Skip to content
نہیں ملا ٹرمپ کوامن کا نوبل انعام:
دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے!
______
بقلم:ڈاکٹر محمد عظیم الدین
______
دنیا میں دو قسم کے لوگ ہی ناقابلِ رحم ہیں: ایک وہ جنہیں مانگا ہوا انعام نہ ملے، دوسرے وہ جنہیں مل جائے۔ پہلا محرومی کی آگ میں جلتا ہے، دوسرا اس کی حفاظت اور ساکھ نبھانے کی فکر میں۔ ایک کا دکھ ذاتی ہوتا ہے، دوسرے کا عوامی۔ محرومی پر تو آدمی کفِ افسوس مَل کر صبر کر لیتا ہے، مگر انعام یافتہ شخص کی تو مسکراہٹ بھی خالص نہیں رہتی؛ اس میں آدھی خوشی اور آدھی ذمہ داری کی ملاوٹ ہوتی ہے۔
بندہ پرور، یہ ارمانوں کے لُٹنے کا معاملہ بھی کیا خوب ہے۔ ہمیں یاد آیا، بچپن میں اسکول کے سالانہ جلسے میں مضمون نویسی کا مقابلہ تھا۔ خاکسار نے ”علم بہتر ہے یا دولت” جیسے دقیق موضوع پر ایسا قلم توڑا کہ یقین ہو چلا تھا کہ اوّل انعام کی شیلڈ اب گھر کی زینت بنے گی۔ ہم نے تو والدِ محترم کو پیشگی اطلاع بھی دے دی تھی کہ دیوان خانے کی الماری میں جگہ خالی رکھی جائے۔ جب نتیجے کا اعلان ہوا تو ہمارا نام ان طلبہ میں پکارا گیا جن کی ”کوشش کو سراہتے ہوئے” ان کے لیے تالیاں بجائی گئیں۔ اس دن ہم پر یہ عقدہ کھلا کہ تالیوں اور تمغے میں وہی فرق ہے جو منگنی کے وعدے اور نکاح کی تکمیل میں ہوتا ہے۔
یہی بچپن کی ٹیس اس روز پھر سے جاگ اٹھی جب اوسلو سے امن کے نوبل انعام کی خبر آئی۔ اس سال بھی ایک عظیم الشان تمنا نے کر? ارض کے سب سے طاقتور دفتر میں آنکھ کھولی تھی اور اس کے حامیوں کا عالم یہ تھا کہ گویا نکاح سے پہلے ہی ولیمے کی دیگیں چڑھا دی ہوں۔ صدرِ امریکہ بہادر، جناب ڈونلڈ ٹرمپ، جن کے نزدیک امن بھی ایک طرح کا کاروباری معاہدہ ہے جس کی شرائط بیلنس شیٹ پر پوری اترنی چاہییں، اس انعام کے سب سے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے۔ ان کی امن پسندی کا دفتر بھی کیا خوب تھا کہ پہلے دور صدارت میں ہی مشرقِ وسطیٰ میں ”ابراہام معاہدات” کا کھاتہ کھولا، حریفوں کو ایک میز پر لا بٹھایا اور دنیا کو بتایا کہ دیکھیے، صلح ایسے کی جاتی ہے، جس میں دونوں فریقوں کو نفع نظر آئے۔ یہ دورِ جدید کی وہ سفارت کاری تھی جس میں جذبات کے بجائے حساب کتاب اور اصولوں کے بجائے سودے بازی کو فوقیت حاصل ہے۔
یقین کی اس منزل پر صرف صدرِ بہادر ہی فائز نہ تھے، بلکہ ان کے حلیفوں کا جوش و خروش بھی دیدنی تھا۔ تل ابیب سے تو باقاعدہ سفارش نامہ روانہ کیا گیا جس کے ساتھ ایک ایسی تصویر بھی نتھی تھی جس میں انعام پہلے ہی وصول کر لیا گیا تھا۔ گویا اوسلو والوں کو صرف تاریخ اور دستخط کی زحمت کرنی تھی۔ ادھر جنوبی ایشیا میں دھواں اٹھا تو اسلام آباد سے صدا بلند ہوئی کہ یہ آگ بھی بجھے تو ٹرمپ صاحب کے ہی دم سے۔ غرض یہ کہ ماحول کچھ ایسا بن گیا تھا کہ اگر کمیٹی کا فیصلہ توقع کے خلاف آتا تو اسے عالمی انصاف کے منہ پر ایک طمانچہ تصور کیا جاتا۔ سکندر نے آدھی دنیا فتح کر لی مگر ارسطو کی ایک شاباش کو ترستا رہا، اور غالب کو تاعمر قلعے سے خلعت ملنے کا ارمان رہا۔ تو پھر ٹرمپ صاحب کس کھیت کی مولی ہیں؟ آخر خواہشِ ناموری کے حمام میں سبھی ایک جیسے ہی تو ہوتے ہیں۔
