Skip to content
مودی سرکار کو کولمبیا سے راہل کا پیغام
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
راہل گاندھی نے پچھلے دنوں 10 روزہ غیر ملکی دور کے دوران برازیل، کولمبیا، پیرو اور چلی میں دانشوروں ، سیاسی رہنماوں اور تاجروں سے ملاقات کی تاکہ جمہوری اور تزویراتی تعلقات کو مضبوط بنایا جا سکے۔ مودی سرکار محض امریکہ یا یوروپ تک اپنے تعلقات کو محدود رکھنے پر اکتفاء کرتی ہے اس کے بجائے دیگر ممالک کے ساتھ تجارت، ٹیکنالوجی اور عوامی سطح پر باہمی تبادلے میں تعاون سے بین الاقوامی شراکت داریوں کی راہ ہموار ہوتو وطن عزیز کی عالمی موجودگی مضبوط ہوگی ۔ اس حوالے سے حزب اختلاف کے رہنما کا یہ دورہ اہم ہے۔ راہل گاندھی کے دوروں کا ایک اہم حصہ جامعات کے طلبہ سے بات چیت بھی ہوتا ہے۔ اس موقع پر وہ آئندہ نسل کے مکالمہ کرتے ہیں اور ان کے سوالات کے جواب دیتے ہیں ۔ یہ ٹیلی پرومپٹر کی مدد سے رٹی رٹائی تقریر کرنے والے یا بناوٹی انٹرویو میں آم چوسنے یا کاٹنے کے لطیفے سنانے والے وزیر اعظم کے بس کی بات نہیں ہے۔ جنوبی امریکہ کے یہ ممالک غیر جانبدار تحریک کا حصہ رہے ہیں اس لیے جنوبی کرۂ ارض میں ہندوستان کے ساتھ یکجہتی اور کثیر قطبی عالمی نظام کے حوالے سے یہ دورے اہمیت کے حامل ہیں ۔
راہل گاندھی کے کولمبیا کی مشہور ای آئی اے یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کو اس تناظرمیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔حزب اختلاف کے رہنما نے اپنے خطاب میں ملک کو درپیش چیلنجوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو مستقبل کے تئیں پرامیدر ہنے کی ترغیب دی۔ 15 منٹ کی ابتدائی گفتگو کے بعد سوال جواب کا موقع دیا گیا تو طلبہ کے متعدد سوالات کیے۔ اس دوران راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی کی قیادت والی حکومت پرسخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال ہندوستان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج جمہوریت پر ہونے والا حملہ ہے۔ یہ ایک ایسا الزام ہے کہ اس کے نظائر جا بجا بکھرے ہوئے ہیں ۔ پانچ سال سے عمر خالد اور ان کے ساتھیوں کی بلا مقدمہ حراست اور ابھی حال سونم وانگچوک پر ملک دشمنی کا الزام اس کے منہ بولتے ثبوت ہیں ۔ راہل نے ان حملوں کی وجہ یہ بتائی کہ ’ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی کثیرثقافتی اور کثیرمذہبی روایت ہے اور یہی اس کی اصل پہچان ہے لیکن اس شناخت کو ختم کرنے یا متاثر کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں‘۔ یعنی کہیں تو مسلمانوں اور عیسائیوں کو مذہب کی بنیاد پر ستایا جارہا ہے اور کہیں لداخ کی منفرد ثقافت کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ راہل نے اس سلسلے کو روکنے کےعزمِ مصمم کا اظہارکیا۔
