Skip to content
عدل کے بغیر امن نہیں
مزاحمت کے ملبے سے اٹھتے سوالات —
امن یا فریب؟
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
اسلام کی بنیاد عدل پر ہے، اور عدل کے بغیر کوئی امن ممکن نہیں۔ قرآنِ حکیم نے بارہا انسانیت کو یہ اصول دیا ہے کہ ظلم کے مقابلے میں خاموش رہنا گناہ ہے، اور مظلوم کی حمایت اہلِ ایمان پر فرض ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللّٰہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچّوں کے حق میں نہیں لڑتے؟” (النساء: 75)۔
یہ آیت صدیوں سے اُمَّت کو جھنجھوڑتی آئی ہے، اور آج غزہ کے کھنڈرات، شہیدوں کی لاشیں اور یتیم بچّوں کی سسکیاں پھر اسی پیغام کو دہرا رہی ہیں۔ اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ امن محض اسلحہ ڈال دینے سے نہیں آتا، بلکہ امن وہ ہے جہاں مظلوم کو انصاف ملے، ظالم کو جواب دہ بنایا جائے، اور زمین پر اللّٰہ کے بندے خوف اور ذلت کے بغیر زندگی بسر کر سکیں۔
رسول اللّٰہﷺ نے بھی واضح فرمایا: "تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے بدل دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ ہو تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے” (مسلم: 49)۔
پس آج اگر اہلِ ایمان غزہ اور فلسطین کے حال پر سوال نہیں اٹھائیں گے، ان پر ہونے والے مظالم پر احتجاج نہیں کریں گے، تو ایمان کا سب سے کمزور درجہ بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔ یہ سوالات جو دلوں میں اٹھتے ہیں! "حماس کو غیر مسلح کیا جائے”، "غزہ کی تعمیر کے اخراجات”، "گارنٹیوں کا کھیل”، "بیرونی طاقتوں کی نگرانی”، "عظیم اسرائیل کے دعوے”، اور "انسانی لاشوں کے اوپر امن کی عمارت”!!! یہ سب دراصل وہ محاسبہ ہیں جو ایک زندہ ضمیر کو اسلامی عدل کی روشنی میں کرنا چاہیے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق، کسی بھی قوم سے ہتھیار چھین کر اسے بے بس کرنا امن نہیں بلکہ غلامی ہے۔ قرآن ہمیں ظالموں کی حمایت نہ کرنے اور ان کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا حکم دیتا ہے۔ امن کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو عزّت و کرامت کے ساتھ جینے دیا جائے، نہ کہ ان کی آواز دبائی جائے یا ان کے حقِ مزاحمت کو جرم بنا دیا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ سوالات محض سیاسی نہیں بلکہ ایمانی بھی ہیں۔ کیونکہ اُمَّتِ مسلمہ کا ہر فرد اس وقت ایک عظیم آزمائش میں ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا وہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوگا یا خاموشی سے طاقتور کے بیانیے کو تسلیم کر لے گا؟ ایمان کا تقاضا ہے کہ کمزور کے حق میں آواز بلند کی جائے، اور عدل کے بغیر کسی نام نہاد امن کو قبول نہ کیا جائے۔
