نے ایک بچّے کو لمحاتی طور پر اپنے آپ کو "کلاس کا حکمران” سمجھنے پر مجبور کر دیا۔
مانیٹر بننے کی خوشی کسی انعام یا میڈل سے کم نہ تھی۔ جیسے ہی استاد نے اعلان کیا: "آج سے یہ بچّہ کلاس کا مانیٹر ہے”، اسی لمحے مانیٹر کے قدموں کے نیچے زمین نرم و ملائم محسوس ہونے لگتی اور چہرے پر ایسی چمک آ جاتی گویا کسی سلطنت کا تاج پوشی کر لی گئی ہو۔ کلاس کے در و دیوار بھی جیسے سرگوشی کرتے: "اب یہ ہمارا نیا حاکم ہے”۔ تختی پر اپنے ہاتھ سے "خاموش! میں مانیٹر ہوں” لکھ دینا، بچپن کی وہ ادبی و علامتی تحریر تھی جس نے ہمیں پہلی بار طاقت اور اختیار کا ذائقہ چکھایا۔ یوں اسکول کی اس چھوٹی سی دنیا میں مانیٹر بننا کسی شاعر کے لیے پہلا مصرع کہنے جیسا تھا، کسی مصور کے لیے پہلا رنگ بکھیرنے جیسا، اور کسی سپہ سالار کے لیے پہلی فوجی کمان سنبھالنے جیسا۔
مانیٹر بننے کا جنون
بچپن کے خواب بھی عجب رنگوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ کسی کو سائیکل چاہیے ہوتی ہے، کوئی نئے بستے اور قلم کا آرزومند ہوتا ہے، تو کوئی اپنے جوتوں کی چمک میں ہی اپنی بادشاہت ڈھونڈ لیتا ہے۔ مگر اسکول کی کلاس میں ایک ایسی "کرسی” بھی ہوتی تھی جس پر بیٹھنے کی تمنا ہر دل کے نہاں خانے میں چھپی رہتی تھی۔ یہ کرسی تھی مانیٹر کی! مانیٹر بننے کی خواہش دراصل طاقت، اختیار اور عزّت کی اس پہلی جھلک کا ذائقہ تھی جسے ہم نے بچپن میں پہلی بار محسوس کیا۔ استاد کی زبان سے اگر یہ جملہ نکل جاتا کہ: "آج سے یہ بچّہ مانیٹر ہے” تو بس سمجھ لیجیے کہ وہ لمحہ اس خوش نصیب بچّے کی تاجپوشی کا اعلان ہوتا۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتیں، کانوں میں فوجی بینڈ بجنے لگتا، اور باقی تمام کلاس کے بچّے اُسے ایسے دیکھتے جیسے سلطنت کا نیا فرمانروا سامنے آگیا ہو۔
مانیٹر بننے کا سب سے بڑا اعزاز یہ تھا کہ استاد کی غیر موجودگی میں تختی (بورڈ) پر لکھنے کا مقدّس حق صرف اسی کے ہاتھ میں ہوتا۔ یہ حق ایسا تھا جیسے کسی شاعر کو پہلا مصرع کہنے کی اجازت مل جائے، یا کسی حاکم کو فرمان جاری کرنے کی۔ اور جب وہ اپنی ننھی سی ہتھیلی میں چاک پکڑ کر بورڈ پر جمیل خطاطی میں لکھتا: "خاموش! میں مانیٹر ہوں”۔ تو یہ جملہ کمرے کی دیواروں پر بجلی کی طرح کوند جاتا۔ ہر بچّہ دبک کر بیٹھ جاتا، مگر ساتھ ہی مسکراہٹوں میں چھپی شرارتیں بھی زندہ رہتیں۔
یہ اعلان گویا بچپن کی پہلی حکومت کا اعلان ہوتا تھا۔ لمحاتی ہی سہی، لیکن اس مختصر سی سلطنت میں وہ بچّہ خود کو وزیرِاعظم سمجھنے لگتا۔ وہ دوستوں پر حکم چلاتا، مخالفین کے نام "بلیک لسٹ” میں ڈالتا، اور اپنی معصوم سی حکومت میں انصاف اور دوستی کا توازن قائم رکھنے کی ناکام کوشش کرتا۔ یوں مانیٹر بننے کی خواہش دراصل بچپن کے ذہن میں چھپی ہوئی حکمرانی کی خواہش تھی۔ تختی پر لکھا گیا ایک جملہ، ایک دن کی بادشاہت، اور دوستوں کے چہرے پر چھپی مسکراہٹیں یہ سب مل کر ایسی یادیں بنا دیتے ہیں جو وقت کے طویل سفر کے باوجود کبھی ماند نہیں پڑتیں۔
