Skip to content
ظریفانہ: ہندو راشٹر اور منو سمرتی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن مشرا نے کلن پانڈے سےکہا یار یہ طالبان بھی غضب کی چیز ہیں ۔
کیوں بھیا یہ تمہیں کیا ہوگیا جو اپنے سب سے بڑے دشمن کی تعریف کرنے لگے کہیں دیوالی کے موقع پر ہولی کی بچی ہوئی بھنگ تو نہیں پی لی؟
نہیں بھائی میں سوچ رہا تھا کہ انہوں نے توپہلے اشتراکیوں اور پھر امریکیوں کو بھگاتے ہی فوراً اسلامی حکومت قائم کر دی مگرہم ۰۰۰۰۰
مگر ہم کیا؟ رک کیوں گئے ؟؟ ڈر گئے کیا؟؟؟بے دھڑک بولو میں تو تمہارا اپنا آدمی ہوں؟؟؟؟راہل کو نہیں بتاوں گا کہ وہ بات کا بتنگڑ بنادے ۔
للن بولا جانتا ہوں ۔ میں کہہ رہا تھا کہ آخر ہم سو سال میں بھی ہندو راشٹر کیوں نہیں بنا سکے ؟ ان صد سالہ تقریبات کا کیا فائدہ ؟
بھائی دیکھو ان میں اور ہم میں بہت بڑا فرق ہے اس لیے تمہیں اس طرح کا موازنہ نہیں کرنا چاہیے۔
اچھا! مجھے بھی تو پتہ چلے کہ کیا فرق ہے؟ مجھے تو ہندو راشٹر اور اسلامی حکومت کے قیام میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔
کلن بولا یہ سطحی مماثلت ہے۔ گہرائی میں جاوگے تو بہت بڑافرق واضح ہوجائے گا۔
اچھا ! تم ہی گہرائی میں غوطے لگا کر دوچار فرق بتا دو۔
دیکھو ایک فرق تو یہ ہے کہ انہوں نے پہلے انگریزوں پھر سوویت یونین اور امریکہ سمیت ناٹو کو شکست دی مگر ہم نےغیر ملکی سامراج کا ساتھ دیا۔
للن نے پوچھا مگر ہم نے طالبان کی طرح لڑائی کیوں نہیں کی؟
تم تو جانتے ہو کہ ہماری تعداد بہت کم ہے ۔ اس لیے ہم انگریزی سامراج سے کیسے لڑ سکتے تھے؟
ارے بھائی ہم 80 اور مسلمان 20 فیصد اس کے باوجود وہ لڑے اور ایک نیا ملک بھی بنالیاتوہمیں کیا ہوگیا تھا ؟
دیکھو بھائی مسلمانوں کے خلاف ہم 80 فیصد ضرور ہیں مگر ان میں اعلیٰ ذات کے لوگوں کی آبادی صرف 10فیصد اور90 فیصد تواچھوت ہیں۔
للن نے سوال کیا مگر الیکشن کے وقت تو ہم ان کو ساتھ لے لیتے ہیں۔
جی ہاں ہم نے انہیں گاندھی اور کانگریس سے متنفر کرکے ساتھ تو لے لیا مگران کے ساتھ گھل مل نہیں سکتے اس سے ہمارا دھرم بھرشٹ ہوجائے گا۔
لیکن اس طرح کی دوری اور نزدیکی سے کام کیسے چلے گا؟
بھائی اسی لیے تو ہم لوگ لڑ نہیں سکے۔ افغانستان میں یہ بھید بھاو نہیں ہے۔ وہاں تو پوری قوم نے متحد ہوکردشمن کا مقابلہ کیا اور کامیاب ہوگئے۔
للن نے کہا اچھا توپھر ہم لوگ ہر سال دسہرا کےدن ہتھیاروں کی پوجا کیوں کرتے ہیں؟
ہم اسلحہ کی پوجا اور استعمال کمزورطبقات مثلاً اقلیتوں اور نچلی ذات کے لوگوں کو کچلنے کے لیے کرتے ہیں ۔
ابھی تو کہہ رہے تھے کم تعداد میں ہونے کی وجہ سے ہم کمزور ہیں پھر دوسرے کمزوروں کے خلاف ہتھیار استعمال کرنے والی بات سمجھ میں نہیں آئی ؟
بھیا دیکھو فی الحال ہمارے پاس سرکار اور انتظامیہ کی طاقت ہے اور ہم اس کا استعمال کرکے کمزوروں کو اور بھی زیادہ کمزور کرنے کا کام کرتے ہیں ۔
