Skip to content
راہل اور مودی کے غیر ملکی دوروں میں فرق
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے پچھلے ہفتے ہندوستان کا دورہ کیا تو کسی کو پتہ بھی نہیں چلا کہ کون آیا اورکون گیا ؟ اس ہفتہ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی دورے پر کیا آئے کہ میڈیا پر چھا گئے ۔ ان دونوں مہمانوں کے دورے میں وہی فرق ہے جو فی الحال وزیر اعظم نریندر مودی اور حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی کے غیر ملکی دورے میں ہوتا ہے۔ گزشتہ ماہ مودی جی جاپان اور چین جیسے اہم ممالک کے دورے پر گئے تھے لیکن ڈھاک وہی تین پات ممبئی میں کہتے ہیں کھایا پیا کچھ نہیں گلاس پھوڑا بارہ آنہ ! جاتے آتے چین کو اپنا دوست تو نہیں بناسکے الٹا پاکستان کو روس کا ہمنوا بناکر چلے آئے۔ اس کے مقابلے راہل گاندھی لاطینی امریکہ کے غیر اہم ممالک میں گئے مگر ان کے دورے کی دھمک پورے میڈیا میں سنائی دیتی رہی۔ وزیر اعظم کیر سٹارمر نے ممبئی میں 6 ویں گلوبل فن ٹیک فیسٹ 2025، ‘سی ای او فورم’ کے اندر شرکت کی تو ہم ممبئی والوں کو بھی پتہ نہیں چلا جبکہ امیر خان متقی کا دارالعلوم دیوبند جانا سارے ملک میں موضوعِ بحث بنا ہوا ۔ اس پر ڈاکٹر راکیش پاٹھک نے یہاں تک کہہ دیا مودی سرکار متقی کے سامنے’ تاتا تھیا‘ کررہی ہے اور اس میں شک نہیں کہ یہی ہورہا ہے۔ وہ پریس کانفرنس پر پریس کانفرنس کیے جارہے ہیں اور ہمارے وزیر اعظم اپنے گھر میں دبکے بیٹھے ہیں۔ (اس دورے پرتفصیل سے کل لکھیں گے ان شاء اللہ) ۔
نریندر مودی اور راہل گاندھی دونوں غیر ملکی دورے کرتے ہیں۔ یہ اولذکر کی مجبوری اور آخرالذکر کا شوق ہے یعنی لوگ باگ یہ سوال تو کرتے ہیں کہ وزیر اعظم اس بار اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی میں کیوں نہیں گئے؟ کیا وہ ٹرمپ کی ملاقات سے گھبرا کر کنیّ کاٹ گئے؟ وغیرہ لیکن ایسا کوئی سوال حزب اختلاف کےرہنما سے نہیں کیا جاتا۔ اس کے باوجود راہل وقتاً فوقتاً عالمی دورہ کرتے رہتے ہیں ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا یہ حال ہے اس میں موجود وزیر اعظم کے ولیعہد امیت شاہ تک کبھی غیر ملکی دورے پر نہیں جاتے کیونکہ ان کو انگریزی بالکل نہیں آتی ۔ ویسے چھوٹا فانٹا کہلانے والے یوگی ادیتیہ ناتھ نے ایک مرتبہ غالباً اپنے بھگتوں ( مداحوں ) کے اصرار پر امریکہ جانے کا ارادہ کیا تو انہیں خود ان کی اپنی ہی سرکار نے اجازت نہیں دی ۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جو پاکستان کو کو دوبارہ ضم کرکے اکھنڈ ہندوستان بنانا چاہتے ہیں ۔ آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک اگر امیت شاہ اور یوگی ادیتیہ ناتھ کو جوڑ کر اکھنڈ بی جے پی بنادیں تو یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔ ویسے وہ خود اگر وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اتفاق و اتحاد کرکے پارٹی کا نیا صدر بنوا دیں تو وہ بھی بی جے پی پر بڑا احسان ہوگا اس لیے کہ پارٹی آخر کب تک ایک تھکے ہوئے جے پی نڈا کو ڈھوئے گی؟
