Skip to content
تصادم سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کیجیے.
آئین کی پاسداری ہر حال میں ضروری ہے.
ازقلم:عبدالغفارصدیقی
9897565066
گزشتہ دنوں بریلی میں آئی لو محمد ؐ کے نام پر جو کچھ ہوا وہ قابل افسوس اورلائق تشویش ہے۔اپنے قائد کی آواز پرمسلمان اکٹھا ہوئے۔ پولس نے روکا اور مزید آگے بڑھنے پر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جس کے نتیجہ میں کئی لوگ زخمی ہوگئے،افراتفری مچ گئی،دوکانیں بند ہوگئیں،لوگ سہم کر گھروں میں قید ہوگئے،پھر پولس نے ہزاروں نامعلو م افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی اور جو بھی ہاتھ لگا اس کو تشدد کا نشانہ بنایا نیز جیل بھیج دیا۔خود قائد پر بھی کئی ایف آئی آر ہوئیں۔ابھی تک مولانا توقیر رضا خاں سمیت تقریباً84افراد جیل بھیجے جاچکے ہیں۔لگ بھگ دوسو کروڑ روپے کے مالی نقصان کا اندازہ ہے۔کئی گھروں کو بلڈوزر سے مسمار کردیا گیا۔سوال یہ ہے کہ یہ سب کیوں ہوا؟کیا اس کی ضرورت تھی؟اس کا فائدہ کس کو ہوا؟ کون خسارے میں رہا؟مولانا توقیر رضا صاخاں حب نے بیان دیا کہ ہم کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر ڈی ایم صاحب کے ذریعہ صدر جمہوریہ کو میمورنڈم دینا چاہتے تھے۔لیکن بھیڑ اکٹھا ہوگئی۔بھیڑ میں کچھ شرپسند عناصر موجود تھے۔جنھوں نے پولس کے ساتھ نا مناسب رویہ اپنایا اور یہ ناخوش گوار واقعہ پیش آیا۔
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔یہاں کے آئین کے مطابق شہریوں کو جلوس نکالنے،احتجاج کرنے،دھرنا دینے،وغیرہ کی اجازت ہے۔البتہ اس کے لیے بھی انتظامیہ سے اجازت نامہ لینا ضروری ہے۔تاکہ انتظامیہ جلوس کی حفاظت کرسکے اور کسی قسم کا جانی و مالی نقصان نہ ہو۔مذکورہ جلوس کے لیے بھی اجازت نامہ لینے کی کوشش کی گئی،مگر ایک خبر کے مطابق اجازت نہیں ملی۔اس لیے یہ جلوس اجازت کے بغیر نکالا جارہا تھا۔دوسرے مفہوم میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک غیر دستوری عمل تھا۔حالانکہ منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگ خود اکٹھا ہوگئے تھے۔ مسلمانوں کی جانب سے یہ اعتراض کیا جاتاہے اور اس کا عملاً مشاہدہ بھی کیا گیا ہے کہ جب غیر مسلم کوئی جلوس نکالتے ہیں،جس میں وہ ہتھیاروں کی نمائش تک کرتے ہیں،مساجد کے سامنے دیرتک ہڑدنگ مچاتے ہیں،بلکہ کہیں کہیں تو بھگوا جھنڈا لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔اور ان کے پاس بھی پوری طرح قانونی کاغذات اور اجازت نامے نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود انتظامیہ انھیں کچھ نہیں کہتی۔یعنی پولس انتظامیہ کے دوہرے رویہ کی شکایت کی جاتی ہے۔اس ضمن میں ہم مسلمانوں کو یہ بات اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ مسلمانوں پر مظالم ڈھاناموجودہ حکومت (مرکزی و ریاستی)کی سیاسی پالیسی کا لازمی حصہ ہے۔اس کا یہ طرز عمل تہذیبی اور مذہبی عداوت پر مبنی ہے۔