راہل گاندھی کے مطابق جمہوریت ہی وہ واحد نظام ہے جو مختلف روایات، مذہبی عقائد اور خیالات کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرتا ہے لیکن آج یہ جمہوری ڈھانچہ ہی خطرے میں ہے ۔ اس لیے یہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے ایک بڑی آزمائش ہے۔ راہل گاندھی نے کہاکہ ہندوستان دراصل مختلف مذاہب، زبانوں اور روایات کے درمیان ایک مکالمے کا نام ہے۔ یہ مکالمہ صدیوں سے جاری ہے اور صدیوں تک جاری رہے گا۔ ہمارے یہاں 16؍ سے 17؍ بڑی زبانیں اور بے شمار رسوم ومذاہب ہیں۔ ان سب کو زندہ رکھنے کے لیے درکار مواقع صرف جمہوریت ہی فراہم کرسکتی ہےاس لیے جمہوری نظام پر ہونے والا حملہ ہی سب سے بڑا خطرہ ہے ۔ راہل گاندھی کے مطابق ہندوستان میں دوسرا بڑا خطرہ مختلف خطوں اور مختلف سوچ رکھنے والے لوگوں کے درمیان کشمکش میں اضافہ ہے اور برسراقتدار طاقتیں اسے بڑھانے کا کام کررہی ہیں ۔ اس کا ثبوت تمل ناڈو میں ہندی کی مخالفت اور گورنر کی دھاندلی کے خلاف مقدمہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے لئے تنوع کو دبانا ناممکن ہے کیونکہ یہی اصل طاقت کا سرچشمہ بھی ہے۔ راہل بولے ہم چین کی طرح لوگوں کی آواز دبا کرآمرانہ نظام نہیں چلا سکتے۔ ہندوستان کے تنوع کو دبانااس کی جڑوں پر وار کرنے کے مترادف ہے۔
وطن عزیز کے اندر پورے ملک پر ایک نظریہ اور تہذیب کو بزور قوت نافذ کرکے اس کے تنوع کو تاراج کرنے کا جرم چونکہ آر ایس ایس اور بی جے پی کررہی ہے اس لیے وہ ازخودر اہل کی سخت تنقید کے نشانے پر آگئی۔ انہوں نے اسے آگے بڑھا کر کہا کہ سنگھ پریوار کی اصل سوچ بزدلی پر مبنی ہے۔ اپنے اس الزام کے حق میں راہل نے نہ صرف ساورکر کا پانچ ساتھیوں کے ایک مسلمان پر حملہ کرکے اس پر خوشی کے اظہار کا حوالہ دیا بلکہ وزیر خارجہ جئے شنکر کا وہ حالیہ بیان بھی یاد دلایا کہ جس میں کہا گیا تھا کہ ’’چین ہم سے زیادہ طاقتور ہے، ہم اس سے لڑائی کیسے کرسکتے ہیں ؟‘‘ اس پر راہل گاندھی نے طنزاًکہا بی جے پی اور آر ایس ایس کی نظریاتی بنیاد ہی بزدلی پر ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں سیاست و جمہوریت سے پرے مرکزی حکومت کی اقتصادی پالیسی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ اس بابت نوٹ بندی کا ذکر کرکے انہوں نے اس بے تکےاقدام سے بنیادی عوامی معیشت پر پڑنے والے گہرے اثرات کی مذمت کی اور اس کا اعتراف دنیا کے سارے ماہرین معاشیات کرچکے ہیں کہ وہ ایک معاشی خودکشی تھی جس نے لاکھوں چھوٹی صنعتوں کو تباہ تاراج کردیا۔
راہل نے اسے ناقص فیصلہ سازی کی مثال کےطور پر پیش کیا جہاں عام لوگوں کی زندگی اور ان کی سہولت کو مدنظر رکھنے کے بجائے سیاسی ایجنڈے کے نفاذکو فوقیت دی گئی تھی ۔ان کے مطابق، نوٹ بندی، ٹیکس پالیسی اور مالیاتی کنٹرول جیسے اوزار میں اگر شفافیت کا فقدان ہو تو وہ جمہوری ڈھانچے کو کمزور بنانے کا سبب بنتے ہیں۔ ان معاملات میں عوامی مشاورت کہ عدم موجودگی ملک کے مختلف طبقات کے درمیان تقسیم کو بڑھا تے ہیں۔راہل گاندھی نے حکومت کو ایسی حکمت عملی وضع کرتے وقت شفافیت کے ساتھ کھلی بحث اور عوامی سطح پر ان کے اثرات کو جانچنے کی تلقین کی ۔ ای ڈی اور سی بی آئی کی بیساکھیوں پر چلنے والی مودی سرکار کو انہوں نے یاد دلایا کہ استحکام صرف طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ اعتماد اور شراکت داری سے آتا ہے۔ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کولمبیا کے دورے پر صرف حکومت پر تنقید نہیں کی بلکہ ہندوستان کے اندر دو پہیوں والی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں بجاج، ہیرو اور ٹی وی ایس کی بیرون ملک کامیابی پر فخر کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کمپنیوں کی کولمبیا میں بہترین کامیابی قابلِ فخر ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ بجاج کمپنی کی تیار کردہ ایک بائیک کے ساتھ نظر آ ئے ۔
