Skip to content
اسلامی لباس عہد در عہد
ازقلم:محمد ادیب الدین انعامدار بھوکر
شعبہ افتاء
مدرسہ اشرف العلوم حیدرآباد
جب انسانی تاریخ نے آنکھ کھولی، تو حیاء پہلی سانس تھی، اور لباس اس کا پہلا مظہر۔ آدم صفی اللہ علیہ السلام نے جب خطا کے بعد جنت کے پتوں سے ستر ڈھانپا، وہ لمحہ دراصل انسانی فطرت کی پکار تھی — کہ لباس محض کپڑا نہیں، بلند تہذیب کا استعارہ ہے، عصمت کا علمبردار ہے، اور شعورِ عبودیت کی علامت ہے۔
اسلام، جو دینِ فطرت ہے، اس نے لباس کو جسمانی ضرورت کے درجے سے بلند کر کے ایمان کی شاخ بنا دیا۔ قرآن نے لباس کو زینتاً (آرائش) کہا، تو وہیں اسے لباس التقویٰ (تقویٰ کا لباس) کہہ کر روحانی عظمت عطا کی۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے عمل و ارشادات سے ہمیں لباس کے وہ معیارات عطا کیے جو اعتدال، وقار، نظافت، اور امتیازِ اُمت پر قائم ہیں۔
چنانچہ اللہ تبارک و تعالی نے قرآن کریم میں اس مفہوم کو اس طرح بیان کیا،
یابني آدم قد انزلنا عليكم لباسا یواري سواتكم وريشا ولباس التقوى ذلك خير،
ترجمہ: اے بنی ادم ہم نے تم پر ایسا لباس نازل کیا ہے جو تمہارے پوشیدہ اعضا کو چھپاتا ہے اور تقوے کا لباس وہ خیر ہے۔،(سورۃ اعراف، پ:٨،آیت:٢٦).
اس آیت میں لباس کو تین پہلوؤں سے بیان کیا گیا،١۔ ستر پوشی،٢۔ زینت،٣۔ تقوی۔ اسلام لباس کو نہ صرف ایک تمدنی ضرورت بلکہ ایک عبادت اور اخلاقی ذمہ داری سمجھتا ہے، اس کی بنیاد حیاء، عفت اور انفرادیت پر ہے نہ کہ صرف نمائش فیشن اور تقلید پر۔
انسانی تاریخ میں لباس کی ابتداء آدم علیہ السلام سے ہوئی جب جنت میں ان کے لباس اتارے گئے تو انہوں نے فوراََ پتے ڈھانپ کر بدن ڈھپنے کی کوشش کی، چنانچہ اس واقعے کی سورہ اعراف میں اس طرح عکاسی کی گئی،
يا بني ادم لا يفتي لانكم الشيطان كما اخرج ابويكم من الجنه ينزع عنهما لباسهما ليريهما سواتهما انه يراكم هو وقبيله من حيث لا ترونهم،(سورۃ اعراف ،پ:٨،آیت:٢٧).
