Skip to content
جمعہ نامہ: اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’کیا وہ شخص جو پہلے مُردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح اُن سے نہ نکلتا ہو؟ ‘‘ کائناتِ ہستی میں آنے سے قبل انسانی روح زندگی کی رمق سے خالی تھی لیکن جب جسم کے پوشاک سے نواز کردنیا میں بھیجا تو سفرِ حیات کا آغاز ہوگیا۔ انسان ایک بااختیار مگر جوابدہ ہستی ہے اس لیے اس کو ہدایت الٰہی سے بھی سرفراز کیا گیا ۔ اس آیت میں مُردنی سے مراد ایمان سے محرومی بھی ہے۔ رب کائنات نےہدایت کی بدولت حقیقی زندگی یعنی ایمان و معرفت سے نوازہ ۔ الہامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے والے اپنے قول و عمل سے نورِ ربانی کو پھیلاتے ہیں ۔ رب کائنات کا سرچشمہ ہدایت عام تو ہےلیکن ہر کوئی اس سے مستفید نہیں ہوتا اور جو لوگ اس سے منہ موڑ لینے والوں کے لیے جگر مراد آبادی فرماتے ہیں؎
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں
قرآن حکیم میں اہل ایمان کا منکرین ِ حق کا مواز اس طرح کیا گیا ہے کہ :(کیا وہ) اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح اُن سے نہ نکلتا ہو؟‘‘ یعنی ہدایت و جہالت کی راہوں پر گامزن لوگوں کی زندگی اور اس انجامیکساں نہیں ہوسکتا۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر حضرتِ انسان سے یہ فاش حماقت کیوں سرزد ہوتی ہے ؟ آیت کے آخری حصے میں اس کا جواب یوں دیا گیا کہ:’’ کافروں کے لئے ان کے وہ اعمال (ان کی نظروں میں) خوش نما دکھائے جاتے ہیں جو وہ انجام دیتے رہتے ہیں‘‘۔ خوشنمائی کا کام کرنے والے کی بابت خبردار کردیا گیا کہ :’’ اللہ کی قسم! یقیناً ہم نے آپ سے پہلے ( بھی بہت سی ) امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے ان ( امتوں ) کے لئے ان کے ( برے ) اعمال آراستہ و خوش نما کر دکھائے ، سو وہی ( شیطان ) آج ان کا دوست ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے‘‘۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ شیطان آخر انسانوں کو بہکاتا کیوں ہے؟ اس کا جواب ابتدائے آفرینش کی ایک واردات سے ہے جسے اللہ کی کتاب میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ :’’ ہم نے تمھیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لیے یہاں سامان زیست فراہم کیا، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو ۔ ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کی، پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا آدمؑ کو سجدہ کرو اس حکم پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ۔پوچھا، "تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا؟” بولا، "میں اُس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اُسے مٹی سے” فرمایا، "اچھا تو یہاں سے نیچے اتر تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے نکل جا کہ در حقیقت تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں” بولا، "مجھے اُس دن تک مہلت دے جب کہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے” فرمایا، "تجھے مہلت ہے” بولا، "اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر اِن انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے اِن کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا” فرمایا، ” نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا یقین رکھ کہ اِن میں سے جو تیری پیروی کریں گے، تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا ‘‘۔
نبیٔ رحمت ﷺ ان گمراہ لوگوں کی ہدایت کے لیے بے چین رہتے تھے تو خالق کائنات نے ڈھارس بندھاتے ہوئے ارشاد فرمایا :’’(بھلا کچھ ٹھکانا ہے اُس شخص کی گمراہی کا) جس کے لیے اُس کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہو اور وہ اُسے اچھا سمجھ رہا ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہےپس (اے نبیؐ) خواہ مخواہ آپ کی جان ان لوگوں کی خاطر غم و افسوس میں نہ گھلے جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے‘‘۔ ایسے لوگوں کے سربراہوں کی بابت فرمانِ خداوندی ہے :’’کافروں کے لیے تو اسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں۔اور اسی طرح ہم نے ہر قریہ میں بڑے بڑے مجرمین کو موقع دیا ہے کہ وہ مکاّری کریں اور ان کی مکاّری کا اثر خود ان کے علاوہ کسی پر نہیں ہوتا ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں ہے ‘‘۔ لداخ میں وطن عزیز کے برسرِ اقتدار گروہ کا خود اپنے مکر و فریب کےجال میں پھنس جانا سب کے سامنے ہے۔
جموں کشمیر اور لداخ ایک صوبے کے تین حصے تھے ۔ ان میں سے کشمیر میں جب مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج ہوتا تو اسے پاکستان سے جوڑکر بدنام کیا جاتا مگر لداخ نہایت پرامن علاقہ تھا ۔ وہاں کے لوگوں نے 2014اور 2019 میں بی جے پی امیدوار کو منتخب کرکے ایوان پارلیمان میں بھیجا لیکن مرکزی حکومت نے احسان فراموشی کرکے اس کو ریاست کے درجہ سے گھٹا کر یونین ٹیریٹیری بنا دیا ۔ اس کے ردعمل میں 2024 کے اندر بی جے پی امیدوار کونیشنل کانفرنس کے باغی مسلمان امیدوار نے ہرا دیامگراس کے باوجود مرکزی حکومت نےعبرت نہیں لی ۔ عدالتِ عظمیٰ کے دباو میں جموں کشمیر کے اندر تو انتخابات ہوئے مگر لداخ کو محروم رکھا گیا۔ اس کے نتیجے میں مشتعل ہجوم نے بی جے پی کے دفتر پر حملہ کرکےنہ صرف پرچم اکھاڑ پھینکا بلکہ دفتر بھی پھونک دیا ۔ یہ خوش کن منظر قرآن مجید کی اس آیت کے مصداق ہے:’’ ان سے جنگ کرو، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو عذاب دے گا، ان کو رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا، اور مومنوں کے دلوں کو ٹھنڈک پہنچائے گا‘‘۔
Like this:
Like Loading...