Skip to content
ورفعنا لک ذکرک
(ہم نے آپؐ کے ذکر کا آوازہ بلند کردیا )
ترتیب: عبدالعزیز
’کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں —
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں‘
اللہ تعالیٰ نے سورہ نشرح میں فرماتا ہے: ’وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک‘(اور تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آوازہ بلند کردیا)۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں فرمائی تھی جب کوئی شخص یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ جس فردِ فرید کے ساتھ گنتی کے چند آدمی ہیں اور وہ بھی صرف شہر مکہ تک محدود ہیں اس کا آوازہ دنیا بھر میں کیسے بلند ہوگا اور کیسی ناموری اسے حاصل ہوگی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان حالات میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خوش خبری سنائی اور پھر عجیب طریقے سے اس کو پورا کیا جس کا کوئی وہم و گمان بھی نہیں کرسکتا تھا۔ آج دنیابھر میں آپ کے ذکر اور نام کا شہرہ ہے۔ اپنے تو اپنے غیر بھی دلائل اور ثبوتوں کے ساتھ اپنی تقریر اور تحریر میں پیش کر رہے ہیں کہ دنیا میں سب سے بڑی اور عظیم شخصیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ مائیکل ایچ ہارٹ ایک عیسائی تھے ۔ انھوں نے اپنی کتاب "The 100” میں ایک سو زیادہ عظیم الشان شخصیتوں کی درجہ بندی کی ہے۔ اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ہر لحاظ سے خواہ مذہبی ہو یا دنیوی ہو تاریخ انسانیت میں سب سے زیادہ بااثر اور کامیاب شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ سو عظیم شخصیتوں کی درجہ بندی میں اوّل شخصیت آپؐ کی شخصیت کو قرار دیا ہے۔ یورپ اور امریکہ کے سیکڑوں مفکروں اور مصنفوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مائیکل ایچ ہارٹ سے ملتی جلتی باتیں کہی اور لکھی ہیں جس میں جارج برنارڈ شاہ بھی شامل ہیں۔
آج (28ستمبر) ’نیوز 24‘ پر ایک مباحثہ دیکھ رہا تھا جس کے اینکر مانک گپتا تھے۔ کانگریس کے ایک بڑے ترجمان نے کہا کہ ’’حضرت محمدؐ کی شخصیت دنیا میں سب سے بڑی ہے اور ہر لحاظ سے آپؐسماجی رہنما،مذہبی رہنما، روحانی رہنما کے علاوہ فوج کے کمانڈر اور حکمراں تھے۔ کوئی ایک شخصیت بھی دنیا میں ایسی نہیں ہے جو ان صفات کا حامل ہو‘‘۔ مانک گپتا نے سوال کیا کہ ’’کیا سب سے بڑی شخصیت؟ ‘‘ ’’ہاں سب سے بڑی شخصیت! میں سوچ سمجھ کر یہ بات کہہ رہا ہوں۔ جن صفات کا ذکر میں نے کیا ہے ان صفات کا حامل ایک بھی شخص آپ دنیا کی تاریخ میں ہمیں بتا دیجئے یا دکھا دیجئے‘‘۔ اس جواب پر نہ صرف مانک گپتا خاموش ہوگئے بلکہ بی جے پی کے ترجمان کے منہ سے بھی ایک لفظ نہیں نکلا۔ ان کو بھی خاموش ہونا پڑا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب پروردگار عالم نے آپؐ کے ذکر کا آوازہ بلند کرنے کا وعدہ کیا اور اس کا وعدہ کبھی خلافِ صداقت نہیں ہوتا پھر دوسرے اس کا ذکر، اس کی ناموری نہ بھی کریں تو اس میں کوئی کمی نہیں واقع ہوگی۔ آج جو ہندستان بھر میں "I Love Muhammad saw” (میں محمد ﷺ سے محبت کرتا ہوں)جیسے نعرے سے واویلا مچا ہوا ہے اور دشمنوں کے دل اور سینے میں آگ بھڑک رہی ہے۔ اس کے برخلاف بہت سے غیر مسلم بھائی جذبات میں آکر یا ضد میں آکر یا محبت میں ایسے دشمنوں کا بہ آواز بلند جواب دے رہے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی آپؐ سے جن لوگوں نے دشمنی کی یا آپؐ کی مخالفت میں میدان میں اتر آئے ایسے لوگوں کی دشمنی اور مخالفت میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر اور شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔ آج بھی ایسے ہی ہورہا ہے۔ مخالفین کی مخالفت اور دشمنوں کی دشمنی سے بھی آپؐ کا ذکر کا آوازہ بلند ہورہا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک حکمت ہے جو ہر زمانے میں اپنا کام کرتی ہے۔ (عبدالعزیز)
خاتم الانبیاء والمرسلینؐ ہونے کے ناطے سیدنا محمد بن عبداللہ علیہ وعلیٰ آلہ الصّلاۃوالسلام کو اللہ تعالیٰ نے ان بہت سی خصوصیات سے سرفراز فرمایا ہے جن کا ذکر قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر وارد ہوا ہے مگر وہ اکثر دوسری سورتوں کے سیاق میں ہے۔ جہاں تک سورہ الفتح اور سورہ النصر کا تعلق ہے تو وہ آپؐ کی فتح و نصرت اور اس کے اسباب کے لیے خاص ہیں تو وہیں سورۃ الکوثر میں آپؐ کوخیرکثیر… ہرمعنی میں،ہر وقت، دنیا اور آخرت میں خیرکثیر…عطا کیے جانے کی بشارت اس طرح دی کہ اس کے پہلو بہ پہلو آپؐ کے دشمن کی جڑ… خواہ کوئی کیوں نہ ہو‘ مادی ہو کہ معنوی… کٹنے کی خوش خبری سنائی۔
اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ سورۃ الضحیٰ اور سورہ الم نشرح صرف آپؐ کی ذات بابرکات‘ اس سے اللہ تعالیٰ کا ہر لمحے تعلق… نبوت سے مشرف ہونے سے قبل اور بعد کے تعلق… کا مختلف پہلوئوں اور زاویوں اور وجوہات کے سبب اور آپؐ پر نظر خاص اور عنایت خاص کا ذکر ان دو سورتوں میں آیا ہے۔
سورہ کا نظم:سورۃ الضحیٰ اللہ تعالیٰ کا ہر لمحے آپؐ کے ساتھ ہونے، ساتھ دینے، نظر کرم رکھنے اور آپؐ پر اپنی مہربانیوں اور کرم فرمائیوں کی مسلسل بارش برسائے جانے سے عبارت ہے۔ اب رہی سورہ الم نشرح‘ تو وہ اگرچہ الضحیٰ کا تکملہ اور تتمہ ہے مگر اس میں آپؐ کی ذاتِ بابرکات کے نبوی پہلو پر توجہ فرما کر اس سلسلے میں اللہ نے اپنی مہربانیوں اور کرم فرمائیوں کا ذکر فرمایا اور ساتھ ہی ساتھ اس غیر محدود اور غیر منقطع اجر کا بیان بھی کیا جو آپؐ کو عطا کیا گیا ہے۔
اسی میں اس عطاے عظیم کے ایک حصہ و جز… محض ایک چھوٹے سے حصے اور جز… کا ذکر بھی ہے جس کا وعدہ الضحیٰ میں یہ کہہ کر فرمایا تھا کہ بہت جلد تیرا رب تجھے اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ تم خوش ہو کر اس عطا سے اور خود عطا کرنے والے رب سے راضی ہو جائو گے۔ (وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضیٰo الضحیٰ 39:5)
آگے چل کر سورہ التین میں البلد الامین … مکۃ المکرمہ … کی قسم اس سرزمین طور سینا کے ساتھ کھا کر جس میں انجیر اور زیتون پیدا ہوتے ہیں، آپؐ کے شہر اور فلسطین مبارک کے اٹوٹ رشتے کی طرف اشارہ فرما کر یہ ثابت کیا کہ آپؐ اسی شجرئہ طیبہ و مبارکہ کا ثمرہ طیبہ ہیں جس کا مبارک سایہ فلسطین کی مبارک سرزمین سے لے کر مکہ مکرمہ کے حرم تک پھیلا ہوا ہے اور جس کا بیج ڈالنے والے ابوالانبیا حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔
علاوہ ازیں البلدالامین میں لطیف اشارہ ہے‘ اس مبارک شخصیت کی طرف‘ جس کے باشندے آپؐ کو الصادق الامین کہہ کر یاد کیا کرتے تھے۔ یوں یہ شہر بھی امانت دار قرار پایا اور اس کا ایک باشندہ بھی امانت دار ہونے کی صفت سے متصف ہوا۔
یہ وہ امانت ہے جس کو خانۂ کعبہ اور سیدنا اسماعیلؑ کی شکل میں سیدنا ابراہیمؑ نے مکہ مکرمہ میں چھوڑا تھا اور جو اس شخص کے حوالے کی گئی جو ہر پہلو سے امانت دار ہونے کے ناطے اس کو اٹھانے، اس کی حفاظت کرنے اور اس کے حقوق ادا کرنے کا ہر طرح مستحق اور قابل تھا۔ یہ توحید اور عبودیت کی امانت ہے جس کو ایک لفظ ’’الاسلام‘‘ میں ادا کیا جاتا ہے اور جس کا پیغام لے کر آپؐ کو خاتم المرسلینؐ کی حیثیت سے معبوث کیا گیا۔ اس پیغام کو اور اس امانت کو جس کسی نے دل و جان سے قبول کیا اور اس کے حقوق حتی الامکان ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی تو وہ اسفل السافلین میں شمار کیے جانے سے بچ کر نہ ختم ہونے والے اجر کا مستحق قرار پایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ عدل کے ساتھ فیصلہ کر کے اجر عطا کرنے والا ہے۔ (التین 95:5-8)
معانی و مطالب:سورہ الم نشرح کا آغاز آپؐ پر اس بے مثال اور بے نظیر احسان سے ہو رہا ہے جس کو شرح صدر کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر ہم اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ انبیا کرام علیہم السلام میں سے صرف آپ ؐ کو اس خصوصیت سے کیوں خاص کیا گیا تو اس کا جواب ازخود سامنے آجائے گا۔
خاتم الانبیاءؐوالمرسلین ہونے کی وجہ سے آپؐ اس لمحے سے جب آپؐ پر ’غارِحرا‘ میں ’اقرا باسم ربک الذی خلق‘(پڑھ اپنے اس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا—العلق96:1)نازل ہوئی، اس لمحے تک جب صوراسرافیل پھونکا جائے گا، آپؐ سارے ہی جن و انس کے نبیؐ اور رسولؐ بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ بالفاظ دیگر آپؐ ہزاروں سال پر پھیلے ہوئے زمینی فاصلے پر لاتعداد جن و انس کے لیے رسولؐ اور نبیؐ بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ یہ زمان و مکان اور وہ لامحدود تعداد جن و انس اور ان کی ہدایت اور نجات، فلاح و بہبود کے مسائل اور اس راہ میں شیطان اور اس کے چیلوں کی ریشہ دوانیاں اور ان سے پیدا ہونے والی رکاوٹیں اور پھر بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ ساری ہی دنیا میں جو دُور رس اور پیچیدہ تبدیلیاں وقوع پذیر ہونے والی تھیں اور ان سے جو فکری، مادی، اخلاقی اور دینی فتنے اور فساد پیدا ہو کر پھیلنے والے تھے، ان کو اپنے دل و دماغ اور روح اور جسم میں سمانے اور ان کا مقابلہ کرنے اور ان سے نمٹنے کے لئے ایک اُمتِ وسط پیدا کرنے اور اپنے پیغام کو آخری لمحۂ دنیا تک جاری و ساری رکھنے اور اس کے اس لامحدود اور نامعلوم عرصے تک برقرار رکھنے کے لئے ایک ایسے دل کی ضرورت تھی جس میں یہ نامعلوم، غیر محدود اور اَن گنت امور اور مسائل سما سکیں۔