مانیٹر یا نوکر؟ بچپن کی معصوم نظر
میرے بیٹے محمد حاذق نے جب پہلی مرتبہ اسکول کی دنیا میں قدم رکھا تو اس کی معصوم آنکھوں میں ایک نیا جہان روشن ہو گیا۔ اسکول کی گھنٹی کی آواز، استاد کی سختی میں چھپی شفقت، ہم جماعتوں کے شور میں لپٹی معصوم ہنسی یہ سب کچھ اُس کے لیے نیا اور حیران کن تھا۔ ابھی وہ کتابوں اور کاپیوں کی خوشبو سے مانوس ہی ہو رہا تھا کہ ایک روز گھر آ کر نہایت سنجیدہ لہجے میں اپنی والدہ سے کہنے لگا: "امی! ہماری کلاس میں ٹیچر کا ایک نوکر بھی ہے۔ جو ٹیچر کے سارے کام کرتا ہے۔”
ماں یہ سن کر حیران رہ گئی۔ ذہن میں سوالات کا ہجوم پیدا ہو گیا کہ آخر اسکول میں یہ کیسا نوکر ہے؟ مگر ابھی وہ کچھ پوچھ پاتی، بیٹے نے بڑے معصوم فخر کے ساتھ وضاحت کی: "ٹیچر نے کہا ہے کہ یہ تمہاری کلاس کا مانیٹر ہے!”۔ یہ جملہ سن کر ہماری ہنسی نہ رکی۔ دراصل یہ بچپن کی وہ سادہ سوچ تھی جس میں ہر ذمّہ دار شخص نوکر ہی محسوس ہوتا ہے، کیونکہ وہ دوسروں کے لیے کام کرتا ہے۔ مانیٹر کا چاک لانا، ڈسٹر پکڑانا، بورڈ پر لکھنا، استاد کے حکم پر سب کو خاموش کرانا یہ سب کچھ چھوٹے سے ذہن کو یوں لگا جیسے یہ بیچارہ ٹیچر کا ذاتی خادم ہو۔
لیکن حقیقت میں یہی "مانیٹر” کلاس کا سب سے معتبر شخص سمجھا جاتا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں چاک ہوتا ہے، اسی کے قلم سے ناموں کی فہرست تیار ہوتی ہے، اور اسی کے فیصلے استاد کے سامنے معتبر گواہی بن جاتے ہیں۔ مگر بچّے کی آنکھ میں یہ سب کچھ ایک نوکر کی طرح کا بوجھ دکھائی دیا۔ یہ منظر دراصل بچپن کی سادگی اور دنیا کو اپنے انداز سے دیکھنے کی معصومیت کی جھلک ہے۔ بڑوں کے نزدیک مانیٹر عزّت اور اختیار کی علامت ہے، لیکن ایک ننھے طالب علم کے دل میں یہ محض ایک ایسا کردار ہے جو دوسروں کے کام سر انجام دیتا ہے۔ یوں محمد حاذق کی یہ بات نہ صرف مسکراہٹ بکھیرتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ بچپن کا زاویۂ نظر کتنا صاف، کتنا سچا اور کتنا نرالا ہوتا ہے۔
مانیٹر کے فرضی تاج و تخت کے فرائض
مانیٹر کی ذمّہ داریاں سننے میں واقعی کسی سلطنت کے وزیرِاعظم کی ذمّہ داریوں سے کم نہیں لگتیں۔ استاد جب یہ اعلان کرتا کہ "آج سے یہ بچّہ مانیٹر ہے” تو گویا تخت و تاج کا پروانہ تھما دیا جاتا۔ اب اس کے کندھوں پر بڑے بڑے فرائض کا بوجھ آ جاتا:
کلاس میں خاموشی قائم رکھنا، جیسے کسی جنگ زدہ ملک میں امن قائم کرنا ہو۔
شور مچانے والوں کے نام بلیک لسٹ پر درج کرنا، جیسے اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں قرارداد پاس کی جا رہی ہو۔
استاد کی غیر موجودگی میں چاک اور ڈسٹر مہیا کرنا، گویا ریاست کے لیے ایندھن اور اسلحہ پہنچانا۔
اور سب سے اہم فریضہ: کلاس کے ہر بچّے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ یقین دلانا کہ "ابھی میں ہی تمہارا حکمران ہوں!”
