Skip to content
بہار الیکشن : ہوا کا رخ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بہار انتخاب میں این ڈی اے ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہا ہے اس کے دو بلا واسطہ اشاروں ہیں۔ پہلا بی جے پی کے وفادار الیکشن کمیشن کے مرحلہ واری اور دوسرا خدمت گذار نتیش کمار کی اڈانی پر مہربانی ہے ۔ بہارمیں 25 سال بعدپہلی بار محض 2 مراحل میں اسمبلی انتخاب ہوں گے۔ 2020 میں یہ 3 اور 2015 میں 5 مراحل میں ہوئے تھے۔ انتخابی مراحل کی تعداد وزیر اعظم کے سہولت سے طے ہوتی ہے۔ تشہیر کی مہلت ختم ہوجانے کے بعد مودی قریبی علاقوں میں پرچار کرکے میڈیا کی مدد سے رائے دہندگان کو متاثر کرتےہیں ۔ وزیر اعظم بن جانے کے بعد نتیش کمار سے انتقام لینا مودی کی ناک کا مسئلہ تھا کیونکہ قومی انتخاب سے قبل وہ پالا بدل کر مخالف خیمے میں چلے گئے تھے۔ اس لیے2015 کے 5 مراحل میں وزیر اعظم ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ناکام رہے ۔ آگے چل کر نتیش کمار کو ڈرا دھمکا کر بی جے پی کو بڑا بھائی بنایا تو اب بھی وہی صورتحال ہے ۔ 2020 میں بی جے پی نے اپنے ساتھی نتیش کی پیٹھ چھرا گھونپنے کی سپاری چراغ پاسوان کو دے دی تو دباو کم ہوگیا اس لیے اسمبلی انتخاب 3 مراحل میں کیے گئے ۔ اس موقع پر این ڈی اے اور مہا گٹھ بندھن کے درمیان ووٹ کے تناسب میں ایک فیصد سے بھی کم کا فرق تھا ۔
آر جے ڈی کو بی جے پی سے ایک نشست زیادہ ملی پھر بھی جوڑ توڑ کرکے نتیش کی سرکار بن گئی ۔ بی جے پی نے دو دو نائب وزیر اعلیٰ بنوا ے مگر اپنے سے بہت کم نشستوں پر کامیاب ہونے والے نتیش کمار کو ہٹا نہیں سکی ۔ اس کے بعد نتیش کمار پھر پلٹی مار کر مخالف خیمے میں گئے اور گلاٹی کھا کے لوٹ آئے ۔ بی جے پی انتخابی مہم کے معاملے میں اپنے مخالفین سے بہت آگے رہتی ہے۔ اس بار بھی وزیر اعظم نے پہلگام جانے کے بجائے بہار جاکر اس سبقت کوبنائے رکھا لیکن وہ داوں نہیں چلا کیونکہ لوگ سوال کرنے لگے کہ 370ختم ہونے کے بعد دہشت گرد آئے کیسے؟ اور شکتی مان وزیر داخلہ انہیں روکنے و پکڑنے میں کیونکر ناکام رہے؟مرکزی حکومت نے ان تیکھے سوالات کی جانب سے دھیان بھٹکانے کے لیے ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کا اعلان کردیا ۔ وہ داوں بھی الٹا پڑا کیونکہ لوگ باگ اس کا کریڈٹ راہل گاندھی و تیجسوی یادو کو دینے لگے اس لیے کہ وزیر اعظم تو اسے ہندو سماج کو تقسیم کرنے کا مہا پاپ کہہ چکے تھے ۔
مودی کا ویڈیو جب وائرل ہواتو بی جے پی نے آپریشن سیندور کی آڑ میں چہرا چھپانے کی کوشش کی لیکن بھگتوں نے پہلے نروال کی بیوہ ہمانشی کی مخالفت اور پھر صوفیہ قریشی پر تضحیک آمیز تبصرہ کرکے سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ اس بدنامی میں جو کسر رہ گئی تھی اسے گھرگھر سیندور بھیجنے کی تجویز نے پورا کیا اور خود ہندو سماج اس قدر ناراض ہوا کہ بی جے پی والے آپریشن سیندور کا نام لینا بھول گئے۔ بی جے پی نے جب سارے حربوں کو ناکام ہوتے دیکھا تو ووٹ چوری کا من بنالیا اور الیکشن کمیشن کو ایس آئی آر کے کم یں لگا دیا۔ اس طرح حزب اختلاف کو اس کی مخالفت کرنے اور عوام کو ڈرانے کا نادر موقع ہاتھ آگیا دیکھتے دیکھتے ’ووٹ چور گدی ّ چھوڑ‘ کا نعرہ ملک بھر میں چھا گیا۔ اس طرح انڈیا محاذ کو وہ سبقت حاصل ہوگئی جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی جنگ سے پہلے ہارگئی۔ ایسے میں زیادہ مراحل کا فائدہ انڈیا کو ہونے کا امکان پیدا ہوگیا تودو پر اکتفاء کرلیا گیا۔
ریاستی حکومت کی بوکھلاہٹ کا دوسراثبوت پٹنہ سے تقریباً 250 کلومیٹر دور ضلع بھاگلپور میں بجلی گھر کی تعمیر کا معاملہ ہے ۔اس کی تیاری پندرہ سال پہلے شروع ہوئی مگر اب جانے سے قبل نتیش کمار اسے وزیر اعظم کے چہیتے گوتم اڈانی کے حوالے کر کے جارہے ہیں کیونکہ انہیں اپنے اور محاذ کے مستقبل کی بات شدید اندیشہ لاحق ہوگیا ہے۔ فروری 2025 میں بہار حکومت نے پیر پنیتی کے اندر 2400 میگاواٹ کا تھرمل پاور پلانٹ لگانے کے ایک نئے منصوبے کی تجویز پیش کی ۔ریاستی حکومت کے مطابق یہ بجلی گھر ٹیرف پر مبنی مسابقتی بولی کے ذریعے قائم کیا جانا تھا ۔ 16 جولائی 2025 کو آن لائن نیلامی میں بجلی فروخت کرنے کے لیے فی کلو واٹ فی گھنٹہ 6.075 روپے کی سب سے کم قیمت لگا کر اڈانی پاور لمیٹڈ نے یہ منصوبہ جیت لیا ۔ بولی جیتنے کے تقریباً 20 دن بعد، یعنی 5 اگست 2025 کو بہار ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں تقریباً ایک ہزار ایکڑ زمین سب سے کم بولی دینے والےاڈانی پاور لمیٹڈ کو صرف ایک روپیہ سالانہ کے کرائے پر 25 سال کے لیےکرایہ پر دینے کا فیصلہ کردیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ پندرہ سال سے جاری کوششوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انتخاب کے نتائج کا انتظار کیا جاسکتا تھا لیکن پھر وہی اندیشہ ’کل ہو نہ ہو؟‘اس معاملے میں جلدی بازی نہیں کی جاتی تو کانگریس ترجمان پون کھیرا کو بی جے پی پر اڈانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے اختیارات کے غلط استعمال کا الزام لگانے کا موقع نہیں ملتا کیونکہ الیکشن کے بعد حزب اختلاف بھی سوجاتا ہے۔
پون کھیرا نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا’ساری خدائی ایک طرف اور گوتم بھائی ایک طرف ‘ کیونکہ ان کا دعویٰ ہے ’1050 ایکڑ زمین بشمول 10 لاکھ آم، لیچی اور ساگون کے درخت گوتم اڈانی کو ایک روپے سالانہ کے حساب سے دینا اختیارات کا غلط استعمال ہے۔‘ یہ کہانی بہت پرانی ہے۔ پیرپینتی میں زمین کے حصول کا عمل 2010-11 میں ہی شروع کیا گیا تھا۔ اس سے متعلق سی پی آئی (ایم ایل) نے ابھی حال میں (21 ستمبر) کو ایک تحقیقاتی رپورٹ پیش کی، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پلانٹ سے بہار حکومت کو سالانہ 5000 کروڑ روپے کا نقصان ہو گا نیز علاقے میں پانی کا بحران بھی پیدا ہوجائے گا۔ ظاہر بات ہے کہ اگر سرمایہ دار کو فائدہ پہنچانا ہوتو سرکار اور عوام کو اس کی قیمت چکانی ہی پڑے گی ۔ فی الحال سرکار اورسرمایہ دار کے درمیان کے ایک ناجائز رشتہ قائم ہوگیا اس لیے ایک کافائدہ ازخود دوسرے کے مفاد میں بدل جاتا ہے۔ جہاں تک عوام کا سوال ہے اس کو بہلانے پھسلانے کے لیے سرکاری خزانے میں ریوڈیوں کی کون سی کمی ہے۔ پہلے چوری چھپے رائے دہندگان کو پیسے بانٹے جاتے تھے اب کھلے عام ڈنکے کی چوٹ پر رشوت دی جاتی ہے۔ مودی ہے تو ممکن ہے ۔