اسلام نے جہاں ایمان،نماز،زکوۃ کی اہمیت بتائی وہیں لباس کے آداب اور حدود کو بھی واضح کیا حدیث مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،الحیاء شعبۃ من الایمان ( صحیح بخاری جلد:١، کتاب الایمان،ح:٢٤، دفاع حدیث انٹرنیٹ)
ترجمہ: حیا ایمان کا جز ہے۔
لباس کا فقہی تصور ویسے ظاہری پوشاک نہیں بلکہ حدود شرعیہ کے اندر رہتے ہوئے ایسا لباس پہننا ہے جو،١- بدن کے شرعی حصے کو ڈھانپے والا ہو،٢- غیر اقوام کی مشابہت نہ رکھتا ہو،٣- فخر،شہرت یاریاکاری کا سبب نہ بنے،٤- مرد و زن کی تمیز برقرار رکھیں-( فتوی بنوری ٹاؤن)
چنانچہ فقہاء نے اس پر تفصیلی ابواب قائم کئیے ہیں جیسے کتاب العباس کتاب الستر وغیرہ-
لباس قران کریم کی نظر میں:
اسلام میں لباس کو جس عظمت وہ تقدس سے دیکھا گیا ہے اس کی اصل جڑ قرآن کریم کی تعلیمات میں پیوست ہے، قرآن کریم نے لباس کو نہ صرف انسانی فطرت کا حصہ قرار دیا بلکہ اس کی جہات کو ایک وسعت دی جو کہ روح ظاہر و باطن سب کو محیط ہے۔
قرآن کریم میں سب سے پہلے لباس کا صریح حکم وہ ہے جو آدم علیہ السلام اور حوا علیہ السلام کیےجنت سے تنزل کے واقعے میں وارد ہوا ارشاد ربانی ہے، فلما ضاق الشجرۃ بدت لهما سواتهما يخسفان عليهما من ورق الجنۃ( سورہ اعراف،پ:٨،ت٢٦ )
یہ آیت لباس کے فطری اثاث کو نہایت عمدگی سے واضح کرتی ہے انسان کے اندر ستر پوشی کا داعیہ کوئی مصنوعی تقاضہ نہیں بلکہ فطرت انسانی کا لازمی جز ہے چنانچہ اسلامی فقہ کا اصول ہے کہ،الستر واجب بالعقل ولشرع ۔ یعنی عقل و شریعت دونوں کے تقاضوں سے ستر پوشی واجب ہے۔
اسی سورۃ اعراف میں آگے ارشاد فرمایا گیا ہے۔
يا بني آدم قد انزلنا عليكم لباسا يواري سواتكم وريشۃ ولباس التقوى ذلكم خير( سورہ اعراف،ت:٢٢ ).
اس آیت میں لباس کو دو اجزائے ترکیبی کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے،
١- جو بدن کے قابل شرم حصوں کو چھپاتا ہو اور ظاہری زینت کا باعث بنتا ہو-
٢- لباس باطنی: جو تقوی کی علامت اصل میں روحانی لباس کہلاتا ہے۔
امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر مفاتیح الغیب( تفسیر کبیر) میں لکھا ہے، انزل عليكم لباسين: لباسا يواري سواتكم، ولباس يزينكم لان الزينه غرز صحيح( مفاتيح الغيب، امام رازي، سورۃ اعرف،ج:١٤،ص:٥٥)
قرآن کریم نے نہ صرف لباس کے جواز کا بیان کیا بلکہ اس کے شرائط اور حدود بھی متعین فرمائیں سورۃ النور کی مشہور آیت، ولا يبدينا زينتهن الا ما ظهر منها۔( سورۃ النوۃ،ت:٣١)
یہ آیت خواتین کے لیے حدود طے کرتی ہے کہ عورت اپنی زینت کو غیر محرم مردوں پر ظاہر نہ کرے سوائے اس کے جو مجبوری یا عرف کے لحاظ سے کھلا ہوتا ہے جیسے چہرہ ہاتھ کا منگٹ وغیرہ۔
قرآن کا اسلوب لباس کے معاملے میں نہایت حکیمانہ اور توازن پر مبنی ہے، نہ بےجا سختی نہ آزادی مطلق بلکہ حیا،عدل روحانیت،تہذیب امتزاج والا لباس ہو جو مقصود اوپر بیان کیا گیا تھا یعنی بدن کے شرعی حدود کو ڈھانپنے والا ہو فتنے سے محفوظ رکھنے والا ہو غیر قوموں سے گمراہ لوگوں کی مشابہت سے خالی ہو مرد عورت کی فطری تمیز کو برقرار رکھیں، یہ وہ بنیادی پہلو ہے جن پر فقہا نے اپنی فقہی ترتیب کا مدار رکھا ہے اور کتاب اللباس جیسے ابواب کو مرتب کیا جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ لباس کا مسئلہ محض فرد واحد کا نہیں پوری انسانیت کو محیط ہے۔
