Skip to content
’آئی لو محمد ؐ ‘سے نفرت کے سیاسی اسباب ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
اتحاد ملت کونسل کے سربراہ مولانا توقیر رضا خان کو یوگی نے بلا جواز یوگی نے گرفتار تو کرلیا مگراس کے باوجود اپنے ایما ن افروز بیان میں نظر بندی کے دوران انہوں نے مسلمانوں کو مبارکباد پیش کی۔ مولانا نے کہا کہ یہ واقعہ ایک سازش کا حصہ تھا اور مسلمانوں کو اطمینان و امن کے راستے پر رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ محمدؐ کے نام کی بار بار توہین کرنے والوں کے خلاف سخت قانون بنایا جائے۔مولانا نے فرمایا: "میں وہاں جاتا، نماز پڑھتا اور لوگوں کو گھر بھیج دیتا، لیکن مجھے گھر میں نظر بند رکھا گیا۔ جھوٹے لیٹرپیڈ پر میرے نام سے بیانات جاری کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ’’آئی لو محمدؐ‘‘ تحریک کی حمایت کے عوض مولانا سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا۔ موصوف پر مختلف تھانوں میں کل 11 مقدمات درج کیے گئے نیز پولیس نے پہلے ہی دن تقریباً 39؍ افراد کو حراست میں لے کر دہشت پھیلانے کی کوشش کی۔
ملک کی پولیس کو جب بھی بے قصور لوگوں کو ستانا ہوتا ہے وہ اپنے اوپر پتھراؤ کا الزام لگاکرکے اپنے اہلکاروں کے زخمی ہونے کی کہانی بناتی ہے۔ بریلی میں بھییہی گھسی پٹی کہانی رچی گئی، اس کے علاوہ وہاں ریپڈ ایکشن فورس (RAF) اور ریزرو فورس (RRF) کی بارہ کمپنیوں کو تعینات کیا گیا اور پھر آئی جی اجے ساہنی کے ساتھ ضلع مجسٹریٹ نے حساس علاقوں میں فلیگ مارچ بھی کیا ۔اس کے ساتھ ضلع انتظامیہ نے 48 گھنٹے کے لیے انٹرنیٹ سروس بند کرنے کے احکامات جاری کیے۔ اس کے باوجود یوگی کہتے ہیں کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ یہ جھوٹ ہے۔’آئی لو محمدؐ‘ پر تنازع بذاتِ خود ایک سازش دکھائی دیتا ہے۔ کانپور کے راوت پور علاقے میں یہ بینر ۴؍ ستمبر کو لگایا۔ پولیس نے منتظمین سے کہا کہ وہاں اس کی جازت نہیں ہے۔ اس کے بعد اسے ایسے مقام پر منتقل کردیا گیا جہاں اجازت تھی اس طرح مسئلہ حل ہوگیا۔ اس کےدو دن بعد نہایت پر امن طریقہ پر شہر میں عیدِ میلاد النبی ؐ کا جلوس اپنی شان و شوکت سے نکلا کوئی تشدد یا انتشار نہیں ہوا ۔ اس طرح یہ معاملہ ختم ہوگیا تھا مگر اچانک دس ستمبر کو پولیس ہوش میں آئی اور اس نے جلوس کے شرکاء پر ’’آئی لو محمد‘‘ کا بینر دکھا کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کا الزام لگادیا جس کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔
حکومت کے اس اقدام کی سماجی کارکنان ، علمائے کرام اور سول سوسائٹی نے سخت تنقید کی ۔مسلمانوں کی دلیل تھی کہ یہ فقرہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے لیے عقیدت اور محبت کا اظہار ہے۔ اس میں اشتعال انگیزی کا کوئی عنصر نہیں ہے۔ اس کے جواب میں فرقہ پرستوں نے آئی لو مہادیو کی مہم شروع کی مگر وہ ٹائیں ٹائیں فش ہوگئی جبکہ آئی لو محمد کی مہم علامتی طور پر مقبول ہو کر ملک بھر میں پھیل گئی۔ یہ نعرہ دیواروں، پلے کارڈز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر چھا گیا ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے انتظامیہ سے کانپور میں درج کی گئی ایف آئی آر کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، اسے قانونی طور پر غیر پائیدار اور سماجی طور پر تقسیم کرنے والا قرار دیا ۔بریلی کی جامع مسجد کے امام مفتی خورشید عالم نے مسلمانوں سے اپیل اپنے گھروں کے دروازوں پر ’’آئی لو محمدؐ‘‘ کے پوسٹر لگا نے کی تلقین کی اور کہا کہ یہ مہم نہ صرف نبی کریمﷺ کےتئیں محبت اور عقیدت کا اظہار ہے بلکہ امن اور محبت کا پیغام بھی دیتی ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے واضح کیا کہ نبی ﷺ سے محبت ہمارے ایمان کا ایک حصہ ہے۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا توقیر رضا نے اپنی رہائش گاہ پر ایک عوامی اجتماع اور پریس کانفرنس میں بتایاکہ ہندوستان اور دنیا بھر کا ہر مسلمان اپنے نبی ﷺ کی خاطر ضرورت پڑنے پر اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے حکومت، سیکولر جماعتوں، ضلعی انتظامیہ، اور ریاستی انتظامیہ اور الیکشن کمیشن سے امید کھو دی ہے۔ جب حکومت این آر سی اور سی اے اے براہ راست کرنے میں ناکام رہی تو اسے الیکشن کمیشن کے ذریعے کیا جا رہا ہے، اس لیے ’ ہم حکومت سے ناراض ہیں‘۔ممبئی اور ممبرا میں ابھی اس موضوع پر نہایت پرامن مہمات کا اہتمام کیا گیا۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے X پر لکھا، ‘‘آئی لو محمد۔ یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ اور اگر یہ ہے، تو میں اس کی ہر سزا قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘ وہ بولے’’آپ پر میں لاکھ جان سے قربان، یا رسولؐ۔ ‘‘یوگی ادیتیہ ناتھ اس مہم کے خلاف زور لگا کر عدالتوں میں ہونے والی اپنی پہ درپہ ناکامی کو چھپا رہے ہیں۔ یوگی نے پہلے افضال انصاری پر تشدد پھیلانے کا الزام لگایا مگر عدالت نے انہیں بری کردیا۔ اس کے بعد عباس انصاری کا معاملہ آیا تو ان کے خلاف بھی نچلی عدالت میں فیصلہ کروالیا حالانکہ وہ تو جس جماعت کے رکن ہیں اس کا رہنما راج بھر این ڈی اے کے ساتھ آچکا ہے پھر بھی عباس انصاری کی رکنیت ختم کروائی گئی۔ انہیں بھی ہائی کورٹ نے ضمانت دے اس کے باوجود ان کی رکنیت کی بحالی میں تاخیر کی گئی۔عدالت میں توہین کا معاملہ آیا تو بے عزت ہوکر بحالی کی گئی۔
اس کےبعد اعظم خان کی رہائی نے تو یوگی کی ناک کاٹ دی ۔ اس رسوائی کی جانب سے توجہ ہٹانے کے لیے ان کے بی ایس پی میں جانے کی افواہ اڑائی گئی اور اب تو سپریم کورٹ نے یوگی انتظامیہ نوٹس دے کر جواب طلب کرلیا۔ اس بیچ کانپور کے عرفان سولنکی کی ضمانت بھی منظور ہوگئی۔ اسے روکنے کے لیے دہلی سے سالی سیٹر جنرل کو بلا کر ان کی بے عزتی کروائی گئی۔ عرفان کی بیوی نسیم سولنکی نے دوسری یوگی کو انتخاب میں دھول چٹائی ۔ ان رسوائیوں سے دھیان ہٹانے کے آئی لو محمد کے خلاف مہم چل رہی ہے۔آئی لو محمدؐ کی اس مقدس مہم کے خلاف بریلی میں طاقت کا اظہار کرکے یوگی ریاست کے نوجوانوں بلا واسطہ دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر انہوں نے اتراکھنڈ کےنوجوانوں کی مانند یوپی میں احتجاج کیا تو ان کے مظاہرے سختی سے کچل دیا جائے گا۔