اسی تناظر میں جب کہا جاتا ہے کہ "حماس کو غیر مسلح کیا جائے” تو سوال اٹھتا ہے! امن کہاں ہے؟ یہ جملہ بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندر بے شمار کانٹے چھپے ہیں۔ امن کا تقاضا صرف ہتھیار ڈالنے سے پورا نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک پیچیدہ سماجی، سیاسی اور اخلاقی عمل ہے جس میں اعتماد سازی، انصاف کی فراہمی اور عوامی نمائندگی کی ضمانت شامل ہونی چاہیے۔ اگر امن کو محض اسلحہ اتارنے کے عمل تک محدود کر دیا جائے تو یہ امن کا صرف ایک کھوکھلا خول ہوگا، ایسا خول جس کے اندر انسانوں کا خوف، خانہ بربادی کی تلخ یادیں اور ایک پوری قوم کی پامالی چھپی رہتی ہے۔ اصل امن وہ ہے جہاں دلوں کا خوف ختم ہو، زمین پر عدل قائم ہو، اور ایک قوم کو اپنی شناخت و عزّت کے ساتھ جینے کا حق واپس ملے۔
"غزہ کی تعمیر نو کے پیسے عرب بھائی دیں گے! گویا عربوں نے ملبہ بنایا” یہ بیان ملامت اور طنز کا ایسا مرکب ہے جو تاریخ، طاقت اور ذمّہ داری کے سوالات کھولتا ہے۔ ایک شہر جو ملبّہ بن کر پڑا ہو، اس کے دوبارہ اٹھنے کا خراج ادا کرنا مہربانی نہیں بلکہ انسانی اور معاشی لازمی کاروائی ہے؛ مگر کیا اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ملبہ بنانے والے اور ملبہ اٹھانے والے ایک ہی ہیں؟ اگر ہم تعمیر نو کے فنڈز کو صرف مالیاتی لین دین کے طور پر دیکھیں تو ہم بنیادوں میں موجود اخلاقی سوالات نظر انداز کر دیں گے: کس نے حملہ کیا؟ کس نے محاصرہ کیا؟ اور سب سے بڑھ کر کہاں انصاف کا تقاضا پورا ہو گا؟ یہاں عرب ممالک کا حصّہ ڈالنا ایک بین الاقوامی جذبے کی علامت ہو سکتا ہے، مگر وہ کسی جرم کی تلافی نہیں جو ماضی میں ہوئی۔ سخاوت اور ذمّہ داری میں فرق ہوتا ہے؛ الفاظ میں فرق طے کریں تو منظر واضح ہوتا ہے۔
"عرب برادری گارنٹی لے گی کہ آئندہ حماس کوئی حملہ نہیں کرے” — کیا واقعی شرطیں لگائی جا سکتی ہیں؟ یہ دعویٰ قدرتی طور پر ایک اختیاری شبہ پیدا کرتا ہے! کیا کسی بیرونی طاقت یا جماعت کے کہنے پر ہی مقامی مزاحمتی گروہ حملے کرتا یا موقوف کر دیتا ہے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ مسلح گروہوں کے رویّے صرف خارجی دباؤ سے تبدیل نہیں ہوتے؛ ان کی حکمتِ عملی، مقامی حمایت، اور ان کے سیاسی مقاصد ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی معاہدے کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرتے ہیں۔ گارنٹی مانگنا خاص طور پر جب وہ گارنٹر ایک بیرونی ریاست، اتحاد یا فورس ہو۔ دراصل مقامی سیاسی عمل کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، اور اس میں مقامی جائز ناامیدی، تحفّظِ وقار، اور مستقبل کے نمائندہ حقوق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے؟ گارنٹی کس کی گارنٹی ہے؟ اور کیا گارنٹی کے پیچھے انصاف اور سیاسی شراکت کا کوئی وعدہ بھی ہے؟
