Skip to content
مسلم معاشرہ ضیاع وقت کا شکار!
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
وقت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم ترین نعمت ہے ،یہ اس قدر قیمتی اور بیش بہا نعمت ہے کہ ساری دنیا مل کر بھی اس کا بدل بن نہیں سکتی اور اگر پوری دنیا کو قیمت بنا دیا جائے تب بھی وقت کا ایک لمحہ خریدا نہیں جاسکتا، وقت کا پابند اور قدر دان اپنی زندگی کو قابل قدر اور قابل تحسین بنالیتا ہے اور وقت کی ناقدری کرنے والا خود اپنی نظروں میں اپنی قدر کھودیتا ہے،اسی لئے کہاجاتا ہے کہ جو وقت کا پابند بن گیا وہ شخص کامیاب بن گیا اور جس نے اسے برباد کر دیا اس نے اپنی زندگی کو خاک میں ملا دیا،عقلمند ہوش میں رہ کر اپنی عقل سے کام کرتے ہیں اور بے عقل کام کے بعد ہوش میں آتے ہیں،ہوش مندی کے ساتھ وقت کا استعمال عقلمندی ہے اور وقت کے گزرجانے کے بعد ہوش میں آنا بربادی ہے ، دنیا میں بہت سوں کو وقت کے ساتھ چل کر کامیابی کی منزل پر پہنچتا دیکھا ہے اور بہت سوں کو وقت سے بچھڑ کر گم ہوتے دیکھا ہے،کیونکہ وقت کسی کا خزانہ نہیں کہ تجوری میں مقید ہوجائے اور جب ضرورت ہو تھوڑا تھوڑا استعمال میں لاتارہے ،وہ تو ایسا خزانہ ہے کہ بر وقت استعمال نہ کیا گیا تو ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور پھر آدمی ہمیشہ کے لئے افسوس کے ہاتھ ملتے رہ جاتا ہے،کہا جاتا ہے کہ وقت میں بڑی حساسیت پائی جاتی ہے وہ اپنی طرف متوجہ ہونے والے کے بہت قریب ہوجاتا ہے اور غیرت مند ایسا ہے کہ ذرا سی بے توجہی پر اس قدر دور چلاجاتا ہے کہ جہاں سے واپسی ممکن ہی نہیں ، وقت کسی کے دست طاقت میں نہیںاور اس کی ڈور کسی کے ہاتھ میں نہیں بلکہ وہ تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے اور وقت کی کی ڈور صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے یہی وجہ ہے کہ وقت صرف اپنے خالق ومالک کا پابند ہے ،اپنے آقا کا غلام اور اپنے حاکم کے حکم کا تابع ہے،اسی کے حکم پر مقررہ رفتار سے چل رہا ہے اور آگے بھی چلتا رہے گا۔
وقت کی قدر وقیمت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود وقت کو بنانے والے نے قرآن مجید میں اس کی قسم کھائی ہے اور لایعنی کاموں میں پڑکر اسے ضائع کرنے سے روکا اور منع کیا ہے ، قرآن مجید میں ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو فضول باتوں کے ذریعہ اپنے اوقات خراب نہیں کرتے ہیں ،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ (مؤمنوون :۳)’’ (اللہ کے نیک بندوں کی پہنچان یہ ہوتی ہے کہ )وہ لوگ بے کار لایعنی باتوں سے اعراض کرتے ہیں (اور بے کار چیزوں میں پڑکر اپنے قیمتی اور بے حد قیمتی وقت کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں)‘‘ ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو وقت کی شکل میں جو نعمت دی ہے وہ غیر معمولی ،عظیم اور لا قیمت ہے،انسان کی پوری زندگی وقت ہی سے ملحق اور جڑی ہوئی ہے،انسان کی کامیابی اور ناکامی دونوں کا تعلق بھی وقت ہی کے ساتھ ملا ہوا اور اسی سے وابستہ ہے ،یقینا وقت کا صحیح استعمال انسان کو دنیا وآخرت میں نفع پہنچاتا ہے اور اس کے غلط استعمال سے