Skip to content
اقوامِ متحدہ میں فلسطین اور حماس
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کو فرانس ،برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال کے ذریعہ فلسطینی ریاست کے تسلیم کرنے نے یادگار بنا دیا جبکہ مزید ممالک ایسا کرنے کی تیاری میں ہیں۔ بیلجیئم، سان مارینو، لکزمبرگ، مالٹا اور اندورا سمیت فن لینڈ اور نیوزی لینڈ کی حکومتوں کی جانب سے بھی اسی طرح کے اشارے مل رہے ہیں۔7؍اکتوبر2023 سے شروع ہونے والی غزہ کی جنگ آزادی کے بعد 14 ممالک فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر چکے ہیں ۔ ان میں بیشتر یوروپ یا وہ گورے ممالک ہیں جو اسرائیل قریبی حلیف تھے ۔فلسطین کے حوالے سے پیدا ہونے والی حالیہ بیداری کے پسِ پشت فرانس کے صدر ایمانویل میخواں کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے اس موقع پراپنے ایک پیغام میں لکھا کہ ’آج کی سب سے اہم ضرورت غزہ میں جنگ کا خاتمہ اور شہری آبادی کا تحفظ ہے۔‘ اسی کے ساتھ اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’امن ممکن ہے۔ فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کے لوگوں کے لیے بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
میکخواں نے‘ ان سمجھداری کی باتوں کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ ہمیں حماس کو غیر مسلح کرنے، غزہ کی سکیورٹی اور تعمیر نو پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس غیر معقول مطالبے کے جواب حماس نےیہ دیا کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہوجانے سے قبل یہ ممکن نہیں ہے اور سچ تو یہ ہے کہ حماس کی مسلح جدوجہد نے ہی مغرب کے ضمیر کو بیدار کیا ہے ورنہ تو وہ خواب غفلت کے اندراسرائیل نوازی میں پڑا رہتا ۔فلسطین کے حق میں اس عالمی حمایت نے بنیامن نیتن یاہو کو بے چین کردیا ہے۔ اس کی حکومت نے۷؍اکتوبر کے بعد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کےان اعلانات کو مسترد کردیا۔ اس بیان سے لگتا ہے کہ گویا اس سے قبل امن و امان تھا اور بعد میں بھی اسرائیل نے نسل کشی کا ارتکاب نہیں کیا حالانکہ اسرائیل پر عالمی عدالت انصاف میں یہ جرم ثابت ہوچکا ہے اور خود نیتن یاہو ایک مفرور ملزم ہے۔ اس لیے نیتن یاہو کا یہ کہنا کہ مندرجہ بالا اقدامات ’دہشت گردی کا بدلہ‘ اور مشرق وسطیٰ میں ’ایک اور ایرانی ایجنٹ‘ پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں بےمعنیٰ ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے گذشتہ سال اگست میں بھی کہا تھا کہ ’ان حالات میں ایک فلسطینی ریاست امن کے بجائے اسرائیل کے خاتمے کا لانچنگ پیڈ ہو گی۔‘ یہ بات اگر درست ہوجائے تو نہ صرف فلسطین کے مظلوم عوام بلکہ عالمِ انسانیت کے لیے بھی نوید امن ہےکیونکہ ہر امن پسند یہی چاہتا ہے۔ اسرائیل نےجب دعویٰ کیا کہ یہ اقدامات ’حماس کے لیے انعام‘ کے مترادف ہیں اور غزہ میں جنگ بندی کے حصول اور یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں تو اس کا منہ توڑ جواب اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس کی جانب سے آگیا ۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے لیے ریاست کا قیام ’ایک حق ہے، انعام نہیں‘۔ اس سے آگے بڑھ کر گوتریس نے مغربی کنارے میں ’بستیوں کی مسلسل توسیع‘ پر اپنی تشویش کا اظہار کرکے کہا کہ اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔موصوف نے’الحاق کے بڑھتے ہوئے خطرات ‘ سے متنبہ کرکے ’آباد کاروں کے تشدد میں اضافے‘ کو روکنے پر بھی زور دیا ۔
اقوام متحدہ کے 75 فیصد سے زائد ارکان مغربی کنارے کو فلسطینی ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یورپی حکام، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی اسرائیل کو توسیع پسندی کے خلاف خبردار کر چکے ہیں۔ یہ ممالک اسے تنازع کے دو ریاستی حل سے متصادم قرار دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس کا واحد حل دو آزاد اور خود مختار ریاستوں کا باہمی طور پر ایک دوسرے کو تسلیم کرکے بین الاقوامی برادری میں مکمل طور پر ضم ہوجانا ہے۔اسرائیل کا طاقتور اتحادی امریکہ بھی اس کی توسیع پسندی کو دیگر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے اپنے منصوبے میں روڈا سمجھتا ہے لیکن غاصب اسرائیل کو یہ تجویز گوارہ نہیں ہے۔ اور یہی ہٹ دھرمی اس کو تباہ و برباد کردے گی ۔ اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے گوتریس بولے’ریاست سے انکار کرنا ہر جگہ انتہا پسندوں کے لیے ایک تحفہ ہوگا۔‘فرانس کے صدر میکخواں نےفلسطین کو تسلیم کرنے کے بعد خطے میں امن دیکھنے کی خواہش کو دو ریاستوں کے باہمی وجود سے جوڑ دیا۔
