Skip to content
’’بھارت ماتا‘‘ ہٹلر کے نظریۂ قومیت کا چربہ ہے.
گرو گولوالکر ’بھارت ماتا‘ اور ویر ساور کر ’بھارت پِتا‘ کے حامی تھے
ازقلم: عبدالعزیز
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ جب مغربی بنگال میں درگا ماں اور کالی ماں جیسے دیو مالائی تصور کے ماحول میں شاعر بنگالہ رابندر ناتھ ٹیگور کے شاعرانہ ذہن میں ’’بنگال ماتا‘‘ کا تصور ابھرا تھا اس وقت آر ایس ایس یا جن سنگھ (بی جے پی) جیسی فرقہ پرست تنظیموں کا وجود مغربی بنگال یا ملک کی کسی ریاست میں نہیں تھا مگر ایسے لوگ مہاراشٹر، بنگال اور ملک کی دیگر ریاستوں میں موجود تھے جو دیوی ماں کے دیومالائی تصور سے بیحد متاثر تھے۔ 1925ء میں مہاراشٹر کے Keshav Baliram Hedgewar(کے۔ بی ہیڈ گیوار) نے آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کی تشکیل کی۔ شیاما پرساد مکھرجی نے جن سنگھ کی بنیاد ڈالی جو بنگال کے رہنے والے تھے۔
یہ تصور کیسے عالم وجود میں آیا؟ اس پر بہتر طریقہ سے مشہور صحافی اشوک بھردواج نے روشنی ڈالی ہے۔ بتایا ہے کہ دو بے جوڑ استعاروں (بھارت + ماتا) کا اجتماع کیسے شاعر بنگال رابندر ناتھ ٹیگور کے ذہن میں پہلے پہل آیا۔ بھر دواج کا یہ مضمون انگریزی روزنامہ ’’انڈین ایکسپریس‘‘ کی 21 مارچ 2016ء کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ بھر دواج رقمطراز ہیں کہ ’’بھارت ماتا کی اُپج بنگال کے نشاۃ ثانیہ کے زمانہ میں ہوئی۔ رابندر ناتھ ٹیگور پہلے شخص یا شاعر ہیں جنھوں نے ملک و قوم کو ماں بتایا۔ زمانہ قریب میں فدا حسین (آرٹسٹ) نے ’’بھارت ماتا‘‘ کی پینٹنگ بنائی جس پر نہ صرف پابندی عائد کر دی گئی بلکہ اس بھارت ماتا کی تصویر یا پینٹنگ کو رد کر دیا گیاتھا کیونکہ اس کے کئی ہاتھ دکھائے گئے تھے۔ (انڈین ایکسپریس میں رابندر ناتھ ٹیگور کی بھارت ماتا والی پینٹنگ بھی 21 مارچ کو شائع کی گئی ہے جس میں بھارت ماتا کے چار ہاتھ دکھائے گئے ہیں)۔ ایم ایف حسین کو ان کی پینٹنگ کی وجہ سے وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور آر ایس ایس کی دیگر تنظیموں نے جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دی تھی جس کی وجہ سے وہ جان بچاکر ملک سے باہر چلے گئے۔ جانے کے بعد پھر انھوں نے اپنے ملک کا رخ نہیں کیا اور ملک عدم چلے گئے۔
بھردواج لکھتے ہیں کہ ان دو مذکورہ فنکاروں اور آرٹسٹوں کے درمیان بہت سی چیزیں بھارت ماتا کی سیاسی اور تہذیبی طور پر دیکھنے میں آئیں۔ اب ایک خاص نقطہ نظر کو پروموٹ کرنے کیلئے سنگھ پریوار نے بھارت ماتا کے استعاری تصور کو دیش بھگتی (حب الوطنی) کی علامت بنالیا ہے اور اسی نظریہ کے تحت کوئی ان کے نزدیک قوم پرست ہے اور کوئی قوم دشمن (antinational) ہے۔ (ہٹلر نے اسی انداز سے قومیت کے نظریہ کو اپنے ملک جرمنی میں پیش کیا تھا اور نعرہ لگایا تھا کہ ’’ہر ایک چیز قوم کیلئے اور کوئی بھی چیز قوم کے خلاف نہیں‘‘۔(Every thing for nation nothing against the nation) مودی جی بھی India first کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ یہ بنگال کے آرٹسٹوں اور فنکاروں کے ذہن میں ملک کو ماتا کہنے کا تصور آزادی کی تحریک میں اسے استعمال کرنے سے بہت پہلے پیدا ہوا تھا۔
"The imagery first appeared in the works of artists and writers in Bengal, much before it was used in national movement for independence”
بنکم چندر چٹو پادھیائے نے 1882ء میں اپنے ناول ’’آنند مٹھ‘‘ بندے ماترم کے نام سے اس hymn (بھگوان کیلئے تعریفی ترانہ) پیش کیا۔ دیش ماتا (mother land) کے روپ میں ڈھالا جسے آزادی کے متوالوں نے اپنا منترا بنالیا۔ آزادی کے بعد اسے قومی ترانہ کی تجویز آئی مگر مسلمانوں کی مخالفت کی وجہ سے اسے اختیار کرنے کے بجائے رابندر ناتھ ٹیگور کے ایک گیت کو قومی ترانہ کے طور پر منظور کیا گیا۔ بنکم چندر چٹو پادھیائے کے ناول میں بھارت ماتا کو تین دیویوں جگ دھاتری، کالی اور درگا کے کردار میں پیش کیا گیا ہے۔ بیس پچیس سال بعد کرزن (Curzon) نے بنگال کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ اس وقت رابندر ناتھ ٹیگور نے زعفرانی لباس میں ملبوس ایک سنجیدہ و متانت عورت کی مورتی کی پینٹنگ کی جس کے سر پر روشنی کا حلقہ تھا اور اپنے ہاتھوں میں تسبیح کا دانہ اور کتاب مقدس پران یا شاستر لئے ہوئی تھی۔
کچھ دنوں کے بعد انقلابی اروبندو گھوش نے اپنی بیوی مرینالینی دیوی کو ایک خط میں لکھا کہ ’’مجھے میرا ملک ایک ماں (ماتا) کے روپ میں دکھائی دے رہا ہے۔ میں اس کی پوجا اور پرستش کرتا ہوں۔ اس کا ادب و احترام کرتا ہوں۔ آخر ایک بیٹے پر کیا گزرے گی جب وہ کسی شیطان یا بدمعاش کو اس کے سینے پر بیٹھا ہوا خون چوستا دکھائی دے۔ وہی خط تھا جو علی پور کے بم کے مقدمے میں عدالت میں ان کے اور دیگر ملزمین کے خلاف بطور ثبوت پیش کیا گیا۔ اروبندو نے لکھا تھا کہ یہ مادر قدیم ہے جس کا دوسرا جنم ہوا ہے۔ آنسوؤں اور اذیتوں کے ساتھ۔ بنکم چندر ا نے غیر منقسم بنگال کی سات کروڑ کی آبادی کی ماں کے طور پر پیش کیا تھا۔ پندرہ سال بعد 1920 میں اروبندو گھوش نے افسوس ظاہر کیا ہے۔ ’بندے ماترم‘ کا منترا جسے ہم لوگ دل سے عزیز رکھتے تھے اس پر دل و جان نچھاور کرتے تھے اب اس کیلئے جذبات کی کمی واقع ہو رہی ہے۔
مختلف تاریخ دانوں نے یہ لکھا ہے کہ بھارت کو ماتا کی رہنمائی کیلئے پہلے پہل بنگال ماتا (Mother Bengal) کے طور پر پیش کیا گیا اور اسے دیوی کے طور پر پیش کیا گیا۔ بنکم چندرا چٹو پادھیائے نے بنگال کی سات کروڑ آبادی کیلئے اسے ماں کے روپ میں پیش کیا تھا۔ بنگال کی سر زمین پر اس کی تنقید بھی زوروں پر ہوئی تھی۔ ’بھارت ماتا‘ یا ’مدر انڈیا‘ آہستہ آہستہ پورے ہندستان کا سمبل اور سلوگن بن گیا۔ شروع میں بنکم چندرا نے بھی نہیں سوچا تھا کہ ان کے منترا کو آہستہ آہستہ پورے ملک میں مقبولیت حاصل ہوجائے گی۔ یہ منترا لوگ مختلف معنوں میں اپنی تقریروں و تحریروں میں استعما ل کرتے تھے۔