راہل کے غیر ملکی دورے کا اعلان ہوتے ہی کانگریس سے زیادہ اس کی مخالفت کرنے والی شور مچاتی ہے۔ آئی ٹی سیل والے تو خوربین لگا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ موقع کی تاک میں رہتے ہیں کہ کوئی ایسی بات ہاتھ آجائے کہ جس کا کا بتنگڑ بناکر ایوانِ پارلیمان میں قائدِ حزبِ اختلاف کو بدنام کیا جاسکے ۔ وہ بیچارے بھول جاتے ہیں کہ ان کی اسی حرکت سے راہل گاندھی کا دورے کو مقبولیت حاصل ہوجاتی ہے۔ حالیہ جنوبی امریکی براعظم کے چار ممالک کا دورہ بھی ان لوگوں نے مخالفت کے سبب ہی مشہور ہوگیا ۔ اس کو اپنے پیر پر خود کلہاڑی مارنا کہتے ہیں ۔ راہل گاندھی کے ریمارکس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، سینئر بی جے پی لیڈر روی شنکر پرساد نے کہا کہ ہندوستان میں ایک "مکمل” جمہوریت ہے جہاں لوگ آزاد ہیں۔ دنیا اس دعویٰ کو تسلیم نہیں کرتی وہ ہمارے ملک کو انتخابی آمریت کہتی ہے۔ پرساد نے راہل کے ذریعہ کولمبیا میں ملک کی "شرمناک طور پر توہین” کرنے کی مذمت کی حالانکہ اگر بی جے پی انتخاب جیت کر عوام کے حقوق پامال نہیں کرتی تو یہ نہ ہوتا ۔ روی شنکر پرشاد کو اپنے ملک کی عزت کا اتنا ہی خیال ہے تو یوگی ادیتیہ ناتھ کو آئی لو محمد کہنے والوں کے خلاف ظالمانہ کارروائی سے منع کریں ورنہ ان کی چیخ پکار پر کوئی کان نہیں دھرے گا۔
سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ راہل گاندھی ہندوستان میں ہندوستان کے خلاف ہر طرح کے بے بنیاد اور بے شرم بیانات دیتے ہیں ۔ وہ بیانات بی جے پی اور مودی کے خلاف ہوتے ہیں اور یہ دونوں ہندوستان نہیں ہیں ۔ راہل گاندھی بیرون ملک جاکر اظہار رائے کی آزادی کا شکوہ اس لیے کرتے ہیں کہ بے بنیاد الزام پر ان کی پارلیمانی رکنیت چھین لی جاتی ہے انہیں بے گھر کردیا جاتا ہے اور ایوان پارلیمان میں ان کا مائک بند کردیا جاتا ہے۔پرساد نے الزام لگایا کہ گاندھی ہندوستان کے خلاف بولتے رہتے ہیں کیونکہ ان کی پارٹی کی حمایت کم ہوتی جارہی ہے اور وہ اقتدار کے لیے بے چین ہیں۔ ملک کے سارے سروے بتا رہے ہیں کہ راہل کانگریس کی مقبولیت بڑھ رہی ہے جبکہ بی جے پی سمیت مودی کی حمایت گھٹ رہی ہے۔ بی جے پی کے قومی ترجمان گورو بھاٹیہ نے سوشل میڈیا سائٹ "X” پر ایک پوسٹ میں سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ راہل گاندھی نے دوبارہ غیر ملکی سرزمین پر ہندوستان کی توہین کی ۔ لندن میں ہماری جمہوریت کو بدنام کرنے سے لے کر امریکہ میں ہمارے اداروں کا مذاق اڑانے تک، اب کولمبیا میں، وہ ہندوستان کو عالمی سطح پر نیچا دکھانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑ رہے۔ گورو کو یاد ہونا چاہیے کہ غیر ملکی سرزمین پر ہندوستان میں پیدا ہونے پر افسوس جتانے والا بیان وزیر اعظم نریندر مودی نے دیا تھا اور وہ سب سے بڑی توہین تھی۔