اس لیے آپؐ کے شرح صدر‘ خواہ وہ مادی ہو یامعنوی یا مادی اور معنوی دونوں ہی سے عبارت ہو‘ کی ضرورت تھی۔ اس کے بغیر یہ غیر محدود ذمہ داریاں جو نامعلوم زمان ومکان تک پھیلی ہوئی تھیں اٹھائی ہی نہیں جا سکتی تھیں۔ اس لیے آپؐ کے قلب مبارک میں وسعت پیدا کی گئی کیونکہ معمولی انسانی دل میں یہ امور سما ہی نہیں سکتے تھے اور نہ آج اور تاحیات سما سکتے ہیں۔ اگر بالجبر ان کو کسی معمولی انسانی دل میں سمونے کی کوشش کی بھی گئی تو وہ دل ہی پھٹ پڑے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام انسانی دل ان لامحدود امور، مسائل اور ذمہ داریوں کو سہارنے کے لئے بنا ہی نہیں ہے۔ یہ اس کے بس کا روگ ہی نہیں ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ حضورؐ ان امور کی وسعتوں، گہرائیوں اور لامحدودیتوں کی وجہ سے اندر ہی اندر گھلے جا رہے تھے۔ یہ سوچ سوتے جاگتے، کھاتے پیتے، اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ہمہ وقت آپؐ کا پیچھا کرتی رہتی تھی، جبکہ عالم یہ تھاکہ آپؐ معمول کی نبوی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کرنے میں دل و جان سے جٹے ہوئے تھے۔ اس ناقابل برداشت بوجھ تلے آپؐ کی کمر بیٹھی جا رہی تھی۔ عین ممکن تھا کہ آپؐ سخت بیمار ہو جاتے یا کسی لاعلاج مرض کا شکار ہو جاتے۔ اس لیے لطف ربانی نے آپؐ پر آپؐ کی امت مرحومہ پر اور ساری ہی انسانیت پر تاقیامت مع عالم جن، رحم کی بارش کی اور آپؐ کے دل کو اتنی لامحدود زمانی و مکانی، وسعتوں سے روشناس فرمایا کہ ختم نبوتؐ کا کارہاے ناممکن آپؐ کے لئے بہت ہی آسان ہو گیا۔ آپؐ کے دل و دماغ سے یہ بوجھ اور دبائو ہٹ گیا اور اس کرم ربانی کی وجہ سے آپؐ ان امور کو قابل عمل اور قابل حصول سمجھنے لگے۔ آپؐ کی ہمت اور حوصلہ بڑھا اور آپؐ اپنے مشن کو کامیاب بنانے کے لئے مزید دل و جان اور روح و جسم کے ساتھ لگ گئے۔
ان حقائق کی طرف ہمیں قرآن مجید میں واضح اشارات ملتے ہیں:
’’ رہا یہ ذکر، تو اس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں‘‘۔ (الحجر 15:9)
’’ اور اسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ’امت وسط‘ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو‘‘۔(البقرہ 2:143)
’’ اور اللہ اس امر پر پوری طرح جما ہوا ہے کہ وہ اپنے نور (ہدایت) کو ہر سو پھیلاکر ہی رہے گا خواہ یہ بات کافروں کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو‘‘۔ (التوبہ 9:32)……
اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان تین آیتوں میں ان راہوں کی نشان دہی کی گئی ہے جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل و دماغ کو سکون سے آشنا فرمایا۔ آپؐ کو اس کی تاکید یوں کی کہ اے محمدؐ! تمھاری وفات کے بعد اور تمھاری زندگی میں بھی ہم اس قرآن عظیم، اس کے معانی اور اس کے پیغام کی حفاظت کریں گے۔ تم اس معاملے سے بالکل ہی بے فکر ہو جائو اور اس پر غوروفکر اور اپنے آپؐ کو پریشان کرنا بالکل ہی ترک کر دو۔ وہ اس لیے کہ ہم نے تمھارے مبارک ہاتھوں اور تمھاری مبارک نگرانی میں ایک ایسی امت پیدا کرنے، اس کو جاری رکھنے اور اس کی آبیاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جو اس پیغام اور اس کی ذمہ داری کو جس سے ہمارا قرآن عبارت ہے، بحسن و خوبی تمھارے بعد نبھائے گی۔ یہ پیغام اب ایک فرد ہی کا پیغام نہیں رہا ہے بلکہ اس کے لئے ایک امت کھڑی ہونے والی ہے جو اس کے لئے مرمٹنے والی ہوگی۔ یہ اس کے تمھارے بعد تاقیامت جاری و ساری رہنے کی بہترین ضمانت ہے۔
یہ بات بیان فرما کر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو مزید اطمینان دلایا کہ ہم، خالق کائنات، خالق بشر اور خالق جن نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنا نور، جس کو قرآن کی شکل میں ہم نے تم پر نازل کیا ہے، قیامت تک دنیا میں ہرسو پھیلاتے ہی رہیںگے۔ اس کے لئے ہر قسم کے اسباب مہیا کریں گے اور تمھاری امت کو وقت بوقت کمک پہنچاتے ہی رہیں گے تاکہ ہمارا نور ہر جن و انس تک پھیل سکے اور پہنچ سکے۔ تم تو جانتے ہی ہو اے محمدؐ! کہ ہم اس کائنات کے جن و انس کے، یکہ و تنہا خالق اور مالک ہیں۔ اس لیے ہمارے اس ارادے میں کوئی بھی حائل ہو کر کھڑا نہیں ہوسکتا خواہ وہ کفار جن و انس اور شیاطین کی ان گنت فوجیں ہی کیوں نہ ہوں۔ ہم ان کو تن تنہا شکست دینے پر قادر ہیں۔ اس لیے یہ امر ہر طرح سے مضبوط و محکم ہے۔ اس کے سارے انتظامات بذاتِ خود ہم نے کیے ہیں۔ لہٰذا اب تم اطمینان و سکون اختیار کرو اور اپنے کام میں مزید دلجوئی سے لگ جائو۔
رفع ذکر:آپؐ کا اجر و ثواب، اس دنیا اور آخرت میں، ان لامحدود ذہنی، فکری، روحانی اور جسمانی مصیبتوں اور تکلیفوں کے مقابلے میں جو آپؐ نے روزِ اوّل سے نور حق کو پھیلانے کے لئے اٹھائیں وہ بھی، رب کریم کی طرف سے، لامحدود اور ان گنت ہے۔ اس کو بھی شمار کرنا اور گنتی میں لانا ناممکن ہے کیونکہ اس اجر و ثواب کو شمار کرنے کی کوئی ایسی صورت نہیں کہ اس کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے۔ اس کا احاطہ انسان کی محدود قدرت سے باہر ہے۔ اس کی وجہ آپؐ کا رفع ذکرہے۔ اس کی وہ شکلیں، جو اس خاکسار کے نوک قلم پر اس وقت آسکی ہیں وہ یہ ہیں:
رفع ذکر کے معنیٰ ذکر کو اونچا اور بلند کرنا ہے۔ اس کی سب سے زیادہ موثر اور واضح شکل اس کلمہ? طیبہ میں ظاہر ہوتی ہے جو کسی شخص کے مسلمان ہونے یا اسلام قبول کرنے کے وقت زبان سے ادا کرنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے: اشھد ان لا الٰہ الا اللہ واشھد ان محمدًا عبدہ ورسولہ (میں اس امر کی گواہی دیتا ہوںکہ اللہ کے علاوہ کوئی اور الٰہ نہیں ہے اور اس بات کی (بھی) شہادت دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسولؐ اور بندے ہیں۔ اس کو کلمہء شہادت بھی کہتے ہیں۔
اس میں رفع ذکر کا یہ پہلو ہے کہ اللہ جل جلالہ کے نام پاک کے ساتھ اور پہلو بہ پہلو اس کے محبوب ترین بندے کا نام بولا اور لکھا جاتا ہے۔ یہاں عبودیت (عبد/بندہ) الوہیت کے پہلو بہ پہلو جگمگا رہی ہے۔ سبحان اللہ وتبارک اللہ۔ اس سے بڑھ کر اور کس طرح ذکر کو بلند کیا جا سکتا ہے!
