Skip to content
خدا بیزاروں کی حالتِ زار
آزادیِ افکار ہے ابلیس کی ایجاد
ازقلم:عبدالعزیز
علامہ اقبالؒ کی ایک نظم
’آزادیِ افکار‘ کی تشریح
جو دُونیِ فطرت سے نہیں لائقِ پرواز
اس مُرغکِ بیچارہ کا انجام ہے افتاد
تشریح:جو پست فطرت پرندہ فضا میں بلندی پر اڑنے کی صلاحیت سے محروم ہو، اس صورت میں اگر وہ اڑنے کی جسارت کرے گا تو اس کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہ ہو گا کہ دھڑام سے نیچے گِر پڑے۔ مراد یہ کہ افکار کی بلندی اور آزادی ہر فرد کی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اخلاقی و فنی قوانین سے آزاد ہو کر بلند افکار پیدا نہیں کیے جا سکتے۔
علامہ اقبالؒ یہ نصیحت کرتے ہیں کہ دنیا میں حقیقی حْسن و جمال اور صحیح ترقی صرف اخلاقی اور فنی قوانین کی پابندی سے ممکن ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی نغمہ یا راگنی کو فنِ موسیقی کی قیود سے آزاد کر دیا جائے تو اس کا جمال اور دِلکشی بالکل غائب ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ کسی مسئلہ میں اظہارِ رائے کا حق صرف اس شخص کو حاصل ہے جس نے اس فن میں مہارتِ تامہ حاصل کی ہے جس پر وہ مسئلہ مبنی ہے۔ مثلاً اْس شخص کو کسی طبیب کے نسخہ پر اظہارِ رائے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے جس نے فنِ طب باضابطہ حاصل نہ کیا ہو، اسی طرح اْس شخص کو دینی معاملات میں رائے دینے کا کوئی حق حاصل نہیں جس نے علومِ دینی کی باقاعدہ تکمیل نہ کی ہو۔
ہر سینہ نشیمن نہیں جبریلِ امیں کا
ہر فکر نہیں طائرِ فردوس کا صیّاد
تشریح:ہر فرد کا سینہ اس قابل نہیں ہوتا کہ جبریلِ امین حق بجانب پیغامات کے ساتھ اْس پر اتریں، مراد یہ ہے کہ حضرت جبریلِ امین کو تو محض اس امر کا ذمہ قرار دیا گیا تھا کہ وہ حق تعالیٰ کے پیغامات اور احکامات دنیا میں اس کے پیغمبروں تک پہنچادیں کہ ہر شخص کو ان پیغامات کا اہل قرار نہیں دیا جا سکتا، صرف پیغمبر ہی ان پیغامات کے اہل ہوتے ہیں کیونکہ ان کا سینہ ہر طرح کے باطل خیالات سے پاک ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر فکر جنت الفردوس کے پرندے کا شکار نہیں کر سکتی (فردوس کا پرندہ استعارہ ہے اعلیٰ اور بلند خیالات کا) یعنی بلندیِ افکار کی حامل نہیں ہو سکتی۔
اس قوم میں ہے شوخیِ اندیشہ خطرناک
جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد
تشریح:یہ شعر بھی اپنے مطالب کے لحاظ سے پچھلے دو اشعار کے تسلسل میں ہے۔ یہاں علامہ اقبالؒ واضح طور پر اپنے اس نقطۂ نظر کا اظہار کرتے ہیں کہ جو قوم اور معاشرہ خود کو ہر نوع کی اخلاقی و تہذیبی آزادی اور دوسری انسانی اقدار کو مسترد کر کے خود کو مادر پِدر آزاد قسم کی قوم اور معاشرہ تصور کر لے، اس کے لیے آزادیِ افکار ہمیشہ خطرناک اور نقصان دہ ثابت ہوتی ہے؛ یعنی آزادیِ اظہار و افکار کے لیے بھی بعض معاشرتی اور اخلاقی اقدار کی پابندی ناگُزیر (لازمی) ہے۔ جس قوم کے افراد ان تمام پابندیوں سے آزاد ہوں، جو اجتماعی زندگی کی بنیادی شرط ہیں، تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس قوم میں فکر و خیال کی شوخی خود اْس کے لیے بڑی خطرناک ثابت ہوگی۔
گو فکرِ خدا داد سے روشن ہے زمانہ
آزادیِ افکار ہے اِبلیس کی ایجاد
تشریح: علامہ اقبالؒ کہتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ عقل و خِرد وہ نعمت ہے جس کی بدولت یہ دنیا ترقی کی منزلیں طے کر رہی ہے اور اس دنیا میں جس قدر روشنی نظر آرہی ہے یہ سب فکرِ خداداد ہی کا کرشمہ ہے۔ ربِ ذوالجلال نے انسان کو غور و فکر اور اپنے نقطۂ نظر کے اظہار کے لیے جو صلاحیت عطا کی ہے وہ معاشرے کے لیے روشن ہدایات کا کام دیتی ہے اور راہنمائی کا سبب بنتی ہے۔