لباس کی کیفیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مسعود میں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ وہ مقدس دور تھا جس میں اسلامی تعلیمات کا براہ راست نزول ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لباس کھانے اور رہنے سہنے،معاملات،عبادات اور زندگی کے تمام پہلوؤں میں عملی نمونہ پیش فرمایا، لباس کے باب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کی عمومی نوعیت سادگی،صفائی ستھرائی اور اعتدال پر مبنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی تہبند کبھی ازار کبھی قمیض اور کبھی جبہ پہنتے تھے، موسم،سفر،عبادت اور میل ملاقات کے اعتبار سے لباس میں تنوع ہوتا تھا۔(اللباب المحمود ، مفتی ابوالکلام صاحب مظاہری، باب دوم،ص:٥٢)
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص فخر یا شہرت کی نیت سے لباس پہنے اللہ اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا۔ ( بذل المجہود، کتاب اللباس،ج:١٢،ص:٥٨)
محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سادہ لباس پسند فرماتے اور اس میں عجز و انکساری جھلکتی تھی،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہے،ما خیر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين شيئين الا اختار ايسرهما ما لم يكن اثما۔
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو چیزوں میں سے اسان جو چیز ہوتی اس کو اختیار کرتے جب تک کہ اس میں کوئی گناہ نہ ہو۔( صحیح البخاری، کتاب المناقب،ح:٣٥٦٠: موسوعۃ الحدیث، انٹرنیٹ سائیٹ)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی اور اور تزین پرستی سے دوری پر حضرت حفصہ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے درمیان کا یہ مکالمہ شاہد ہیں،
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا سے دریافت کیا کہ تمہارے گھر میں کون سا ایسا لباس تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سب سے عمدہ تھا کیونکہ تم انہیں مجھ سے بہتر جانتی ہو تو انہوں نے فرمایا دو گیری رنگ کے کپڑے آپ نے رکھے ہوئے تھے جب کوئی سفارت والا ملتا یا آپ کو کہیں خطبہ کے لیے جانا ہوتا تو وہ پہن لیتے۔( حضرت عمر فاروق، حکیم الامت لائبریری، کتاب نمبر:٦٣٧١)
اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لباس میں کچھ چیزیں پسند بھی تھی،جیسے کہ قمیض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب لباس تھا اور عورتوں کے لیے آپ نے شلوار کو نہایت اہمیت دی ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ایک عورت گر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے چہرہ پھیر لیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اے اللہ کے رسول وہ عورت تو شلوار پہنی ہوئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ!میری امت میں جو عورتیں شلوار پہنتی ہے ان پر رحم فرما۔
