Skip to content
امارت شرعیہ: انقلابی و آئینی تحریکات کا تاریخی تسلسل (کرونولوجی)
ازقلم:مفتی قیام الدین قاسمی سیتامڑھی
حضرت عمر رض کا وہ مشہور اثر آپ نے پڑھا ہوگا "لا إسلام إلا بجماعة ولا جماعة إلا بإمارة ولا إمارة إلا بطاعة” اسلام جماعت کے بغیر ناقص، اور جماعت امیر کے بغیر ناقص اور امیر اطاعت کے بغیر ناقص ہے، تو اسلام میں نصب امیر یعنی اپنا امیر مقرر کرنا حصولِ علم کی مانند واجب اور ضروری ہے، سب سے پہلے دس سال امیر خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم رہے، پھر اگلے 30 سال چاروں خلفائے راشدین، اس کے بعد 89 سال خلافت بنو امیہ پھر 500 سال خلافت عباسیہ اور پھر 700 سال خلافت عثمانیہ قائم رہی۔ ہندوستان کے تناظر میں جب تک مغلوں کی حکومت تھی تب تک تو ملک خلافتِ عثمانیہ کے زیرِ نگیں تھا لیکن انگریزوں کی حکومت آتے ہی یہ خلافت عثمانیہ کی حدود سے خارج ہوگیا تھا، آئیے جانتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت کب ختم ہوئی اور اس کے بعد قیام امارت اور نصب امیر کے فریضے کو ادا کرنے کی کوششیں کس کس طریقے سے کی گئیں۔
*سلطنتِ مغلیہ کا سقوط اور اس کے بعد دو ادوار کے درمیان حدِّ فاصل*
مولانا عبد الصمد رحمانی رح اپنی کتاب تاریخِ امارت میں امارت شرعیہ کے قیام کی کوششوں کو پہلے دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:
1803 سے پہلے کا دور اور 1803 کے بعد کا دور
ان دونوں کے درمیان حد فاصل کا کام کرتا ہے انگریزوں کی جانب سے دہلی میں کرایا گیا اعلان "ملک بادشاہ سلامت کا اور اور حکم کمپنی بہادر کا، یعنی اس اعلان کے بعد عملی طور پر سلطنت مغلیہ کا خاتمہ ہوگیا۔
انقلابی و آئینی تحریکات کا مرجع
1803 کے بعد کے دور کو وہ پھر دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں انقلابی دور اور آئینی دور۔
دونوں ادوار کا مرجع شاہ عبد العزیز کا فتویٰ ("اکنون ہندوستان دارالحرب گشت” اب ہندوستان دارالحرب بن گیا ہے) قرار پایا۔
انقلابی تحریک کے پہلے امیر
اس فتوے کو عملی جامہ پہنانے والی سب سے پہلی شخصیت پہلے انقلابی امیر سید احمد شہید کی ہے جن کو اربابِ حل و عقد پہلے 1816 میں امیر منتخب کرتے ہیں اور ان کے ہاتھ پر خاندان ولی اللہی سب سے پہلے امارت کی بیعت کرتا ہے، پھر 1826 میں عمومی بیعت امامت ہوتی ہے اور جمعہ میں آپ کے نام کا خطبہ پڑھا جاتا ہے، اور یہ تحریک 1831 میں ان کی اور ان کے وزیر شاہ اسماعیل شہید رحمہما اللہ کی شہادت پر ختم ہو جاتی ہے۔
انقلابی تحریک کے دوسرے امیر
انقلابی دور کے دوسرے امیر حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ہیں، یہ سید احمد شہید کی پھونکی ہوئی روحِ جہاد کے علمبرداروں میں سے ایک تھے، انقلابی تحریک کو پورے ہندوستان میں خفیہ طور پر منظم کیا جاتا ہے، ارباب حل و عقد حاجی صاحب کو امام و امیر مقرر کرتے ہیں، تھانہ بھون دارالاسلام قرار پاتا ہے، شاملی کو فتح کر دارالاسلام سے الحاق کیا جاتا ہے، مولانا قاسم نانوتوی چیف آف آرمی بنائے جاتے ہیں، دارالقضاء کا قیام عمل میں آتا ہے اور زمامِ قضا مولانا رشید احمد گنگوہی کے سپرد کی جاتی ہے، لیکن پھر اسے انگریزوں کی نظر لگ جاتی ہے اور یہ انقلابی تحریک غدر، انتشار، شورش و ناکامی کا نشانہ بن جاتی ہے، حاجی صاحب کو ہجرت، مولانا رشید احمد گنگوہی کو زندان اور مولانا قاسم نانوتوی کو روپوشی پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