لیکن جہاں تک ’’مادر پِدر آزادی‘‘ کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں شاید یہ غلط نہ ہو کہ یہ تو شیطان کی ان ایجادات اور لعنتوں میں سے ایک ہے جو اس نے دنیا میں وارد ہو کر انسان کو گمراہی اور ذِلّت سے ہم کنار کرنے کے لیے وضع کی ہیں اور جس کا نتیجہ تباہی و بربادی کے سوا اور کچھ نہیں! ابلیس کا مقصد یہ ہے کہ بنی آدم روحانیت اور اخلاقِ حسنہ سے معرّا ہو جائیں اور انسانیت کے مرتبہ سے تنزل کر کے واپس حیوانیت کے دائرہ میں آجائیں۔ اس لیے اس نے انہیں سمجھایا کہ چونکہ تم آزاد ہو اس لیے اپنی فکر کو بھی تمام اخلاقی قیود سے آزاد کر دینا چاہیے۔ چنانچہ ایک بار پھر اس نقطہ کا اعادہ غیر ضروری نہیں ہوگا کہ اقبالؒ آزادیِ افکار و اظہار کے قطعی طور پر مخالف نہیں ہیں، تاہم اس کے لیے کچھ حدود کا تعین ضروری سمجھتے ہیں جن کے بغیر یہ آزادی کارِ ابلیس کے سوا اور کچھ نہیں رہتی۔
چنانچہ ایک بار پھر اس نقطہ کا اعادہ غیر ضروری نہیں ہوگا کہ علامہ اقبالؒ آزادیِ افکار و اظہار کے قطعی طور پر مخالف نہیں ہیں، تاہم اس کے لیے کچھ حدود کا تعین ضروری سمجھتے ہیں جن کے بغیر یہ آزادی کارِ ابلیس کے سوا اور کچھ نہیں رہتی۔
جاوید اختر اور نصیر الدین شاہ
کی ’آزادی افکار‘ :
جاوید اختر کو مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے پروگرام میں شمولیت سے نہ صرف منع کردیا گیا بلکہ کسی وجہ سے پورے پروگرام کو ان کی عدم شمولیت سے منسوخ کردیا گیا۔ جاوید اختر کے بہت سے چاہنے والے ہیں جو ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں وہ ان کے ساتھ اکیڈمی کے سلوک سے نہ صرف ناراض ہیں بلکہ وہ رونا دھونا بھی کر رہے ہیں۔ ان میں فلمی اداکار نصیر الدین شاہ بھی شامل ہیں۔ ایسے لوگوں کو زیادہ تکلیف ہوئی ہے جو مسلمانوں کو تسلیمہ نسرین، سلمان رشدی یا جاوید اختر جیسے فنکاروں کی زبان سے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف مغلظات سننا پسند کرتے ہیں۔
ملک بھر میں ایسے مسلمانوں کی بھی کمی نہیں ہے جنھوںنے جاوید اختر کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس کو جائز اور ضروری سمجھتے ہیں۔ جناب سمیع اللہ خان صاحب نے اکیڈمی کے پروگرام کے ملتوی ہونے پر مختصراً تبصرہ کیا ہے مگر بہت جامع انداز سے تبصرہ کیا ہے جو پڑھنے کے لائق ہے۔
’’کلکتہ میں جاوید اختر کی آمد کے خلاف وہاں کے اسلامی اسکالر اور بیدار مسلمانوں نے جس مستعدی کا مظاہرہ کرکے اس کا پروگرام کینسل کروایا ہے وہ قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے۔
جاوید اختر ان زہریلے ملحدین میں سے ہیں جنہوں نے اپنی آزادیِ اظہارِ رائے کا تختہ مشق اسلام اور مسلمانوں کو بنا رکھا ہے، یہ ایک طرف سنگھیوں پر تھوڑی بہت تنقید کردیتا ہے پھر اس کیبعد زیادہ تر وقت یہ ثابت کرنے میں لگاتا ہے کہ اسلام انتہا پسندی کا مذہب ہے اور مسلمانوں سے زیادہ انتہا پسند کوئی نہیں، جنت / جہنم سے لے کر دیگر مسلماتِ ایمان کا مذاق اڑاتا ہے اور دنیا بھر میں لوگوں کو اُکساتا ہے کہ اسلام انتہا پسندی سکھاتا ہے۔
ایسے بے شرم، نفرتی جاوید اختر کو مسلمانوں سے وابستہ کسی بھی پلیٹ فارم پر کم از کم جگہ نہیں ملنی چاہئے۔ جو لوگ جاوید اختر کو کلکتہ اردو اکیڈمی کے پروگرام سے نکالے جانے پر رونا دھونا کر رہے ہیں وہ پہلے یہ بتائیں کہ اب تک جاوید اختر کی اسلام مخالف نفرتی تقاریر پر انہوں نے کتنی مرتبہ آواز اٹھائی تھی؟