انسان وہ نقصان اٹھاتا ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں،اللہ تعالیٰ نے انسان کو وقت کی شکل میں ایک عظیم دولت عطا کی ہے اس کے ذریعہ اسے زندگی کی راحت اور آخرت کی نعمت حاصل کرنے کا پورا پورا موقع عنایت کیا ہے،اب انسان کی مرضی ہے کہ وہ وقت خرچ کرتے ہوئے چاہے تو آخرت کمائے یا اسے ضائع کرکے اپنی آخرت خاک آلود کردے ، جانشین حکیم الامت مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع ؒ نے سورہ ٔ عصر کی تفسیر کرتے ہوئے نہایت خوبصورت اور اچھوتے انداز میں زمانہ اور وقت کی قدر وقیمت کو اجاگر کیا ہے، لکھتے ہیں کہ ’’انسان کی عمر کا زمانہ اس کے سال اور مہینے اور دن رات بلکہ گھنٹے اور منٹ اگر غور کیا جائے تو یہی اس کا سرمایہ ہے جس کے ذریعہ وہ دنیا وآخرت کے منافع عظیمہ عجیبہ بھی حاصل کر سکتا ہے اور عمر کے اوقات اگر غلط اور بُرے کاموں میں لگا دئیے تو یہی اس کے لئے وبال جان بھی بن جاتے ہیں،بعض علماء نے فرمایا ہے ؎
حیاتک انفاس تعد فکلما
مضی نفس منھا انتقصت بہ جز ء اً
یعنی تیری زندگی چند گنے ہوئے سانسوں کا نام ہے ،جب ان میں سے ایک سانس گزرجاتا ہے تو تیری عمر کا ایک جزو کم ہوجاتا ہے،حق تعالیٰ نے ہر انسان کو اس کی عمر کے اوقات ِ عزیزہ کا بے بہا سرمایہ دے کر ایک تجارت پر لگایا ہے کہ وہ عقل وشعور سے کام لے اور اس سرمایہ کو خالص نفع بخش کاموں میں لگائے تو اس کے منافع کی کوئی حد نہیں رہتی اور اگر اس کے خلاف کسی مضرت رساں کام میں لگا دیا تونفع کی تو کیا امید رأس المال بھی ضائع ہوجاتا ہے اور صرف اتنا ہی نہیں کہ نفع اور رأس المال ہاتھ سے جاتا رہا بلکہ اس پر سینکڑ وں جرائم عائد ہوجاتی ہیں اور کسی نے اس سرمایہ کو نہ کسی نفع بخش کام میں لگایا نہ مضرت رساں میں تو کم از کم یہ خسارہ تو لازمی ہی ہے کہ اس کا نفع اور رأس المال دونوں ضائع ہوگئے اور یہ کوئی شاعرانہ تمثیل ہی نہیں بلکہ ایک حدیث مرفوع سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے جس میں رسول اللہ ؐ نے فرمایا ہے :کل الناس یغدو فبائع نفسہ فمعتقھا او موبقھا (ترمذی :۳۸۵۹)’’ یعنی ہر شخص جب صبح اُٹھتا ہے تو اپنی جان کا سرمایہ تجارت پر لگاتا ہے ،پھر کوئی تو اپنے اس سرمایہ کو خسارہ سے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر ڈالتا ہے‘‘،(معارف القرآن:۸؍۱۷۲)۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کووقت دے کر دنیا میں بھیجاہے ،یہ بالکل درست ہے کہ کسی کے حصہ میں وقت زیادہ آتا ہے تو کسی کو کم ملتا ہے ،لیکن جس انسان کو جتنا بھی وقت دیا گیا ہے قیامت میں اس کے متعلق ضرور پوچھا جائے گا اور جب تک وہ اس کا جواب نہیں دے گا تب تک وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سے ہٹ نہیں سکے گا ،قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عدالت سے آدمی اس وقت تک ہٹ نہیں سکے گا جب تک اس سے پانچ باتوں کے بارے میں حساب نہیں لے لیا جائے گا ،اس سے پوچھا جائے گا کہ عمر کن مشاغل میں گزاری؟دین کا علم حاصل کیا تو اس پر کتنا عمل کیا؟مال کن ذرائع سے حاصل کیا؟حاصل کردہ مال کس طرح خرچ کیا؟جسم کو کس کام میں لگایا؟