Skip to content
نامِ محمدﷺ کی فضیلت و برکات
دنیا کے تمام ادیان اور تہذیبوں میں اگر کسی نام کو سب سے زیادہ عظمت، تقدس احترام اور محبت ملی ہے تو وہ نامِ محمد ﷺہے ،لفظِ محمد اتنا پیارا اور اتنا حسین ہے کہ اس کے سنتے ہی ہر نگاہ فرط تعظیم اور فرط ادب جھک جاتی ہے ہرسر خم ہوجاتے ہیںاور زبان پر درود وسلام کے زمزمے جاری ہوجاتے ہیں ، لفظ محمد مادہ ”حمد” سے مشتق ہے۔ ”حمد” کے معنی تعریف کرنے اور شاباش دینے کے ہیں۔ خواہ یہ تعریف کسی ظاہری خوبی کی وجہ سے کی جائے یا کسی باطنی وصف کی بنا پر۔لفظ محمد اسم مفعول کا صیغہ ہے اور اس سے مراد ہے:الذی یحمد حمداً مرۃ بعد مرۃ(وہ ذات جس کی کثرت کے ساتھ اور بار بار تعریف کی جائے)
امام راغب الاصفہانی لفظ محمد کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:و محمد اذا کثرت خصالہ المحمودہ
(اور محمد اسے کہتے ہیں جس کی قابلِ تعریف عادات حد سے بڑھ جائیں)۔ہمارے آقاحضرت محمد مصطفی ﷺ کے متعدد اسمائے گرامی ہیں، بعض محدثین کے مطابق اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺکو بھی ننانوے ناموں سے نوازا ہے ۔بعض علماء کے بقول آپ کے اسماء مبارکہ تین سو ہیں۔ اورصاحبِ ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں لکھتے ہیںکہ حضورﷺ کے ایک ہزار نام ہیں۔جس طرح اللہ پاک کے ہزاروں نام ہیں مگر ذاتی نام صرف ایک ہے یعنی ،اللہ ، ہے، اسی طرح مصطفی جانِ رحمت ﷺ کے بھی سینکڑوں نام ہونے کے باوجود ،ذاتی اور شخصی نام ایک ہی ہے اور وہ ،محمد،ہے ۔ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نبی بھی ہیں اور رسول بھی ہیں، بشیر و نذیر بھی ہیں اور ہادی بھی، مگر لفظ محمد ﷺ کو آپ کی ذات اقدس سے جو تعلق ہے وہ کسی اور صفاتی نام کو نہیں۔ یہ وہ نام ہے جو قدرت کی طرف سے روزِ اوّل ہی سے آپ کے لئے خاص کر دیا گیا تھا اور سابقہ انبیاء کی کتبِ مقدسہ میں آپ کا اسمِ مبارک بار بار بیان ہوا۔ آپ ﷺ کا بابرکت نام‘‘محمد’’ہے، جو دنیا و آخرت میں باعثِ رحمت و برکت ہے۔
قرآنِ مجید میں ذکرِ محمد ﷺ
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں براہِ راست حضور ﷺ کا نامِ گرامی کئی مرتبہ ذکر فرمایا:محمدٌ رسولُ اللہ (الفتح: 29)محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں،وما محمدٌ إلا رسول (آل عمران: 144)اور محمد ﷺ تو اللہ کے رسول ہیں،ما کان محمدٌ أبا أحدٍ من رجالکم (الاحزاب: 40)محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں وہ تو اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں ،وامنوا بما نُزِّل علی محمد (محمد: 2)اور وہ اس پر ایمان لائے جو محمد ﷺ پر نازل کیاگیا۔ذکرِ محمد ﷺ کو بلند کیا گیا اللہ پاک نے قرآن مجید میں فرمایا۔وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ(الانشراح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کر دیا۔ترجمہ کنزالایمان، حدیث پاک میں ہے سید عالم ﷺ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے اس آیت کو دریافت فرمایاتو انہوں نے کہا،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آپ کے ذکر کی بلندی یہ ہے کہ جب میرا ذکر کیاجائے میرے ساتھ آپ کا بھی ذکر کیاجائے گا ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اذان تکبیرمیں ،تشہدمیں ،منبروں پرخطبوں میں، اللہ پاک کے ذکرکے ساتھ آپ ﷺ کابھی ذکر ہوگا۔حضرت قتادہ نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا ذکر دنیا وآخرت میں بلند کیا،بعض مفسرین نے فرمایاکہ آپ کے ذکر کی بلندی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے آپ پر ایمان لانے کا عہد لیا۔اور محمد ﷺ کی شان یہ بھی ہے کہ اللہ پاک نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا،قرآن مجید میں ہے۔وَمَااَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْ (الانبیاء:107)ترجمہ: اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔یہ آیات طیبہ اس بات کی دلیل ہیں کہ لفظ محمد ﷺ اللہ کی طرف سے انتخاب شدہ ہے، اس میں بے مثال عظمتیں چھپی ہوئی ہیں۔