اس عداوت کے کچھ اسباب بھی ہیں۔ان کو بھی جاننا چاہئے۔مثلاًوہ (عداوت رکھنے والے) یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں نے بھارت پر حملہ کیا،یہاں کے مندروں کو منہدم کیا،ہندوعوام کولوٹا،بہن بیٹیوں کو حرم کی زینت بنایا اور غیر مسلم رعایا پر جزیہ لگاکر انھیں غلام بنایا۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ 1947میں جب ملک آزاد ہوا تو مسلمان پاکستان کی شکل میں اپنا حصہ لے چکے،اس لیے اب ان کا اس ملک میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ان کے ذہن میں یہ بات بھی گھر کئے ہوے ہے کہ مسلمان اس ملک کے بادشاہ رہے ہیں اورایک طویل عرصہ تک ان کی حکمرانی رہی ہے،اگر ان کو آگے بڑھنے کے مواقع دیے گئے تو وہ دوبارہ اقتدار پر قبضہ کرلیں گے اور بھارت کو اسلامی راشٹر بنالیں گے۔یہ باتیں وہ زبان سے بھی کہتے ہیں،اور اپنے خبرناموں میں بھی چھاپتے ہیں۔اپنی نجی مجلسوں میں اس طرح کے موضوعات پر بحث بھی کرتے ہیں۔اسی کا اثر ہے کہ آج نفرت کرنے والے غیر مسلموں کا تناسب بڑھتا جارہا ہے۔کتنے ہی لوگ ایسے ہیں اور سوئے اتفاق خود حکمراں طبقے میں ہیں جو مسلمانوں کو دیکھتے ہیں تو ان کا خون کھولنے لگتا ہے،مسجدیں دیکھتے ہیں تو ان کے چہرے پرناگوار ی کے اثرات ابھرتے ہیں،کسی باحجاب خاتون کو دیکھتے ہیں تو منہ نوچ لینے کا جی چاہتا ہے، اپنی گلیوں میں کسی مسلم ریڑھی ٹھیلے والے کا آنا پسند نہیں کرتے، اپنی دوکان اور مکان کسی مسلمان کو کرائے پر دینے کے لیے تیار نہیں ہیں،اسی منفی سوچ کے تحت حج سبسڈی ختم کردی گئی،اقلیتوں کی اسکیمیں بند کردی گئیں،بجٹ کم کردیا گیا اور اس کو بھی مسلمانوں پر خرچ کرنے میں تعصب برتاجارہا ہے،اقلیتوں کے نام پر ہندو اقلیتوں کو فائدہپ پہنچایا جارہا ہے،وقف املاک پر نظر بد ہے۔ان حالات میں مسلمانوں کو یہاں رہنا ہے تو ان کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ کس طرح رہنا ہے؟کیا احتجاج ہی ہمارے مسائل کا واحدحل ہے؟اب تک جو احتجاج کیے گئے ان میں کتنی کامیابی ملی ہے؟ہمارے قائدین کی جذباتی تقریروں نے ہمیں کیا دیا ہے؟وغیرہ
ایسا نہیں ہے کہ ملک میں سب کچھ خراب ہی ہے،ابھی آئین باقی ہے،ابھی عدلیہ میں درخواستیں قابل سماعت ہیں۔ابھی زہر پوری طرح نہیں چڑھا ہے۔اگر یہی حالات رہے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ دن دور نہیں ہے جب ہر گلی کوچے میں نفرت و تعصب کی چنگاری شعلہ جوالہ بن جائے گی اور نشمین کو جلا کر خاک کردے گی۔جس طرح برطانوی سامراج میں کالے اور گورے میں تفریق تھی،اسی طرح ہندو اور مسلمان کے درمیان پیدا ہوجائے گی۔
ہم اس حالت کو کیوں پہنچے ہیں؟ اس پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔کیا ہم نے اپنے فرائض ادا کیے ہیں؟ہم خود کو خیر امت مانتے ہیں،اس زمین پرخود کو خدا کا خلیفہ سمجھتے ہیں۔ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم ہی اللہ کے پسندیدہ دین کے علم بردار ہیں،ہم اس پر فخر کرتے ہیں کہ ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے اور آخری رسول کی امت میں شمار ہوتے ہیں۔مگر کیا ہم نے اپنے اس مقام بلند کے تقاضوں کو سمجھا؟کیا ہم جس دین کے علم بردار ہیں اس پر عمل کیا؟جس نبی کی امت میں پیدا ہونے پر فخر کرتے ہیں،ان کے طریقوں کو اپنی زندگی میں اپنایا؟اگر ایسا کیا ہوتا تو ظاہر ہے اس حالت کو پہنچتے ہی کیوں؟
