Skip to content
فلسطین،19اکٹوبر(العربیہ ) غزہ کے انسانی حقوق کے مرکز نے ہفتے کے روز اسرائیل کی جانب سے جاری خونریز حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی افواج جنگ بندی معاہدے کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہی ہیں اور مسلسل جارحیت میں مصروف ہیں۔
مرکز نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج نے 10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے بعد اب تک غزہ میں 129 بار بمباری اور فائرنگ کی کارروائیاں کی ہیں، جن کے نتیجے میں 34 فلسطینی شہید اور 122 زخمی ہوئے۔ ان میں سب سے ہولناک واقعہ جمعہ کی دوپہر پیش آیا، جب اسرائیلی فورسز نے مشرقی غزہ کے علاقے زیتون میں ایک عام شہری گاڑی کو نشانہ بنایا، جس میں ابو شعبان خاندان کے تمام افراد جاں بحق ہو گئے۔
طبی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق جمعہ کی شام اسرائیلی گولہ باری میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد لقمہ اجل بن گئے، جن میں سات بچے، تین خواتین اور ایک مرد شامل ہیں۔ یہ حملہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سب سے زیادہ جانی نقصان والا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ یہ کار ابو شعبان خاندان کے افراد کو لے کر اپنے گھر واپس جا رہی تھی، جب اسرائیلی فوج نے مشرقی غزہ کے زیتون محلے میں اسے نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق امدادی کارکنوں کو علاقے میں جاری خطرناک سکیورٹی صورتِ حال کے باعث لاشوں کو نکالنے میں سخت مشکلات پیش آئیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی توپ خانے کا گولہ اس وقت گاڑی پر گرا جب وہ "یلولائن” کہلانے والی ممنوعہ حدود عبور کر چکی تھی، جہاں عام شہریوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
غزہ کے انسانی حقوق کے مرکز نے اپنے بیان میں عالمی برادری، خصوصاً اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدام کریں، کیونکہ یہ حملے نہ صرف شہری آبادی کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی بھی ہیں۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...