Skip to content
آئی لو محمد” کو تنازع کا موضوع بنانا ایک منظم سازش لگتی ہے :ہروندر سنگھ (راشٹریہ سکھ مورچہ)
محبت کے پیغام کو نفرت کا رنگ دینا افسوسناک: ممبئی میں دھارمک جن مورچہ کی پریس کانفرنس
ممبئی، 9 اکتوبر 2025:
پیغمبر محمد ﷺ سے محبت کے پُرامن اظہار کے سلسلے میں پوسٹروں اور بینروں پر کی گئی کارروائیوں، گرفتاریوں اور ایف آئی آرز نے مسلمانوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ اسی پس منظر میں دھارمِک جن مورچہ مہاراشٹر کی جانب سے آج ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔
مقررین نے کہا کہ “میں محمد ﷺ سے محبت کرتا ہوں” عقیدت و احترام کا ایک پُرامن اور فطری اظہار ہے، جسے جرم قرار دینا ناانصافی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے۔
عبدالحسیب بھاٹکر (معاون صدر جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر) نے کہا کہ اس معاملے میں حکومت کا دوہرا معیار صاف ظاہر ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے انسانوں ہی نہیں بلکہ تمام مخلوقات کے حقوق کی تعلیم دی ہے۔
ہروندر سنگھ (راشٹریہ سکھ مورچہ) نے کہا کہ "آئی لو محمد” کو تنازع کا موضوع بنانا ایک منظم سازش لگتی ہے۔ پیغمبر محمد ﷺ نے پوری انسانیت کو صحیح طرزِ زندگی عطا کی، اور یہ حق سب کو حاصل ہے کہ وہ ان سے محبت کا اظہار کریں۔
فادر مائیکل سیبسٹین نے کہا کہ بھارت کی اصل طاقت اس کے آئین، تکثیریت اور بقائے باہمی میں ہے، لیکن افسوس کہ انتخابی موسم میں معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
مولانا ظہیر عباس رضوی نے کہا کہ محبت کے لفظ کو نفرت میں بدلنا انتہائی افسوسناک ہے۔ نبی کریم ﷺ نے انسانیت، رحم دلی اور عدل کا جو پیغام دیا، وہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مذہبی رواداری اور بھائی چارے کی راہ پر واپس لانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر سلیم خان نے کہا کہ محبت انسان کا فطری اور قلبی جذبہ ہے، جس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر “میں محمد ﷺ سے محبت کرتا ہوں” کہنا جرم سمجھا جا رہا ہے تو یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ اظہارِ محبت کو جرم ٹھہرانا دراصل اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ ہے۔
ڈاکٹر وویک کورڈے نے کہا کہ ’’دھرم‘‘ کا مقصد انسان کو جوڑنا ہے، توڑنا نہیں۔ آج ملک میں ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ محبت کے اظہار پر نفرت کے الزام لگائے جا رہے ہیں، جو نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ آئینی روح کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذہب سیاست کے تابع ہو جائے تو سماجی ہم آہنگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
مولانا آغا روح ظفر نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے نبی ﷺ سے محبت کے اظہار کا وہی حق حاصل ہے جو دوسروں کو اپنی عقیدت کے اظہار کا ہے۔ نبی کریم ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت ہیں۔ نفرت کے نام پر سیاست کرنے والوں کو ہوش میں آنے کی ضرورت ہے۔
ہمایوں شیخ (صدر جماعت اسلامی ہند ممبئی) نے کہا کہ نبی ﷺ سے محبت ایمان کا جز ہے، اور اس محبت کا پُرامن اظہار کسی جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور حکومت کو اس کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔
آخر میں مورچہ نے کہا کہ ملک میں ہر مذہب و شخصیت کا احترام ضروری ہے، اور انتظامیہ کو غیر جانبداری سے کام لیتے ہوئے معصوم لوگوں کو ہراسانی سے بچانا چاہیے۔
مورچہ نے اپنے بیان کا اختتام ان الفاظ پر کیا:
“ہم سب محمد ﷺ سے محبت کرتے ہیں۔”
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...