Skip to content
نوجوان نسل غیر شعوری طور پر سوشل میڈیا کی قیادت میں
از۔ ذوالقرنین احمد
(فری لانس جرنلسٹ)
موجودہ حالات پر نظر ڈالی جائے تو ایک حساس مسئلہ ہمیں درپیش ہے جس میں اکثریت نوجوانوں کی ہیں، ہمارے نوجوان سوشل میڈیا پر سب زیادہ وقت گزارنے میں مصروف ہے اور سوشل میڈیا کو ہی اپنا قائد رہبر و رہنما سمجھ کر اس پر چل رہے ٹرینڈز کو غیر شعوری طور پر بلا جھجک اپنا رہے ہیں۔اب اس میں بچے بھی شامل ہو چکے ہیں اور بوڑھے بھی کیا مرد کیا خواتین سبھی اس بھیڑ کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ نہ ان نوجوانوں کے سامنے زندگی کا کوئی مقصد ہے اور نا ہی انھیں منزل کی خبر ہیں نا راستے کی، بس بے سمت کسی بھی ٹرینڈز کو فالو کرنے میں وہ اپنی خوشی محسوس کرتے ہیں۔
مسلم نوجوانوں کا اس بھیڑ کا حصہ بننا ہمارے لیے باعث افسوس بھی ہے اور غور و فکر کا مقام بھی ہے کہ ہماری نسل نو آخر کس سمت میں اپنے قدم بڑھا رہی ہیں، آخر وہ ایسے کام کرنے کے لیے کیوں بے چین نظر آتی ہیں ملی و مذہبی قائدین کو بھی اس بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر ہم سے کہاں پر غلطی ہوئی ہے یا پھر اب مسلمانوں کا کوئی قائد رہبر و رہنما نہیں رہا ہے کیونکہ نوجوان قیادت کو تسلیم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے اور اسکی وجوہات صاف ظاہر ہے کہ مسلم نوجوانوں کو اور بچوں کو زندگی کے حقیقی مقاصد اور زندگی گزارنے کے طریقہ نہیں سکھائے گئے ناہی ان کی تربیت کے لیے کوئی لائحہ عمل عام و خاص بلا مکتبہ فکر کی تفریق کے تیار کیا گیا۔
تنظیمیں اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کر رہی ہیں لیکن پھر بھی بہت بڑا خلا آج محسوس ہو رہا ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو زندگی کا حقیقی مقصد پتہ نہیں ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد دین اسلام کی سربلندی ہے اللہ کے کلمہ کو بلند کرنا ہے جو نبی کریم ﷺ کی دعوت ہم تک پہنچی ہے اسے تمام انسانوں تک پہنچانا ہے۔ لیکن ہمارے پاس کوئی منظم تربیتی نظام موجود ہے نا ہی نوجوانوں کے لیے کوئی پروگرام ہے کہ ان کو شعوری طور پر اسلام کی حقیقی تعلیمات دی جائے، زندگی کے مقاصد سامنے رکھے جائیںء ان کے لیے ہر اسلامی مہینے کے مطابق سرگرمیاں دی جائے انھیں مختلف کام اور ایجنڈے دئیے جائیں کہ آپ کو اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے کس نہج پر کام کرنا ہے اور آپ کی تخلیق کا مقصد بہت اعلی ہے آپ اور ہم صرف زندگی گزارنے کے لیے تخلیق نہیں کیے گئے اور نا ہی ہمیں دنیا میں عیش و آرام کےلیے بھیجا گیا ہے بلکہ ہمیں بڑے مقاصد کے حصول کے لیے بھیجا گیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ کی سربلندی ہے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں زندگی گزار کر اپنے مقاصد پر نظر رکھتے ہوئے دوسروں تک ان تعلیمات کو عام کرنا اور انہیں زندگی کے حقیقی مقاصد سے آگاہ کرونا ہیں۔
لیکن آج ہماری نسل نو سوشل میڈیا پر چل رہے ٹرینڈ کا حصہ بن رہی ہیں اور انھیں اس کے نتائج کا اندازہ بھی نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہی ہیں اور ناہی ہمارے مردہ بے حس قیادتوں کو اس بات کی فکر ہیں کہ عوام میں اب قائدین کا کوئی رول بھی باقی ہے یا نہیں یہ نام نہاد قائدین صرف جلسے جلوسوں میں اپنی تعداد دکھا کر اور نعرے بازی کروا کر سمجھتے ہیں ہم نے بہت بڑا کام کرلیا ہیں وقف بچاؤ تحریک ہو یا مختلف ملی مسائل ہو قیادت نے اپنا کام صرف اتنا ہی سمجھ رکھا ہے کہ حکومت مسلمانوں کے خلاف قانون سازی کی ہے یا مسلمانوں پر کسی ریاست میں ظلم ہوا ہے ماب لنچنگ ہوئی ہے تو اس وقت ریلیاں نکال کر میومورنڈم پیش کردو یہی طریقہ کار آج بھی جاری ہیں اور مسلمانوں پر ہورہے مظالم میں ذرا فرق دیکھنے نہیں ملتا ہے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخیوں کا سلسلہ دراز ہوتا جارہاہے اور وہی پرانی روش پر ہماری قیادتیں کام کر رہی ہیں جس کا نتیجہ شائد ہی کبھی کسی طرح مثبت وانصاف کی صورت میں ظاہر ہوا ہو۔