"پہلے حماس غیر مسلح ہوگا، اسرائیلی قیدی زندہ و مردہ واپس کیے جائیں گے، پھر فوج بتدریج غزہ سے انخلاء کرے گی” یہ ایک منطقی ترتیب معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ پہیلیوں کا گھیرا ہے۔ اگر قیدیوں کی واپسی کو مسلحیت کی مکمل خاتمے سے وابستہ کیا جائے تو اس عمل میں اخلاقی و حکمتِ عملیانہ تاخیر کا امکان بڑھ جاتا ہے! انسانی ہمدردی کا تقاضا شواہد اور مرحلوں کی قید میں آ سکتا ہے۔ پھر، فوجی انخلاء کا وعدہ جب بھی "رفتہ رفتہ” کا اصطلاحی جُھول ساتھ لے کر آتا ہے تو عام آدمی کے دل میں شک و خوف کے بیج بو دیتا ہے!! کیا انخلاء حتمی ہے یا وقتی؟ احتیاط یہ ہے کہ انخلاء اور امید کی ضمانتیں واضح، قابلِ پیمائش اور بین الاقوامی سطح پر مروجہ ضوابط کے مطابق ہوں، ورنہ وعدے ہوا میں تحلیل ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔
"حماس کو عرب افواج غیر مسلح کریں گی” یہ تصور بظاہر لفاظی میں تو سادہ ہے مگر حقیقت میں یہ خودمختاری، قبائلی شراکت داری اور علاقائی طاقت کے توازن کا سوال ہے۔ کسی فریق کو دیگر فورسوں کے ہاتھوں "غیر مسلح” کرنا وہی ہے جیسے کسی قوم کے بازو کاٹ دینا۔ اس میں ایک امتیازی طاقت کا اظہار شامل ہے! کون طاقت استعمال کرے گا، کس کے مفاد میں، اور کیا یہ عمل مقامی عوام کی رضامندی کے بغیر ممکن ہے؟ علاؤہ ازیں، اگر غیر مسلحیت کو باہر کی فوجیں آئینی عمل سے نافذ کریں تو یہ دیرپا امن کی تشکیل کے خلاف جا سکتا ہے کیونکہ مقامی سیاسی ڈھانچے، عدلیہ اور شراکتداری کمزور پڑ جاتی ہے۔ امن کے خواب کو حقیقت بنانے کے لئے غیر مسلحیت کے عمل کو شفاف، بین الاقوامی نگرانی کے حامل، اور اندرونی سیاسی شمولیت کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔
"عربوں کی مشترکہ افواج کی موجودگی میں ٹونی بلیئر غزہ کا کنٹرول سنبھالے گا” یہ نکتہ ایک سنگین استعاراتی تصویر کھینچتا ہے! مشترکہ افواج کی ڈھال کے پیچھے ایک بیرونی شخصیت کا سنبھالنا، ایک ایسی کہانی ہے جو ماضی کے زخموں اور نوآبادیاتی حسّاسیت کو زندہ کر دیتی ہے۔ ٹونی بلیئر کا نام سناتے ہی بہتوں کے ذہن میں عراق کی وہ داستان آ جاتی ہے۔ ایک لیڈر جس کے فیصلوں نے دور رس نتائج پیدا کیے۔ جب کسی بیرونی سابق رہنما کو عبوری کنٹرول کے لیے لانے کی تجویز سامنے آتی ہے تو سوال اٹھتا ہے! کیا یہ توثیقِ خود ارادیت ہے یا ایک نئی کنٹرول کی شکل؟ کیا یہ مقامی نمائندگیاں کھو کر ایک بین الاقوامی بوروکریسی کو جنم نہیں دے گا جو زمینی حقائق اور مقامی امنگوں کا احترام نہیں کرے گی؟
"اور ان سب کے عوض اسرائیل غزہ پر قبضہ نہیں کرے گا” یہ آخری شرط بلاشبہ سب سے اہم اور نازک ہے!!! قبضے کی نفی امن کا بنیادی جزو ہے۔ مگر جب اس شرط کو دوسرے کئی پیچیدہ وعدوں کے ساتھ اسپورٹ کیا جائے، غیر مسلحی، عبوری کنٹرول، بیرونی گارنٹیز، اور دوبارہ تعمیر کے مالیاتی انتظام تو ضروری ہے کہ اس شرط کی قانونی، اخلاقی اور عملی معنویت واضح ہو۔ مخصوص مدّت، بین الاقوامی نگرانی، آزاد رسائی اور مقامی نمائندگی کے واضح میکانزم کے بغیر یہ وعدہ محض کاغذی طمانیت رہ سکتا ہے۔ قبضے کی نفی تبھی معنی خیز ہوتی ہے جب لوگوں کو اپنے رائے و عمل کا حق، محفوظ زندگی، اور خودمختار سیاسی مستقبل ملے!! صرف وعدے کافی نہیں ہوتے۔
