Skip to content
فلسطین،14اکٹوبر(ایجنسیز)فلسطینی تنظیم حماس نے آج پیر کے روز تمام زندہ اسرائیلی قیدیوں کو حوالے کر دیا جن کی تعداد 20 ہے۔ اسرائیلی ٹی وی "چینل 12” کے مطابق حماس کے قبضے میں اب کوئی زندہ قیدی باقی نہیں۔
حماس نے تصدیق کی ہے کہ اس نے یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ مںصوبے کے تحت کیا۔ تنظیم نے ثالثوں سے کہا کہ وہ اسرائیل کو اس کے وعدوں پر عمل کرنے کا پابند بنائیں۔
جنوبی غزہ کے شہر خانیونس میں حماس نے دوسری کھیپ کے طور پر 13 مزید اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا، جنھیں بین الاقوامی ادارے صلیبِ احمر نے تحویل میں لیا اور بعد ازاں اسرائیل کے حوالے کر دیا۔
اس سے قبل صبح کے وقت غزہ میں فلسطینی قیدیوں کے بدلے قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع ہوا تھا۔ صلیبِ احمر نے پہلی کھیپ میں 7 اسرائیلی قیدی تحویل میں لیے، جب کہ باقی چند گھنٹوں میں حوالے کیے گئے۔ العربیہ اور الحدث کے نمائندوں کے مطابق تمام قیدی صحت مند حالت میں ہیں۔
رہائی پانے والے قیدیوں کو صلیبِ احمر نے اسرائیلی حکام کے حوالے کیا اور اسی ادارے نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور انھیں غزہ و مغربی کنارے تک پہنچانے کا انتظام بھی کیا۔ یہ تمام کارروائی میڈیا سے دُور بند مقامات پر انجام دی گئی۔
اسی دوران ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ تمام 1966 فلسطینی قیدی جنھیں آج (پیر) رہا کیا جانا ہے، اسرائیلی جیلوں کے اندر بسوں میں سوار کر دیے گئے۔
ذریعے کے مطابق غزہ کے ناصر میڈیکل کمپلیکس پر 1716 فلسطینیوں کو رہا کیا جائے گا، جب کہ 250 ایسے قیدی جو عمرقید کی سزا کاٹ رہے تھے، مغربی کنارے، بیت المقدس اور بیرونِ ملک منتقل کیے جائیں گے۔
سوشل میڈیا پر ایسی وڈیوز گردش میں آئیں جن میں قیدیوں کے اہلِ خانہ اُن سے رہائی سے قبل بات کرتے نظر آئے۔ ایک وڈیو میں ایک اسرائیلی ماں اپنے بیٹے سے فون پر گفتگو کر رہی ہے جو پہلے گروپ میں رہا ہونے والوں میں شامل تھا۔
یہ پیش رفت اُس وقت ہوئی جب حماس نے 20 قیدیوں اور 1900 سے زائد فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کی تھی، جن کی رہائی جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے تحت ہونی تھی۔
حماس کے محکمہ اطلاعات برائے اسیران نے بتایا کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت 154 فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں سے رہا ہو چکے ہیں اور انھیں دوسرے ممالک منتقل کیا جا رہا ہے۔
اس سے پہلے اسرائیلی میڈیا نے خبر دی تھی کہ قیدیوں کی رہائی کا عمل غزہ کی نتساریم راہ داری سے شروع ہو کر خانیونس میں صبح دس بجے جاری رہے گا۔
اسرائیلی اخبار معاريف کے مطابق حماس نے صلیبِ احمر کو آگاہ کیا کہ قیدیوں کو تین مختلف مقامات سے رہا کیا جائے گا۔ رہائی کے فوراً بعد انھیں رعییم فوجی اڈے پر منتقل کیا جائے گا جہاں ان کی شناخت اور ابتدائی طبی جانچ کے بعد اسپتال لے جائے گا۔
صلیبِ احمر کی بین الاقوامی کمیٹی نے ان رپورٹوں کی تردید کی کہ اس کے نمائندوں نے قیدیوں سے ملاقات کی یا ان کی صحت سے متعلق تشویش ناک معلومات موصول ہوئیں۔ کمیٹی نے کہا کہ وہ تمام فریقوں سے مسلسل رابطے میں ہے لیکن قیدیوں کی حالت سے متعلق کوئی معلومات حاصل یا فراہم نہیں کی گئیں۔
معاہدے کے مطابق غزہ میں 47 قیدیوں (زندہ اور مردہ) کے تبادلے کے بدلے اسرائیل 250 عمرقید یافتہ اور 1700 غزہ کے رہائشی فلسطینی قیدی رہا کرے گا۔
یہ تبادلہ اُن 251 افراد میں سے آخری گروپ سے متعلق ہے جو 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے دوران اغوا ہوئے تھے۔ ان میں ایک قیدی کی لاش بھی شامل ہے جو 2014 میں پکڑا گیا تھا۔
العربیہ کی نمائندہ کے مطابق اسرائیلی حکومت نے قیدیوں کے اہلِ خانہ سے کہا کہ وہ رعییم اڈے پر پہنچنے کی تیاری کریں۔ اس دوران حکومت نے فون پر ووٹنگ کے ذریعے فلسطینی قیدیوں کی فہرست میں تبدیلیوں کی منظوری دی۔
تبدیلی کے تحت دو سیکیورٹی قیدیوں کو فہرست سے نکال کر حماس سے تعلق رکھنے والے دو دیگر قیدی شامل کیے گئے، جب کہ 7 نا بالغ اور 2 خواتین کو بھی فہرست سے ہٹا کر دیگر قیدی شامل کیے گئے۔ اس طرح غزہ کے رہائی پانے والے قیدیوں کی حتمی تعداد 1718 ہو گئی۔
اسی تناظر میں اسرائیلی میڈیا نے ایک فوجی عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ ممکن ہے تمام قیدیوں کی لاشیں آج اسرائیل واپس نہ لائی جا سکیں۔
وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا کہ اُن قیدیوں کی باقیات تلاش کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی کمیشن قائم کیا جائے گا جن کی لاشیں موجودہ تبادلے میں واپس نہیں آئیں۔
Like this:
Like Loading...