Skip to content
جمعہ نامہ: اسی کشاکشِ پیہم سے زندہ ہیں اقوام
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط جما دے گا‘‘۔ دین اسلام پر صبرو استقامت اللہ تبارک و تعالیٰ کی عنایت ہے اور اسے اللہ کی مدد سے مشروط کردیا گیا ہے۔ کائناتِ ہستی کا ذرہ ذرہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم کا منتظر ہے اور ہر ’کن‘فوراً’فیکون‘ میں بدل جاتا ہے۔اس کے باوجود اہل ایمان کو اللہ کی مدد کرنے کا حکم اس کی حکمت کو سمجھنے کا متقاضی ہے۔ قرآن مجید میں اپنے معجزات پیش فرمانے کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ اسلام کی دعوت کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ :’’ اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ، لہٰذا تم اُسی کی بندگی اختیار کرو، یہی سیدھا راستہ ہے‘‘۔ یعنی تمام انبیا (علیہم السلام) کی طرح حضرت عیسیٰ ؑ نے بھی بندگی و اطاعت اور اخلاق و تمدن کے نظام کا اقتدارِ اعلیٰ صرف اللہ کے لیے مختص فرماکر نبیٔ وقت کی پیروی میں سرِ خم تسلیم کرنے کا حکم دیا ۔ اس کے بعد والی آیت دعوت کے ردعمل کا اظہار کرتی ہے۔ ارشادِ قرآنی ہے:’’جب عیسٰی نے محسوس کیا کہ بنی اسرئیل کفر و انکار پر آمادہ ہیں تو اس نے کہا ”کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہو تا ہے“؟ حواریوں نے جواب دیا”ہم اللہ کے مدد گار ہیں ، ہم اللہ پر ایمان لائے، گواہ رہو کہ ہم مسلم(اللہ کے آگے سرِ اطاعت جھکادینے والے )ہیں‘‘۔
مذکورہ بالا آیت ایک مثال کے ذریعہ اللہ کی مدد کا مطلب واضح کردیتی ہے۔ مولانا مودودی ؒ کے مطابق ’’ دین اسلام کی اقامت میں حصہ لینے کو قرآن مجید میں اکثر مقامات پر ’اللہ کی مدد کرنے‘سے تعبیر کیا گیا ہے۰۰۰۰ فہمائش اور نصیحت سے بندوں کو راہ راست پر لانے کی تدبیر کرنا، یہ دراصل اللہ کا کام ہے۔ اور جو بندے اس کام میں اللہ کا ساتھ دیں ان کو اللہ اپنا رفیق و مددگار قرار دیتا ہے۔ اور یہ وہ بلند سے بلند مقام ہے جس پر کسی بندے کی پہنچ ہو سکتی ہے۔ نماز، روزہ اور تمام اقسام کی عبادات میں تو انسان محض بندہ و غلام ہوتا ہے۔ مگر تبلیغ دین اور اقامت دین کی جدوجہد میں بندے کو خدا کی رفاقت و مددگاری کا شرف حاصل ہوتا ہے جو اس دنیا میں روحانی ارتقا کا سب سے اونچا مرتبہ ہے‘‘۔ دنیا میں سارے لوگ اس مقامِ بلند سے نہیں نوازے جاتے بلکہ بہت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ان منکرین حق کی بابت فرمانِ ربانی ہے:’’رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے، تو اُن کے لیے ہلاکت ہے اور اللہ نے ان کے اعمال کو بھٹکا دیا ہے‘‘۔ آگے اس گمراہی کی یہ وجہ بتائی گئی کہ :’’انہوں نے اُس چیز کو ناپسند کیا جسے اللہ نے نازل کیا ہے، لہٰذا اللہ نے اُن کے اعمال ضائع کر دیے‘‘۔ یعنی یہ ان کے اپنے کفرانِ نعمت ِ خداوندی کی سزا ہے۔