کاغذ پر یہ سب ذمّہ داریاں نہایت سنجیدہ اور باوقار معلوم ہوتیں، لیکن عملی زندگی میں مانیٹر کی حیثیت زیادہ تر "شیرِ کاغذی” ہی کی رہتی۔ آوازیں دبانے کے بجائے اکثر قہقہے بلند ہوجاتے، اور بلیک لسٹ پر لکھے جانے کے بجائے دوستوں کے نام خوشبو کی طرح فضا میں تحلیل ہو جاتے۔
اصل مشکل تب پیش آتی جب مانیٹر کا سب سے قریبی دوست ہی کلاس کا سب سے زیادہ شور مچانے والا نکلتا۔ اب بھلا وہ اپنے ہی یار کا نام "مجرموں کی فہرست” میں کیسے شامل کرتا؟ اگر لکھ بھی دیتا تو دوستی خطرے میں پڑتی، اور اگر نہ لکھتا تو انصاف کا ترازو ٹیڑھا ہو جاتا۔ چنانچہ مانیٹر اکثر اس گتھی کو یوں سلجھاتا کہ دوست کے نام کے بجائے دوسروں کے ساتھ اس کا "فرضی نام” ڈال دیتا، یا کبھی خالی لائن چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا یوں انصاف اور رفاقت کے بیچ ایک دلچسپ "سیاسی مصلحت” وجود میں آتی۔
یوں مانیٹر کی بادشاہت اصل میں ایک "طنزیہ اقتدار” تھی: اختیار بہت، مگر طاقت کم؛ منصب بڑا، مگر وسائل محدود۔ وہ ایک ایسا حکمران تھا جو اپنی سلطنت میں خود بھی ہنستا تھا اور دوسروں کو بھی ہنساتا تھا۔ لیکن اسی عہدے نے بچّوں کو پہلی بار یہ سبق دیا کہ ذمّہ داریاں سننے میں جتنی آسان لگتی ہیں، حقیقت میں اتنی ہی مشکل اور پیچیدہ ہوتی ہیں۔
کلاس کے حاکم کا ادبی و علامتی درجہ
مانیٹر کا منصب بظاہر چھوٹا سہی مگر اس کی معنوی عظمت کسی بڑے شاعر یا فلسفی کی کرسی سے کم نہ تھی۔ جب استاد کلاس سے باہر جاتے تو باقی تمام طلبہ کے چہروں پر ایک عجیب سا رشک جھلکتا۔ گویا سب یہ سوچتے کہ "یہی وہ خوش قسمت ہے جو اس وقت تختِ حکمرانی پر بیٹھا ہے”۔ مانیٹر کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ڈائری اور قلم دراصل وہی حیثیت رکھتے تھے جو کسی بادشاہ کے ہاتھ میں قلمِ قانون یا فرمانِ شاہی کی ہوتی ہے۔ اس کے قلم سے نکلنے والے نام محض کاغذ پر لکھے الفاظ نہ سمجھے جاتے بلکہ پوری کلاس کا "تاریخی ریکارڈ” قرار پاتے۔
بعد میں استاد جب ان ناموں کو دیکھتے تو فیصلہ صادر کرتے اور یوں یہ فہرست عدالتی فیصلے کی طرح تقدس اختیار کر لیتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ "علمی ریکارڈ” اکثر ایک طرح کی خودنوشت بھی بن جایا کرتا۔ کیونکہ کبھی کبھار مانیٹر خود بھی ہلّا گلا کرنے سے باز نہیں آتا۔ مگر عدل و انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اپنا نام بھی فہرست میں شامل کرے۔ سو چالاکی سے اپنا نام سب سے نیچے لکھ دیتا تاکہ جب استاد جی نظر ڈالیں تو محسوس ہو کہ انصاف واقعی قائم ہے، اور یہ بچّہ کسی درویش صفت قاضی سے کم نہیں۔
مانیٹر کی سیاست: بچپن کی پہلی مشقِ حکمرانی
مانیٹر کا عہدہ صرف نظم و ضبط قائم رکھنے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ بچپن کی پہلی سیاسی تربیت گاہ بھی تھی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں ایک ننھے منے طالب علم نے سیکھا کہ سیاست میں کس طرح دوستوں کو بچایا جاتا ہے اور دشمنوں کو بآسانی قربان کر دیا جاتا ہے۔ دوست کا نام اگر فہرست میں آ بھی جاتا تو قلم کا ایک ہلکا سا جھٹکا اسے "مٹا دیتا”۔ مگر مخالف کا معمولی سا کھنکارنا بھی فوراً فہرست میں شامل ہو جاتا یوں جیسے کوئی بڑا جرم ہو گیا ہو۔ پھر جب استاد جی تشریف لاتے تو مانیٹر معصوم سا چہرہ بنا کر ڈائری پیش کر دیتا۔ اس کے چہرے پر وہی سادہ لوح مسکراہٹ ہوتی جو بعد میں بڑے بڑے سیاستدان اپنی تقریروں میں دکھاتے ہیں۔
یوں مانیٹر کا یہ چھوٹا سا تجربہ دراصل بڑے پیمانے پر سیاست کے فن کی مشق تھی:
اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہی چہرے پر رعب قائم کرنا۔ دوستوں کے لیے رعایت اور مخالفین کے لیے سختی۔ اور پھر اپنی غلطیوں کو بھی "انصاف” کے پردے میں چھپانا۔ آج اگر آپ بڑے بڑے لیڈروں کو دیکھیں تو ان کے انداز میں وہی معصومیت، وہی رعونت، وہی مصلحت اور وہی کاغذی انصاف جھلکتا ہے۔ شاید اسی لیے اگر ان سے بچپن کی یادوں کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ ہنس کر ضرور کہیں گے: "ہم بھی اسکول میں مانیٹر رہے ہیں!”
