Skip to content
،،جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں سیرت النبی صلعم کے موضوع پر تقریری و تحریری مقابلے،
ڈاکٹر رفعت سیما اور محترمہ عائشہ نسرین و محترمہ عطیہ ربی و دیگر کا خطاب،،
حیدرآباد 16/ستمبر(پریس نوٹ)جماعت اسلامی، ہند، شہر حیدرآباد کی جانب سے سیرت النبی کے موضوع پر مدارس کی اونچی جماعتوں کے لئے منعقدہ تقریری و تحریری مقابلہ جات کے ضمن میں جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ حیدرآباد میں مقابلے منعقد کئے گئے۔ جن میں اونچی جماعتوں کی طالبات نے حصہ لیا۔ پروگرام کا آغاز طالبہ عائشہ سلطانہ کی قرآت کلام پاک سے ہوا۔ عالمہ سال آخر کی طالبہ ثمرین بیگم نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔
پروگرام کےآغاز میں ڈائریکٹر جامعہ، محترمہ ڈاکٹر رفعت سیما صاحبہ نے جماعت اسلامی کے نمائندہ ارکان محترمہ عائشہ نسرین صاحبہ و محترمہ عطیہ ربی صاحبہ اور محترمہ رخشندہ کوکب ارجمند صاحبہ اور دیگر کا تعارف کرایا۔ اور ان تحریری اور تقریری مقابلوں کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ دینی مدارس چونکہ اسلام کے مضبوط قلعے ہوتے ہیں، یہاں سے فارغ ہونے والے علماء اور عالمات کو مستقبل میں قیادت کی ذمہ داری ادا کرنی ہوتی ہے جس کے لئے قلم و خطابت کے ہنر سے آراستہ ہونا ضروری ہے اس طرح کے بین مدارس مقابلہ جات، طلباء و طالبات کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں تاکہ مستقبل میں تحریک و تبلیغ کے عملی میدان میں اتر کر وہ گمراہیوں اور معاشرتی برائیوں کا پردہ چاک کرسکیں اور نور ھدایت کو چہار سو پھیلاتے ہوئے ایک پاکیزہ معاشرے کو تشکیل دینے میں اپنی ذمہ داری نبھا سکیں، انہوں نے مزید بتایا کہ علم دین سے وابستہ طلباء و طالبات کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ فارغ ہونے کے بعد انکی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی بلکہ دوچند ہو جاتی ہے، اس موقع پر ڈاکٹر رفعت سیما صاحبہ نے جماعت اسلامی، شعبئہ خواتین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم مقصد کے تحت اس طرح کے بین مدارس مقابلے یقینا ہماری طالبات کے لئے مفید ثابت ہونگے اور ان میں خود اعتمادی پیدا ہوگی۔
محترمہ عائشہ نسرین صاحبہ نے جو جماعت اسلامی کی وفاق برائے عالمات کی سکریٹری ہیں، نے اس موقع پر جماعت اسلامی کی ان سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ جس کے ذریعہ دینی مدارس کی طالبات کو ایک مرکز پر لاتے ہوئے ان کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو تحریک نقطہ نظر سے کارآمد بناکر ملت اسلامیہ کی قوت اور طاقت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عموما یہ دیکھا جارہا ہے کہ عالمات کی توانائیاں فراغت کے بعد رہنمائی کے فقدان کی وجہ سے منتشر ہوکر ضائع ہورہی ہیں جس میں ملت کا بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ تقریری و تحریری مقابلوں کا مقصد بھی یہی ہے کہ دینی مدارس کی طالبات کو ایک مرکز پر لاکر میدان عمل سے جوڑا جائے۔
محترمہ عطیہ ربی صاحبہ جو وفاق برائے عالمات میں شعبئہ حدیث کی ذمہ دار ہیں مقابلوں کےاختتام پر مخاطب کرتے ہوئے حصہ لینے والی طالبات کی ہمت افزائی کی اور بتایا کہ تقریری صلاحیتوں کو کیسے اجاگر کیا جا سکتا ہے ، انہوں نے طالبات کو مثبت انداز فکر اختیار کرتے ہوئے خود اعتمادی بڑھانے اور افراط و تفریط سے بچنے کی تلقین کی۔
ان مقابلوں میں ثمرین بیگم، مہک عظمئ، اور سیدہ اقصٰی، شبینہ یاسمین اور مسرت بیگم اور دیگر نے حصہ لیا۔ جبکہ طالبہ حسنئ بیگم نے نبی کریم کے أخلاق پر تقریر کی اور رخسار بیگم، سمیہ بیگم اور زرینہ بیگم اور خدیجہ بیگم نے حمدیہ اور نعتیہ کلام پیش کیا .محترمہ شہناز بیگم معلمہ جامعہ ھذا نے پروگرام کی نگرانی کی۔
وفاق برائے عالمات کے شعبئہ تفسیر کی ذمہ دار، محترمہ رخشندہ کوکب ارجمند کی پراثر دعا کے ساتھ اس پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔۔۔۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...