Skip to content
غزہ میں تباہی کے مناظر کے درمیان لاکھوں فلسطینیوں کی گھروں کو واپسی جاری
فلسطین.13اکٹوبر(ایجنسیز)غزہ میں اسرائیلی حملوں سے ہونے والی تباہی اور ملبے کے ڈھیروں کے درمیان ہزاروں کی تعداد میں بے گھر فلسطینی مسلسل تیسرے روز اپنے علاقوں کو لوٹ رہے ہیں۔ یہ وہی علاقے ہیں جو دو سال تک جاری رہنے والی اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں شدید نقصان کا شکار ہوئے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی "وفا” کے مطابق اتوار کے روز ہزاروں لوگ شاہراہ الرشید اور شاہراہ صلاح الدین کے ساتھ کم از کم سات کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کے پاس اب گھر باقی نہیں رہے جن میں وہ واپس جا سکیں۔
غزہ میں اسرائیلی حملوں سے ہونے والی تباہی اور ملبے کے ڈھیروں کے درمیان ہزاروں کی تعداد میں بے گھر فلسطینی مسلسل تیسرے روز اپنے علاقوں کو لوٹ رہے ہیں۔ یہ وہی علاقے ہیں جو دو سال تک جاری رہنے والی اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں شدید نقصان کا شکار ہوئے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی "وفا” کے مطابق اتوار کے روز ہزاروں لوگ شاہراہ الرشید اور شاہراہ صلاح الدین کے ساتھ کم از کم سات کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کے پاس اب گھر باقی نہیں رہے جن میں وہ واپس جا سکیں۔
رپورٹ کے مطابق شاہراہ الرشید شمالی غزہ سے جنوبی علاقے تک پھیلا ہوئی ہے۔ یہی وہ شاہراہ ہے جہاں "نسل کشی کی جنگ” کے دوران اسرائیلی افواج نے ان درجنوں فلسطینیوں پر حملے کیے جو شمال سے جنوب کی جانب نقل مکانی کر رہے تھے۔
دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 29 ستمبر کو 20 نکات پر مشتمل ایک امن منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
اسی تناظر میں اتوار کو مصر کے شہر شرم الشیخ میں مصری–امریکی سربراہی اجلاس کے لیے بھرپور تیاریاں جاری ہیں، جہاں پیر کو عالمی قیادت کی موجودگی میں غزہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔
مصری ایوانِ صدر نے اعلان کیا ہے کہ "شرم الشیخ امن کانفرنس” پیر کو صدر عبدالفتاح السیسی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہو گی، جس میں 20 سے زائد ممالک کے سربراہان شرکت کریں گے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ پیر کو مصر میں "متعدد عالمی رہنماؤں” سے ملاقات کریں گے تاکہ غزہ کے مستقبل پر بات چیت کی جا سکے۔ یہ ملاقات ان کے اسرائیل کے دورے اور کنیسٹ سے خطاب کے بعد ہو گی۔
یہ سربراہی اجلاس دراصل اسرائیل اور حماس کے درمیان مصری، قطری اور امریکی ثالثی سے طے پانے والے اس معاہدے کے نفاذ کا پیش خیمہ ہے، جس میں قیدیوں کا تبادلہ، جنگ بندی اور جنگ سے متاثرہ غزہ کی تعمیر نو شامل ہے۔
دو سال تک جاری رہنے والی تباہ کن جنگ میں تقریباً 70 ہزار فلسطینی جاں بحق ہوئے، جبکہ علاقے کی بیشتر بنیادی تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔
ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کے مطابق پیر کو جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔
معاہدے کے تحت غزہ میں موجود 47 اسرائیلی یرغمالیوں اور 2014 ءسے قید ایک اسرائیلی کی باقیات پیر کی صبح 9 بجے تک حوالے کی جائیں گی، جبکہ اسرائیل 250 عمر قید کےسزایافتہ فلسطینی قیدیوں اور 1700 دیگر قیدیوں کو رہا کرے گا جو جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے تھے۔
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے ایک غیر معمولی حملے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1219 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے غزہ میں تباہی پھیلا دی اور ہزاروں فلسطینیوں کی جانیں گئیں۔
Like this:
Like Loading...