Skip to content
آر ایس ایس ، دلت سماج اور راون
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
آر ایس ایس کی ناگپور کے اندر منعقد ہونے والی صد سالہ تقریبات کے حوالے سے یہ قیاس آرا ئی کی جارہی تھی کہ اس میں وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر مملکت دروپدی مرمو شرکت کریں گی لیکن دونوں شریک نہیں ہوئے۔ مودی کو نہیں بلایا تو بھلا وہ مرمو کو جانے کی اجازت کیسے دیتے؟ ایسے میں آر ایس ایس کو ناگپور کے تاریخی ریشم باغ میدان میں سابق صدر رام ناتھ کووند مہمان خصوصی بنانے پر اکتفاء کرنا پڑا۔ ویسے تو مہاراشٹر ہی میں پہلی خاتون سابق صدر محترمہ پرتبھا پاٹل حیات ہیں مگر آر ایس ایس نے ان پر رام ناتھ کووند کو اس لیے ترجیح دی کیونکہ سنگھ دلتوں کو یہ جتانا چاہتا ہے کہ وہ ان کا دوست ہے حالانکہ یہ ہاتھی دانت دکھانے کے ہیں۔ ناگپور سے متصل امراوتی شہر کی ا ٓر ایس ایس اکائی نے 5؍ اکتوبر کو نرسمّا کالج کے میدان میں صد سالہ تقریب کے انعقاد کا اعلان کیا ۔ وہاں سنگھ کے سینئر رہنما جے نند کمار کو کلیدی خطبہ دینے کے لیے بلایا گیا تاکہ وہ تنظیم کے 100 سالہ سفر پر روشنی ڈالیں لیکن ساتھ ہی موجودہ چیف جسٹس بی آر گوائی کی والدہ ڈاکٹر کملا تائی گوائی کا نام مہمان خصوصی کی حیثیت سے دعوتنامہ میں شامل کرلیا۔موصوفہ کا سماجی اور تعلیمی شعبہ میں اہم کردار رہا ہے وہ کئی برسوں سے خاتون اختیارکاری اور تعلیم کے شعبے میں فعال رہی ہیں۔
آر ایس ایس نے اپنی صد سالہ تقریبات کے تحت ملک بھر میں گھر گھر رابطہ مہم چلانے کا جو فیصلہ کیا یہ تقریب ملک بھر میں منعقد کی جانے والی ان ایک لاکھ سے زیادہ ’ہندو سمیلنوں‘ اور ہزاروں سمپوزیم میں شامل تھی ۔ سوال یہ ہے کہ آر ایس ایس نے چندر چوڑ جیسے کسی سابق چیف جسٹس یا موجودہ جج کی والدہ کو کیوں نہیں بلایا جو وزیر اعظم کو اپنے گھر پر آرتی کے لیے بلاتے ہیں؟ اس کی وجہ آر ایس ایس کا ایک احساسِ جرم ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ آر ایس ایس نے اپنے قیام کی خاطرجس دسہرا کی شبھ مہورت کا انتخاب کیا کئی سال بعد اسی دن ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر نے ہندو مذہب کو چھوڑکر ناگپور ہی کی سرزمین پر بودھ مت قبول کرلیا تھا ۔ یہ اس منو نواز نظریات کا ردعمل تھا جس نے ہزاروں سال سے اس ملک کی اصلی باشندوں کو شودر ٹھہرا کر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور آزادی کے بعد اس سلسلے کو جاری وساری رکھنے کے لیے انگریزوں ہی کے زمانے میں آریس ایس کی داغ بیل ڈال دی ۔