1940ء میں جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ہندستان کی دریافت (Discovery of India) میں لکھا ہے کہ وہ جیل میں تھے کہ کچھ لوگ ان سے ملنے آئے۔ ’’انھوں نے میرا خیر مقدم ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کے نعرہ سے کیا ۔ میں نے اس وقت ان سے کہاکہ بھارت ماتا کون ہے؟ یہ مدر انڈیا یا بھارت ماتا جس کی لوگ فتح اور آزادی چاہتے ہیں۔ یہ ملک کے کروڑوں عوام کی فتح اور آزادی ہوگی۔ بس تم اسی معنوں میں بھارت ماتا ہو۔ اس طرح بھارت ماتا کا خیال دل و دماغ میں رچتا بستا چلا گیا اور عوام کی آنکھیں اس سے روشن ہوگئیں‘‘۔
آزادی کے بعد اس نعرہ کی مخالفت شروع ہوئی۔ آہستہ آہستہ یہ آزادی کے بجائے مذہبی اور فرقہ واریت کا رنگ اختیار کر گیا۔ آزادی کے بعد سنگھ پریوار نے بھارت ماتا کی مورتی اور مجسمہ کا روپ دیا۔ ویر ساورکر ’بھارت ماتا‘ کے بجائے ’بھارت پتا‘ پر۔ قدیم یونان و روم کے تصور کے مطابق پتا بھومی (Father land) کے انداز میں زور دیتے تھے۔ وہ ذوق و شوق سے کہا کرتے تھے اور جرمن کے ہٹلر کے انداز میں کہا کرتے تھے کہ ’’جو لوگ دعویٰ کرتے ہیں اور احترام کرتے ہیں سندھ سے کنیا کماری تک بھارت بھومی کے طور پر اور اسے فادر لینڈ اور مقدس زمین سمجھتے ہیں وہی ہندو ہیں‘‘۔
سنگھ پریوار میں سب سے پہلے پنڈت دین دیال اپادھیائے نے بھارت ماتا کا نئے انداز سے تصور پیش کیا۔ اس نے لکھا کہ ’’ہماری قومیت کی بنیاد بھارت ماتا ہے۔ ماں کو اگر بھارت سے جدا کر دیا جائے تو یہ زمین کے ٹکڑوں کے سوا کچھ نہیں ہوگا‘‘۔ اس نے بنکم چندر چٹو پادھیائے کے تصور کو جو ایک صدی سے کچھ پہلے تھا اس کا احیا کیا۔ جب اس نے بھارت کو ماں کے روپ میں پیش کیا اور اسے سُجالا اور سُنالا سے تشبیہ دی جو پانی پر تیرتی ہے اور پھلوں سے لدی ہوئی ہوتی ہے۔ دھرتی درگا (دیوی درگا دس ہتھیاروں کے ساتھ) اور لکشمی اور سرسوتی بھی۔ رام جنم بھومی کی مہم جب شروع ہوئی تو یہ دونعرے ’بندے ماترم‘ اور ’بھارت ماتا کی جے‘ کی چیخ پورے ملک میں سنائی دینے لگی۔ رابندر ناتھ ٹیگور کے ذہن میں جو ایک سنجیدہ اور متانت عورت کی تصویر آئی تھی جسے انھوں نے شاعرانہ انداز دیکر پہلے ’بنگال ماتا‘ پھر ’بھارت ماتا‘ بنا دیا۔ اب وہی عورت خونخوار اور ہتھیار بند بن گئی اور قومیت کا جارحانہ انداز سنگھ پریوار پیش کرنے لگا۔