اس کلمۂ شہادت کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ اسلام میں داخل ہونے کا دروازہ ہے۔ یہ دروازہ صرف اس شخص پر کھلتا ہے جو نہ صرف الوہیت الٰہی کا اعلان کرے اور اس کی شہادت دے بلکہ اس کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ ہونے کا اقرار‘ اعلان کرنا اور اس کی شہادت بھی دینا پڑتی ہے۔ اگر وہ صرف الوہیت الٰہی کا اعلان کرنے پر اکتفا کرے اور رسالت محمدیؐ سے انکار کرے‘ پہلوتہی کرے‘ یا چشم پوشی کرے‘ تو پھر وہ مسلم نہیں ہو سکتا ہے۔ گویا الوہیت الٰہی اور رسالت محمدیؐ دونوں ہی کی شہادت لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتی اور دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی شرط اول ہے۔
اس اعلانِ شہادت کے کچھ ہی دیر بعد اذان کا وقت آپہنچتا ہے اور اس میں اشھدان محمدًا رسول اللہ (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں) ایک بار نہیں دو بار کہا جاتا ہے۔اگر وہ تنہا ہوگا تب بھی اذان میں دو بار رسالت محمدیؐ کی شہادت کا پوری قوت کے ساتھ اعلان کرے گا اور اگر وہ موذن کی آواز سن رہا ہوگا تو اس کو اذان کے باقی اجزا کے ساتھ دو بار دہرائے گا۔ اذان کے بعد وہ اپنے رب سے یہ دعا کرے گا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو الوسیلہ اور الفضیلہ عطا فرمائے اور آپؐ کو مقام محمود پر فائز کردے جس کا آپ نے ان سے وعدہ کیا ہے۔
یہ دعا پوری محبت، منت و سماجت اور لجاجت سے ہر مومن اور مسلم ہر اذان کے بعد کرتا ہے؛ کیونکہ فرمایا کہ اس دعا سے قیامت کے ہولناک دن آپؐ کی شفاعت اس کے حق میں واجب ہو جاتی ہے۔ اس شفاعت کے مستحق ہونے کیلئے اور اس ہولناک دن کی ناقابل تصور اورناقابل برداشت ہولناکیوں‘ تکلیفوں اور پریشانیوں سے نجات پانے کیلئے ہر شخص دل و جان سے یہ دعا کرکے آپؐ کا نام دل و جان سے لیتا ہے۔
نماز کیلئے وضو ضروری ہے اور وضو کے بعد قبلہ رو کھڑے رہ کر کلمۂ شہادت ادا کرنا بڑے ثواب کا کام ہے۔ اس لیے ہر مومن وضوکے بعد، دن اور رات میں کم از کم پانچ بار آپؐ کا نامِ نامی اور اسمِ گرامی کلمے میں دہراتا رہتا ہے۔
نماز میں تشہد ناگزیر ہے جس میں السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہر نمازی… مرد، عورت، بچہ اور بچی… پڑھتے ہیں، آپؐ پر سلامتی بھیجتے ہیں اور پھر کلمۂ شہادت میں آپؐ کا نام لے کر یہ کہتے ہیں کہ میں اس امر کی گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
یہ فرائض میں نو بار اور سنتوں میں بے شمار بار ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فرائض اور سنتوں میں درودِ ابراہیمی میں دو بار آپؐ پر آپؐ کی آل پر صلاۃ اور برکت کی دعا مانگی جاتی ہے۔ اس کے بعد نماز کے خاتمے پر جو دعا کی جاتی ہے اس کو بھی آپؐ پر سلام اور صلاۃ پر تمام کرنا ایک امر ضروری ہے۔
آپ ان پانچوں وقتوں، مقاموں اور موقعوں پر 24 گھنٹوں میں آپؐ کے نام کے وارد ہونے اور آپؐ پر درود و سلام بھیجے جانے اور آپؐ کے اور آپؐ کی آل کیلئے دعا کیے جانے کا شمار کریں۔ کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہ ان گنت گنتی ہے جو شمار میں نہیں آ سکتی ہے۔