چاک اور ڈائری کا ناکام حکمران
مانیٹر کا اصل المیہ اسی وقت جنم لیتا جب ماسٹر جی کلاس میں قدم رکھتے۔ ابھی چند لمحے پہلے تک مانیٹر تختی پر اپنا فرمانِ شاہی ثبت کر چکا ہوتا تھا: "خاموش! میں مانیٹر ہوں”۔ پورا وجود فخر سے تن کر چلتا، آنکھوں میں حکمرانی کی چمک اور دل میں وزیراعظم ہونے کا خمار۔ مگر جونہی دروازے پر ماسٹر جی کی جھلک دکھائی دیتی، پوری کلاس یکایک فرشتہ صفت ہو جاتی۔ وہی بچّے جو کچھ دیر پہلے پرندوں کے جھنڈ کی طرح شور مچا رہے تھے، اچانک غنودگی میں ڈوبے ہوئے شریر مجسمے بن جاتے۔ اس لمحے استاد کی تیز نگاہ سیدھی مانیٹر پر پڑتی۔ اور وہ بیچارہ، جو ابھی تھوڑی دیر پہلے تخت و تاج کا مالک تھا، اچانک ایک عام سا شہری بن جاتا۔ اس کی بادشاہت ریت کے قلعے کی طرح بکھر جاتی۔ تختی پر لکھا ہوا "خاموش!” بھی جیسے طنزیہ انداز میں اس سے کہہ رہا ہو: "اب بتا، اصل حکمران کون ہے؟”
یہی وہ لمحہ تھا جب مانیٹر کو احساس ہوتا کہ اس کی حکومت دراصل ایک "عارضی کرائے کی کرسی” تھی۔ اس کے پاس نہ پولیس تھی، نہ عدالت، نہ فوج بس ایک چاک کا ٹکڑا اور ایک چھوٹی سی ڈائری، جو استاد کی آمد کے ساتھ ہی بے وقعت ہو جاتی۔ اسکول کے دنوں میں مانیٹر بننا بظاہر ایک چھوٹی سی ذمّہ داری ہے، مگر حقیقت میں یہ بچپن کا پہلا سیاسی و سماجی تجربہ ہوتا ہے۔ اس میں علم کی جھلک بھی ہے کہ ریکارڈ کیسے رکھا جائے، ادب کی روح بھی ہے کہ بات کو لکھت میں محفوظ کیا جائے، مزاح کی چاشنی بھی ہے کہ سب کچھ کھیل ہی کھیل میں ہو، اور سیاست کی مصلحت بھی ہے کہ دوستوں کو بچایا جائے اور مخالفین کو سزا دلائی جائے۔
یوں یہ ننھا سا عہدہ اپنے اندر پورے معاشرتی ڈھانچے کی علامت سموئے ہوتا ہے۔ وہی طاقت کی چمک، وہی اختیار کی ناپائیداری، اور وہی انصاف کا ڈھونگ جو بڑے ہوکر ہمارے سامنے دنیاوی سیاست میں ایک بڑے اسٹیج پر دہرایا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں، زندگی کی بھاگ دوڑ میں الجھ جاتے ہیں، اور اقتدار و سیاست کی اصل چالاکیاں دیکھتے ہیں تو دل کے نہاں خانے سے ایک میٹھی سی آواز ابھرتی ہے: "میں بھی اسکول میں مانیٹر تھا!”۔ یہ آواز محض یاد نہیں بلکہ ایک علامت ہے بچپن کی معصوم حکمرانی کی، عارضی طاقت کی، اور اس تجربے کی جو ہمیں زندگی کے بڑے اسباق سکھا گیا۔
🗓 (09.09.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...