کانگریس نے ڈاکٹر امبیڈکر کو آئین ساز کمیٹی کا سربراہ بنا کر انہیں قریب کرنے کی کوشش کی اور آر ایس ایس نے اس کی مخالفت کرکے انہیں مزید دور کردیا۔ آگے بڑھ کرجب سنگھ کو اپنی غلطی کاا حساس ہوا تو اس نے کانگریس کو امبیڈکر کا دشمن بتاکردلتوں کو اپنا ووٹر بنالیا مگر تنظیم میں کسی اہم عہدے پر فائز نہیں کیا۔ ان تلخ حقائق کی پردہ پوشی کے لیےمحترمہ کملاتائی گوئی کو صد سالہ تقریب میں شریک کرنے کی ساز ش رچی گئی مگر موصوفہ نے انکار کرکے اس ناپاک منصوبے کو ناکام بنادیا جو زور دار طمانچہ تھا ۔ ایسے میں مودی سوچ رہے ہوں گے کاش وہ کسی چیف جسٹس کے والد ہوتے تو ان پر آر ایس ایس کی نظر کرم ہو جاتی۔ چیف جسٹس آف انڈیا بی آرگوئی کی84 سالہ والدہ کملا تائی گوئی نے سنگھ کے جواب میں ایک کھلا خط لکھا اور اپنے آنجہانی شوہر پر تنقید کا سبب بتا کر تقریب میں شرکت سے معذرت چاہ لی۔کملاتائی نے لکھا کہ انہوں نے اپنی زندگی ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے نظریے کے مطابق گزاری ہے۔
موجودہ سی جی آئی بھوشن آر گوئی کے والد آر ایس گوئی کا شمار مہاراشٹر کے اہم دلت رہنماوں میں ہوتا ہے جو گورنرکے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ دادا صاحب گوئی کےلقب سے مشہورگوئی نے اپنی زندگی امبیڈکر تحریک کے لیے وقف کر دی تھی ۔ مخالف نظریات رکھنے والی تنظیموں کے پلیٹ فارم پر بھی وہ پسماندہ لوگوں کے لیے بات کرتے تھے۔ ایسی صورت میں ان کی بیوہ کو آر ایس ایس کے پروگرام میں مدعو کرنے سے سیکولر طبقے میں تشویش پائی جانے لگی۔ اس پر کملا تائی گوئی نے وضاحت میں لکھا کہ ’’ میں نے کبھی بھی آر ایس ایس کے پروگرام میں شرکت کیلئے ہامی نہیں بھری ہے۔ یہ آر ایس ایس کی سازش ہے جو اس نے اپنے دعوت نامے میں میرا نام شامل کیا ہے۔ ہم کٹر امبیڈکر وادی ہیں ۔‘‘ اس طرح ایک بزرگ دلت خاتون نے آر ایس ایس کو ایک ایسا آئینہ دکھا دیا کہ جس میں پوری قوم نے سنگھ کا اصلی بھیانک چہرا دیکھ لیا۔
موہن بھاگوت نے اپنے صد سالہ تقریب کے خطاب میں گرو تیغ بہادر کے 350 ویں شہیدی برس اور سنگھ کے 100 برس کے یکجا ہونے کا ذکر کرکے سکھوں پر بھی ڈورے ڈالنے کی کوشش کی ۔ انہوں نے تیغ بہادر کے قربانی کو ہندو سماج کی حفاظت کی عظیم مثال بتا کر سکھوں کو ہندو بنانے کی ناکام کوشش کی حالانکہ سکھ سماج کو اس موقف پر سخت اعتراض ہے۔ موہن بھاگوت نے اپنی تقریر میں گاندھی جی کے بعد پنڈت نہرو اور ولبھ پٹیل کو درکنار کرکے سیدھے لال بہادر شاستری کا ذکر کرکے اپنی تنگدلی ظاہر کردی ۔ وہ بولے ان کی خدمت، سچائی اور قربانی حقیقی انسانیت کی تعلیم دیتی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے تو اوپری دل سے موہن بھاگوت کے خطاب کی تعریف کرتے ہوئےکہا کہ اس تقریر نے قوم سازی میں سنگھ کےقائدانہ کردار کو نمایاں کیا ہے، مگر حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے کولمبیا کے اندر اپنے خطاب میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی جوڑی پر حملہ کرتے ہوئے بزدلی کو ان کے نظریے کاجز لاینفک بتادیا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ "یہ(بزدلی )بی جے پی وآر ایس ایس کی فطرت ثانیہ ہے‘‘۔ اپنے الزام کے حق میں انہوں نے وزیر خارجہ جئے شنکر کے بیان کا حوالہ دیا جس میں موصوف نے کہا تھا کہ ’چین ہم سے کہیں زیادہ طاقتور ہے.