Skip to content
"اولاد” کیلئیے”سخت محنت” ہی "ماں باپ کی عظمت” کا سبب”
مشاہدات:- ایس. ایم. عارف حسین.
دنیا شاہد ہیکہ مان باپ اپنی اولاد کو جنم دینے سے لیکر انکے بلوغیت کو پہونچنے تک یعنی بیس سال کے عرصہ تک سخت محنت کرتے ہین جو خونی رشتہ کی بے انتہا محبت اور عین ذمہداری کا تقاضہ اور قدرت کی منشاء ہوتی ہے.
یہ حقیقت ہیکہ ایک ماں اپنے ہونےوالے بچہ کو” نو مہینہ” اپنے رحم میں اٹھاے پھرتی ہے جو کہ”قدرتی عمل” ہے.یقینا اس دوران ایک ماں کو جسمانی تکلیف و ذہنی دباو کے ساتھ معاشرتی طعنوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے.بچہ کے پیدا ہونیکے ساتھ ہی ایک ماں بچہ کے جسم کی صفائی کا خیال رکھتی- وقت پر دودھ پلاتی- صحت کا خیال رکھتی- رینگنے سے لیکر چلنا سیکھنے تک نگرانی کرتی- ابتدائی تعلیم سے لیکر گریجویٹ بننے یعنی قریب مسلسل بیس سال تک چولہے کی آگ کی تپش برداشت کرتے ہوے اور اپنی صحت کا خیال کئیے بغیر موسم کی گرمی و سردی کی شدت کو برداشت کرتے ہوے ناشتہ اور ٹفن کی تیاری کرتی اور وقت مقررہ پر اسکول پہونچاتی اور کالج پہونچنے کا انتظام کرتی ہے.اتنا ہی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی ضروریات کو پورا کرنیکے اخراجات کیلیئے "مال کی فراہمی” کیلیے کبھی گھرون مین برتن و کپڑے دھوتی ہے تو کبھی دس- دس گھنٹے کسی ادارہ میں صفائی و نگرانی کی ڈیوٹی انجام دیتی ہے. وہین ایک باپ اگرچیکہ بچہ کی جسمانی ضروریات کو پورا کرنے مین طبعیی طور پر کم حصہ لیتا ہے پر دیگر اخراجات کی تکمیل کیلیئے موسم کی سخت گرمی و شدید سردی برداشت کرتے ہوے دس تا بارہ گھنٹے کہین جان توڑ مزدوری کرتا ہے تو کبھی مجبوری مین رکشہ تک چلاتا ہے تو کبھی اپنے گھر بار کو چھوڑکر ہزارون میل دور دوسرے ملک جاکر ملازمت کرتا ہے. اخراجات جیسے بچون کی بہترین تعلیم اور موجودہ زمانہ کی مانگ پوری کرنے کیلیئے خاصکر "بیٹیون کی شادی” کیلیے لاکھون روپیے کا قرض لیتا ہے جسکو ادا کرنیکے لیے کئی برس لگ جاتے ہین جبکہ اس دوران زمانہ کی جھڑکیون کو بھی سنتا اور سہتا ہے. اتنا ہی نہین بلکہ ماں باپ بہت مجبوری مین اپنا چہرہ چھپاکر "بھیک” تک مانگتے ہین اگرچیکہ مذہب اسلام نے "اس عمل” کو "ذلت” سے تعبیر کیا ہے.اللہ تعالی دنیا کے تمام مان باپ کو ذلیل ہونے سے بچاے. آمین.
اتنا ہی نہیں بلکہ مزکورہ بالا سخت محنت کے ساتھ ساتھ مان باپ ہر قدم پر اپنی ضروریات و خواہشات کی قربانی دیتے ہوے اولاد کی ضروریات و خواہشات پورے کرتے ہیں.