امریکی محصولات کےتناظر میں، راہل گاندھی ہندوستانی تجارت اور شراکت داری کو متنوع بنانے کی کوششوں کے تحت کاروباری دنیا کی اہم شخصیات سے ملاقات کی تاکہ نئے مواقع تلاش کیے جاسکیں۔یہ سرکار کے کرنے کا کام ہے لیکن اس کے پاس نہ تو اسے کرنے کی صلاحیت اور نہ دلچسپی ہی ہے۔ یہ ایک ایسی حکومت ہے جس پر انتخابی جنون سوار رہتا ہے اور جیتنے کی خاطر وہ دن رات فرقہ واریت کے فروغ میں غرق رہتے ہیں ۔ ہندوستان کی ترقیاتی کہانی شیئر کرکے راہل نے عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کیا اور دس دن بعد 5؍ اکتوبر کو لوٹ آئے۔ ہندوستانی معیشت بحث بدعنوانی کے بغیر ادھوری ہے یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی کو غیر ملکی سرزمین پر بھی اس کا ذکر کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ’’مرکزی سطح پر بدعنوانی اپنے عروج پر ہے‘‘ اور وزیر اعظم کے ساتھ براہِ راست تعلق رکھنے والے تین یا چار بڑے تاجر گھرا نے پوری قومی معیشت کو اپنے قبضے میں لے رہے ہیں۔
مذکورہ بالا کیفیت کو معیشت کی زبان میں اسے شدت پسند سرمایہ داری (کرونی کپیٹلزم) کہا جاتا ہے ۔ سیاست کی دنیا میں فسطائیت کی تباہی اور معیشت کے میدان میں اس مخصوص سرمایہ داری کی بربادی یکساں ہےکیونکہ یہ سرمایہ داروں کے سیاستدانوں کے ساتھ قربت کے سبب عالمِ وجود میں آتی ہے۔ اس کے اندر عوام کا اس قدر استحصال ہوتا ہے کہ وہ بغاوت کے لیے مجبور ہوجاتے ہیں ۔ سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال اس کی تازہ ترین مثالیں ہیں۔ راہل نے امیر و غریب کے درمیان پیدا ہونے والی کھائی کے لیے انہیں افراد اور قوتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا کہ یہ معاشرتی تقسیم کو ہوا دے رہے ہیں ۔راہل گاندھی نے عالمی تناظر میں معاشی بحران اور پولرائزیشن (سماجی تقسیم) کی طرف بھی اشارہ کیا ۔امریکہ اور چین کا موازنہ کرکے راہل گاندھی نے کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ تقسیم پیدا کر نے والے بیشتر لوگوں نے صنعت کاری کی وجہ سے اپنی ملازمتیں کھوئی ہیں۔ سیاست میں ’’ہم اور وہ‘‘ کی سوچ، معاشرتی تناؤ اور مختلف فرقوں کے مابین تفرقہ جیسی سماجی کشیدگی کی یہ بنیادی وجہ ہے۔
راہل کے مطابق امریکہ کے مقابلے میں چین نے غیر جمہوری نظام میں پیداوار کو کنٹرول کرنے کا طریقہ سکھایا ہے۔ یعنی ایک طرف امریکی جمہوریت اور دوسری جانب چین کی آمرانہ خوشحالی ہے۔ راہل کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا ہندوستان جمہوری نظام کے باوجود چین کی طرح صنعت کاری کر سکتا ہے۔وطن عزیز کے اندر علمی و سیاسی حلقوں میں فی الحال اس طرح کے موضوعات پر سنجیدہ بحث کا شدید فقدان ہے ۔ پورے ملک پر انتخابی جنون سوار ہے ۔ ہر چیز کو اسی عینک سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور مثبت افہام و تفہیم کی فضا ہی نہیں بنتی راہل گاندھی نے کم از کم ملک سے باہر جاکر ان مسائل پر گہرائی و گیرائی کے ساتھ ایک مباحثے کا آغاز کیا ہے جس پرپارٹی لائن سے اوپر اٹھ کر غور کرنے ضرورت ہے ورنہ ہندوستان عالمی بنک کے قرضداروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر تو آہی چکا ہے آگے حالات اور بھی بدتر ہوجائیں گے ۔ ایسے مقروض ملک کو دنیا ’وشو گرو‘ (عالمی قائد) تو دور اپنا شاگرد بھی بنانا پسند نہیں کرے گی۔
Like this:
Like Loading...