Skip to content
دبئی.13اکٹوبر(ایجنسیز)سعودی عرب اور قطر نے اتوار کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کریں۔
افغان سکیورٹی فورسز نے ہفتے کے روز پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملہ کیا جو طالبان حکومت کے نزدیک اپنی سرزمین اور فضائی حدود کی "بار بار خلاف ورزیوں” کا جواب ہے۔
ہفتے کے شروع میں افغان حکام نے پاکستان پر دارالحکومت کابل اور ملک کے مشرق میں ایک بازار میں فضائی حملے کا الزام لگایا تھا۔ پاکستان نے ان حملوں کی تردید کی ہے اور نہ ہی تصدیق۔
یہ جھڑپیں دونوں ممالک کے درمیان گہرے سکیورٹی تناؤ کی نشاندہی کرتی ہیں جن کے بعد ایک اہم تجارتی راستہ طورخم گذرگاہ اتوار کو حسبِ معمول صبح آٹھ بجے نہیں کھلی۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے ایکس پر کہا، "سعودی عرب اسلامی جمہوریہ پاکستان اور ریاست افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں کشیدگی اور جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔”
قطر کی وزارت خارجہ نے کشیدگی میں اضافے اور خطے کی سلامتی و استحکام کے لیے اس کے ممکنہ اثرات پر اظہارِ تشویش کیا۔ اس نے فریقین پر "مذاکرات، سفارت کاری اور تحمل” کو ترجیح دینے پر زور دیا۔
پاکستان افغان حکام پر کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ارکان کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے جو اسلام آباد کے مطابق پاکستان کے اندر مہلک حملے کرتا ہے۔ کابل اس الزام کو مسترد اور اصرار کرتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
ٹی ٹی پی ایک الگ گروپ ہے لیکن پاکستانی حکام اسے افغان طالبان کا اتحادی سمجھتے ہیں۔ یہ 2000 کے عشرے کے اواخر سے پاکستان میں ہونے والے بعض مہلک حملوں میں ملوث ہے۔
شمال مغربی پاکستان کے متعدد اضلاع میں مہلک حملوں میں اس ہفتے 20 سکیورٹی اہلکار اور تین شہری جاں بحق ہوئے جن کی ذمہ داری ہفتے کے روز ٹی ٹی پی نے قبول کی۔
پاکستانی وزیرِ داخلہ نقوی نے ایک بیان میں کہا، "افغان افواج کی ہماری شہری آبادی پر فائرنگ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔”
Like this:
Like Loading...