Skip to content
اسلام امن، عدل اور انسانیت کا مذہب ہے: مولانا ارشد مدنی
نفرت کی سیاست وقتی ہے، لیکن محبت کی طاقت دائمی ہے!
نبی ﷺ سے عشق کا اظہار ہمارے کردار و عمل سے ہونا چاہیے!
کانپور، 18؍ اکتوبر (پریس ریلیز): اترپردیش کے شہر کانپور میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ آج ہمارے ملک میں فرقہ پرستی کا زہر اس قدر پھیل چکا ہے کہ نفرت کے بیج اب تناور درختوں کی شکل اختیار کرچکے ہیں، ہر طرف تعصب، تنگ نظری اور مذہبی عداوت کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ کوئی بھی شخص مسلمانوں کے خلاف زبان درازی کرنے میں عار محسوس نہیں کرتا، کوئی مذہبی جذبات سے کھیلتا ہے تو کوئی اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کو غلط رنگ میں پیش کرتا ہے۔ لیکن ہم مسلمانوں کو اس وقت بھی اپنے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق صبر، حلم اور محبت سے کام لینا ہے۔ ہمارا جواب نفرت کا نہیں بلکہ محبت کا ہونا چاہیے، کیونکہ یہی نبی کریم ﷺ کا طریقہ تھا اور یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔اس موقع پر مولانا مدنی نے موجودہ ملکی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کے جو سیاسی حالات ہیں، اُن میں زندہ رہنے کے لیے محتاط رویّہ اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔ اب ہر معاملے کو مذہبی رنگ دے کر ایک مخصوص فرقے کو نہ صرف معقب کرنے کی منصوبہ بند کوشش کی جاتی ہے بلکہ انصاف اور قانون کو بالائے طاق رکھ کر یکطرفہ کارروائی کے ذریعے یہ باور کرانے کی مضموم مہم بھی شروع کردی گئی ہے کہ اب ملک میں اقلیتوں، خاص کر مسلمانوں کے آئینی و قانونی اختیارات ختم کیے جا چکے ہیں۔ ظلم و بربریت کو نظم و نسق کی برقراری کے لیے لازم حصہ سمجھا جانے لگا ہے اور ماورائے عدالت سزا دینے کی روش کو عام کردیا گیا ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ آج کا المیہ یہ ہے کہ انسانیت کو انسانیت سے جدا کردیا گیا ہے۔ ذات پات، مذہب اور فرقے کے نام پر انسان کو انسان سے نفرت سکھائی جارہی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب ایک ہی آدم – منو کی اولاد ہیں، ایک ہی خالق کی مخلوق ہیں۔ اسلام نے ہر مذہب، ہر طبقے اور ہر انسان کے ساتھ عدل، انصاف اور حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ اور یہی وہ تعلیم ہے جس نے اسلام کو ایک عالمگیر انسانی مذہب بنایا۔ اسلام کا پیغام صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت ہے۔
مولانا مدنی اپنے ہر بیان اور خطاب میں مسلسل اپنی قوم کے لوگوں سے صبر و تحمل اور دوراندیشی سے کام لینے کی تلقین کرتے آ رہے ہیں۔ اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ پچھلے گیارہ برسوں کے دوران ہر طرح کے ظلم اور ناانصافی کے باوجود مسلمانوں نے مثالی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، ورنہ اس دوران کیا کچھ نہیں ہوا — بلڈوزر کارروائی ہو، لو جہاد کے نام پر نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالنا ہو، گئو کشی کے نام پر لنچنگ ہو، مدارس کو بند کرنے کی سازش ہو، یا پھر قانون سازی کے نام پر مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو سلب کرنے کا معاملہ ہو — کسی بھی ایک معاملے میں مسلمان سڑکوں پر نہیں اترے۔ مگر ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ کہنے اور لکھنے کو جرم قرار دیے جانے کے بعد وہ اپنے صبر و تحمل پر کسی حد تک قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے احتجاج تو کیا، لیکن کہیں بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہیں کی۔