جب یہی اولاد خود بالغ ہوجاتی ہے اور اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنیکے لیے ملازمت یا تجارت کرتے ہوے تکالیف کا سامنا کرتی ہے تب اپنے مان باپ کی کیگئی سخت محنت کا دور ذہن مین گونج اٹھتا ہے اور نتیجہ مین نہ صرف آنکھون سے بے ساختہ آنسون بہتے ہین بلکہ دل سے دعا بھی نکلتی ہیکہ اللہ تعالی مان باپ اگر باحیات ہین تو انکو ہر قسم کا سکون عطا کرے اور اگر دنیا سے رخصت ہوچکے ہین تو انکی مغفرت فرماے اور جنت الفردوس مین اعلی سے اعلی مقام عطا کرے،آمین.
"مذہب اسلام” کی قرآن و حدیث کی تعلیمات نے ماں باپ کو انسانی رشتوں میں بہت بلند مقام عطا کرتے ہوے”اعلان” کیا ہیکہ: ماں کے قدموں کے نیچے "جنت” ہے- باپ جنت کے دروازوں میں "بہترین دروازہ” ہے-
آپ صلعم نے فرمایا کہ میری ماں زندہ ہوتی اور وہ مجھے آواز دیتی اگر میں نماز مین ہوتا تب نماز توڑ کر ماں کے پاس تشریف لیجا تا- باپ کی دعا اللہ تک "راست” پہونچتی ہے جسطرح انبیاء اور اللہ کے درمیان کوئی حائل نہیں ہوتا- ضعیف ماں باپ پر جتنی بار نظر ڈالینگے اتنی بار "حج” کرنیکا ثواب ملیگا- اولاد کی آمدنی کا "بہترین خرچ” مان باپ پر خرچ کرنا ہے-اولاد اپنی ضعیف ماں کو اپنے کندھون پر بٹھاکر کعبت اللہ کا طواف کرے تب بھی حمل کے دوران کی "ایک وقت کی تکلیف” کا حق ادا نہین کرسکتی- اپنے مان باپ کو ” اف” تک نہ کہو جھڑکیان تو بہت دور کی بات ہے- اپنے باپ کے آگے "سینہ جھکاکر” کھڑے رہو- اللہ تعالی نے قرآن مجید مین ہدایت دی کہ میری عبادت کرو:کسی اور کو میرے ساتھ شریک مت کرو اور اپنے "مان باپ” کے ساتھ "حسن سلوک” کرو.سبحان اللہ.
کیا” آجکی اولاد” خاصکر اپنے "ضعیف مان باپ” کی خدمت کررہی ہے یا پھر انہین "دور جدید” کے ” اولڈ ایج ہوم” کے حوالہ کرکے دنیا پر” اللہ تعالی” کے "غصہ و قہر” کو کبھی ہوائی طوفان و شدید بارش سے تباہی تو کبھی ملکوں کے درمیان آپسی طاقت کے مظاہرہ کیلیے جنگ کرنے پر تو کبھی مذہب کی بنیاد پر انسانی تعصب و خون خرابہ کو رونما ہونے پر تو کبھی اندرون ملک یا ریاست میں جمھوری یا بادشاہی طاقت کی بنیاد پر سیاسی- معاشی اور سماجی "ظلم” برپا کرنیکا موقع تو فراہم نہین کررہی ہے.اللہ تعالی دنیا بھر کی اولاد کو اپنے مان باپ کی خدمت کرنیکی توفیق دے. آمین.
” یہ سونچ کر ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں =
اس پیڑ کا سایہ میرے بچوں کو ملیگا”
اللہ تعالی سے دعا ہیکہ دنیا بھر کی اولاد کو اپنے مان باپ کے ساتھ "اچھا سلوک” کرتے ہوے اللہ کے حکم کی تعمیل کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا مین سکون اور آخرت مین کامیابی حاصل کرنیکی توفیق عطا کرے. آمین.
مشاہدات:- ایس. ایم. عارف حسین.
اعزاذی خادم تعلیمات. مشیرآباد.حیدرآباد
( بموقع دورہ ریاض. سعودی عریبیہ)
رابطہ نمبر:9985450106
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...
السلام علیکم.
ناچیز کی تحریر شایع کرنیکے لیے شکریہ جناب۔