وہ شہر جن کے آنگنوں میں کبھی بچّوں کی ہنسی تھی، آج ملبے اور لاشوں کے نیچے دب گئے ہیں اور یہ سوال سیدھا آتا ہے۔ ان لاشوں، ان ٹوٹی ہوئی دیواروں، ان بے گھر خاندانوں پر کون بات کرے گا؟ تاریخ اور اخلاق یہ سکھاتے ہیں کہ انسانیت کی حرمت صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عمل میں ثابت ہوتی ہے! زخمیوں کی امداد، اسکولوں کی دوبارہ تعمیر، اور سب سے بڑھ کر مرنے والوں کے انسانی رائٹس کا تسلیمِ حقیقت۔ عالمی ادارے مسلسل غزہ میں وسیع پیمانے پر شہری ہلاکتوں اور تباہی کی رپورٹس دے رہے ہیں، جن میں بچّوں اور عورتوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ یہ اعداد و شمار اِس انسانی المیے کی سنگینی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
جب توپ، بم اور فضائی قوتیں ملک بہ ملک پہنچتی ہیں، اور ساتھ ہی سفارتی اسٹیج پر سائلین کی بددُعاؤں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، تو سوال اہم ہے! یہ تباہی محض کسی ایک فریق کا کارنامہ ہے یا بین الاقوامی پالیسیوں اور ہتھیاروں کی روانگی کا نتیجہ؟ بڑی طاقتوں کی مسلح امداد، نہ صرف جنگ کی شدت بڑھاتی ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی ایک توازن کو قائم کرتی ہے جو رحم دلی کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ دستاویزی و تجزیاتی رپورٹس بتاتی ہیں کہ مغربی ممالک خصوصاً امریکہ نے اسرائیل کو بڑے پیمانے پر فوجی تعاون اور ہتھیار فراہم کیے۔ یہ حقیقت محض بیانیہ نہیں بلکہ جسمانی قوت کی ترسیل ہے جو نتیجتاً شہری نقصان میں بھی نظر آئی۔
کچھ نعرے جنہیں لوگ دہشتگردی کہتے ہیں اور کچھ حتمی ریاستی بیانیے جنہیں سوال سے مستثنیٰ رکھا جاتا ہے۔ یہ فرق صرف لفظوں کا نہیں بلکہ طاقت کے اطلاق کا مظہر ہے۔ جب "موت بر…” جیسے نعروں پر فوری مذمت آتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاستی ساخت کی وہ کارروائیاں جن کے نتیجے میں شہریوں کا قتلِ عام ہو جائے، سوال سے بچ جاتی ہیں۔ ایک منصفانہ عالمی تناظر وہ ہوگا جہاں سب کے بنیادی انسانی حقوق برابر ہوں! چاہے کوئی فرد ہو یا ریاست، چاہے کوئی نعروں کا مرتکب ہو یا میزائلوں کا۔
عظیم اسرائیل کا نعرہ — ایک نظریاتی دعوی یا جارحانہ منصوبہ؟۔ "گریٹر اسرائیل” کا تذکرہ وقتی لفظی محاورے سے بڑھ کر ایک تاریخی اور نظریاتی دھارا کی نمائندگی کرتا ہے جس کے مختلف تعبیراتی رخ سامنے آئے ہیں۔ بعض محققین اسے قومی نظریہ قرار دیتے ہیں، بعض اسے جارحانہ سرحدی خواہش کا اظہار۔ یہ محض لفظ نہیں؛ یہ ان خطوں اور لوگوں کی مسلسِل زندگیوں کے بارے میں تقاضے اٹھاتا ہے جنہیں اس نظریے کے دائرے میں لانے یا باہر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس تصور کی جڑیں اور اس کی سیاسی تعبیرات پر تاریخی و علمی مطالعے موجود ہیں، جو بتاتے ہیں کہ یہ نعرہ پڑوسی علاقوں کے بارے میں دعویٰ اور اس دعوے کے اخلاقی و قانونی مضمرات سے الگ نہیں۔