کتب سابقہ میں ذکرِ محمد ﷺ
توریت ، زبور اور انجیل میں بھی حضور ﷺ کے نام اور صفات کا ذکر موجود ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے:
الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِیَّ الْأُمِّیَّ الَّذِی یَجِدُونَہُ مَکْتُوبًا عِندَہُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَالْإِنجِیل
(الاعراف157 )وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی جسے لکھا ہوا پائیں گے ا پنے پاس توریت اور انجیل میں۔ترجمہ کنزالایمان ۔تفسیر خزائن العرفان میں مولانامفتی سید نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ یعنی توریت و انجیل میں آپ ﷺ کی نعت و صفت و نبوت لکھی پائیں گے اور ایک طویل حدیث پاک بھی تحریر کی ہے ہم کنزالایما ن میںمطالعہ کرسکتے ہیں۔یعنی اہلِ کتاب اپنی کتابوں میں حضور ﷺ کا ذکر لکھا ہوا پاتے ہیں۔اور حضرت عیسیٰ روح اللہ نے اپنے امتیوں کو محمد رسول اللہ کے آنے کی بشارت سنائی ، قرآن مجید میں اللہ پاک کا ارشاد ہے: (سورۃالصف:6)ترجمہ: اور جب عیسیٰ ابنِ مریم نے کہا: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرنے والا اور اپنے بعد آنے والے رسول کی خوش خبری دینے والا، جن کا نام احمد ہے۔یہی وجہ ہے کہ توریت، زبور اور انجیل میں بھی نام ”محمد” اور ”احمد” کا ذکر آیا ہے۔
احادیث مبارکہ میں فضیلتِ نام محمد ﷺ
حضور ﷺ نے فرمایا:میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹائے گا، میں حاشر ہوں کہ سب لوگ میرے بعد جمع ہوں گے، اور میں عاقب ہوں یعنی خاتم النبین ہوں۔میرے بعدکوئی نیا پیغمبر دنیا میں نہیں آئے گا۔(صحیح البخاری کتاب المناقب ، حدیث: 3532؛ صحیح مسلم کتاب الفضائل حدیث: 2354) محمد ،نام رکھنا نہ صرف جائز ہے بلکہ باعثِ برکت ہے حضور ﷺ نے محمد نام رکھنے کی خود اجازت عطافرمائی ہے۔ جیساکہ صحیح البخاری حدیث ۶۱۹۷اور صحیح مسلم کتاب الادب ، حدیث ۲۱۳۴میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا۔سمواباسمی ولا تکتنوا بکنیتی۔یعنی میرے نام پر نام رکھو، البتہ میری کنیت اختیار نہ کرو۔بلکہ آپ ﷺ نے خود بھی کئی بچوں کا نام محمد رکھا ہے ۔جب بھی ہمارے نبی کی بارگاہ میں نومولود بچے لائے جاتے تھے تو آپ ﷺ تحنیک(گھٹی)کے بعد ان کا نام بھی تجویز فرماتے ، ان کئی بچوں کا نام آپ ﷺ نے ،محمد، رکھاکچھ صحابہ کرام کے نام آپ ﷺ نے خود تبدیل کرکہ ،محمد، رکھا ہے۔اور فیض القدیر میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ترجمہ ،تم میں سے کسی کا کیا نقصان ہے اس بات میں کہ اس کے گھر میں ایک ،دو،،تین،محمد(نام والے)ہوں۔اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیںکہ ،میں نے اہل مکہ سے سناہے کہ جس گھر میں،محمد،نام والا ہوتواس کی وجہ سے ان کو اور ان کے پڑوسیوں کو رزق دیاجاتاہے۔اورحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:میں قیامت کے دن ساری اولاد آدم کا سردار ہوں گا، سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی ،میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والاہوں اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی۔(مسلم شریف کتاب الفضائل، حدیث : ۱۷۸۲)ایسے ہی کتب حدیث میں نام محمد کی بیشمار فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔
نام محمد ﷺ کو مٹانے کی کوشش ناکام