مگر اوسلو میں بیٹھے پانچ منصف بھی کسی پرانی تہذیب کی نشانی معلوم ہوتے ہیں۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں قابلیت کا معیار ٹویٹس کی تعداد اور سچائی کا پیمانہ فالوورز کی گنتی ہو، یہ بزرگ آج بھی اپنی گرد لگی فائلوں اور خاموش کرداروں پر اعتبار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جنوری کی اکتیس تاریخ کے بعد کی ہر رپورٹ اگلے سال کے بہی کھاتے کا حصہ ہے۔ وہ کسی ایسے پرانے حکیم کی مانند ہیں جو نبض دیکھ کر مرض کی تشخیص کرتا ہے، نہ کہ مریض کے شور و غوغا سے متاثر ہوتا ہے۔
اور پھر فیصلے کا دن آ پہنچا۔ دنیا بھر کی نگاہیں اوسلو پر مرکوز تھیں۔ دنیا بھر میں ٹرمپ صاحب کے نام کا غلغلہ بلند تھا، یہ پانچ بزرگ اپنی عینکوں کے شیشے صاف کر کے وینیزویلا کی ایک گمنام خاتون، ماریا کورینا ماچاڈو، کی فائل میں گم تھے، جس نے گولی کے جواب میں ووٹ کی پرچی کو اپنا ہتھیار بنایا تھا۔اور پھر بلند آواز سیمحترمہ ماچاڈوکے نام کا اعلان ہوا تو ایک لمحے کے لیے عالمی میڈیا پر وہی سناٹا چھا گیا جو ہمارے اسکول کے ہال میں نتیجہ سنتے وقت چھایا تھا۔ کمیٹی نے گویا اپنے فیصلے سے یہ پیغام دیا کہ امن کا انعام معاہدوں کی چکاچوند سے زیادہ جمہوری اداروں کی مدھم روشنی کو عزیز رکھتا ہے۔ یہ انعام طاقت کے شور کو نہیں، شہری مزاحمت کی خاموش استقامت کو سنتا ہے۔ یہ سننا تھا کہ واشنگٹن کے ایوانوں میں امیدوں کے شیش محل چکنا چور ہو گئے۔ وہ تمام دلائل، وہ ساری کوششیں، وہ عالمی تائیدیں سب کچھ ایک لمحے میں ہوا ہو گئیں۔
آخر میں ہم جیسے گوشہ نشین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صدر ٹرمپ سے ہمدردی کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حضور، ہمدردی تو اس چھوٹے دکاندار سے ہوتی ہے جس کا مال بِکنے سے رہ جائے، اس عالمی سوداگر سے کیا ہمدردی جس نے امن کو بھی شیئر بازار کا بھاؤ سمجھ رکھا تھا؟ انہوں نے تو اپنی طرف سے سودا پکا کر لیا تھا؛ معاہدے بھی کرائے، حریفوں کے ہاتھ بھی ملوائے اور رسید کے طور پر نوبل انعام کا مطالبہ بھی کر دیا۔ مگر وہ یہ بھول گئے کہ اوسلو کی کمیٹی پرچون کی دکان نہیں، ایک پرانے، خاندانی صراف کی گدی ہے، جو مال کا وزن نہیں، اس کا کھرا پن دیکھتی ہے۔
تو صاحب، اس میں دکھ کیسا؟ سودا منسوخ ہوا ہے، کوئی آسمان تو نہیں ٹوٹ پڑا۔ آخر ایک تاجر کے لیے ایک ناکام ڈیل سے بڑا سبق اور کیا ہو سکتا ہے کہ دنیا میں کچھ چیزیں اب بھی ’فروخت کے لیے نہیں‘ ہیں۔ انہیں تو الٹا اس کمیٹی کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے انہیں ایک ایسی حقیقت سے روشناس کرایا جو وال اسٹریٹ کے شور میں سنائی نہیں دیتی۔ سو انعام نہ سہی، ایک مفت کا سبق تو ہاتھ آ ہی گیا! اور سچ پوچھیے تو یہ سبق اس انعام سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
Like this:
Like Loading...
ایسے فیصلے اس قما ش کے لوگو ں کے لیے سبق نہیں ہوتے ہیں ۔یہ تو سانپ کی دم پر پیر رکھنے کے مصداق بات ہو گئی ہے جناب ۔۔۔۔۔