جب کہا یہ جاتا ہے کہ "اس پر کون گارنٹی لے گا؟” تو حقیقتاً آپ انصاف کی غیر موجودگی کی بات کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے اصول! جنگی قوانین، انسانی حقوق کے ضوابط، اور قبضہ کے خلاف بنیادیں موجود ہیں مگر ان کا اطلاق قوتِ نافذہ، سیاسی مفادات، اور عالمی طاقتوں کے توازن کی وجہ سے کمزور پڑ جاتا ہے۔ بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کئی مواقع پر پالیسیوں اور عملوں کی قانونی حیثیت پر رائے دیتی رہی ہیں؛ مگر عملدرآمد کا جو خلا ہے وہی عوامی غم و غصّے کا سبب بنتا ہے۔
کیا اگر کسی رہنما کے خلاف اس کے ملک میں مقدمات قائم ہوں تو وہ دوسروں کے خلاف جارحیت کی توجیہہ بن سکتے ہیں؟ انصاف کا تصور دوہرا نہیں ہو سکتا: کسی بہانے میں بڑے پیمانے پر قتل و تشدّد کو معمول بنانا بین الاقوامی قانون اور اخلاق دونوں کے خلاف ہے۔ اگر ہم عراق میں یا کہیں اور پیش آنے والے واقعات پر خاموش رہے تو آج جب غزہ میں یہی منطق دہرائی جاتی ہے تو ہمارے ضمیر کو اٹھ کر سوال کرنا چاہیے۔
یہاں صرف غم و غصّہ بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ انصاف، جوابدہی، اور معنوی تضادات پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امن کی تلاش محض جنگ بندی کا نام نہیں؛ یہ وہ لائحہ عمل ہے جو زخموں کا مرہم لگائے، انصاف کے تقاضے پورے کرے، اور مستقبل کی بنیادیں شفافیت، مقامی نمائندگی اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر استوار کرے۔ ورنہ خالی وعدے اور ڈھکی چھپی پالیسیاں صرف ایک نئے بحران کے بیج بوئیں گی۔
یہ محض چند سوالات نہیں بلکہ وہ صدائیں ہیں جو ہر انصاف پسند دل کے کونے کونے سے ابھرتی ہیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جو خونِ انسانی کی ارزانی دیکھ کر ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں، جو ملبے تلے دبی معصوم لاشوں کی خاموش گواہی کو لفظوں کا جامہ پہناتے ہیں، جو عالمی ضمیر سے استفسار کرتے ہیں کہ کیا انصاف کا ترازو صرف طاقتور کے لیے جھکتا ہے اور کمزور کے حق میں ہمیشہ خالی رہتا ہے؟
یقین بجا ہے، کیونکہ ایک مزاحمتی تحریک، خواہ وہ کتنی ہی سخت جان ہو، اپنے عوام کی آہوں اور دکھوں سے بے خبر نہیں رہ سکتی۔ کوئی بھی تحریکی قوت محض بارود اور ہتھیار سے زندہ نہیں رہتی، بلکہ وہ اپنے لوگوں کے دلوں کی دھڑکن اور ان کی صدا کو محور بناتی ہے۔ یہ سوالات، جو آج آپ کے دل میں اٹھے ہیں، یقیناً غزہ کی فضاؤں میں بھی گونجتے ہوں گے، شہیدوں کی ماؤں کی آہوں میں بھی سنائی دیتے ہوں گے، اور زخمی بچّوں کی آنکھوں کی نمی میں بھی دکھائی دیتے ہوں گے۔
حماس یا کوئی بھی مزاحمتی جماعت، اگر اپنے عوام کے دکھوں کو نظر انداز کرے، تو اس کی مزاحمت ایک کھوکھلا نعرہ بن جاتی ہے۔ مگر اگر وہ اپنے لوگوں کے درد کو سمجھ کر، دنیا کے سامنے اسے پیش کرے، اور اپنی حکمتِ عملی میں ان سوالات کو جگہ دے، تو یہی سوالات ایک دن تاریخ کے فیصلے بن سکتے ہیں۔
یہ سوالات محض اعتراض نہیں!! یہ دراصل وہ محاسبۂ باطن ہیں جو ایک قوم کو اپنے موقف میں مزید صداقت، اپنے بیانیے میں مزید سچائی، اور اپنی جدوجہد میں مزید اخلاقی قوت عطاء کرتے ہیں۔ یہ وہ آئینہ ہیں جس میں مزاحمت اپنے چہرے کو دیکھ کر طے کرتی ہے کہ اس کا سفر کس سمت کو جانا چاہیے: صرف طاقت کی بنیاد پر، یا انصاف اور انسانیت کے اصولوں پر۔