نام نہاد قیادت میں اور زمینی سطح پر مظلوم عوام کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کر نے اور ان کے سامنے ٹارگیٹ رکھنے ان کا اعتماد حاصل کرنے انھیں سرگرمیوں کا حصہ بنانے میں بہت فرق ہے، ذرا اندازہ لگائیے غزہ میں جاری جنگ کو دو سال مکمل ہونے جارہے ہیں لیکن غزہ کی مظلوم عوام اپنی قیادت کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہوئیں ہیں نا کوئی شکوہ ہے نا شکایت نا ہی ان کی مخبری کسی نے کی ہے۔اور ہماری قیادت کا حال دیکھے کے آپس میں دست و گریباں ہے یہاں تک کے ہمارے جمعہ کے خطبات پر مذہبی جلسوں و جلوسوں پر بھی حکومت کی نظریں اور کان لگی ہوئیں ہیں۔ نا عوام کی شعوری طور پر تربیت کی جارہی ہیں نا ہی انھیں مقاصد کا پتہ نہ زندگی گزارنے کے اصول سے واقف ہے نا حالات و نزاکت کا ادراک ہے، بے سمت بے مقصد بھیڑ بکریوں کی طرح زندگی گزارنے میں مصروف ہے۔ آج اگر زمینی سطح پر عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو یقیناً ہمارے حالات بھی دیگر گو ہو سکتے ہیں۔
ہماری نسل نو میں ناگہانی حالات و خطرات کو سمجھنے اور مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے، اور نہ گھروں میں تربیتی نظام باقی رہا ہے نا ہی مساجد میں نبی کریم ﷺ نے جو عوامل انجام دیے ہیں وہ باقی رہے ہیں ہماری مساجد آئیندہ مستقبل کے لائحہ عمل طے کرنے حالات حاضرہ کو سمجھنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بہترین پلٹ فارم ہے لیکن ہم نے مساجد کو اپنے اپنے مکتبہ فکر کے لیے محدود کر رکھا ہے ائمہ کرام کو بھی جماعتوں و تنظیموں کے دائرہ کار کا پابند کر رکھا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں و نسل نو اور خواتین کے لیے لائحہ عمل تیار کریں انھیں روزآنہ کی بنیاد پر یا ہفتہ کی بنیاد پر سرگرمیوں کا عادی بنائیں چاہے وہ دینی تعلیم سے روشناس کروانا ہو، کھیل کودہو، شعوری تربیت ہو، جسمانی صحت ہو، طبی میدان میں ہو، انڈسٹریز سے متعلق ہو، مختلف زبانوں کے سیکھنے سے متعلق ہو، ہنر و کام کاج سے متعلق ہو،اعلی معیاری عصری تعلیم سے متعلق ہو،شادی سے پہلے اور بعد میں زندگی گزارنے کے اصول طور طریقوں و تربیت سے متعلق ہو، ہنگامی حالات سے نپٹنے سےمتعلق ہو، ڈیفنس سے متعلق ہو، شرعی پردہ حجاب سے متعلق ہو، روزہ نماز و عقیدہ کے مسائل سے متعلق ہو چھوٹے چھوٹے حصوں میں مختلف سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے بچوں و خواتین اور نوجوان کو تیار کریں انھیں معاشرہ میں سرگرم کریں دنیا بہت تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں اور زندہ قوموں کی یہ علامت ہے کہ وہ ہر میدان میں اپنے آپ کو ثابت کرتی ہیں اور یہ دور اپنے آپ کو ثابت کرنے کا ہے، نا کہ سوشل میڈیا کی قیادت میں اپنے آپ کو گمراہیوں کی عمیق گہرائیوں میں دفن کرنے کا ہے تاریخ صرف کامیاب و فاتح انسانوں کو یاد رکھتی ہیں اسے عذر سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔
Post Views: 4
Like this:
Like Loading...