ہر مسئلہ کا حل احتجاج نہیں ہے۔ہر سوال کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔کسی کی گالی کا جواب ضروری نہیں کہ گالی سے دیا جائے۔ضروری نہیں کہ ہر برائی کا انتقام لیا جائے اورہر پتھر کا جواب اینٹ سے دیا جائے۔بلکہ کبھی برداشت کا مظاہرہ بھی کرنا پڑتا ہے۔تحمل اور صبر بھی کرنا پڑتا ہے۔اسلام اس ضمن ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں اللہ کے رسول ؐ کی مکی زندگی سے ہمیں سبق لینا چاہئے۔مکہ میں نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو ستایا گیا۔ان کو گالیاں دی گئیں،ان کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے،ان پر اونٹ کی اوجھڑی ڈالی گئی،ان کے ساتھیوں کو زدوکوب کیا گیا۔کون نہیں جانتا کہ آل یاسر پر کس طرح کے مظالم ڈھائے گئے،کون نہیں جانتا کہ بلال حبشی ؓ کے ساتھ ظالموں نے کیا کیا؟لیکن ایک بھی واقعہ ایسا نہیں ملتا کہ مسلمانوں نے جواباً گالیاں دی ہوں یا ہاتھ اٹھایا ہو۔تحمل،صبر اور برداشت کے باب میں جو مثالیں رسول اکرم ؐ اور ان کے اصحابؓ نے مکہ میں پیش کیں،کیا ان کی کوئی نظیر کسی اور معاشرے میں مل سکتی ہے؟کیا اصحاب رسولؐ کا یہ طرز عمل ہمارے لیے مشعل راہ نہیں ہے؟کیا آپ اسے ان کی بزدلی شمار کرتے ہیں؟یا حکمت کہتے ہیں۔کیا حضرت عمر ؓ، حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت حمزہ ؓ کے ہاتھ پیچھے کو بندھے ہوئے تھے؟آخر وہ کیا بات تھی جس نے ان کو انتقام لینے اور تصادم کی راہ اپنانے سے روکا ہوا تھا؟کیا ان کے پاس غلام اور ہتھیار نہیں تھے یا وہ فراہم نہیں کرسکتے تھے؟ صرف ایک بات تھی کہ مکہ میں تصادم کا راستہ اختیار کرنے کا مطلب تھا کہ اسلامی تحریک کو اٹھنے سے پہلے ہی دفن کردینا۔پھراصحاب رسول ؐ انتہائی نیک اور پاک دامن تھے،جن کی شرافت کی قسمیں غیر بھی کھاتے تھے،دشمن بھی جن کے پاس اپنی امانتیں رکھواتے تھے۔اس اخلاقی قوت کے ہوتے ہوئے اور براہ راست رسول ؐ کی موجودگی میں آسمانی طاقت کے ہوتے ہوئے بھی ان کو حکم یہی تھا کہ وہ کسی پر ہاتھ نہ اٹھائیں،ٹکراؤ کا کوئی راستہ نہ اپنائیں۔بلکہ اپنے قول و عمل سے تحمل کا مظاہرہ کریں۔اس قربانی کا نتیجہ انھیں چند سال بعد فتح مکہ کی صورت میں ملا تھا۔ایک آج ہم ہیں جو اسلام کے معنیٰ تک سے واقف نہیں،قرآن کے مقصد نزول کو نہیں جانتے،شرک اور بدعات میں ملوث،گناہوں میں لت پت،احکام الٰہی کو روندنے والے،صبر،تحمل اور حکمت کے بجائے ہر معاملہ میں تصادم کا راستا اپناتے ہیں اور کسی آسمانی مدد کے منتظر رہتے ہیں۔
آزادی کے بعد ہم نے اردو کی بقاکے لیے مہم چلائی،تصادم بھی ہوا۔لیکن آج اردو خود ہم سے ہی شکوہ بلب ہے۔ہم خود ایک اخبار نہیں خریدتے،اردو کے نام پرسوروپے ماہانہ خرچ نہیں کرتے،اپنے دعوت نامے اردو میں نہیں چھپواتے۔ ہم نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذریعہ کئی مہمات چلائیں،بڑے بڑے احتجاجات کیے،کچھ میں وقتی طور پر کامیابی بھی ملی لیکن آج مسلم پرسنل لاء بورڈ آکسیجن پر ہے۔ہم نے بابری مسجد بچانے کے لیے کیا کیا نہ کیا؟ لیکن اس کے جواب میں بھویہ رام مندر لے آئے۔ساتھ ہی کئی عظیم اور تاریخی مساجد پر خطرات کے بادل منڈرا رہے ہیں،چھوٹی موٹی مساجد کے انہدام کا تو کوئی شمار نہیں۔اب تو مزارات پر جوتے پڑ رہے ہیں۔ہم نے مدارس کے تحفظ پر کانفرنسیں کی،کئی تنظیموں نے مدارس کے وفاق بنائے مگر آج مدارس کا جو حال ہے وہ ہم دیکھ رہے ہیں،اب اوقاف کو بچانے کی ٹھانی ہے دیکھیے اس کا کیا حشر ہوتا ہے۔ان مثالوں سے میرا مدعا یہ نہیں ہے کہ یہ مہمات ضائع تھیں۔بلکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ ملت کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جو طریقہ کار ہم نے منتخب کیا ہے اور جس ٹکراؤ کے راستے کو ہم نے اختیار کیا ہے اور اس کے جو نتائج ہمارے سامنے آئے یا آرہے ہیں،ان پر ہمارے تھنک ٹینک کو غور کرنا چاہئے۔اگر اس کے مقابلہ میں کوئی بہتر راستا میسر ہو تو اس کواپنانا چاہئے۔مثلاً پہلے اپنی صفوں کو درست کرنا چاہئے،جو مطالبہ ہم حکومت سے کررہے ہیں،پہلے اس پر خود عمل کرنا چاہئے،ضروری ہو توعدلیہ سے رجوع کرنا چاہئے،سڑکوں پر آنے سے پہلے ذمہ داران حکومت سے بات کرنا چاہئے،آخر یہ حکومت ہمارے اپنے ملک کی ہی تو ہے۔مودی جی پورے ملک کے وزیر اعظم ہیں،ان سے ملاقات کرنے میں کیا حرج ہے؟ان کے وزراء سے ملاقات کرکے اپنے مسائل رکھنے میں کیا چیز مانع ہے؟یہ رویہ بالکل مناسب نہیں کہ کسی رہنما نے آواز دی اور بے سوچے سمجھے سڑکوں پر اترآئیں،ہوسکتا ہے اس رہنما کے اپنی کچھ سیاسی عزائم ہوں۔
آئی لو محمد ؐ پر چلنے والی احتجاجی تحریک جو کسی نامعلوم شخص کی طرف سے چند پوسٹرس سے شروع ہوئی تھی۔ آج اس کے نتیجہ میں ملک بھر میں 4505ایف آئی آر درج ہوچکی ہیں اور 265افراد گرفتار ہوچکے ہیں۔اگر ہم اس کو کانپور تک محدود رکھتے اور مکی زندگی کی طرح تحمل کا راستہ پناتے،جو نوجوان گرفتار ہوئے تھے،ان کو سمجھتے اور سمجھاتے،جن لوگوں نے شکایت کی تھی،ان سے ملاقات کرکے معاملہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو شاید یہ نوبت نہ آتی۔
سڑکوں پر اترنے کے بجائے ہر مسلمان یہ عہد کرتا کہ وہ رسول اکرم ؐ کی سیرت کا مطالعہ کرے گا۔روزانہ ایک حدیث پڑھے گا۔اس کی روشنی میں اپنا جائزہ لے گا۔اپنے طریقہ زندگی کو اسلام کے احکام کے مطابق ڈھالے گا۔اپنی شادی،بیاہ،اپنی تجارت اور تعلقات میں نبوی طریقہ اختیار کرے گا تو آپ چند سال میں ہی ایک انقلاب دیکھ لیتے۔یہ بات یاد رکھیے کہ موجودہ ہندوستان میں سڑکوں پر آکر آپ معصوم اور بے گناہ نوجوانوں کو اذیت دلوانے،نھیں جیل بھجوانے،ان کے کاروبار تباہ کرانے اوران کے مکانوں پر بلڈوزر چلوانے کے سوا کچھ نہیں پاسکتے۔ہاں خود کی کمزوریاں دور کرکے،ایک اچھا بااخلاق مسلمان بن کر اپنی دنیا بھی سنوارسکتے ہیں اور آخرت بھی۔آپ شریعت کی طرف سے موجودہ حالات میں کسی طرح تصادم کا راستہ اپنانے پر مجبور نہیں ہیں۔اسی کے ساتھ مجھے معاف کیجیے جن قائدین کے اشاروں پر آپ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نکل آتے ہیں،ان کے عزائم اور منصوبے کچھ اور ہیں،جو ہمیں نظر نہیں آتے۔پہلے خود کو بدلئے،پھر نظام گلشن کو بدلنے کا عزم کیجیے۔تصادم کے راستے سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کیجیے،دو کڑوی برداشت کرلیجیے۔یہ زمانہ ہے جو بدلتا رہتا ہے۔وقت آپ کو بھی ایک دن موقع ضرور دے گا۔یہاں نہیں تو آخرت میں ظالم اپنا انجام ضرور بھگتیں گے۔چاہے وہ ہم میں سے ہوں یا غیروں میں سے۔آپ آئین کی پاسداری کیجیے،کوئی کرے یا نہ کرے۔انتظامیہ یا حکومت کے متعصبانہ اور غیرعادلانہ رویہ کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم قانون اور آئین پر عمل نہ کریں۔جس قوم کی حکومت ہوتی ہے، آئین کے دل میں اس کے لیے ہمیشہ نرم گوشہ پایا جاتاہے۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...