اس لیے ہم ان سے کیسے لڑ سکتے ہیں؟‘ ملک کے اندر اگر کوئی خوددار وزیر اعظم ہوتا تو اپنے وزیر خارجہ کو اس بیان پر برخواست کردیتا مگر مودی جی کا حال مختلف نہیں ہے کیونکہ وہ خود سنگھ پریوار سے آتے ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق بزدلی اس کے نظریہ کی جڑ ہے۔ ہندو توا کے سب سے بڑے نظریہ ساز ونائک دامودر ساورکر کا پے درپے کئی بار انگریزوں سے معافی مانگنا اور تاحیات وفاداری کا عہد کرنا اس حقیقت کا بیّن ثبوت ہے۔ راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں ساورکر کی ہی کتاب کے ایک واقعہ کا حوالہ دے کر ہندوتوا اور اس کے دانشوروں کو بے نقاب کردیا جس میں یہ موصوف نے بڑے فخر سے اعتراف کیا تھا کہ، "اس نے اور اس کے دوستوں نے ایک مسلمان آدمی کو مارا پیٹا اور اس پر خوشی منائی ۔”
راہل گاندھی نے اس واقعہ کے حوالے سے کہا کہ آر ایس ایس کا نظریہ ’’کمزوروں کو شکست دینا‘‘ ہے اور طاقتور تر سے بھاگنا ہے ۔ دراصل یہ لوگ اپنی برتری قائم رکھنے کی خاطر صرف بھاگتے نہیں ہیں بلکہ ان کے آگے سپر ڈال دیتے ہیں۔ ساورکر کا اعتراف کہ اس نے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر ایک مسلمان آدمی کو مار کر خوشی محسوس کی کے حوالے سے راہل بولے "اگر پانچ لوگ ایک شخص کو مارتے ہیں، جس سے ان میں سے ایک خوش ہوتا ہے، تو یہ بزدلی ہے۔ کمزور کو مارنا آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔” وجئے دشمی کے دن یہ لو گ اسلحہ کی پوجا اپنے سے طاقتور کا مقابلہ کرنے کی خاطر نہیں بلکہ کمزور کو دبانے کے لیے کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں دسہرا کے دن راون کو جلایا جاتا ہے مگر سنگھ پریوار کے دفتر میں راون کا دہن نہیں کیا جاتا کیوں کہ ان کا باطل پر حق کی فتح والی علامت سے کوئی لین دین نہیں ہے۔
بات در اصل یہ ہے کہ راون ایک برہمن تھا اور سنگھ پریوار برہمن نواز ہے ۔ آر ایس ایس کی راون سے ہمدردی فطری ہےکیونکہ وہ دونوں ظالم و سفاک بھی ہیں ۔ ویسے ہر برہمن ظالم نہیں ہوتا اور نہ ہرظالم برہمن ہوتا ہے مگر یہ دونوں صفات سنگھ اور راون کا امتیاز ہیں ۔ مودی جی جب سے وزیر اعظم بنے ہیں راون کا پتلا جلانے لگے ہیں ۔ دہلی میں پتلا جلانے کے لیے تیر مارا جاتا ہے جس سے اندر بھرے پٹاخے پھٹ پڑتے ہیں اور وہ اپنی ہی آگ میں بھسم ہوجاتا ہے۔ ایک مرتبہ مودی جی کے ہاتھ میں کمان ہی ٹوٹ گئی اس بار بھی ان کے ستارے گردش میں تھے اس لیےوہ بارش کے سبب دہلی میں راون کو جلانے کے لیے نہیں جاسکے کیونکہ بارش ہوگئی۔ وزیر اعظم کی غیر موجودگی میں بھیگے ہوئے راون کو پٹاخوں سے اڑانے کی کوشش ناکام ہوگئی تو اسے پٹرول چھڑک کر جلانا پڑا ۔ مودی کے ہندوستان میں راون اور آر ایس ایس دونوں زندہ ہیں اور پھل پھول رہے ہیں۔ گاندھی کے دیش میں ناتھورام کا بول بالا ہے ۔ یہی سنگھ کی صدسالہ تقریب کا پیغام ہے۔
Like this:
Like Loading...