لیکن اگر ہم نے ایسا کیا تو وہ ہمارے ساتھ کیسے آئیں گے اور نہیں آئے تو ہم مضبوط کیسے بنیں گے ؟
دیکھو بھیا جب تک ہمارے پاس طاقت ہے ہم اس کا استعمال کریں گے اور جب نہیں ہوگی تو طاقتور کے لیے استعمال ہوں گے ۔ کیا سمجھے ؟
جی ہاں اب سمجھا کہ ہم انگریزوں کے ہاتھوں استعمال ہورہے تھے ۔
صحیح سمجھے۔ افغانستان میں یہ تفریق و امتیاز نہیں ہے اس لیے انہوں نے لڑ کر اپنا نظام قائم کرلیا اور ہمارے یہاں یہ نہیں ہوسکا ۔
اچھا تو ہمارے ملک میں بھی جن لوگوں نے آزادی کی جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جیت کے بعد ان کی مرضی کے مطابق نظام حکومت قائم ہوگیا ۔
ہاں تو سمجھے جو لڑ کر جیت جاتا ہے اس کی مرضی کا نظام سیاست قائم ہوجاتا ہے
للن نے پھر سوال کیا اگرایسا ہے تو پھر ہماری حکومت کیسے قائم ہوگئ؟
انگریزوں کے بعد ملک میں اقتدار کی خاطرانتخابی جنگ شروع ہوئی اور نئی جنگ میں52 سال بعد ہمیں جزوی اور61برس کے بعدمکمل کامیابی مل گئی ۔
للن نے پوچھا اگرہم اپنا ہندو راشٹر قائم ہی نہیں کرسکے تو کامیابی کا کیا فائدہ ؟
دیکھو بھائی اگرہم علی الاعلان تو ہندو راشٹر قائم کریں گے تو اقتدار چلا جائے گا۔
وہی تو !اگر ہم اپنا نظام نافذ نہیں کرسکتے تو اقتدارکا کیا فائدہ؟
ارے بھیا براہ راست نہ سہی تو بلا اعلان چور دروازے سےاپنا مقصد حاصل کرنےکی حکمت عملی اختیارکی گئی ہے۔
للن بولا یہ حکمت ومصلحت کا معاملہ میری سمجھ میں نہیں آتا اس لیےآسان کرکے بتاو۔
بھائی دیکھو ہمارے ’منوواد‘ کی بنیاد تفریق و امتیاز پر ہے یعنی کچھ طبقات کو خصوصی مراعات اور باقی لوگوں کے حقوق میں کٹوتی ۔
جی ہاں شاکھا کی تربیت میں یہی بتایاگیا کہ دیوتا کے منہ سے پیدا ہونے والا پیر سے جنم لینے والے کے برابر نہیں ہوسکتا ۔
ایسا پچھلے جنم کے گناہوں کی پاداش میں ہوتا ہے اس لیےکوئی اپنے کرم (کام) کی بنیاد پر اسے بدل نہیں سکتا ۔
جی ہاں جو کوئی نچلی ذات میں پیدا ہوگیا تو اسے پچھلے جنم کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا ہی ہوگا ۔
بالکل صحیح سمجھے ۔ اسی عقیدے کی بنیاد پر ہم اپنے مظالم کو جواز فراہم کرتے ہیں اور یہی ہورہا ہے۔
کیسی باتیں کرتے ہو کلن ! ہماری سرکار نےجس آئین کو نافذ کرنے کا حلف لیتی ہے اس میں تو تمام انسان برابر ہیں ، ووٹ کا مساوی حق سب کو ہے ۔
کلن بولا جی ہاں انہیں کے ووٹ سے تو ہم سرکار بناکر ان پر مظالم ڈھاتے ہیں ۔اس لیے ووٹ کے حق پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
لیکن بھائی وہ ہمیں اپنے اوپر ظلم ڈھانے کے لیے ووٹ کیوں دیتے ہیں ؟
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں تقسیم در تقسیم کرکے آپس میں لڑا دیا ہے۔
جی ہاں یہ تو میں نے بھی دیکھا ہے کہ جب مظلوموں میں سے ایک ہمارے خلاف کھڑا ہوتا ہے توانہیں میں سے مخالف گروہ ہمارے ساتھ آجاتا ہے۔
بھیا’ کانٹے سے کانٹا نکالنا‘ اسی کو کہتے ہیں۔ اس کے لیے ’سوشل انجینیرنگ ‘ کی اصطلاح ایجاد کی گئی تاکہ انہیں کل پرزوں کی طرح استعمال کیا جاسکے۔