علي رضي الله عنه كنت قاعدا عند النبي صلى الله عليه وسلم عند البقيع- يعني بقيع الغرقد- في يوم مطر، فمرت امراه على حمار ومعها مكار، فمرت من هذه الارضه فسقطت، فاعرض عنها عن وجهه، فقالوا يا رسول الله انها متسروله، فقال اللهم اغفر متسرولات من امتي( مجمع الزوائد ومنبع الفوائد،ج:٥،ص:١٢٢) ( استفاد از: فتاوی بنوری ٹاؤن، لباس کے شرعی احکام،١٠جولائ،٢٠٢٥)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اوقات یمنی چادر بھی پہنی اور کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بہت پسند تھی چنانچہ اس سلسلے میں حدیث ہے، عن انس بن مالك رضي الله عنه، قال: قلت له اي ثياب كان احب الى النبي صلى الله عليه وسلم ان يلبسھا؟قال الحبرۃ،
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا کپڑا سب سے زیادہ پسند تھا تو انہوں نے فرمایا کہ یمنی چادر-( شمائل ترمذی، ح:٥٨١٢، موسوعۃ الحدیث الاسلامیہ ان لائن)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید رنگ کو سب سے زیادہ محبوب بیان فرمایا اور اس میں اپنے مردوں کو کفن دینے کی ترغیب فرمائی چنانچہ ترمذی کتاب الجنائس ابو داؤد کتاب اللباس ابن ماجہ کتاب الجناںٔس میں اس طرح کی روایات وارد ہوئی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھیسیاہ کبھی سبز چادر اور بعض اوقات سرخ دھاری دار لباس پہنا کرتے تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایسے لباس کو پسند نہیں فرمایا جس میں تکبر نمایاں ہوتا ہے۔
(۔ دار الفکر،ج:٥،ص:٥٢٢،باب العمامہ, حوالہ ڈالنا ہے عربی عبارت)
الحاصل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس زندگی کے دیگر پہلو کی طرح کامل ترین اسوہ ہے اس میں صفائی سادگی وقار اور شرعی حدود کا مکمل لحاظ تھا رنگگ،نوعیت،کپڑے کی قسم،پہننے کا انداز،ہر شے میں امت کے لیے عملی رہنمائی موجود ہے۔
اسلامی لباس صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں
اسلامی تہذیب کی بنیاد جس اسوۂ نبوی پر رکھی گئی، اس کا کامل و کامل تر عملی مظہر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیاتِ طیبہ میں متجلی ہوتا ہے۔ یہ وہ نفوسِ طاہرہ تھے جنہوں نے نہ صرف عقائد و عبادات بلکہ تمدن و معاشرت، حیا و لباس، اور شعائر و شعور میں بھی نبوی تعلیمات کو حرزِ جاں بنایا۔ لباس، جو بظاہر ایک عرفی و تمدنی شَئ ہے، صحابہ کے ہاں شریعت کی لطیف روح اور طہارتِ باطنی کا ایک زندہ ترجمان بن کر ظاہر ہوا۔ ان کا ملبوس نہ صرف ساتر و مباح ہوتا بلکہ اس میں "کتاب اللباس” کے وہ دقیق اسرار جھلکتے تھے جن کا تعلق مقاصدِ شریعت، میزانِ اعتدال اور قواعدِ تزکیہ سے استوار تھا۔ نہ اس میں اسراف کا شائبہ تھا، نہ تکلف کی چھاپ؛ نہ تجملاتِ باطلہ کی آمیزش تھی، نہ لباسِ شہرت کی قباحت۔ گویا ان کے جامے فقہی بصیرت کے جامِ حکمت میں ڈوبے ہوئے تھے، جو ہر دور کے لیے اسوہ و میزان قرار پاتے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے لباس کی ساخت سادگی، وقار اور فطری اعتدال کا حسین نمونہ تھی۔ ان کے ملبوسات عام طور پر قمیص، تہبند اور اوپری چادر پر مشتمل ہوتے، جو نہایت ستھری وضع کے ساتھ جسم کو ڈھانپنے اور وقار کو نمایاں کرنے کے لیے کافی ہوتے تھے۔ قمیص گھٹنوں تک یا اس سے کچھ نیچے ہوتی، تہبند جسم کے نچلے حصے کو مکمل طور پر چھپاتا، اور اوپری چادر یا رداء جسم پر اس انداز سے لپیٹی جاتی کہ سلیقہ، حیا اور وقار جھلکتا۔ رنگ و روپ میں سادگی، کپڑے میں نرمی اور انداز میں پاکیزگی ہوتی۔ ان کا لباس معاشرتی اعتدال، دینی شرافت اور شخصی نفاست کا ایک لطیف امتزاج ہوتا، جو دیکھنے والے پر خاموشی سے اثر چھوڑتا اور اسلامی تہذیب کی ترجمانی کرتا تھا۔
چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ آتا ہے کہ شریعت کے عین مطابق لباس پہنتے اگر تکبر کا شائبہ بھی ہوتا تو بہت گھبراتے چنانچہ اس سلسلے میں ایک واقعہ سیرت کی کتابوں میں وارد ہوا ہے،کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ یہ تم نے فرمایا جو شخص اپنے کپڑے از راہ تکبیر کھسیٹتے ہوئے چلتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں کریگا۔ صدیق اکبر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے کپڑوں کا ایک پہلو کبھی کبھی لٹک جاتا ہے تو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ حکم تمہارے لیے نہیں۔( صدیق اکبر، مولانا سعید احمد اکبر ابادی، مکتبہ: ندوۃ المصنفین اردو بازار جامع مسجد بھوکر)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ چہ جائیکہ سب سے بڑی مملکت اسلامیہ کے خلیفہ رہے ہوں لیکن ان کے کپڑوں کے بارے میں آتا ہے کہ نہایت سادہ لباس استعمال کیا کرتے تھے چنانچہ اس سلسلے میں ایک بات منقول ہے، حضرت عمر کی یہ حالت تھی کہ قناعت اور بقدر کفاف پر راضی ہوتے کہ اس قدر چیز لیتے تھے کہ جس سے بھوک بند ہو جاوے اور بطن ڈھک جاوے اور مناقب میں حسن سے مروی ہے کہ ایک دن آپ نے وعض کیا اور آپ خلیفہ تھے تو آپ کی تہبند پر بارہ ٹاکیاں لگی ہوئی تھی نیز اس میں آب عثمان ہندی سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا اور آپ کی ازار پر ١٢ ٹکڑے لگائے ہوئے تھے جن میں سے ایک چمڑے کا تھا نیز اس میں قتادہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ جمعہ کی نماز کے واسطے لوگ حضرت عمر کا انتظار کرتے رہے اور آپ بڑی دیر کرکے آۓ، لوگوں کے اگے دیر کرنے کا عذر بیان کیا کہ مجھے اس کپڑے کے دھونے نے روک رکھا۔( حکیم الامت لائبریری، کتاب نمبر:٦٣٧١)
محض ان حضرات کا ہی نہیں بلکہ تمام عرب کا یہ دستور تھا کہ وہ سادہ لباس کو اپنا شعار بنائے ہوئے تھے، جس کا عینی مشاہدہ تمام دنیا کرتی تھی جس کے مثال یہ واقعہ ہے،
عہد فاروقی میں جب حضرت ربعی رضی اللہ عنہ ایک لشکر لے کر رستم کے دربار میں حاضر ہوئے تو رستم نے اپنے لوگوں سے یہ اعلان کیا کہ تم پر بڑا افسوس ہے کہ تم ان کے کپڑوں کی طرف نہ دیکھو لیکن ان کی رائے اور ان کے کلام اور ان کی عادت کی طرف دیکھو عرب لباس اور کھانے کی زینت کو ہلکا خیال کرتے ہیں اور اپنی شرافت ذاتی کی حفاظت کرتے ہیں اور یہ تمہارے جیسے لباس میں نہیں ہیں اور یہ لباس کو اس نظر سے نہیں دیکھتے جس سے تم دیکھتے ہو۔(حیاۃ الصحابہ،حضرت جی مولانا یوسف صاحب کاندھلوی، ادارہ اشاعت دینیات نظام الدین نئی دہلی،ص:٧٧٩)۔
اگرچہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم زہد و تقویٰ کے باعث نہایت سادہ لباس اختیار فرماتے تھے، لیکن یہ سمجھنا درست نہ ہوگا کہ تمام صحابہ کا معمول یہی تھا۔ درحقیقت، بعض جلیل القدر صحابہ نہایت عمدہ اور قیمتی لباس زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کہ انہوں نے یمن کی نفیس چادر سے ایک دور میں ناک صاف کی، جواس دیار میں بہت کم دستیاب تھی۔ اسی طرح حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، مکہ مکرمہ میں سب سے بیش قیمت لباس پہننے کے لیے مشہور تھے۔