اسلام نے انسان کو سب سے بڑھ کر کرامت بخشی ہے۔ قرآن میں اعلان ہے: "اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزّت بخشی ہے” (بنی اسرائیل: 70)۔ یہ کرامت ہر حال میں قائم رہتی ہے، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مظلوم ہو یا غریب۔ یہی وجہ ہے کہ ظلم کی مخالفت اور انصاف کے قیام کو اسلام نے اپنی بنیاد بنایا ہے۔
فلسطین اور غزہ کی موجودہ صورتِ حال میں جو سوالات اٹھتے ہیں، چاہے وہ غیر مسلحی کی شرط ہو، تعمیرِ نو کے اخراجات کا کھیل، بیرونی گارنٹیوں کا ڈرامہ، یا قبضے کے خلاف ادھورے وعدے! ان سب کے پیچھے اصل سوال یہی ہے کہ کیا عدل قائم ہوا؟ اگر عدل نہیں تو امن محض فریب ہے۔
رسول اللّٰہﷺ کا فرمان ہے: "مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے سہارا چھوڑتا ہے، نہ اسے حقیر جانتا ہے” (بخاری و مسلم)۔ اس تناظر میں اُمَّتِ مسلمہ پر فرض ہے کہ وہ نہ صرف اپنے فلسطینی بھائیوں کو ظلم کے سامنے تنہا نہ چھوڑے، بلکہ ان کے لیے اپنی زبان، اپنے وسائل، اور اپنی سفارتی و فکری قوت کو بروئے کار لائے۔ خاموشی یا بے حسی دراصل ایمان کے کمزور ترین درجے سے بھی نیچے گرنے کے مترادف ہے۔
تاریخ بھی یہ بتاتی ہے کہ اسلام کی طاقت صرف تلوار میں نہیں بلکہ عدل و اخلاق میں ہے۔ صلحِ حدیبیہ کا معاہدہ مسلمانوں کے لیے بظاہر ایک پسپائی تھی مگر اس کے پسِ منظر میں انصاف اور اخلاقی طاقت کا ایسا پہلو چھپا تھا جس نے بعد میں پورے عرب کو متاثر کیا۔ اسی طرح آج اگر اُمَّت انصاف، اخلاق اور اتحاد کے ساتھ اٹھے تو دنیا کے بڑے بڑے بیانیے اپنی بنیاد کھو دیں گے۔
آج کا اصل امتحان یہی ہے:
کیا اُمَّت اپنے کمزور بھائیوں کی حمایت کرے گی؟
کیا وہ طاقتور کے سامنے بھی وہی سوال اٹھائے گی جو کمزور کے سامنے اٹھاتی ہے؟
اور کیا وہ امن کو محض ہتھیار ڈالنے کا نام مانے گی یا عدل و کرامت کے قیام کا؟
اسلامی نقطۂ نظر سے یہ واضح ہے کہ امن عدل کے بغیر نہیں آ سکتا۔ جو منصوبہ عدل کے اصول کو نظر انداز کرے وہ خواہ کتنی ہی عالمی حمایت حاصل کر لے، وہ ہمیشہ کاغذی، عارضی اور کھوکھلا رہے گا۔ قرآن کا وعدہ ہے: "یقیناً اللّٰہ ان لوگوں کا دفاع کرتا ہے جو ایمان لائے” (الحج: 38)۔
یہی آیت ہمیں تسلّی بھی دیتی ہے اور عزم بھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اُمَّت اپنے سوالات، اپنے احتجاج اور اپنی جدوجہد کو عدل اور ایمان کے اصول پر قائم رکھے تو کوئی طاقت اس کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتی۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ سوالات محض دل کی آہیں نہیں بلکہ وہ آئینہ ہیں جس میں اُمَّت اپنی ذمّہ داریوں کو دیکھ سکتی ہے۔ اگر ہم نے ان سوالات کو اسلامی عدل کے ساتھ جوڑ کر دنیا کے سامنے رکھا، تو یہ سوالات ایک دن تاریخ کے فیصلے بن جائیں گے۔
🗓 (02.10.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...