مولانا مدنی نے مسلمانوں کو بھی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، لیکن سڑکوں پر اظہار کرنے کے بجائے ہمارے عمل و کردار سے اس کا اظہار ہونا چاہیے۔ ہمارے نبی کی ذات بیمثل ہے، ان سے ہمارا عشق بھی مثالی ہونا چاہیے۔مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے نبی ﷺ نے نہ صرف اپنے دشمنوں کے ساتھ عدل کیا بلکہ ان کے ساتھ بھی احسان کا معاملہ کیا جنہوں نے آپ پر ظلم کیا۔ ہمیں بھی اسی سیرت کو اپنانا ہے، کیونکہ آج کی دنیا میں انسانیت کو بچانے کا واحد راستہ نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل ہے۔ اگر مسلمان اس کردار کو اپنالیں، اپنی زبان، عمل اور اخلاق سے اسلام کی اصل تعلیمات کو زندہ کردیں تو نفرت کی یہ آگ ٹھنڈی ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ملک میں جس طرح کی نفرت انگیز سیاست پروان چڑھ رہی ہے، وہ ملک کی بنیادوں کے لیے خطرہ ہے۔ نفرت سے نہ قوموں کی ترقی ہوتی ہے نہ ملکوں کی۔ ملک ترقی تب کرتا ہے جب اس کے شہریوں میں باہمی محبت، اخوت اور یکجہتی ہو۔ اسلام نے اسی بھائی چارے کا سبق دیا ہے کہ ہم اپنے ہمسائے کے ساتھ، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، اچھا برتاؤ کریں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ‘‘جب تک تم اپنے پڑوسی کے لیے وہی پسند نہ کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، تم مومن نہیں ہوسکتے۔’’یہی وہ پیغام ہے جس کی آج کے بھارت کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
مولانا مدنی نے زور دے کر کہا کہ یہ محض نعرے لگانے یا جذباتی باتیں کرنے کا وقت نہیں، بلکہ نبی ﷺ کی سیرت کو عملاً اپنانے کا وقت ہے۔ اگر ہم نبی ﷺ کی تعلیمات کو اپنے ظاہر و باطن میں شامل کرلیں، اپنی زندگیوں کو ان کے اخلاق، عدل اور حلم کے رنگ میں ڈھال لیں تو ہم یقیناً دنیا کے سامنے اسلام کی اصل تصویر پیش کرسکتے ہیں۔ محبت کا دعویٰ صرف‘‘آئی لو محمد ﷺ’’کے بینر یا نعرے لگانے سے نہیں ہوتا، بلکہ سچی محبت یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی نبی ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق گزاریں۔انہوں نے کہا کہ آج مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نفرت کا مقابلہ تلوار سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتا ہے۔ ہمارے پاس اگر سیاسی یا مادی طاقت نہیں بھی ہے تو بھی ہمارا ایمان، ہمارا اخلاق اور ہمارا کردار وہ طاقت ہے جو نفرت کے بڑے بڑے پہاڑوں کو ہلا سکتا ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو نبی ﷺ نے مکہ کی گلیوں میں اپنائی، مدینہ کی بستیوں میں اپنائی، اور اسی کردار نے ہزاروں دلوں کو بدل دیا۔ اس لیے اگر ہم اسلام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے پیار و محبت کے پیغام کو گھر گھر، گاؤں گاؤں، شہر شہر پہنچائیں تو یقیناً نفرت کے اندھیرے چھٹ جائیں گے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ سے اسی نظریے پر کاربند ہے کہ پیار و محبت، خدمتِ خلق اور انسانیت ہی اسلام کا اصل جوہر ہے۔ اسی جذبے کے تحت جمعیۃ علماء ہند نے ماضی میں کیرالا، مدراس، کلکتہ اور آسام کے سیلاب زدگان کی مذہب سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بنیاد پر امداد کی، اور آج پنجاب، ہماچل اور جموں و کشمیر کے سیلاب زدگان کی بلا تفریقِ مذہب راحت رسانی کا کام بڑے پیمانے پر انجام دے رہی ہے۔ ہم نے مذہب کی بنیاد پر کبھی فرق نہیں کیا۔ ہم نے سب کے لیے مدد کے دروازے کھولے، کیونکہ یہی اسلام کی تعلیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کی یہی اصل تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنا ہمارا فرض ہے۔ آج جب اسلام کو بدنام کیا جارہا ہے، اس پر دہشت گردی، تشدد اور تنگ نظری کے الزامات لگائے جارہے ہیں، تو ایسے وقت میں ہمیں اپنے عمل و کردار سے بتانا ہوگا کہ اسلام رحمت، عدل، امن اور انسانیت کا مذہب ہے۔
مولانا مدنی نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ تاریخ شاہد ہے، وہی حکومتیں کامیاب ہوتی ہیں جو انصاف و مساوات کے راستے پر چلتی ہیں۔ ظلم اور جبر کے سہارے کوئی حکومت نہیں چلتی۔ وقت سب سے بڑا منصف ہوتا ہے، جب وقت انصاف کرنے پر آتا ہے تو بڑے بڑے سورما زمین پر آ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی دعوت، اپنی تعلیم اور اپنے سماجی کردار کے ذریعے ملک میں محبت، امن اور بھائی چارے کی فضا قائم کریں۔ نفرت کی سیاست وقتی ہے، لیکن پیار و محبت کی طاقت دائمی ہے۔ اگر ہم نے اسلام کے پیغامِ انسانیت کو ملک کے ہر گوشے تک پہنچا دیا تو ان شائاللہ وہ دن دور نہیں جب بھارت ایک بار پھر محبت، عدل اور باہمی احترام کی سرزمین بنے گا۔ یہی اسلام کی اصل تعلیم، یہی نبی ﷺ کی سیرت اور یہی جمعیۃ علماء ہند کا مشن ہے۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...