فی الحال افغانستان کی وزیر خارجہ امیر خان متقی ہندوستان کے دورے پر ہیں ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا ’’ ہمیں چھیڑنے سے پہلے انگریزوں ، سوویت یونین، امریکہ اور نیٹو سے پوچھ لو۔” متقی سے قبل برطانیہ کے وزیر اعظم نے ہندوستان کا دورہ کیا اور وہ ممبئی بھی آئے مگر کسی کو پتہ ہی نہیں چلا ۔ ان کا دورہ اس قدر غیر مقبول تھا کہ ممبئی یا دہلی کے عام لوگوں سے برطانوی وزیر اعظم کا نام پوچھا جائے تو بہت کم لوگ صحیح جواب دے سکیں گے ۔ اس کے برعکس امیر خان متقی پورے میڈیا پر چھا گئے ۔ ان کی دو عدد پریس کانفرنس کے کئی جوابات کو تو بڑے بڑے میڈیا چینلس نے الگ سے پیش کیا اور سارے ہی مبصرین نے اس دورے کو موضوعِ بحث بنایا۔ اس موازنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انگریزی سامراج جس کا سورج غروب نہیں ہوتا تھا اب برطانیہ کے حدود میں سمٹ گیا ہے ۔اس کے وزیر اعظم کا دورہ افغانی وزیر خارجہ کے سامنے پھیکا پڑجاتا ہے۔ ماضی میں بھی افغانیوں نے اپنی سرزمین پر برطانیہ کو شکست سے دوچار کیا تھا اور اب سفارتی میدان میں بھی وہی ہوا۔ ارشادِ قرآنی ہے :’’ کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہ تھے کہ اُن لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟ اللہ نے اُن کا سب کچھ اُن پر الٹ دیا، اور ایسے نتائج اِن کافروں کے لیے مقدر ہیں‘‘۔
برطانیہ اور روس دنیا کے نقشے پر موجود تو ہیں مگر برطانوی سامراج اور سوویت یونین کہیں دکھائی نہیں دیتا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ہماری آنکھوں کے سامنے ایک عبرتناک انجام سےدوچار کردیا۔ اس کے بعد امریکہ بہادر بھی نیٹو سمیت لاو لشکر کے ساتھ افغانستان میں وارد ہوا مگر اسے بھی بے سرو سامان مجاہدین نے ذلیل و رسوا کرکے بھاگنے پر مجبور کردیا ۔ یہ اس لیے ممکن ہوسکا کیونکہ: ’’ ایمان لانے والوں کا حامی و ناصر اللہ ہے اور کافروں کا حامی و ناصر کوئی نہیں‘‘۔ آگے اللہ کی راہ میں جہادکرنے والوں کو جنت کی بشارت اس طرح دی گئی کہ:’’ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ اُن جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اور کفر کرنے والے بس دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں، جانوروں کی طرح کھا پی رہے ہیں، اور اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے‘‘۔ سلسلۂ کلام کے دوران یہ آیت اہل ایمان کو حقیقی کامیابی کی جانب متوجہ کرتی ہے مگر اس کے بعد پھر فرمایا:’’ اے نبیؐ، کتنی ہی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو آپ کی اُس بستی سے بہت زیادہ زور آور تھیں جس نے آپ کو نکال دیا ہے اُنہیں ہم نے اِس طرح ہلاک کر دیا کہ کوئی ان کا بچانے والا نہ تھا‘‘۔ اللہ تبار ک و تعالیٰ کی اس سنت کا اعادہ حضرت داود ؑ کے زمانے میں ہوا تھا اور نبی کریم ﷺ کے دور میں بھی ہوچکا ہے لیکن یہ سلسلہ کبھی بند نہیں ہوگا بلکہ تا قیامت جاری رہے گا ۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں ؎
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مُصطفویؐ سے شرارِ بُولہبی
اسی کشاکشِ پیہم سے زندہ ہیں اقوام
یہی ہے رازِ تب و تابِ مِلّتِ عربی
Like this:
Like Loading...