اس پر سونے پر سہاگہ وہ حکم ربانی ہے جس کا آغاز اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ فرما کر کیا کہ اے مومنو! اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر صلاۃ بھیجتے ہیں اور تم کو بھی میں حکم دیتا ہوں کہ تم بھی اپنے پیارے نبیؐ اور رسولؐ پر صلاۃ و سلام بھیجو۔ اس صلا? و سلام کا نہ تو کوئی وقت ہی مقرر ہے اور نہ کوئی جگہ ہی متعین ہے اور نہ کوئی موقع محل تحدد ہے۔ انسان جب اور جہاں چاہے اللہ سے یہ دعا کر سکتا ہے خصوصاً اس وجہ سے بھی کہ آپؐ نے فرمایا کہ جس کسی نے میرا نام سن کر مجھ پر صلاۃ و سلام بھیجا تو اللہ اس پر ایک بار کے بدلے 10 بار صلاۃ و سلام بھیجتا ہے اور اس کا ذکر اس سے بہتر مجلس‘ یعنی ملائکہ کے درمیان کرتا ہے۔
خدارا اب آپ ہی بتایئے کہ کون نہیں چاہے گا کہ اس پیارے نبی و رسولؐ کا ایک بار نام لے کر اپنا ذکر… اور وہ بھی اپنے خالق کی زبانی… ملائکہ کے درمیان ہونا پسند نہ کرے ؟ یہ تو خیر ہی خیر اور نفع ہی نفع ہوا۔ اس لیے ہر مومن چلتے پھرتے، سوتے جاگتے، کھاتے پیتے اور کاروبار سرانجام دیتے ہوئے اپنے پیارے نبی اور رسولؐ پر درود و سلام بھیج کر اپنا ذکر اپنے رب کی محفل میں کروا لیتا ہے۔ صلاۃ و سلام ہو اس پیارے نبیؐ اور رسولؐ پر جس پر صلاۃ و سلام بھیجنے سے گناہ گاربندوں کا ایک بار کے بدلے 10 بار ذکر دربار الٰہی میں ہوتا ہے۔
آپ دیکھیں کہ ثواب کے خواہاں لوگ ہمیشہ ہی صلاۃ و سلام نبی و رسول میں لگے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ بات بالکل صحیح اور سچ دکھائی دیتی ہے: اللہ اللہ خیرماصلّٰی (اللہ اللہ یہ کتنی خیر کی بات ہے کہ نبیؐ پر صلاۃو سلام بھیجا جائے)۔ یقینا یہ بہترین عمل ہے اور خوش بخت اور خوش قسمت ہونے کی علامت ہے۔
لاتعداد مسلمان محض خیروبرکت اور خوش بختی کی خاطر اپنے بچوں کا نام ’’محمد‘‘ (صلی اللہ علیہ وسلم) رکھتے ہیں۔ فطری طور پر لوگ اس بچے کو پیدایش سے لے کر موت اور موت کے بعد بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی کے نام پکارتے‘ بلاتے اور لکھتے ہیں۔ آپ تصور کریں کہ دن اور رات کے 24 گھنٹوں میں سارے عالم میں آپؐ کی امت کے افراد کے ذریعے سے کتنی بار یہ نام مبارک بولا اور لکھا جاتا ہے۔ کیا آپؐ تصور کر سکتے ہیں اور گن سکتے ہیں؟ یقینا نہیں۔ پیدا ہوتے ہی مسلمان لڑکے اور لڑکی کے کان میں اذان دے کر اللہ خالق تبارک و تعالیٰ کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول اللہ ہونے کی آواز گزاری جاتی ہے۔ گویا یہ نقشِ اول ہے جو بٹھایا جا رہا ہے۔ یہی وہ بات ہے جس کی تمنا ہر مومن مرد اور مومنہ عورت کرتی ہے کہ اس کی موت اور اس کا آخری کلام: ’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ ہو۔
غور کیجیے کہ مشرق سے مغرب تک دن رات میں کتنے بچے اور بچیاں پیدا ہو کرآپؐ کا نام موذن کی زبان سے نکلواتے ہیں اور پھر ان کو اپنے اپنے کانوں میں بٹھا لیتے ہیں تاکہ موت کے وقت بھی وہ ان کے کانوں میں بیٹھا رہے اور زبان سے صادر ہو۔
