Skip to content
سعودی عرب: ماضی کی روایت، حال کی جدت اور مستقبل کا عزم
ازقلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت۔
مغربی ایشیا کی وسیع و عریض سرزمین کے قلب میں واقع، مملکتِ سعودی عرب آج محض جغرافیائی سرحدوں میں قید ایک ملک نہیں بلکہ ایک ایسے زندہ اور متحرک بیانیے کی تشکیل میں مصروف ہے جہاں صدیوں کی تاریخ، حال کی متحرک حقیقت اور مستقبل کے عزائم ایک حسین سنگم کی صورت میں یکجا ہو گئے ہیں۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں سے نورِ اسلام کی کرنیں پھوٹیں اور جہاں دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکنیں، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، موجود ہیں۔ اگرچہ ایک طویل عرصے تک یہ ملک اپنی قدامت پسندانہ مذہبی شناخت اور تیل کی بے پناہ دولت کے باعث جانا جاتا تھا، مگر اب یہ ایک ایسے عہد کے سفر پر گامزن ہے جہاں انقلابی تبدیلیاں اس کی ہر سطح پر رونما ہو رہی ہیں۔ ان تبدیلیوں کا سب سے واضح اظہار اس کے دو اہم ترین قومی دنوں، یومِ تاسیس اور قومی دن کی بدلتی ہوئی نوعیت میں دیکھا جا سکتا ہے، جو اب محض روایتی تعطیلات نہیں بلکہ ایک نئے سعودی عرب کی شناخت اور اس کے سیاسی و سماجی ارتقاء کی علامت بن چکے ہیں۔
سعودی عرب کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے صرف ۱۹۳۲ء میں مملکت کے قیام کو دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس کی جڑیں اس سے کہیں زیادہ گہری اور مضبوط ہیں۔ یومِ تاسیس، جسے ہر سال ۲۲ فروری کو منایا جاتا ہے، اسی گہری تاریخ کا ایک ٹھوس اور واضح اعتراف ہے۔ یہ دن ۱۷۲۷ء میں امام محمد بن سعود کی الدرعیہ میں پہلی سعودی ریاست کے قیام کی یاد دلاتا ہے۔ اس ریاست نے، جو ایک صدی سے زیادہ عرصے تک قائم رہی، قرآن و سنت کو اپنا دستور بنا کر جزیرہ نما عرب میں سیاسی استحکام اور ایک منظم سماجی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک ایسا دور تھا جب خطہ قبائلی انتشار اور لاقانونیت کا شکار تھا۔ اس دن کو قومی سطح پر منانے کا فیصلہ صرف ایک تاریخی واقعے کو یاد کرنا نہیں، بلکہ ایک وسیع اور دور رس سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد قومی فخر کو صرف حالیہ تاریخ تک محدود رکھنے کے بجائے اسے تین سو سال کی ایک مستحکم اور منظم تاریخ سے جوڑنا ہے۔ جیسا کہ عالمی تھنک ٹینکس جیسے بروکنگز انسٹیٹیوشن (Brookings Institution) کے ماہرین تجزیہ کرتے ہیں، یہ اقدام ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں قومی بیانیے کو مزید مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے، تاکہ دنیا اور ملک کے نوجوانوں کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ سعودی ریاست کی بنیادیں عارضی نہیں بلکہ یہ صدیوں کی محنت اور جدوجہد پر استوار ایک گہری اور مضبوط وراثت کی امین ہے۔
دوسری جانب، ہر سال ۲۳ ستمبر کو منایا جانے والا قومی دن ایک نئے عہد اور مستقبل کے عزائم کی علامت ہے۔ یہ دن بانیِ مملکت، شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود کے اس عظیم الشان کارنامے کی یادگار ہے جب انہوں نے ۱۹۳۲ء میں حجاز اور نجد کی بکھری ہوئی ریاستوں کو ایک متحدہ اور خودمختار مملکت کی شکل دی۔ یہ اتحاد محض ایک سیاسی معاہدہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی دور اندیشی کا مظہر تھا جس نے خطے میں امن و استحکام قائم کیا اور جدید سعودی ریاست کی بنیاد رکھی۔ لیکن آج اس دن کا مفہوم بہت بدل چکا ہے۔ آج یہ وژن ۲۰۳۰ (Vision 2030) کا آئینہ ہے، جو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ایک انقلابی اور ہمہ گیر منصوبہ ہے۔ اس وژن کا مقصد سعودی معیشت کو تیل پر انحصار کم کرنے، غیر تیل کے شعبوں میں تنوع لانے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور سماجی و ثقافتی سطح پر ملک کو جدیدیت کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ اس وژن کے تحت کی جانے والی اصلاحات، جیسے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت، سینماؤں کا دوبارہ کھلنا، اور بین الاقوامی کھیلوں و تفریحی تقریبات کی میزبانی، نے نہ صرف دنیا کو حیران کیا ہے بلکہ سعودی معاشرے میں بھی ایک نئی روح پھونکی ہے۔
