Skip to content
قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کی سانسیں
ترتیب: عبدالعزیز
اسرائیل اور حماس کے درمیان جمعرات کو غزہ کی جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر مصر میں اتفاق ہو گیا ہے۔ اسرائیلی کابینہ سے منظوری کے بعد غزہ میں 24 گھنٹوں کے اندر جنگ بندی شروع ہوجائے گی۔ معاہدے کے تحت حماس کی قید میں موجود تمام زندہ قیدیوں کو ایک ساتھ ممکنہ طور پر اتوار تک رہا کردیا جائے گا جبکہ ہلاک ہونے والے 28 قیدیوں کی باقیات مرحلہ وار واپس کی جائیں گی۔ اسرائیل کی قید میں موجود 250 عمر قید حماس مجاہدین اور 1700 غزہ کے باشندوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔
حماس کے سینئر رہنمااسامہ حمدان نے ’التلفزیون العربی‘ سے گفتگو میں کہا کہ معاہدے کے مطابق قابض فوج کو غزہ شہر، شمالی علاقے، رفح اور خان یونس سے انخلا کرنا ہوگا۔ قارئین کرام جنگ بندی کی دیگر تفصیلات بھی ہیں لیکن اسرائیل اور امریکہ کے نزدیک بنیادی شرط تمام اسرائیلی قیدیوں کی ایک ساتھ رہائی ہے جس کے بعد یہودی وجود حماس کی مبینہ بدعہدیوں کو جواز بناکر بتدریج جنگ بندی سے انحراف شروع کردے گا۔ اسی خطرے کے پیش نظر حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے کا پابند بنایا جائے۔ اسامہ حمدان نے کہا ہے کہ ’’عالمی برادری کو اسرائیل کے رویے پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ وہ معاہدے پر عمل کرے‘‘۔ عالمی بردری! یہ موجودہ خارجہ امور کی اصطلاحی زبان کی ایک رسم ہے۔ محترم اسامہ حمدان جس کی حقیقت سے آگاہ ہیں! یہ متعصب یہود ونصاریٰ کی مغربی دنیا ہے۔ جس کے رہنما اور قیادت سب اسرائیل کے پروانے ہیں۔ جو اسرائیل کی بقا کو خونی رشتے کی طرح محترم سمجھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ ہوں یا کوئی اور، اسرائیل کو بس میں رکھنا کسی کے بس میں نہیں اور نہ ہی وہ ایسا چاہتے ہیں۔ یہ ان کا مقصد ہی نہیں ہے۔ اپنے مفاد میں معاہدے سے پھر جانا یہی یہودی وجود کی فطرت کی بدیہی بنیاد ہے۔ اسرائیل اور صدر ٹرمپ کا جنگ بندی کے اس کھیل کا ایک ہی ہدف تھا، یہودی قیدیوں کی واپسی اور بس۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ محض زیب داستان ہے جس کی کوئی قدرو قیمت نہیں۔ جنگ بندی کے دیگر نکات اس سمت محض تحرک ہیں۔ اس بات کا اندازہ اس حقیقت سے لگا لیجیے کہ جنگ بندی کی خبر سنتے ہی جب کچھ فلسطینیوں نے غزہ واپس آنے کی کوشش کی تو اسرائیلی ٹینکوں نے ان پر بمباری شروع کردی۔
کہا جارہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے بعد غزہ میں جشن کا سماں ہے۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آتا غزہ میں جشن منانے کے لیے باقی ہی کیا بچاہے سوائے 80 فی صد 90 فی صد تباہ شدہ عمارتوں، ان میں دبی ہوئی لاشوں اور بھوک پیاس اور قحط سے بے حال مہذب دنیا کی شکار مظلوم زندہ لاشوں اور نیک ارواح کے۔ معاہدے میں جن کے لیے 5 سرحدی گزر گاہوں سے روزانہ 600 امدادی ٹرک غزہ میں امداد لے کر داخل ہوں گے۔ دوسال پہلے غزہ پر یہودی وجود کے حملوں سے پہلے غزہ کی آبادی 22 سے 23 لاکھ تھی جو اب 20 سے 21 لاکھ اندازہ ہے جن کے لیے محض 600 ٹرک روزانہ وہ بھی اگر جنگ بندی معاہدے پر دیانت داری سے مکمل طور پر عمل ہوا۔ اگر یہ لوگ مخلص اور انسانی ہمدردی سے سرشار ہوتے تو ہر چار اطراف، زمین وآسمان سے اہل غزہ کے لیے خوراک کی رسانی ممکن بناتے۔
رحم وکرم کا یہ عظیم سلوک ان کی طرف سے ہے جو امن کے نوبل انعام کے حق دار بننا چاہتے ہیں۔ جو غذا کو بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں جوکہ بین الاقوامی جرم ہے۔ اقوام متحدہ- سلامتی کونسل کی قرارداد 2417 (2018ء) میں واضح ہے ’’شہری آبادی کو بھوک سے دوچار کرنا بطور حرب ممنوع ہے اور ہنگامی امداد کے راستوں کو روکا جانا بھی ناقابل قبول ہے‘‘۔ اضافی پروٹو کول اول (آرٹیکل54) واضح طور پر کہتا ہے ’’بستیوں کو بھوک کے ذریعے ہدف بنانا جنگی طریقہ کار کے طور پر منع ہے اور خوراک، کھیتی، مویشی، پینے کے پانی کے انتظامات وغیرہ پر جان بوجھ کر حملہ کرنا یا انہیں برباد کرنے کے خلاف پا بندی لگاتا ہے‘‘۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC)، روما اسٹیٹ میں صریحاً درج ہے کہ ’’مقامی آبادی کو بطور طریقہ جنگ بھوکا رکھنا جنگی جرم ہوسکتا ہے بشرط یہ کہ ارادہ ثابت ہو کہ بھوک پیدا کرنا بطور حرب استعمال کیا گیا ہے Article8(2)(b)‘‘۔ یہ شقیں اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کے وجود کی رومانوی وسعت کے علاوہ کچھ نہیں۔ صدر ٹرمپ اور شیطان یاہو کے امن منصوبے میں اس جنگی جرم کو ایک شرط کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ آج کسی کو اسرائیل کے باب میں ان شقوں کا جنگی جرم ہونا یاد نہیں۔ مغرب آج بھی صلیبی جنگوں کی فضا میں سانس لے رہا ہے۔
جو فلاحین غزہ امن معاہدے اور جنگ بندی کے ذمے دار ہیں امریکا کی طرف سے ان میں سے ایک جیرالڈ کرشنر ہیں جو صدر ٹرمپ کے داماد ہیں اور دوسرے ٹرمپ کے کاروباری شراکت دار، گولف پارٹنر اور کرپٹو کرنسی فرم World WLF) (Financial Liberty کے حصہ دار اسٹیو ونکوف ہیں۔ یہ دونوں حضرات صہیونی ہیں اور مشرقی یورپین یہودی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو صہیونی شدت پسند اور متشددانہ خیالات کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ نیتن یاہو بھی مشرقی یورپی یہودی ہیں۔ جیرالڈ کرشنر کے والد چارلس کرشنر کو 2004-2005 میں امریکی عدالتوں سے فراڈیا قرار دیا گیا ہے۔ جعلی معاملات اور جنسی اسکینڈل میں ملوث۔ فراڈ کرنے والا ایک ایسا شخص جو دھوکہ دہی کو معاملات طے کرنے میں استعمال کرتا ہے۔ امریکی اور بین الاقوامی میڈیا میں جیراڈ کرشنر اور اس کے خاندان کے حوالے سے کرپشن، اخلاقی شکایات، مالیاتی ہیرا پھیریوں اور بیرون ملک سودوں میں کرپشن کے الزام لگتے رہتے ہیں۔ جہاں تک وٹکوف کا تعلق ہے اسے غزہ سے بس اتنی ہمدردی ہے کہ پچھلے دس مہینے میں اس نے غزہ کے بارے میں جو کچھ بھی کہا اس میں انسانی ہمدردی کا کوئی ایک لفظ بھی شامل نہیں تھا سوائے غزہ کو کاروباری اور تجارتی نظر سے دیکھنے کے۔ ٹونی بلیر جیسا جنگی مجرم، قاتل اور ٹرمپ جیسا عیاش اور یہود نوازان کرمنلز، فراڈیوں اور انسانی تباہی میں سے اپنے مفاد کشید کرنے والوں کو چھتری مہیا کرنے کے لیے الگ سے دستیاب ہیں۔ ان فیصلہ ساز صہیونی یہودیوں کو اہل غزہ سے کتنی ہمدردی ہوسکتی ہے اور وہ ان کے کتنے مددگار اور معاون ہو سکتے ہیں؟؟
حماس نے صدر ٹرمپ کی انا کو ریشم کرتے ہوئے جس طرح ان کے منصوبے سے جزوی اتفاق کیا ہے وہ بہترین حکمت عملی کی ایک اعلیٰ مثال ہے، لیکن کیا وہ غزہ کو ان کریمنلز، فراڈیوں، جنگی مجرموں اور شدت پسند صہیونیوں کے سپرد کردے گی جو ناپاک یہودی وجود اسرائیل کے دبائو میں ہیں، اس کی بلیک میلنگ کا شکار ہیں اور اس سے خوفزدہ ہیں۔ یقینا ایسا نہیں ہوگا۔ آج امریکہ اور اسرائیل حماس سے مذاکرات کرنے پر مجبور تھے لیکن اغلب یہی ہے کہ قیدیوں کی رہائی کا مقصد حاصل کرتے ہی وہ اس جنگ بندی اور امن معاہدے کو فراموش کرکے حماس کو ختم کرنے کے مشن میں لگ جائیں گے پچھلے دوسال سے وہ جس میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل، مغرب اور عرب سربراہان سب حماس کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن حماس تائید الٰہی سے مصروف جہاد ہے۔ امریکہ اور اسرائیل حماس کی ایک کھیپ اور نمائندگان کا خاتمہ کرتے ہیں ان سے زیادہ غازی اور مجاہدین حماس میں شرکت کے آرزو مند، اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ظالمانہ طاقت جب تک تباہی کے درپے رہتی ہے مجاہدین مسلسل نیا جنم لیتے رہتے ہیں۔ طاقت کے ذریعے طے کی گئی امن کی شرائط ہمیشہ وقتی اور عارضی ہوتی ہیں۔ ایک جماعت کو ختم کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے نظریے اور جذبہ جہاد کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جو طے کر لیتے ہیں ’’یاتو اب تاج پہنیں گے یا خونیں کفن‘‘ ان کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے؟؟
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...