Skip to content
انٹرنیشنل میلادیا شکتی پردرشن؟
از ۔مدثراحمد۔شیموگہ۔
کرناٹک۔9986437327
گذشتہ دنوں شہر بنگلورومیں میلادالنبیﷺکو انٹرنیشنل میلاد کانفرنس کے عنوان سے پیالیس گرائونڈ میں منایاگیا،جس میں توقع کی گئی تھی کہ دس لاکھ سے زائد افرادکی شرکت ہوگی،لیکن اطلاعات کے مطابق اس کانفرنس میں دس لاکھ افرادکی شرکت تو نہیں ہوئی البتہ 30سے40 ہزار سے افرادنے اس کانفرنس میں شرکت کی تھی،یہ بھی بتایاگیاتھاکہ اس میلادکانفرنس میں انٹرنیشنل علماء اور صوفیاءکی شرکت ہوگی اور وزیر اعلیٰ ،نائب وزیر اعلیٰ سمیت ریاست کےمختلف سیاستدان شرکت کرینگے۔لیکن میلادکے آغازمیں ہی بی جے پی نے اس کانفرنس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ انٹرنیشنل مذہبی رہنمائوں کی شرکت بھارت میں غیر قانونی ہے،لیکن کرناٹک کی حکومت بیرونی ممالک سے آنےوالے علماء کومذہبی جلسوںمیں شرکت کرنے کیلئے موقع فراہم کررہی ہے اور مسلمانوں کے ساتھ سیاست کررہی ہے۔بی جے پی کی جانب سے کرناٹک حکومت پر جو الزامات لگائے گئے وہ صحیح ہیں یا نہیں یہ الگ بات ہے لیکن انٹرنیشنل میلادکانفرنس کے ذریعے سیاست ضرورہوئی ہے،یہ اس بات سے ثابت ہوتاہے کہ میلاد کانفرنس میںجو فلکس ،ہولڈنگ لگائےگئے تھے اس میں باقاعدہ ریاستی وزیر بی زیڈضمیراحمد کو ہائی لائٹ(نمایاں) کیاگیاتھااورکئی بیانرس وپوسٹرس میں کانگریس کے راہول گاندھی ، سونیاگاندھی، ملیکارجنا کھرگے ،سدرامیاکی تصویریں عیاں تھیں،لیکن اگر کوئی تصویر نہیں تھی تووہ مقامی مسلم ریاستی لیڈروں کی تصویریں۔غورطلب بات ہے کہ آنےوالے چنددنوںمیں کرناٹک حکومت کے وزراء کو بدلنے کی پہل کی جارہی ہے جس میں نئے چہروں کو اہمیت دینے کی کوشش ہورہی ہے اوریہ بھی کہاجارہاہے کہ اگلی تبدیلیوں کے دوران دویاتین نائب وزیر اعلیٰ کے عہدوں کیلئے بھی موقع دیاجائیگا۔ایسے میں ضمیراحمد نے انٹرنیشنل میلادکانفرنس کو اپنے سیاسی مستقبل کیلئے شکتی پردرشن(طاقت کا مظاہرہ) کے طورپراستعمال کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ میر ی ایک آواز پر ریاست کے کونےکونے سے ہزاروں لوگ لبیک کہیں گے۔یوٹی قادر جو کرناٹک اسمبلی کے اسپیکر ہیں،تنویرسیٹھ جو خاندانی سیاستدان ہیں،این اے حارث جو کئی دفعہ ایم ایل اے بن چکے ہیں،ایم ایل اےکنیر فاطمہ،ایم ایل سی بلقیس بانوجیسے کئی لیڈران اس انٹرنیشنل کانفرنس میں سرے سے نظرانداز کئے گئے،جس سے یہ ثابت ہواہے کہ یہ کانفرنس میلاد سے بڑھ کر سیاسی تقاضوں کو پوراکرنے کیلئے منعقدکیاگیاتھا۔یہی نہیں کرناٹکا وقف کائونسل کے نائب صدرشفیع سعدی کی بھی اس کانفرنس کے ذریعے سے یہ کوشش ہوئی ہے کہ آنےوالے دنوں میں وہ اپنے لئے ایم ایل سی کی کُرسی کی را ہ ہموارکرلیں۔اس کانفرنس کو لیکر سوشیل میڈیاسمیت مختلف حلقوں میں بڑے پیمانے پر بحث ومباحثے چل رہے ہیں۔لیکن زبانیں کھل کر اس لئے نہیں سامنے آرہی ہیں کہ سامنے ایک طرح کا خوف ہے۔کرناٹک حکومت سے بہت زیادہ قربت رکھنےوالے مولاناتنویرہاشمی بھی اس انٹرنیشنل کانفرنس میں غائب رہے،جبکہ بیشتر جلسوں میں مولانا تنویر ہاشمی کو پیش پیش دیکھاگیاہے۔یہاں آخرمیں عوام کا یہ سوال ہے کہ میلادکے نام پر آخر شکتی پردرشن کیوں کیاگیا؟۔
Like this:
Like Loading...