اہلِ عرب کے معاشرتی طبقات میں ایک قابلِ توجہ امتیاز یہ تھا کہ ان میں ایک جماعت ایسی تھی جو ظاہری زیب و زینت اور لباس کی نفاست کو ترک کر کے زہد و تقویٰ اور سادگی کو شعار بناتی تھی، حتیٰ کہ وہ اپنے لباس میں بھی محض ستر پوشی اور سادگی کو ملحوظ رکھتی۔ اس کے بالمقابل دوسرا طبقہ وہ تھا جو لباس میں جمالیات، نفاست اور رغبتِ نفس کو اہمیت دیتا اور عمدہ و قیمتی ملبوسات زیبِ تن کرتا، تاہم یہ سب کچھ کسی افراط و اسراف کے بغیر ہوتا۔
اس کے برعکس عجم کی اقوام—خصوصاً فارس، روم اور قبط—میں لباس کے معاملے میں ایک عمومی روش یہ رہی کہ سادہ لباس یا فقیرانہ وضع قطع کو ناپسند کیا جاتا۔ ان کے ہاں لباس صرف ستر پوشی کا ذریعہ نہیں بلکہ تفاخر، معاشرتی حیثیت اور جمالیاتی ذوق کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ ان کے یہاں سادگی سے زیادہ قیمتی، رنگین اور خوشنما ملبوسات کا رواج پایا جاتا، جو ان کے ذاتی افتخار اور قومی تشخص کی علامت بن چکے، چنانچہ اسی طرح کا ایک واقعہ تاریخ میں ملتا ہے،
کسی چیز میں اہل فارس نے اپنے عمدہ لباس وغیرہ میں سے تبدیلی نہیں کی تھی صحابہ کہ اہانت کو قوی کرنے کے لیے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ ائے اور قوم اپنے لباس میں تھی وہ سب تاج پہنے ہوئے تھے اور سونے کے تار سے بنے ہوئے کپڑے ایسے فرش اور گدھوں پر تھے جو چار چار سو قدم تک پھیلا ہوا تھا۔( حیات الصحابہ، حضرت جی اول حضرت مولانا یوسف صاحب کاندھلوی، ندوۃ المصنفین نیو دہلی،ص:٧٨٠)۔
تابعین اور تبع تابعین کے دور میں لباس کی نوعیت:
اسلامی معاشرت کی تاریخ میں تابعین اور تبع تابعین کا دور وہ زریں زمانہ ہے جب دینی تعلیمات نہ صرف محفوظ ہوئیں بلکہ عملی زندگی میں ان کا گہرا اثر بھی نمایاں نظر آیا۔ اسی دور میں لباس کے سلسلے میں بھی مختلف مزاج اور رجحانات سامنے آئے۔ بعض حضرات نے دنیا سے بےرغبتی، زہد و تقویٰ، اور انکساری کے جذبے کے تحت سادہ اور معمولی لباس کو اختیار کیا۔ وہ اس سادگی کو روحانی بلندی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ دوسری جانب کچھ اہلِ علم و فضل ایسے بھی تھے جو صاف ستھرا، قیمتی اور خوبصورت لباس زیب تن کرتے تھے، اور اسے اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھ کر شکر کا اظہار گردانتے تھے۔ ان کے نزدیک خوش لباسی دین کے وقار، علم کی عزت، اور جمالیاتی حسن کا ایک پہلو تھی۔
چنانچہ ابراہیم بن یزید تیمی کے لباس کا سلسلے میں اتا ہے بڑے عابد وہ زاہد تابعی تھے ان کے لباس تک پر ان کی سردت کا اثر ظاہر نہ تھا ایک مرتبہ ابراہیم نے ان کے جسم پر روئی کا معمولی کرتا جس کی استین لٹکی تھی دیکھا۔( تذکرہ تابعین، مولانا معین الدین احمد ندوی، دارالمصنفین اعظم گڑھ،ص:١)
ابراہیم بن یزید النخعی کے لباس کے سلسلے میں یہ بات اتی ہے نہایت خوش لباس تھے رنگین اور بیش قیمت پوشاک پہنتے تھے زعفرانی اور سرخ لنکا لباس استعمال کرنے میں بھی مضائقہ نہ سمجھتے تھے جورڈن کے لباس میں ثمود کی سمجھا لگی ہوتی تھی سمور کی ٹوپی دیتے تھے امامہ بھی باندھتے تھے لوہے کی انگوٹھی پہنتے تھے۔( وحی کتاب جو اوپر گزری،ص:/١١)