دشمنانِ اسلام نے تاریخ میں بارہا کوشش کی کہ نام ”محمد” ﷺ کو مٹا دیا جائے، لیکن ہر بار یہ نام اور زیادہ روشن ہوا۔آج بھی اگر کاغذ، پرنٹ یا کتب سے یہ نام مٹا دیا جائے تو بھی عاشقانِ مصطفی ﷺ کے دلوں سے ”آئی لو محمد” کو کوئی نہیں نکال سکتا۔گوگل سرچ اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ رکھا جانے والا نام وہ نامِ محمدہے۔دنیا کی سب سے بڑی سرچ انجن رپورٹوں کے مطابق ”محمد” ﷺ دنیا کا سب سے زیادہ سرچ کیا جانے والا اور بچوں کو سب سے زیادہ رکھا جانے والا نام ہے۔ یہ اعلانِ ربانی ”ورفعنا لک ذکرک” کی کھلی دلیل ہے۔آئی لو محمد ﷺ جرم نہیں، ایمان ہے ۔جب دنیا والے اپنے محبوب کو
I Love You کہتے ہیں تو مسلمان کیوں نہ اپنے نبی ﷺ سے اپنی محبت کا اظہار کرے؟ حضور ﷺ نے فرمایا۔تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان، مال، اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(صحیح بخاری، حدیث: 15؛ صحیح مسلم، حدیث: 44)
لہٰذا ”آئی لو محمد ﷺ” کہنا جرم نہیں بلکہ ایمان کی علامت ہے۔محمد ﷺ کا نام محض ایک لفظ نہیں، بلکہ ایمان، محبت اور بقا کا نشان ہے۔ اللہ پاک نے آپ کے ذکر کواتنا بلند کیاکہ صبح قیامت اور میدان محشرمیں بھی لواء الحمد عطاکرکہ آپ کی شان کو ظاہر فرمائے گا ۔ نام محمددنیا کی طاقتیں چاہ کر بھی مٹا نہیں سکتیں۔ کتابوں سے یہ نام مٹایا جا سکتا ہے مگر دلوں سے نہیں۔
فقط اتنا سبب ہے انعقاد بزم محشر کا ۔کہ آپ کی شانِ محبوبی دکھائی جانے والی ہے
لفظ اللہ کا ہر حرف بامعنی ہے
لفظ اللہ کی خصوصیت ۔لفظِ اللہ سے اگر الف ہٹا دیں تو لِلّٰہ رہتا ہے، اور قرآن میں بارہا آیا ہے۔قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ کُلَّہُ لِلَّہِ(آل عمران: 154)کہہ دو کہ سارا کام اللہ ہی کا ہے۔اور اگر ایک ل بھی ہٹا دیں تو لَہُ رہتا ہے:قرآن کہتاہے ۔لَہُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ(البقرۃ: 255)اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔اگر درمیان کا الف بھی ہٹا دیں تو صرف ہُ باقی رہتا ہے:اللہ پاک کا ارشاد مبارکہ ہے۔
قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ(الاخلاص: 1)تم فرمائو وہ اللہ ہے وہ ایک ہے۔یعنی لفظِ اللہ اپنی ہر صورت میں
اللہ تعالیٰ کی طرف ہی دلالت کرتا ہے۔
نامِ محمد ﷺ اور لفظ اللہ کا باہمی تعلق
دونوں چار حروف پر مشتمل ہیں۔دونوں نقطوں سے خالی ہیں۔دونوں میں ایک شد، دو حرکتیں اور ایک سکون ہے،اللہ، کہتے وقت ہونٹ جُدا ہوتے ہیں، محمد، کہتے وقت ہونٹ ملتے ہیں۔ د نیا کے باقی لوگوں کے نام والدین رکھتے ہیں، لقب قوم دیتی ہے، خطاب حکومت سے ملتا ہے۔لیکن حضور ﷺ کا نام ،محمد، لقب ،احمد، اور خطاب ،رسولُ اللہ، سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہواہے۔
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّہِ (الفتح: 29)وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ یَأْتِی مِن بَعْدِی اسْمُہُ أَحْمَدُ (الصف: 6)
خلاصہ۔ذکرِ محمد ﷺ دراصل ذکرِ خدا ہے۔محبتِ محمد ﷺ محبتِ خدا ہے۔اور حضور ﷺ ہی وہ وسیلہ ہیں جو مخلوق کو خالق سے ملاتے ہیں۔آئی لو محمد ﷺ” جرم نہیں، ایمان ہے ۔دنیا کے تمام ادیان اور تہذیبوں میں اگر کسی نام کو سب سے زیادہ عظمت، تقدس احترام اور محبت ملی ہے تو وہ نامِ محمدہے
یہ وہ نام ہے جسے خود اللہ رب العزت نے منتخب فرمایاہے۔
آنکھوں کا تارا نامِ محمد۔ دل کا اُجالا نامِ محمد
اللہ اکبر رب العلانے۔ہرشے پہ لکھا نام محمد
ہیں یوں تو کثرت سے نام لیکن۔سب سے ہے پیارا نامِ محمد
شیدانہ کیوںہوں اُس پر مسلمان۔رب کو ہے پیارا نام محمد
مومن کو کیوں ہو خطرہ کہیں پر۔دل پر کندہ نامِ محمد
تحریر۔محمدتوحیدرضاعلیمی بنگلور
امام ۔مسجدرسولُ اللہ ﷺ خطیب۔مسجدرحیمیہ میسور روڈبنگلور
مہتمم۔دارالعلوم حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ و
نوری فائونڈیشن بنگلور رابطہ۔9886402786
Tauheedtauheedraza@gmail.com
Like this:
Like Loading...