للن بولا جی ہاں اب سمجھا اسی حربے کاکمال ہے کہ رائے بریلی میں ’بابا والے‘ دلت والمیکی کا قتل کردیتے ہیں اور مایاوتی بابا جی کی تعریف کردیتی ہیں ۔
ارے بھیا اب تو ہمارا غلبہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ دلت چیف جسٹس کو جوتا مارنے کی ناکام کوشش کرنے والے کی خاطر پدم وبھوشن کا مطالبہ ہورہا ہے۔
جی ہاں میں بھی پریشان تھا کہ نہ تو اس کی جانب بلڈوزر گیا اور نہ اسے گرفتار کیا گیا ۔ وہ بڑی ڈھٹائی سے اسے دوہرانے کا چیلنج کررہا ہے۔
بھیا’ سیاّں بھئے کوتوال تو پھر ڈر کاہے کا؟ ‘ہماری سرکار نہ ہوتی تو وہ بھی یوگی بابا کی طرح گڑ گڑا کر رورہا ہوتا اور انتظامیہ کو اسے پاگل کہہ کر بچانا پڑتا۔
للن نے کہا ہاں بھیا مان گئے کہ ملک میں عملاً ہندو راشٹر نافذ ہوچکا ہے۔
ہریانہ میں پون کمار کی خودکشی اس کا سب سے بڑا ثبوت ہےکہ ایک ڈی جی پی کو پچیس سال کی ملازمت کے بعد خودکشی کے لیے مجبورکردیاگیا۔
جی ہاں اور ایسے میں جبکہ ان کی اہلیہ بھی چوتھائی صدی سے آئی اے ایس افسر ہے۔اس ابلہ ناری کو اگر انصاف نہیں ملتا تو عام دلت کو کیا ملے گا؟
بھیا ہمارے لوگ تو گوالیار کی عدالت میں ڈاکٹر امبیڈکر کا مجسمہ لگانے کی مخالفت کررہے ہیں جبکہ راجستھان میں منو کی مورتی لگی ہوئی ہے۔
للن جوش میں آکربولا یارعدالت کے اندرمنو سمرتی کے ساتھ منو کا گیارہ فٹ اونچا مجسمہ تو ہماری بی جے پی کا سب سے بڑاکارنامہ ہے۔
بھیا یہ کانگریس کا کارنامہ ہے کیونکہ اس وقت راجیو گاندھی وزیر اعظم اور انہیں کی پارٹی کے شیو چرن ماتھر وزیر اعلیٰ تھے۔
اچھا مگر دلت تنظیموں نے اس کی مخالفت کیوں نہیں کی ؟
انہوں نے تو ہائی کورٹ سے اس کو ہٹانے کا فیصلہ بھی کروالیا مگر وشو ہندو پریشد نے اس کے خلاف اپیل کردی اور وہ مقدمہ 36 سال سے معلق ہے۔
اچھا تو درمیان میں کوئی سنوائی نہیں ہوئی؟
2015میں سماعت کے دوران منو سمرتی کی قابل اعتراض اشلوک پیش کرنے پربرہمن وکیلوں نے شور شرابہ کرکے عدالتی کارروائی رکوا دی۔
کلن نے پوچھا مگر اس کے بعد بھی تو دس سال ہوگئے ہیں؟ لوگ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں گئے؟؟
جی ہاں دوسال قبل سپریم کورٹ میں اسے ہٹانے کی گہار لگائی گئی تو ہنگامہ کرنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی کیونکہ عدالت نےاسے مسترد کردیا۔
یار اگر ایسا ہے تو دلت سماج کبھی بھی ہمارے ساتھ نہیں آئے گا ۔
کلن نے کہا ہم بھی اسے دور رکھ کر اس کا ووٹ لینا اور حکومت کرنا چاہتے ہیں ۔
تب تو نہ ہم متحد ہوں گے اور ہندو راشٹر عالم وجود میں آسکے گا ۔
ہمارے لیے غیر اعلانیہ ہندو راشٹر کافی ہے ۔سیکولر جمہوریت میں بھی اگر منو سمرتی یعنی منو کی یاد اور تعلیمات نافذ ہوجاتی ہیں تو نام میں کیا رکھا ہے؟
للن مایوس ہوکر بولا ہاں مگر ایسا ہے تو ہم پانچ ہزار سال بعد بھی وہ نہیں کرسکیں گے جو طالبان نے پانچ منٹ میں کر دیا۔
Post Views: 24