اسود بن یزید کے لباس کے سلسلے میں اتا ہے کہ اخر عمر میں بال سفید ہو گئے تھے سر اور داڑھی دونوں میں زر و خضاب کرتے تھے کوچی ٹوپی پہنتے تھے سیاہ رنگ کا امامہ باندھتے تھے اس کا شملہ پیچھے پڑا رہتا تھا۔( وہی کتاب،ص:٢٨)
نافع بن جبیر جو کہ مشہور تابعی ہے ان کا لباس عموما سفید اور قیمتی تھا خز جو ایک بیش قیمت کپڑا ہے زیادہ اس استعمال کرتے تھے۔( وہی کتاب،ص:٤٩٨)
علی بن حسین رضی اللہ عنہما جو کہ ایک بہت جلیل القدر صحابی ہے ان کے لباس کے سلسلے میں اتا ہے کہ نہایت خوش لباس تھے خز کا جو کہ بیش قیمت کپڑا ہے جبہ اور اسی کی چادر استعمال کرتے تھے ایک ایک چادر کی قیمت 50 50 اشرفی تک ہوتی تھی اور محض ایک موسم میں استعمال کر کے اس کو بیچ کر قیمت خیرات کر دیتے تھے سردیوں میں لومڑیوں کا سمور استعمال کرتے تھے رنگوں میں سفید سرخ اور سیاہ ہر قسم کا رنگ پسند تھا گول سرکی جوتی پہنتے تھے۔( وہیں کتاب،ص:٣١٢)
یہ جو رہن سہن بودوباش قناعت و فراوانی بذر و تبذیر اور سادگی اور تزین میں جو تفاوت نظر ارہا ہے وہ کسی شرعی اختلاف اور تنازع کی بنا پر نہیں بلکہ مزاج کے متفاوت ہونے کی جہاں سے تھا تا ہم اسی دور میں وہ اشخاص بھی تھے جنہوں نے اپنے مال وہ ثروت کے نشے میں چور ہو کر تزین اور تفاخر کو اپنا جامع خاص متعین کیا جیسے کہ بنو امیہ کے بارے میں اتا ہے، کہ، ابتدا اسلام اور خلافت راشدہ کے زمانے میں مسلمانوں کی زندگی نہایت سادہ اور ان کے ضروریات زندگی محدود تھی عہد بنو امیہ میں سامان عائش کا استعمال شروع ہوا اور وہ سپاہی انا انداز جو پہلے موجب فخر تھا بتدریج مٹتے مٹتے ہونے لگا خوبصورت لباس پرتکلف مکانات اور زیب و زینت کے سامان ضروریات زندگی میں داخل ہونے لگے اور اسی طرح مسلمانوں کے اندر صدیق و فاروق اور خالد و ضرار کے نمونے کم نظر انے لگے( تاریخ الاسلام، مولانا اکبر نجیب ابادی،ج:٢،ص:٤٩٥، عبداللہ اکیڈمی )
ان کے بعد بنو عباس پھر سے وہیں زہد و تقوی اختیار کرنے لگے یہاں تک کہ ان کی شباہت کو دیکھ کر کوئی بھی یہ اطمینان بخش جواب دے سکتا تھا کہ وہ ایک عادل زاہد مسلمان ہیں چنانچہ 23 شوال کو امیر رکن الدین بیرس جاشنگیر سے بیت لی گئی ہے اور الملک المظفر کا لقب دیا گیا خلیفہ نے اسے ایک سیاہ خلعت اور گول عمامہ پہنایا اسی سال وزیر نے ذمیوں کو سفید پگڑیا باندھنے کی اجازت دینے میں گفتگو کی۔( تاریخ الخلفاء، علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ تعالی،ص:٦٥٤)۔
مولانا عبدالماجد دریا ابادی اپنے والد کے رہن سہن اور لباس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ، خوشنما داڑھی اخری عمر میں خضابی لباس میں اچکن پاجامہ گرمیوں میں دو پلی ٹوپی جھاڑو میں کبھی سیاہ ایرانی ٹوپی اور کبھی بادامی یا سبز رنگ کا انا جو ان کے گول چہرے پر بہت بھلا لگتا پہنتے تھے۔( اپ بیتی،عبدالماجد دریا ابادی، مکتبہ فردوس مکارم نگر برولیہ لکھنو،ص:٣٥)