اتراکھنڈ میں بی جے پی کی دھامی سرکار کے خلاف نوجوان سڑکوں پر ہیں۔یو کے ایس ایس ایس سی پیپر لیک معاملہ سرخیوں میں ہے ۔امتحان دینے والے طلبا اس لیے غصے میں ہیں کیونکہ انہوں نےاتنی محنت اور کوششوں سے امتحان کی تیاری کی اور امیدوں اور ارمانوں کے ساتھ طلبا نے امتحان میں شرکت کی لیکن پیپر لیک معاملے نے ان کے مستقبل کو تاریک کر دیا۔
اتراکھنڈ کےطلبا کو شکایت ہے کہ پیپر لیک کے اہم ملزمین کو گرفتار کر کے اس کے پیچھے کارفرما لوگوں کا پتہ چلایا جائے لیکن یہ کیا گیا تو خود سرکار کے ہمدرد و بہی خواہ پکڑے جائیں گے؟ اب تو دہرادون کے پریڈ گراؤنڈ میں سینکڑوں نوجوان دھرنےپر بیٹھ گئے ایک بے روزگار تنظیم نے دارالحکومت میں مارچ کی کال دے دی ہے۔ ایک ایسی ریاست میں جہاں مسلمانوں کو کھلے عام نسل کشی کی دعوت دی وہیں سے خود ہندو نوجوان کمل چھاپ سرکار کے خلاف بغاوت کا پرچم اٹھا لیا۔ یوگی ادیتیہ ناتھ کی طرح اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے بھی اپنی کوتاہی تسلیم کرنے کے بجائے مذہب کا تڑکا لگا کر اپنی کمیوں اور ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش کی ۔انہوں نے بڑی بے حیائی سے اسے نقل جہاد قرار دیا اور نوجوانوں کے خلاف کوچنگ مافیااور نقل جہادیوں کی منصوبہ بند سازش قرار دیتے ہوئے انہیں مٹی میں ملانے کا اعلان کیا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ برسوں سے اتراکھنڈ کے اندر بی جے پی برسرِ اقتدار ہے ایسے اس مافیا کو کس نے کھاد پانی ڈال کر پالا پوسا ؟ اور اگر اب بھی یہ پاپ کا گھڑا بھر کر نہیں پھوٹتا تو کون اس کی پشت پناہی کررہا ہوتا ؟ دھامی حکومت اپنے کرتوت کی پردہ پوشی کے لیے یہ بیانیہ گھڑ کر پھیلا رہی ہے ۔وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی بڑی معصومیت سے کہتے ہیں کہ دھوکہ دہی اور کوچنگ مافیا، حکومت کی سختی سے مایوس ہوکر دیو بھومی میں دھوکہ دہی کا جہاد شروع کرنے کے لیے فورسز میں شامل ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ اور ان کی سرکار کیا کررہی ہے؟ کل تک سونم وانگ چوک بی جے پی کی تعریف کرتے تھے عظیم رہنما تھے مگر آج پاکستان کے ایجنٹ اور غدارِ وطن بن گئے ہیں اسی طرح احتجاج کرنے والے طلباء پر ریاست میں انتشار پھیلانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ اترا کھنڈ کے وزیر اعلیٰ لاکھ جھوٹ بولیں لیکن عوام جانتے ہیں کہ 2022 میں جو پیپر لیک ہوا تھا تو حکم سنگھ کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن حکم سنگھ کچھ دنوں بعد خود ان کی حکومت نے اسے چھوڑ دیا اور بار پھر اسی حکم سنگھ کا نام سامنے آیا ہے ایسے میں دھامی کو بتا نا چاہیے کہ یہ جہاد ہے یا دھرم یدھ ؟ بی جے پی والے ڈرے ہوئے ہیں اور اس خوف کو آئی لو محمد ؐ مہم کے پیچھے چھپا رہے ہیں مگر مسلمان اپنے نبی کی محبت میں ہر آزمائش کا مقابلہ کرکے کامیاب و کامران رہیں گے۔
(۰۰۰۰۰۰جاری)
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...