Skip to content
جمعہ نامہ:پھر دنیا دنیا کون کرے؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے: ’’مال اور اولاد (تو صرف) دنیاوی زندگی کی زینت ہیں اور (حقیقت میں) باقی رہنے والی (تو) نیکیاں (ہیں جو) آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے (بھی) بہتر ہیں اور آرزو کے لحاظ سے (بھی) خوب تر ہیں ‘‘۔ یہ آیت بتاتی ہے دنیا اور اس کے سامان میں دوام نہیں اخروی اجر میں ہے لہٰذہ دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ اسی کی آرزو کی جائے اور اس کے لیے محنت و مشقت کی جائے کیونکہ :’’اور جو چیز بھی تمہیں عطا کی گئی ہے سو (وہ) دنیوی زندگی کا سامان اور اس کی رونق و زینت ہے۔ مگر جو چیز (ابھی) اللہ کے پاس ہے وہ (اس سے) بہتر اور دائمی ہے۔ انسان چونکہ دنیا میں امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے اس لیے اگر وہ پرکشش ہی نہ ہوتی تو آزمائش کاحق ادا نہیں ہوتا۔ یہ رب کائنات کا فضل و احسان ہے اس نے انبیائے کرام ؑ کے ذریعہ خبردار کرنےکا اہتمام بھی فرمادیا :’’ دنیوی زندگی (کی عیش و عشرت) کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں اور یقینا آخرت کا گھر ہی ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا تم (یہ حقیقت) نہیں سمجھتے ‘‘؟
قرآن حکیم میں مذکورہ بالااصول کی تفصیل یہ ہے کہ:’’ کیا تم (اس حقیقت کو) نہیں سمجھتے؟ لوگوں کے لیے ان خواہشات کی محبت (خوب) آراستہ کر دی گئی ہے (جن میں) عورتیں ،اولاد، سونے، چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے، نشان کیے ہوئے خوبصورت گھوڑے ، مویشی اور کھیتی (شامل ہیں)، یہ (سب) دنیوی زندگی کا سامان ہے، اور اللہ کے پاس بہتر ٹھکانا ہے ‘‘۔عصرِ حاضر میں گھوڑوں کی جگہ گاڑی اور مویشی و کھیت کے ساتھ حصص بازار کے شیئرس کا بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنیا میں تم ایسے رہو جیسے ایک اجنبی آدمی یا مسافر رہتا ہے۔ ‘‘منزل مقصودکا طالب مسافر سفر کی مشکلات کو نہ اہمیت دیتا ہے اور نہ بے چین وہوکر مایوس ہوجاتا ہے۔ یہ حدیث ہمیشہ کے پیش نظر رہتی ہے کہ : ’’دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔‘‘ یہ تمثیل بتاتی ہے کافر دنیا سے کیوں جانا نہیں چاہتا اور مومن آخرت کا کوشاں کیوں ہوتا ہے؟ دنیا کو قید خانہ سمجھنے والے مومن کا شعار شان و شوکت کے بجائے سادگی و متانت ہوتا ہے ۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے اللہ کی خاطر تواضع کے پیش نظر (زرق برق) لباس ترک کیا حالانکہ وہ اس پر قدرت رکھتا ہے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے مخلوق کے سامنے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ ایمان (والوں) کا جو جوڑا چاہے پہن لے۔‘‘ اس بشارت کے حقدار دکھاوے سے خالی وہ مخلص بندے ہوں گے جن کا مطمحِ نظر صرف رضائے الٰہی ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک ان بندوں کا مقام و مرتبہ اس حدیث مبارک میں ملاحظہ فرمائیں :’’ کتنے ہی بکھرے بالوں والے، غبار آلودہ، پھٹے پرانے کپڑوں والے جنھیں لوگ حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ پر قسم کھا لیں توباری تعالیٰ انہیں اس میں سچا کر دے۔‘‘ سادگی مجبوری نہیں بلکہ اسلامی شعار ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے ایک روز دنیا کا ذکر کیا تو آپ ؐ نے فرمایا : ’’کیا تم سنتے نہیں کہ سادہ وضع میں رہنا ایمان کا حصہ ہے۔‘‘ آج کل بدحالی کا شکار مسلمان تو مجبوراً سادگی اختیار کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے خوشحالی کے آتے ہی اس صفت سےعا ری ہوجاتے ہیں ۔ ان کے پاس دینی یا تعلیمی و اصلاحی کاموں کے لیے روپیہ نہیں ہوتا مگر شادی بیاہ کی تقریب میں نمود و نمائش کی خاطرجی بھر کے بلکہ قرض لے کر خرچ کیا جاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے : بے شک معمولی دکھاوا بھی شرک ہے۰۰۰‘‘۔
دنیا سے بے رغبتی کا اصل صلہ تو آخرت میں ملے گا مگر دنیا میں بھی زاہدوں کو خوب نوازہ جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ’’ جو شخص ہمیشہ دنیا کی فکر میں مبتلا رہے گا اور دین کی پرواہ نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے تمام کام پریشان کر دے گا اور اس کی مفلسی ہمیشہ اس کے سامنے رہے گی اور دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی اس کی تقدیر میں لکھی ہے اور جس کی نیت آخرت کی جانب ہو گی تو اللہ تعالیٰ اس کی دلجمعی کے لیے اُس کے تمام کام درست فرما دے گا اور اس کے دل میں دنیا کی بے پروائی ڈال دے گا اور دنیا اس کے پاس خود بخود آئے گی۔‘‘ یہ خالص دنیا کا فائدہ ہے لیکن دنیا پرستوں کی توجہ اس کی جانب نہیں جاتی وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد و استعانت سے بے نیاز ہوکر اپنے کام بنانے کی کوشش میں پریشان رہتے ہیں ۔ یہ معاملہ طبعی امور سے آگے بڑھ محبت و الفت تک جاتا ہے۔ ایک صحابی نے نبی اکرم ﷺ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جسے کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : دنیا سے بے رغبت ہو جا، اللہ تعالیٰ تجھ سے محبت کرے گا اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے رغبت ہو جا، لوگ بھی تجھ سے محبت کریں گے۔‘‘
زہد و تقویٰ کی صفت ِ حمیدہ کے حصول کی خاطر محمد عربیﷺ نے یہ سبیل بتائی :’’ جب تم دیکھو کہ کسی شخص کو دنیا میں زہد اور کم گوئی عطا کر دی گئی ہے تو اس کا قرب حاصل کرو کیونکہ اس کو حکمت عطا کر دی جاتی ہے۔‘‘ اسلام رہبانیت کے خلاف ہے اوردنیوی ضرورتوں کی خاطر محنت و مشقت کوعبادت کا درجہ دیتا ہے لیکن نبی اکرم ﷺ کی یہ نصیحت بھی پیش نظر رہے کہ : ’’جو شخص (دنیا سے) کٹ کر اللہ عزوجل کی طرف ہو جائے تواللہ تعالیٰ اس کی ہر ضرورت پوری کرتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہو اور جو شخص (اللہ تعالیٰ سے) کٹ کر دنیا کی طرف ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اسی (دنیا) کے سپرد کر دیتا ہے۔‘‘ اللہ کے زاہد بندوں کے حوالے سے نبیٔ پاک ﷺ نے کیا خوب فرمایا: ’’نیک لوگ دنیا سے بے رغبتی کے علاوہ کسی اور چیز کے ساتھ خوبصورت نہیں لگتے۔‘‘ اس پہلو سے خود احتسابی و خود شناسی درکار ہے۔
Post Views: 4
Like this:
Like Loading...