آج سنگھ پریوار جو کبھی ہندوتو کی بات کرتا ہے کبھی گئو ماتا کی بات کرتا ہے۔ اب وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ کے نعروں، موہن بھاگوت کی نصیحت اور اسدالدین اویسی کی جوشیلی تقریر کی وجہ سے نیشنلزم (قومیت) کو قومی مسئلہ بناکر زور شور سے پیش کر رہا ہے۔ بھاجپا کی قومی مجلس میں قرار داد بھی منظور کی گئی ہے کہ بھارت ماتا کا نعرہ نہیں لگانا دستور کی توہین ہوگا۔ بھارت ماتاکے نعرہ کی روداد پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ شاعرانہ ذہن جو وادیوں میں بھٹکتا ہے اسے آزادی کی تحریک میں آزادی کی دیوی نظر آنے لگی اس نے درگا مائی سے بھارت مائی اور بھارت ماتا کا تصور اپنالیا۔ دین دیال اپادھیائے نے اس کے دس ہاتھوں میں ہتھیار بھی پکڑا دیا ہے۔
دین دیال اپادھیائے جو شیاما پرساد مکھرجی کے ساتھ مل کر جن سنگھ جیسی فرقہ پرست پارٹی کی تشکیل کی جو اب بھارتیہ جنتا پارٹی کہلاتی ہے انہی کے نظریۂ قومیت کا سنگھ پریوار والے تبلیغ و تشہیر کر رہے ہیں۔ ان کے جو لوگ دستور سے اس کا تعلق جوڑتے ہیں وہ ملک کو گمراہ کر رہے ہیں اور جھوٹ بول رہے ہیں دستور میں یقینا بھارت ہندستان کو کہا گیا ہے مگر اس کے ساتھ ماتا یا پتا کا جوڑنا زیادتی اور نا انصافی ہے پھر اسے سب کا نعرہ بنانا یا حب الوطنی کی علامت قرار دینا اس سے بھی بڑا ظلم ہے جسے ہٹلر نے جرمنی میں لوگوں پر تھوپا تھا۔ ہندستان جمہوری ملک اور تکثیری معاشرہ ہے۔ نہ یہاں ایسی جارحانہ جارحیت کی جگہ ہے اور نہ ہی ایک خاص فرقہ اور مذہب کے رنگ میں رنگے ہوئے نعرہ کی گنجائش ہے۔ سنگھ پریوار کے ایک رہبر گرو گولوالکر تھے جو ماتا پر زور دیتے تھے اور دوسرے رہبر ویر ساورکر تھے یہ صاحب پتا کہنے پر دباؤ ڈالتے تھے۔ دونوں کی اکٹھا کبھی بحث نہیں ہوئی مگر آج یہ بحث شروع ہے کہ راجہ دسرتھ کے بیٹے کا نام بھرت (بھارت) تھا وہ ماتا کیسے ہوگیا۔ یہ بحث بھی گائے کو ماتا کی بحث سے ملتی جلتی بحث ہے۔ گائے اگر ماتا ہے تو یقینا اس کا مذکر وہ ہوگا جو پِتا کہلائے گا مگر ہندستان میں دیوتا سے زیادہ دیویاں پوجی جاتی ہیں۔ شاید اس لئے باپ سے کہیں زیادہ ماں کا تصور اجاگر کیا جاتا ہے۔ سنگھ پریوار نے اسے جارحانہ انداز سے دے دیا ہے تاکہ فسطائیت اور فرقہ پرستی پھیلے۔ مسلمانوں میں جو لوگ فتویٰ صادر کر رہے ہیں۔ ان کو آگے آکر کنہیا کمار کی طرح کہنا ہوگا کہ جس طرح ملک کے عوام کو غریبی، ذات پات، برہمن واد سے نجات دلانا ہے ویسے ہی عوام کو سنگھ پریوار کی جارحانہ قومیت سے بھی نجات دلانا ہے۔ ایسی جارحانہ قومیت ملک و قوم دونوں کیلئے خطرہ ہے آزادی کیلئے بھی اتنا ہی بڑا خطرہ ہے۔ ملک کی آزادی اور جمہوریت دونوں برقرار رکھنے کیلئے جدوجہد کرنا ہر شہری کیلئے ضروری ہوگیا ہے خواہ وہ کسی مذہب و عقیدہ، نظریہ و فلسفہ سے تعلق رکھتا ہو۔
موبائل: 9831439068
azizabdul03@gmail.com
Post Views: 8
Like this:
Like Loading...