مذکورہ بالا تمام تر تفصیلات سے یہ بات روز روشن کی طرح ایا و بیاں ہیں کہ،تاریخ کے ہر دور میں صلحاء اور اہل دنیا کے لباس میں نمایاں فرق رہا ہے۔ صلحاء کا لباس ہمیشہ زہد، سادگی، اور شریعت کی حدود کے اندر رہا، جب کہ اہل دنیا کا لباس ان کے مزاج، خواہشات، اور تمدنی میلانات کے تابع رہا۔ دین دار طبقہ لباس کو صرف ستر پوشی، تواضع، اور عبودیت کا ذریعہ سمجھتا رہا، جب کہ دنیا پرست اقوام نے اسے اظہارِ فخر، زینت، اور نفسانی رغبت کا آلہ بنا لیا۔
یہ معاملہ کسی ایک دور یا قوم تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر زمانے میں یہی تقسیم قائم رہی۔ اہل تقویٰ کا لباس سادگی و وقار کا ترجمان ہوتا، اور اہل دنیا کا لباس نمائش، تفاخر، اور لذت پسندی کا مظہر بنتا۔ اس اصول میں نہ کوئی تبدیلی آئی، نہ وقفہ۔ لباس ہمیشہ انسان کے باطن، رجحان اور تعلق باللہ یا بعد عن اللہ کا پہلا آئینہ رہا ہے۔
اتنے تاریخ ملاحظہ کرنے کے بعد ذہن اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ،
انسان اپنے علاقہ کی عادات واطوار کے مطابق چند شرائط کے ساتھ کوئی بھی لباس پہن سکتا ہے، ان شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ کفار ومشرکین کا لباس نہ ہو۔ پینٹ وشرٹ یقیناً مسلمانوں کی ایجاد نہیں ہے، لیکن اب یہ لباس عام ہوگیا ہے، چنانچہ مسلم اور غیرمسلم سب اس کو استعمال کرتے ہیں، لہٰذا پینٹ وشرٹ مندرجہ بالا شرائط کے ساتھ استعمال کرنا جائز تو ہے، البتہ پینٹ وشرٹ کے مقابلے میں کرتا وپائجامہ کو چند اسباب کی وجہ سے فوقیت حاصل ہے:
1:… کرتا وپائجامہ عموماً سفید یا سفید جیسے رنگوں پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ پینٹ وشرٹ عموماً رنگین ہوتی ہیں۔ احادیث صحیحہ کی روشنی میں امت مسلمہ متفق ہے کہ اللہ جل شانہ کے حبیب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفید پوشاک زیادہ پسند فرماتے تھے، نیز عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس سفید ہی ہوا کرتا تھا۔
2:… قیامت تک آنے والے انسانوں کے نبی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قمیص بہت پسند تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کے جو اوصاف احادیث میں ملتے ہیں وہ شرٹ کے بجائے موجودہ زمانے کے کرتے (ثوب /قمیص) میں زیادہ موجود ہیں۔
3:… اگرچہ اس وقت پینٹ وشرٹ کا لباس مسلم وغیرمسلم سب میں رائج ہوچکا ہے، لیکن ساری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پینٹ وشرٹ کی ابتداء مسلم کلچر کی دین نہیں، جبکہ کرتہ وپائجامہ کی بنیادیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ہیں، کرتا یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قمیص کا ذکر کرچکا ہوں، جہاں تک پائجامہ کا تعلق ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ تہبند کا استعمال فرماتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پائجامہ استعمال کیا یا نہیں؟ اس کے متعلق بعض محققین نے اختلاف کیا ہے، لیکن تمام محققین ومحدثین وفقہاء وعلماء متفق ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پائجامہ خریدا تھااور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے پائجامہ پہنتے تھے۔
4:… کسی بھی زمانہ میں دنیا کے کسی بھی کونے میں علماء وفقہاء کی جماعت نے پینٹ وشرٹ کو اپنا لباس نہیں بنایا۔ ( مستفاد از:فتاوی بنوری ٹاؤن)
Like this:
Like Loading...