فرانسیسی صدر کے مطابق ’جاری جنگ کا کوئی جواز نہیں ہے اس لیے ہر چیز اسے حتمی انجام تک پہنچانے کے لیے مجبور کرتی ہے۔ فرانس کے فلسطین کو تسلیم کر لینے کےبعد امریکہ سلامتی کونسل کا واحد ایسا مستقل رکن بچ گیا ہے جو فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا کیونکہ چین اور روس نے تو نومبر 1988 میں ہی پی ایل اوکی جانب سے الجزائر میں فلسطینی ریاست کی آزادی کا اعلان کرنے کے چند دن بعد اسے تسلیم کر لیا تھا۔فرانس کا غیر مشروط طور پر فلسطین کو تسلیم کرنا تو توقع کے مطابق تھا مگر برطانیہ کےوزیر اعظم سر کیئر سٹارمر کے بارے ایسےشکوک و شبہات تھے کہ وہ کوئی نہ کوئی لنگڑا لولا بہانہ بناکر کنی کاٹ لیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ وہ تو میخواں پر سبقت لے گئے۔ برطانیہ نے اپنے فیصلے کا یہ جواز پیش کیا کہ اسرائیل غزہ میں ’خوفناک صورتحال‘ کو ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور حماس کے ساتھ جنگ بندی سے انکار کر رہا ہے۔ یعنی اس سنگین صورتحال کے لیے اسرائیل کو پوری طرح ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ برطانوی لیبر حکومت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ وہ مغربی کنارے میں مزید قبضہ نہ کرنے اور ایک طویل مدتی امن عمل کے لیے عہد کرکے دو ریاستی حل کی طرف جائے۔
اسرائیل کے ساتھ دیرینہ تعلقات کے پیش نظر برطانوی حکومت نے حماس سے تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے، اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کرکے، ہتھیار ڈالنے اور مستقبل کی غزہ کی حکومت میں کوئی کردار ادا نہ کرنے کا بھی مطالبہ کردیا۔ سوال یہ ہے کہ اقتدار کی باگ ڈور سونپنے کا اختیار تو غزہ کی عوام کا ہے ۔ برطانیہ یا دنیا کی کسی بھی حکومت کو یہ طے کرنے کا حق کہاں سے مل گیا؟ ویسےکیئر سٹارمر نے بھی اسرائیلی حکام کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ ان کا یہ قدم حماس کے لیے ’انعام‘ کے مترادف ہے۔اقوامِ متحدہ کے 193 رُکن ممالک میں سے 75 فیصد فلسطین کو بطور ایک ریاست تسلیم کر چکے ہیں لیکن امریکہ، اسرائیل، اٹلی اور جرمنی ہنوز انکار پر بضد ہیں ۔ فلسطین کو ہنوز تسلیم نہیں کرنے والوں میں اٹلی کی وزیر میلونی بھی ہیں لیکن فرانس ،برطانیہ، کینیڈا اور پرتگال سمیت یورپ کے مختلف ممالک کے فلسطین کو بطور آزاد ریاست تسلیم کر لینے کے بعد اٹلی میں دائیں بازو کی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس معاملے پر درست موقف اختیار کرے۔
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ابھی حال میں کہا تھا کہ ایسی ریاست کو تسلیم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جس کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔اس بیان سے موصوفہ کے رحجان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے لیکن بہت سارے کام سفارتی یا عوامی دباو میں بادلِ نخواستہ کرنے پڑتے ہیں۔ فی الحال اٹلی میں اسرائیل کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے سبب مختلف شہروں میں سڑکیں، ریلوے اور بندرگاہیں بند کر دی گئیں کیونکہ مزدور یونینز کی جانب سے پورے ملک میں اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے بعد دارالخلافہ میلان کے مرکزی اسٹیشن کے اطراف ’فری فلسطین‘ کا نعرہ لگانے اور امریکی پرچم نذر آتش کرنے کے بعد جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔مظاہروں کے دوران میلان کی ایم فور میٹرو لائن کو بھی بند کر نا پڑا تھا ۔ مظاہرین کے ایک گروپ کی جانب سے پولیس پر سٹریٹ سائن اور دھویں کے بم بھی پھینکے گئے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کوواٹر کینن کا استعمال کرناپڑا۔
روم میں بھی تقریباً20 ہزار افراد نے مرکزی سٹیشن کے باہر جلوس نکالا اور دارالحکومت کے مشرق میں ایک مرکزی رنگ روڈ پر رکاوٹ کھڑی کی۔ طلبہ نے ٹیورن یونیورسٹی کے ایک کیمپس کو بھی بلاک کر دیا۔ فلورنس میں ہزاروں افراد نے ریلی نکالی اور اسرائیل کے خلاف نعرہ بازی کی۔ان مظاہروں نے وزیر اعظم میلونی کو بے چین کردیا ۔ انہوں نے میلان میں احتجاجی مظاہروں کے مناظر کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے احتجاج کا غزہ سے اظہار یکجہتی سے کوئی تعلق نہیں اور اس سے غزہ کے لوگوں کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی لیکن وہ بھول گئیں کہ اس صورتحال کے لیے وہی پوری طرح ذمہ دار ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح اگر وہ بھی فلسطین کو تسلیم کرلیتیں تو یہ صورتحال پیدا ہی نہیں ہوتی اس لیے اپنی غلطی کو دوسروں کے سر تھوپنا فضول ہے۔ میلونی کو یہ بتانا چاہیے کہ اگر یہ غزہ کے مظلوم لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار نہیں ہے تو کیا ہے؟ اور اگر اس سے وہاں کے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی نہیں آئے گی تو کیسے آئے گی؟ حکمراں کا کام سوال کرنا نہیں جواب دینا ہوتا ہے لیکن مودی، ٹرمپ، نیتن یاہو یا میلونی جیسے لوگوں کی ہٹ دھرمی نے ان کے وقار و اعتماد کو ملیا میٹ کردیا ہے۔یہ بھی حماس کی غیر معمولی کامیابی ہے۔
Like this:
Like Loading...