اگرچہ یہ تبدیلیاں دنیا بھر میں سراہا جا رہی ہیں، ایک تجزیاتی نقطہ نظر سے ان کے ساتھ جڑے ہوئے چیلنجز کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ برطانوی تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس (Chatham House) کے تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اصلاحات محض ظاہری تبدیلی نہیں بلکہ یہ ایک گہری سماجی تبدیلی کا آغاز ہیں جو سعودی معاشرے کی بنیادوں کو ہلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ معیشت کی تیز رفتاری کے باوجود نوجوانوں میں بے روزگاری کا بڑھتا ہوا مسئلہ اور روایتی اقدار کے حامل طبقات میں ان تبدیلیوں کے خلاف تحفظات اب بھی موجود ہیں، لیکن حکومت کا عزم واضح ہے کہ وہ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ایک سینیئر سعودی اقتصادی ماہر نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا کہ "معیشت کو متنوع بنانے (diversify) کا عمل ایک طویل اور صبر آزما دوڑ ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ اس میں وقت لگے گا، لیکن ہم صحیح راستے پر ہیں۔”
ان تمام قومی تہواروں اور تقریبات کو ایک نئے عوامی اور ثقافتی رنگ میں رنگا گیا ہے۔ جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی (جی ای اے) (GEA) نے ان تقریبات کو اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ وہ عوام اور حکومت کے درمیان ایک نئے رشتے کو پروان چڑھا سکیں۔ بڑے شہروں جیسے ریاض، جدہ اور دمام میں ہونے والے آتش بازی کے شاندار مظاہرے، ڈرون شوز اور ثقافتی فیسٹیولز نہ صرف عوام کو تفریح فراہم کرتے ہیں بلکہ وہ ایک نئے قومی بیانیے کی تشکیل کا بھی حصہ ہیں، جس کے ذریعے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب ایک متحرک، نوجوان اور جدید قوم ہے جو اپنی ثقافتی وراثت پر فخر کرتی ہے مگر مستقبل کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اس قوم کی آبادی میں ۳۵.۳ ملین کی کل تعداد میں ۴۴.۴ فیصد غیر ملکی تارکین وطن ہیں، جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان تہواروں میں ان غیر ملکیوں کی شمولیت کو فروغ دینا بھی ایک ایسے معاشرے کی علامت ہے جو زیادہ کھلے پن اور برداشت کی فضا کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تاہم، ان غیر ملکی محنت کشوں کے حقوق اور ان کے حالاتِ کار پر بین الاقوامی تنظیموں جیسے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (International Labour Organization) کی رپورٹس مسلسل نگرانی کر رہی ہیں، جو سعودی حکومت کے لیے ایک مستقل چیلنج ہے۔
عالمی سطح پر، سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں بھی ایک واضح اور انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ وہ اب ایک خاموش اور قدامت پسند ریاست کے بجائے ایک زیادہ فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔ یمن میں جنگ سے لے کر علاقائی تنازعات میں مصالحتی کردار تک، سعودی عرب نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اب صرف تیل کا کنواں نہیں بلکہ ایک اہم علاقائی کھلاڑی ہے جس کی آواز کو سنا جاتا ہے۔ اس کے قومی دن اور یومِ تاسیس کے موقع پر سعودی قیادت کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیانات میں اس نئے کردار کا واضح اظہار ہوتا ہے۔
یہ بات بالکل واضح ہے کہ سعودی عرب کے یہ دونوں قومی دن ایک ہی کہانی کے دو ابواب ہیں۔ یومِ تاسیس ایک ایسے شاندار ماضی کا دروازہ کھولتا ہے جس نے اس قوم کو مضبوط نظریاتی اور تہذیبی بنیادیں فراہم کیں، جبکہ قومی دن اس طاقتور حال اور پرعزم مستقبل کا مظہر ہے جو جدیدیت اور عالمی قیادت کے راستے پر گامزن ہے۔ یہ دونوں دن ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں، کیونکہ یہ ایک ایسے سعودی عرب کی تصویر پیش کرتے ہیں جو اپنی جڑوں میں مضبوطی سے پیوست رہتے ہوئے، مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسی مملکت کی کہانی ہے جو اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو قائم رکھتے ہوئے جدید دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے تیار ہے، اور یہی خصوصیت اسے آج کے عالمی منظرنامے میں ایک منفرد اور طاقتور ریاست بناتی ہے۔
Post Views: 5
Like this:
Like Loading...