اللہ اللہ یہ کیا رفع ذکر ہے! کیا اس کی کثرت اور بلندی ہے‘ اور کیا اس کیلئے محبت بھری سبقت ہے! جو نطق کلمہ اور پیدایش سے شروع ہو کر موت اور موت کے بعد تک بھی ہر فرد‘ مومن مرد اور عورت کے ساتھ لگی رہتی ہے اور اس کو اور اس کی زندگی اور موت اورمابعد الموت تک اس کوخیر و برکت اور خوشی اور مسرت اور خوش بختی اور خوش قسمتی سے ہم کنار کرتی اور ہم کنار رکھتی ہے۔
اطمینان قلب اور تقویت ایمان:فرمایا کہ اے محمدؐ! تم آج دشمنوں کی کثرت، قوت و طاقت اور اپنے ساتھیوں کی قلت اور کمزوری دیکھ کر دل شکستہ اور پریشان نہ ہو۔ یہ بہت جلد پلٹا کھا کر ختم ہو جانے والا ہے؛ کیونکہ ہم نے اس دنیا میں ایک محکم سنت یہ جاری کر رکھی ہے کہ ہر قلت کے بعد کثرت، ہر تکلیف کے بعد راحت اور ہر تنگی کے بعد فراخی اور ہر شدت کے بعد آسانی اور ہر رات کے بعد اْجالا آئے گا۔ اس لیے عالم اسباب کے تقاضے پورے کرتے ہوئے تم اور تمھارے ساتھی اس نورکو پھیلانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دو، دن رات ایک کر دو‘ اور اپنی جانوں پر کھیل جائو اور ان کو دائو پر لگا دو۔ اس کا انجام کیا ہوگا؟ تم دیکھو گے کہ بہت جلد اہل عرب جوق در جوق اور فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوںگے اور تمھاری اطاعت کو قبول کریں گے۔ پرچم توحید سربلند ہو کر لہرائے گا اور پرچم کفر و شرک سرنگوں ہوگا۔ تمھاری تگ و دو بالآخر اپنا رنگ دکھائے گی اور تمھاری محنت و مشقت ثمرآور اور بارآور ہوگی۔
اس حقیقت کو دہرا کر‘ یعنی دو آیتوں میں بیان کر کے اور وہ بھی صیغہ اسمیہ کی صورت میں بیان کر کے اس کی حتمیت کی طرف اشارہ فرمایا: (فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا o اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا o)… (الم نشرح 94:6-7)
مزید فرمایا کہ اس جدوجہد کے لمبے اور جاں گسل سفر کا اگر کوئی کارآمد زادِ راہ ہے تو وہ ہے اپنے رب کی عبادت میں‘ جب بھی فرصت ملے اور موقع ملے‘ دل لگانا جس کی بہترین شکل پوری رغبت اور محبت اور خشوع و خضوع کے ساتھ نمازپڑھنا ہے۔ اس لیے رکوع و سجود کرتے رہو اور نئی نئی طاقت و قوت حاصل کرتے رہو اور اپنی عبودیت کا اظہار کرتے ہوئے میری الوہیت کا ڈنکا بجاتے رہو۔
یہ دو آخری نصیحتیں عام طور پر ہر امتی کیلئے دائمی اور ابدی ہدایات ہیں مگر وہ ان لوگوں کیلئے سرمدی ہدایات اور ارشادات ہیں جو اپنی زندگیوں کو نور حق ہرسو پھیلانے کیلئے وقف کر دینا چاہتے ہیں اور انسان کو انسانوں کی غلامی سے آزاد کرا کر اللہ تعالیٰ کی بندگی میں داخل کرنا چاہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب بندے محمد بن عبداللہ علیہ الصلاۃ والسلام کی راہ ہدایت پر چلنے اور دوسروں کو راہ حق پر چلنے کی دعوت دینے کی ہمت اور طاقت عطا فرمائے، اور آپؐ کی اُمت کو سربلند کرے اور کامیابیوں سے سرفراز فرمائے، اور آپؐ کے اورآپؐ کی دعوتِ حق کے دشمنوں کا سرنیچا کرے۔ آمین!
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...