انہوں نے اس تصویر کے ساتھ لکھا کہ ، ’’بجاج، ہیرو اور ٹی وی ایس کو کولمبیا میں اتنا اچھا پرفارم کرتے دیکھ کر فخر ہو رہا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ ہندوستانی کمپنیاں اجارہ داری سے نہیں بلکہ جدت سے کامیاب ہو سکتی ہیں۔ شاندار کام، مبارک ہو۔‘‘ اتفاق سے ان تینوں کمپنیوں کا بی جے پی سرکار سے قریبی تعلق نہیں ہے اور بجاج کے مالک تو اس پر کھلی تنقید کرچکے ہیں۔ اس طرح کولمبیا کا یہ دورہ ہندوستانی ثقافت کے ساتھ کاروبار کے فروغ کا ذریعہ بن گیا ۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ ایک طرف ہندوستان کی سڑکوں پرجاپانی و یوروپی گاڑیوں کا بول بالا ہورہا ہے وہیں بجاج آٹو، ہیرو موٹو کارپ اور ٹی وی ایس موٹر کمپنیاں کولمبیا کے بازار پر اپنی جدید ٹیکنالوجی اور کم قیمت کی بدولت اپنا پرچم لہرا رہی ہیں ۔ ان کے سبب نہ صرف مقامی معیشت کو سہارا مل رہا ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہورہے ہیں۔
راہل گاندھی کے اپنے خطاب میں کہا کہ جدت پسندی کا فروغ صرف آزادانہ ماحول میں ممکن ہے۔ یہ اہم حقیقت ہے جسے نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک کے سرمایہ دار عوام کا زیادہ سے زیادہ خون چوسنے میں یقین رکھتے ہیں۔ نارائن مورتی جیسے لوگ ہفتے میں بہترّ گھنٹے کام کرنے کی وکالت کرکے تعریف بٹورتے ہیں حالانکہ کولہو کے بیل کی مانند کام کرنے والوں میں جدت اور ندرت کا پیدا ہونا ناممکن ہے۔ اسی وجہ سے بیرونی ممالک کے اندر تحقیق و تفتیش میں اپنا لوہا منوانے والے ہندوستانی اپنے ملک میں کوئی خاص کارنامہ نہیں انجام دے پاتے لیکن جب دیگر ممالک میں انہیں کھلی فضا میسر آتی ہے تو ان کی صلاحتیں نکھر کے سامنے آجاتی ہیں اور وہ گوگل یا ایپل جیسی کمپنیوں کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہوجاتے ہیں۔ کولمبیا میں راہل گاندھی کی عالمی سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں ہندوستان کی نرم معاشی طاقت اجاگر ہوئی ۔
بجاج، ہیرو اور ٹی وی ایس جیسی کمپنیوں کی کامیابی کو انہوں نے اجارہ داری کی بجائے جدت کی فتح قرار دیا، جو موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر بالواسطہ تنقید ہے۔ یہ افسوس کا مقام ہے کہ ان کوشش کو سرا ہنے کے بجائے اقتدار بیٹھے ہوئے لوگ بغض و حسد کا شکار ہوکر اس میں کیڑے نکال کر اپنی بھڑاس نکال رہے تھے حالانکہ اس سے ہندوستان اور جنوبی امریکہ کے درمیان جمہوری، تجارتی اور اسٹریٹجک تعلقات کو تقویت ملی ہے اوروہاں کی نوجوان نسل کے سا منے عالمی سطح پر جمہوریت، سماجی انصاف اور ترقی کے موضوعات پر تبادلہ خیال کرکے ہندوستان کا موقف اور بیانیہ پیش کیا گیا۔ کسی ملک کو عالمی رہنمائی کا اعزاز محض دعووں سے نہیں بلکہ اس طرح کے فکری و عملی اقدامات سے ملتا ہے۔ سچ تو یہ ہے ہندوستان کو وشو گرو بنانے کا کام مودی نہیں راہل کررہے ہیں ۔
(۰۰۰۰۰جاری)
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...