Skip to content
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت سے بیحد محبت تھی.
حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ کا بیان
(11؍ ستمبر 2025ء) حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اللہ تعالی نے اپنے پیارے محبوب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے حد نرم دل اور شفیق و مہربان بنایا ہے، وہ اپنی امت کے لئے سراپا رحمت ہیں، اس کی تکلیف، کسی بھی قسم کی سختی اور شدت انہیں ناگوار گزرتی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ مشرکین کے دین اسلام کیلئے جان توڑ محنت کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ کی رحمت کو جوش آیا اور اللہ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ کیا ان کافروں کے ایمان نہ لانے کے غم میں آپ جان دے دیں گے ۔جب دشمنوں سے آپ کی یہ محبت ہے تواہل محبت یعنی مومنین کے ساتھ آپ کی رحمت وشفقت کا کیا عالم ہوگا۔
اس لئے قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے یہ اللہ پاک کی خاص رحمت ہے کہ آپ لوگوں کیلئے نرم دل ہیں۔ اسی طرح اللہ نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب اطہر میں پیدا کردہ اسی شفقت و رحمت کا اثر تھا کہ صرف نیک اور پرہیزگار لوگ ہی آپ کے پیش نظر نہ تھے، بلکہ گناہ گاروں پر بھی نظر کرم تھی تاکہ وہ رحمت و مغفرت سے محروم نہ رہیں اور فرمانبرداروں کے ساتھ وہ بھی رحمت میں سے حصہ حاصل کر لیں۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے شفاعت اور نصف امت جنت میں داخل کرنے کے درمیان اختیار دیا گیاکہ چاہے تو آدھی امت بخشوا لیں، چاہے شفاعت کا اختیار لے لیں میں نے شفاعت کو اختیار کرلیا ہے۔ اے لوگوں کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ صرف متقی لوگوں کے لئے ہے؟ نہیں، یہ گنہگار اور خطاکار لوگوں کے لئے بھی ہے۔حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری امت پیاری ہے، خواہ وہ گناہ گار ہی ہو، اسی لئے شفاعت کو اختیار فرمایا تاکہ انہیں بھی بخشوایا جا سکے۔ اگر آدھی امت کو بخشوا لیتے تو باقی آدھی امت کدھر جاتی، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بے یار و مددگار چھوڑنا پسند نہیں فرمایا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اور میری امت کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی شخص نے آگ جلائی، تو پروانے اور پتنگے آ کر اس میں گرنے لگے۔ میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر کھینچتا ہوں اور تم اس میں چھوٹ چھوٹ کر گرتے ہو‘‘۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر شفقت ورحمت اور بلند مرتبہ ومقام کے پیش نظر دل وجان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم وتکریم بجالائی جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گہری عقیدت ومحبت رکھی جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت وکردار کو اپنایا جائے۔جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا میں تشریف لانے سے لے کر قیامت کے دن تک کے تمام مراحل میں امت کو نہ صرف یاد رکھا بلکہ ان کی مغفرت وبخشش کیلئے اللہ تعالی کے حضور شفاعت وسفارش کرینگے۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...