ان دونوں تحریکوں میں قدر مشترک یہ بھی ہے کہ دونوں تحریکوں میں خانقاہوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
تیسری انقلابی تحریک کی بنیاد اور تیسرے امیر
دوسرے انقلابی امارت کی ناکامی کے بعد تیسرے انقلابی امارت کی شجر کاری کے لئے چیف آف آرمی اسٹاف اور امیر لشکر مولانا قاسم نانوتوی دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھتے ہیں اور اس کے بعد مولانا عبد الصمد صاحب انقلابی دور کے تیسرے امیر شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی کو قرار دیتے ہیں، ریشمی رومال کی تحریک در اصل اسی تیسرے انقلابی تحریک کا شاخسانہ ہے، 21 فروری 1917 کو شیخ الہند مالٹا میں لاکر قید کردئیے جاتے ہیں اور اس تحریک کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔
*پہلی دو امارت اور تیسری امارت میں دو فرق:*
1 تیسری تحریک نہ پہلی دو امارتوں کی طرح مکمل انقلابی ہے کیوں کہ پورے ہندوستان میں اسلحوں پر پابندی لگا دی گئی تھی اور نہ اگلی آئینی تحریکوں کی طرح مکمل آئینی؛ اگرچہ اس تحریک میں انقلاب کا رنگ غالب ہے، اسے آپ تحریک انقلابی انتقالی بھی کہ سکتے ہیں کیوں کہ یہ مکمل انقلابی تحریکوں اور مکمل آئینی تحریکوں کے درمیان کی تحریک ہے۔
2 پہلی دو تحریکوں کا مرکز ہندوستان تھا لیکن اس تحریک انقلاب کا زیادہ تر انحصار بیرون ہند کی عالم اسلامی کی امداد پر تھا۔
آئینی تحریک کی بنیاد
اس کی صدا خاتمِ انقلابی تحریک شیخ الہند رح نے ہی لگائی، جون 1920 کو دہلی میں ڈاکٹر انصاری مرحوم کی کوٹھی پر ڈاکٹر انصاری، مولانا محمد علی جوہر اور حکیم اجمل خان وغیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے آپ نے ہدایت فرمائی "آئینی اور پر امن تحریک میں ہندوستان کا لیڈر کسی ہندو کو ہونا چاہئے تاکہ تحریک کا بار بقدر حصہ اکثریت پر رہ سکے”۔
*انقلابی تحریک عزیمت کے امیر نے آئینی تحریک رخصت کی صدا کیوں لگائی؟*
1 کیوں کہ اندرون ہند ہتھیاروں پر پابندی لگادی گئی تھی جو کہ کسی بھی انقلابی تحریک کا اہم عنصر ہوا کرتی ہے۔
2 بیرون ہند مسلم حکمران اب قومیت کے نشے میں چور ہوگئے تھے، ملت اسلامیہ کے بجائے عربوں نے عرب قومیت اور ترکوں نے تورانی قومیت کے نعرے کو اپنے لیے حرز جاں بنا لیا تھا جس سے بیرونی تعاون کی امید بھی ماند پڑ گئی تھی۔
آئینی تحریک کے پہلے بانی
1917 کے بعد انقلابی تحریک برپا کرنے کی گنجائش نہیں رہی تھی، اب وقت تھا کہ اُسی قدیم مقصد و فریضہ قیامِ امارت اور نصبِ امیر کو ایک نئے ڈھنگ و آہنگ اور نئے طور طریقوں سے مزین کیا جائے، اب فکِّ کلِ نظام کی تحریک ممکن نہیں تھی اب بس ما لا یدرک کلہ لا یترک کلہ پر عمل کرنے کی گنجائش تھی، لیکن بقدر وسعت اسلامی احکام کے نفاذ و نصب امیر پر علماء کا متفق ہونا مشکل تھا کیوں کہ اکثر علماء کے نزدیک انقلابی تحریک ہی آئیڈیل تھا اور وہ اس سے