’ فریڈم آف اسپیچ‘ یکطرفہ محبت نہیں ہے۔ یہ بات ان لوگوں کو سمجھنا چاہیے اور جاوید اختر کو اس واقعے سے سبق سیکھ کر اپنی اصلاح کرنا چاہیے، جاوید اختر جیسے ملحدین دیکھتے ہیں کہ مسلمان چونکہ بھارت میں کمزور و مظلوم ہیں تو کیوں نہ اپنی ملحدانہ دانش وری کا تختۂ مشق اسلام اور مسلمانوں کو بناکر تمغۂ ریفارمر حاصل کیا جائے !ایسا کب تک چلے گا ؟
جاوید اختر کا پروگرام کینسل کروانے کی جن لوگوں نے بھی کوشش کی وہ سب مبارکباد اور شکریے کے مستحق ہیں۔ ہم بلاعذر و غیر مشروط طور پر کلکتہ میں ایمانی غیرت کا مظاہرہ کرنے والوں کی پذیرائی کرتے ہیں۔‘‘
جناب امتیاز حسین صاحب نے بھی مذکورہ پروگرام سے متعلق انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں مختصراً اور نہایت جامع انداز سے تبصرے کئے ہیں۔
’’جاوید صاحب اپنی اس دلیل میں انسان اور جانور کے فرق کو سمجھنے سے ہی قاصر نظر آئے۔ انسان ، کپڑے کیوں پہنتا ہے، جانور کپڑے کیوں نہیں پہنتے؟ انسان کی فطرت میں پڑھنا، لکھنا کیوں رکھا گیا، جانور اس سے کیوں محروم ہیں؟
انسان کو قدرت نے عقل سلیم سے کیوں نوازا جبکہ جانور کی عقل کو صرف تین جبلت سے آراستہ کیا ہے: اپنی غذا کیسے حاصل کی جائے، اپنا دفاع کس طرح کیا جائے اور اپنی افزائش نسل کس طرح کی جائے؟
انسان ان تین جبلتوں سے اوپر سوچ و فکر، انصاف و نا انصافی کی تمیز سے بھی مزین کیا گیا ہے، اسی لئے وہ اشرف المخلوقات کے درجہ میں رکھا گیا ہے۔جنت و دوزخ کی تخلیق انسانی مخلوق کے لئے کی گئی ہے نہ کہ جانوروں کے لئے۔
جاوید صاحب اپنی عقلیت پسندی کو اپنے اوپر اس طرح مسلط کئے ہوئے ہیں اور مذہب و خالق کائنات کے وجود کو باطل قرار دینے میں اس طرح مستغرق رہتے ہیں کہ حقیقی علم کے بنیادی استدلال کے اصول کو ہی بالائے طاق رکھ دیتے ہیں‘‘۔
امتیاز حسین نے انگریزی میں بھی ایسے لوگوں کے لئے لکھا ہے جو اردو زبان سے ناواقف ہیں۔
Jawed Akhtar is one of the powerful lobbyists who gets pleasure in misguiding the young Muslim minds under media lime light. He uses metaphors not ready to challenge the present establishments in any way directly.
You won’t see him ever attacking directly to the Govt. or Govt. Policies. He didn’t utter any word of sympathy so far for the Ghaza victims who are being killed by man made starvation as well as by the bombs, you will never see him composing any stanza on the injustices leashed upon Khalid Umar, Sharjeel Imam and their companions, he never addressed the victims of lynching and or the victims of communal riots ever. This is the reason he gets media coverage otherwise if he begins to address all those issues as I pointed out, he will be blacked out of media.
He has planned his strategy very astutely and gets high mileage and media coverage. Nothing more, no intellectualism, only marketing to sell his persona.( Imytiaz Hossain) Imteyaz Hossain.
علامہ اقبالؒ کی نظم ’آزادیِ افکار‘ اور جناب سمیع اللہ خان اور محترم امتیاز حسین صاحبان کے تبصروں سے آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ابلیس کی آزادیِ افکار سے دنیا کو کیا فائدہ اور نقصان ہے۔ یہ بات بھی رونے والوں کو سمجھانا ہے کہ مسلمان جاوید اختر کی دہریت کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ان کے اشتعال انگیز بیانات کے خلاف ہیں۔ مسلمان غیرتِ ایمانی رکھتے ہیں۔ اس لئے ایسے لوگوں کو جواب دینا بھی جانتے ہیں۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...