حکومتِ بہار کا دعویٰ ہے کہ 2010 اور 2012 کے درمیان پیرپینتی کے پانچ دیہات میں جوزمین حاصل کی گئی اس کےمالک تقریباً 900 کسانوں کو اس کے عوض ادائیگی کردی گئی۔یعنی 97 فیصد سے زیادہ لوگوں کو معاوضہ مل چکا ہے۔ سرکاری دعوؤں کے برعکس بی بی سی نامہ نگار کو پیرپینتی میں بہت سے ایسے کسان ملے جنھوں اس دعویٰ کی تردید کرتے ہوے کہا کہ انھیں ابھی تک اپنی زمین کا پورا اور مناسب معاوضہ نہیں ملا ۔ مثال کے طور شیخ حامدکو اپنی ساڑھے تین ایکڑ زمین کے بدلے حکومت نے تقریباً دو کروڑ روپے کا معاوضہ دینے کا اعلان تو کیا مگر انہیں صرف نصف رقم 2014 میں موصول ہوئی جبکہ تقریباً 50 فیصد رقم ہنوز باقی ہے۔دام میں بھی تفاوت کی شکایت ملی۔ کسی باغ کی زمین کا معاوضہ 62 لاکھ روپے فی ایکڑ تودوسری کا 82 لاکھ روپے فی ایکڑ طے کیا گیا۔ محمد عظمت کا الزام ہے ان کی ڈھائی ایکڑ زمین کو 2012 میں حکومت نے چھین لیا مگر ابھی تک 20 فیصد معاوضہ باقی ہے۔
پیرپینتی کے آم کافی معروف ہیں اور انہیں بیرون ملک برآمد بھی کیا جاتا ہے۔حزب اختلاف کا الزام ہے کہ تھرمل پاور پلانٹس لگانے کے لیے 10 لاکھ درخت کاٹے جائیں گے ۔ان درختوں کی کٹائی کے خلاف ماحولیاتی کارکن شراون کمار نے نیشنل گرین ٹریبونل (کولکتہ) میں گہار لگائی ہے۔پیرپینتی کے گاؤں کمال پور کے تقریباً 300 گھرانوں میں سے تقریباً 50 کو 15 دنوں کے اندر گھر خالی کرنے کے نوٹس موصول ہواہے اس لیے انل یادو پریشان ہے کہ اپنے ۶؍ بھائیوں اور 50 ارکان پر مشتمل اس خاندان کو لے کر کہاں جائے؟ یادو کے مطابق معاوضے کی کم رقم سے کسی دوسرے علاقے میں نیا گھر بنانا ممکن نہیں ہے۔رینا کماری بھی اپنی زمین اور مکان کے معاوضے کی صورت میں تقریباً 10 لاکھ روپئےلینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔وہ سوال کرتی ہے کہ اس رقم سے کہیں پلاٹ بھی نہیں ملے گی اور اتنی مہنگائی میں و ہ اپنے بچوں کے ساتھ کہاں جائے گی ؟مقامی لوگ پوچھتے ہیں یہ کیسی ترقی ہے جس میں ان کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ انہیں گھروں سے نکال کر وزیر افتتاحی فیتہ کاٹتے ہیں ۔ ان وزراء میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہیں جنھوں نے امسال 15 ستمبر کو اڈانی گروپ کے بجلی گھر کا سنگ بنیاد رکھا اور دراندازوں سے عوام کو ڈرا کر ووٹ مانگا جبکہ آر جے ڈی اڈانی پر الزام لگاتی ہے کہ وہ دوسری ریاستوں سے مقامی کسانوں کے حقوق غصب کرنے بہار پہنچ گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اصلی اور نقلی دراندازوں میں سے کون جیتے گا؟
Like this:
Like Loading...