(ترمذی:۲۶۰۱)،یہی وجہ ہے کہ رسول اللہؐ ؐ نے موقع بموقع وقت کی اہمیت اور اس کی قدر وقیمت بتاکر اس کے صحیح استعمال کی طرف توجہ دلائی ہے، بلکہ آپؐ نے اپنے ماننے والوں کو وہ طریقے بتلائے ہیں کہ جس سے آدمیوں کے لئے وقت کا صحیح استعمال نہ صرف آسان ہوجاتا ہے بلکہ وقت کی قدردانی کی وجہ سے کم وقت میں بہت کچھ کام انجام دے کر کامیاب لوگوں میں اپنا نام بھی درج کرویا جا سکتا ہے،وقت کی قدر وقیمت اور اس کی اہمیت کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام کی بہت سی عبادات وقت کے ساتھ خاص ہیں بلکہ عبادات میں اہم ترین عبادت ، الٰہی کی خوشنودی کی علامت اور قرب الٰہی کا ذریعہ نماز کو وقتوں کے ساتھ جوڑ کر دیا گیا ہے اور وقت کی پابندی کے ساتھ نماز ادا نہ کرنے والے کے لئے سخت عذاب کی و عید سنائی گئی ہے،ایک حدیث میں رسول اللہ ؐ نے بے فضول کاموں میں لگ کر اوقات ضائع کرنے والے کو دھوکہ کھاجانے والوں میں شمار کیا ہے ،ارشاد فرمایا کہ ’’ دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ دھوکے میں مبتلا ہیں ،ایک تندرستی دوسرے فراغت وقت(بخاری:۶۴۱۲)،اور ایک حدیث میں آپ ؐ نے اس شخص کو اسلام کی خوبی سے محروم بتایا ہے جو لایعنی کاموں میں پڑ کر اپنے قیمتی اوقات ضائع کرتا رہتاہے ،ارشاد فرمایا’’آدمی کے اسلام کی خوبی اور اس کے کمال میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ فضول اور غیر مفید کاموں کا تارک ہو‘‘(ترمذی:۴۲۸۷) ۔
اوقات کی قدروقیمت ، اس کی اہمیت اور اس کے صحیح استعمال کی ترغیب جس طرح اسلام نے اپنے ماننے والوں کو دی ہے اور رسول اللہؐ نے اپنے اصحاب کے واسطے سے پوری امت مسلمہ کو دی ہے یقینا کسی اور مذہب میں اس کی نظیر ومثال ملنا مشکل بلکہ ناممکن ہے، مگر اس کے باوجود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد جن میں نوجوان تو نوجوان بوڑھے اور عورتیں بھی شامل ہیں اپنی زندگی کے قیمتی لمحات واوقات کو بڑی بے پرواہی اور نہایت بے دردی کے ساتھ ضائع کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں ،مسلمانوں کے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد پتاچلا کہ ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی وقت کے سلسلہ میں غیر سنجیدہ ہے اور اوقات کی بربادی پر انہیں احساس تک نہیں ہے ،مسلمانوں کے پاس زندگی گزارنے کا کامل ومکمل اور منظم ومرتب نظام ہونے کے باوجود ایسی بے ترتیب اور بے ڈھنگی زندگیاں گزار رہے ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنے اور قلم کے ذریعہ تحریر میں لاتے ہوئے بڑی شرم محسوس ہورہی ہے، نوجوانوں کی اکثریت کو ہوٹلوں ،چبوتروں ،چوراہوں اور بے مقصد گھومتے ہوئے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس وقت ہی وقت ہے، بلکہ ان میں سے بعض نوجوان تو اوقات ضائع کرنے کے باوجود اس قدر مطمئن نظر آتے ہیں کہ انہوں نے بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ۔