تنزل اختیار کرکے قیامِ امارت و نصبِ امیر کو کسی صورت ماننے کو تیار نہ تھے، اس کے باوجود مولانا ابو المحاسن سجاد رح پورے ہندوستان کا دورہ کرکے مسلمانوں کی دینی قیادت، دینی سیاست اور جماعتی امور کے سرکردہ علماء (بالخصوص شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا قیام الدین عبد الباری فرنگی محلی وغیرہم) کو اس نقطے پر جمع کرنے اور اپنے مضبوط فقہی و عقلی دلائل سے قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ قوت نافذہ کے ختم ہوجانے اور حکومت کی باگ ڈور چھن جانے سے نصب امیر کا فریضہ ساقط نہیں ہوجاتا اور آئینی حدود میں رہ کر نصب امیر اور احکام اسلامی کے اجراء کی جو کوششیں کی جاسکتی ہیں وہ ہر حال میں کرنا ہم پر فرض ہے۔
مولانا سجاد قیام امارت کے لیے علماء کی قیادت کو متحد کرتے ہیں
اس کے لیے سب سے پہلے اپنے قائم کردہ مدرسہ انوار العلوم گیا (1910) کے سالانہ اجلاس منعقدہ اکتوبر 1917 میں پورے علاقے کے علماء کو دعوت دی اور "انجمن علمائے بہار” کی بنیاد رکھی، پھر 1919 میں رولٹ ایکٹ (مارچ) کے خلاف گاندھی کی تحریکِ عدمِ تعاون (اپریل)، خلافت کمیٹی (5 جولائی) اور جمعیت علما (نومبر) بھی مولانا اور ان کے رفقاءِ کار کے اسی آئینی تحریک والے نظریے کے برگ و بار ہیں۔
*مولانا سجاد قیامِ امارتِ ہند کی تجویز پیش کرتے ہیں*
1920 میں جمعیت علماء کے دوسرے اجلاس عام میں مولانا نے امارت کے مسئلے کو ارباب حل و عقد کے سامنے رکھا، شیخ الہند رح اپنی طبعیت کی ناسازی کے باوجود اس بات پر مصر تھے کہ امیر الہند کا انتخاب کرلیا جائے اور میری چارپائی کو جلسہ گاہ میں لے جایا جائے اور منتخب شدہ امیر کے ہاتھ پر سب سے پہلے میں بیعت کروں گا لیکن اس مسئلے کو شیخ الہند کی صحت پر موقوف کرکے ملتوی کردیا گیا اور اس کے ایک ہی ہفتے بعد شیخ الہند کا انتقال بھی ہوگیا، اور یوں امارتِ ہند کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔
*مولانا سجاد صوبائی امارت شرعیہ قائم کرتے ہیں*
مولانا ابوالمحاسن سجاد کو اپنا ارادہ تبدیل کرنا پڑا اور امیر الہند کے بجائے مئی 1921 کو جمعیت علمائے بہار کے اجلاس کے تیسرے اجلاس بمقام دربھنگہ میں 25 اور 26 جون کو بانکی پور پٹنہ پتھر کی مسجد میں ایک غیر معمولی اجلاس ہونا طے پایا، اور پھر اس خصوصی اجلاس میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد رح کی صدارت میں امارت شرعیہ بہار (اڈیشہ اور جھارکھنڈ بھی اس وقت بہار میں تھے) کی داغ بیل ڈال دی گئی اور خانقاہ مجیبیہ کے سجادہ نشین مولانا شاہ محمد بدر الدین رح امیر شریعت اور مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رح نائب امیر شریعت مقرر کئے جاتے ہیں۔
ہم نوجوانوں کے لیے 3 پیغام
1 قیامِ امارت اور نصبِ امیر کے اس فریضے کی اہمیت کا ادراک کیجئے
جس کی وضاحت مولانا عبید اللہ سندھی نے کچھ اس طرح سے کی ہے:
*دہلی کے قرب و جوار میں (1857) چار مہینے کی مدت میں ستر معرکے ہوئے۔۔۔۔ حیدرآباد و کابل کے حکمرانوں نے علماء کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔۔۔ دہلوی جماعت کے اساطین بالخصوص حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور شیخ عبد الغنی مجددی حجاز میں جمع ہوئے اور ہندوستان میں ایک دینی جامع مدرسہ کی بنیاد ڈالنے پر اتفاق رائے کرلیا۔۔۔ یہ حضرات حجاز مقدس میں ایک اسلامی مرکز کو مضبوط کرنا چاہتے تھے اور افغانستان میں ہندوستانی تحریک کے مرکز کی تجدید کا ارادہ رکھتے تھے اور ہندوستان میں نائب امیر کی حیثیت سے شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کام کررہے تھے* (التمھید لأئمۃ التجدید)۔
ایک اور جگہ لکھتے ہیں
*”پھر اگر مسلمانوں کا کوئی خطہ ایسا ہو جس پر کافروں کا غلبہ ہو جائے، تو ان عام مسلمانوں پر جو ہجرت پر قادر نہ ہوں یہ واجب ہے کہ اپنے لیے ایک امام مقرر کریں، جس کی طرف تعلیم و فتویٰ کے معاملات میں رجوع کریں۔ اور ہمارے مشائخ جنہوں نے دہلی کے قریب دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی اور پھر اس کی شاخیں ہندوستان کے اطراف میں قائم کیں، ان کا مقصد دراصل اسی واجب کی ادائیگی تھا”۔* (مواقف المسترشدین از امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ بحوالہ شوریٰ کی شرعی حیثیت از مولانا ریاست علی بجنوریؒ)۔
لہذا آپ امارت شرعیہ کی تقویت کو اپنی زندگی کی ترجیحات میں شامل کیجئے؛
کیوں کہ آپ کی زندگی کا مقصد ۔۔۔ فی سبیل اللہ اور اعلاء کلمۃ اللہ ہے۔
کیوں کہ آپ کے ادارے کی بنیاد دوسرے انقلابی تحریک کی ناکامی کے بعد تیسرے انقلابی تحریک کا کامیاب بنانے کے لیے رکھی گئی تھی
کیوں کہ آپ کے اداروں اور مادر علمی کی بنیاد بلا واسطہ یا بالواسطہ *ایک نائب امیر، چیف آف آرمی اسٹاف اور سالار لشکر* کے ذریعے رکھی گئی تھی؛ لہذا آپ صرف عالم نہیں ایک آرمی کا حصہ ہیں اس لیے آپ کی سوچ، طرز فکر، گفتار و کردار اور زندگی کے فیصلے سب کچھ سپاہیانہ ہونے چاہئیں۔
2 چودہ سو سال سے چلے آرہے امارت اسلامیہ اور نصبِ امیر کے اس تسلسل اور اس کے لیے اپنے بزرگوں کی دی گئی قربانیوں کو محسوس کیجئے تاکہ آپ اپنی قدیم تاریخ سے مربوط رہیں؛ کیوں کہ:
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
اور
ملت کے ساتھ رابطۂ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ
3 یہ غور کیجئے کہ اِس وقت کس تحریک کی زیادہ ضرورت ہے؟ کون سا میدان خالی ہے؟ کس جگہ نئے انداز سے کام کرنے کی ضرورت ہے؟ سوچئے اور پڑھئے کیوں کہ بعثت نبوی کا مقصد ہی تلاوت و قراءت اور تعلیم ہے اور ہم اس نبی کے وارث بنائے گئے ہیں۔
نوٹ: یہ وہ فکر ہے جو ہماری اوپر والی نسل اپنے زمانے کے حالات یا کسی وجہ کر ہم تک منتقل نہیں کرسکی لیکن اب ہمیں شیخ الکل، حجۃ اللہ فی الارض، شیخ الہند اور امام انقلاب اور ابوالمحاسن سجاد رحمہم اللہ اور ان کی تعلیمات سے اپنا رابطہ استوار کرنا ہوگا اور ایک امیر کی ماتحتی میں ایک فوجی کی طرح زندگی گزارنا ہوگا: کیوں کہ اس فکر کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے بنا نہ تو حوصلہ اور جذبہ بیدار ہوسکتا ہے اور نا ہی ہندوستان میں ہندوتوا کی برپا کی گئی نفسیاتی احساس کمتری اور ضمیر کی جنگ اور بیرونِ ہند حقیقی جنگ جیتنے کا خواب دیکھا جاسکتا ہے۔
7070552322
qiyam308@gmail.com
Like this:
Like Loading...