دیگر قوموں اور قوم مسلم کے شادیوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتاہے کہ وہ مذہب اسلام کو نہ مانتے ہوئے بھی اس کی حسین تعلیمات پر عمل پیرا ہیں اور یہ مسلمان تو ہیں لیکن ان کا عملی اعتبار سے تعلیمات اسلامی سے دور دور تک کا واسطہ نہیں ہے ،شادیوں سے جڑی چھوٹی موٹی تقریبات میں رات رات گزرجاتی ہے مگر کسی کو اوقات کے ضائع کرنے پر معمولی سا بھی افسوس نہیں ہوتا،اس وقت شادیوں کی تقریبات زحمت بن چکی ہیں ،دعوت شادی دعوت نہیں بلکہ عداوت معلوم ہورہی ہیں ،اس وقت شادیوں میں شورشرابا،فضول خرچی ،نام ونمود،غیر مہذب انداز اور وقت کی بربادی مسلم معاشرہ کی علامت بن چکا ہے بلکہ چھوٹی چھوٹی تقریبات بھی رات دیر گئے تک جاگنا اور اپنے اس قبیح عمل سے دوسروں کو تکلیف پہنچانا مسلم معاشرہ میں فیشن بن چکا ہے ، مزید افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ مسلم محلوں میں رات دیر گئے تک جاگنا ،ہوٹلوں کو آباد کرنا اور پان شاپس کے قریب کھڑے رہ کر سگریٹ کا کش لیتے ہوئے لایعنی گفتگو کرتے کھڑے رہنا نوجوانوں کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے ، مسلم محلوں میں آدھی رات کے بعد بھی سڑکوں اور گلی کوچوں میں نوجوانوں کی ایک بھیڑ نظر آتی ہے جو گپ شپ ،فضولیات اور لایعنی گفتگو میں اپنے قیمتی اوقات ضائع کرتے دکھائی دیتے ہیں، انہیں محلوں سے نماز فجر کے بعد گزرکر دیکھیں تو سڑکیں ویران اور ہر طرف مردنی سی چھائی نظر آتی ہے ،مکانوں کے درودیوار اُداس نظر آتے ہیں اور مسجدیں ویرانی پر زبان حال سے شکایت کرتی نظر آئیں گی ،حالانکہ آدھی رات کے بعد کا وقت تو نہایت قیمتی ہوتا ہے ،یہ وقت اپنے رب سے سر گوشی کرنے اور رب دو جہاں کے حضور حاضر ہوکر اس کو منانے اور اس کو راضی کرنے کا ہوتا ہے اور فجر کا عارضی موت (نیند) کے بعد دوبارہ زندگی ملنے پر شکر گزاری کا موقع ہوتا ہے ، خوش نصیب ہیں وہ جنہوں ان اوقات کا صحیح استعمال کرتے ہوئے رب کی رضا حاصل کرلی ہے اور بعض وہ بھی ہوں گے جنہوں نے اوقات کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اور خصوصا رات کے خاموشی کی قدر کرتے ہوئے ولایت کا مقام حاصل کرلیا ہوگا ،مگر یہ بدنصیب ہیں کہ بڑی بے فکری کے ساتھ راتوں کے قیمتی لمحات ضائع کرتے ہوئے اپنی صحت کے ساتھ زندگی کی برکتوں سے محروم ہوتے جارہے ہیں
اہل علم اور اہل فکر فرماتے ہیں کہ وقت کی ناقدری ایک ایسا جرم ہے کہ جس سے دیگر جرائم وجود میں آتے ہیں اور آدمی ضیاع وقت کی وجہ سے بے اصول ہوکر مالی دشواریوں میں گھر تاجاتا ہے اور اگر بر وقت اس کوتاہی کا ازالہ نہ کیا گیا تو دوسروں کے مال پر بُری نظر کے بعد چوری اوردھوکہ دہی جیسے بھیانک جرائم اس سے سرزد ہونے لگتے ہیں،ضیاع وقت معاشرہ کے لئے دیمک ہے جو دھیرے دھیرے پورے معاشرہ کو اپنے لپیٹ میں لے کر اس کا قیمتی اثاثہ نوجوان کی صلاحیت کو کھا جاتی ہے ،مسلم معاشرہ کے ذمہ داران کو اس طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے اور شدت سے مہم چلاکر معاشرہ کو اوقات کی پابندی کا عادی بنانے کی ضرورت ہے ،نیز والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود بھی وقت کی پابندی کریں اور اپنے عمل سے اپنی اولاد کو بھی پابندی کی تلقین کریں اور انہیں گاہے بگاہے بتاتے رہیں یہی وہ وقت ہے جس سے دنیوی زندگی کی رنگت اور اخروی زندگی کی دائمی نعمت خریدی جاسکتی ہے۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...