Skip to content
بہار میں نمک حرام اور احسان فراموش کون؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بہار انتخاب میں ’انڈیا‘ محاذ کی داخلی چپقلش کو میڈیا میں ا چھالنے کا مقصد ’این ڈی اے‘ کے اختلافات کی پردہ داری ہے ورنہ سچائی تو یہ ہے کہ ’دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی ‘ یعنی کوئی محاذ اس مہابھارت سے محفوظ و مامون نہیں ہے۔ انتخابات کے دوران محاذ تو دور جماعتوں کے اندر بھی اختلافات بغاوت تک پہنچ جاتے ہیں لیکن زر خرید ذرائع ابلاغ اپنی سہولت سے کسی اختلاف کو چھپاتا اور کسی لڑائی کو اچھالتا ہے۔ انتخابی مہم میں مدعا اور چہراکو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اس محاذ پر چونکہ این ڈی اے کمزور ہے اس لیے دراندازوں کا مدعا اچھال کراس کے خلاف ایس آئی آر لایا گیا تو انڈیا محاذ نے پہلے ووٹ چوری اور پھر بہاری کے مقابلے باہری کے نعروں سے اس کا توڑ کردیا۔ قومی انتخاب سے قبل این ڈی اے کے سامنے ’انڈیا‘ محاذ وجود میں آیا تو امیت شاہ نےاختلاف پیدا کرنے کی نیت سے سوال کیا تھا کہ ’ وزیر اعظم کے عہدے کی خاطر ہمارا چہرا تو نریندر مودی ہے لیکن ان کا رہنما کون ہے؟‘ رائے دہندگان کے نزدیک چہرے کی اہمیت قومی سطح سے زیادہ ریاست میں ہوتی ہے کیونکہ لوگ وزیر اعلیٰ کو اپنے سے قریب تر محسوس کرکے بہ آسانی منسلک ہوجاتے ہیں۔ اپنی زبان بولنے والے سی ایم سے وابستگی فطری ہے۔ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہر محاذ کا وزیر اعلیٰ کون ہوگا؟ انڈیا محاذ کے اندر اس بابت بلا اختلاف تیجسوی یادو پر سبھی کا اتفاق ہے۔ اتفاق سے وہی ریاست کے سب سے مقبول رہنما بھی ہیں ۔
امیت شاہ سے جب اس بابت سوال کیا گیا تو وہ بولے یہ فیصلہ انتخاب کے بعد ارکان اسمبلی کریں گے۔ یہ نہایت مضحکہ خیز جواب ہے کیونکہ وہ زمانے لد گئے جب بی جے پی سینہ ٹھونک کے یہ کہتی تھی کہ اس میں ہائی کمان کا حکم نہیں چلتا ۔ مودی اور شاہ کی بی جے پی میں تو وہی چلتا ہے۔ دہلی سے چٹھی آتی ہے اور بڑے بڑوں کی چھٹی ہوجاتی ہے۔ کمزور ترین رہنما کو اس لیے وزیر اعلیٰ بنا دیا جاتا ہے تاکہ وہ احسانات کے تلے دبا بندۂ بے دام دن رات دہلی دربار کے تلوے چاٹتا رہے۔ اس طرزعمل کے خلاف وسُندھرا راجے سندھیا کا کھلے عام نریندر مودی کے آگے ہاتھ جوڑنے سے انکار ایک تضحیک واحتجاج تھا۔ مدھیہ پردیش میں لاڈلی بہنا کا جھانسا دے کر انتخابی کامیابی دلانے والے شیوراج سنگھ کے بجائے نامعلوم موہن یادو کے سر پر وزارت اعلیٰ کا تاج رکھ کر اس کی آڑ میں لاڈلی بہنوں کو دھوکہ دے دیا جاتا ہے ۔ بہار میں بی جے پی اپنا وزیر اعلیٰ لانا تو چاہتی ہے مگر اس کا کوئی رہنما اقتدار کے باوجود مقبول نہیں ہوسکا۔ اس لیے نتیش کمار کو ساتھ رکھا جارہا ہے۔ امیت شاہ کے مطابق انہیں کی قیادت میں انتخاب بھی لڑا رہا ہے لیکن بی جے پی نے ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے اپنے ارادے کو ظاہر کردیا۔ بی جے پی کی یہ قدیم روایت ہے۔
مہاراشٹر کے اندر یہ لوگ بی جے پی سیڑی پر چڑھ کر آئے پھر اسے لات ماردیا۔ اس کے ایکناتھ شندے کو توڑ کر کچھ وقفہ کے لیے وزیر اعلیٰ بنانے کے بعد پھر کوڑے دان میں پھینک دیا۔ انتخابی مہم کے وقت بی جے پی دراصل کوئی نہ کوئی ایسا جذباتی مدعا اچھال دیتی ہے جس کے جھانسے میں آکر لوگ اسے اقتدار پر فائز کردیتے ہیں اور جب انہیں ہوش آتا ہے تو تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے یعنی چڑیا کھیت چگ چکی ہوتی ۔ اس بار اس کے سارے حربے یکے بعد دیگرے ناکام ہوگئے۔ پہلگام سے آپریشن سیندو اور ذات پات کی مردم شماری بھی ناکام ہوگئی تو دراندازی کا معاملہ اچھالا گیا۔ یہ گھسا پٹا مدعا پڑوس کی جھارکھنڈ میں ناکام ہوچکا ہے اس لیے بہار میں نہیں چل سکتا لیکن پھر بھی مرتا کیا نہ کرتا کی مصداق اسی کے سہارے ایس آئی آر کا جواز فراہم کیا گیا تاکہ رائے دہندگان کی فہرست سے چھیڑ چھاڑ کی جاسکے لیکن وہ داوں الٹ گیا۔ اس کے خلاف حزب اختلاف کا نعرہ ’ووٹ چور گدی چھوڑ‘ اس قدر چلا کہ بہار کی حدود سے نکل کر ملک بھر میں پھیل گیا۔
امیت شاہ کے ذریعہ بار بار اسی دراندازی کا مدعا دوہرانے کا تیجسوی نے منہ توڑ جواب ’باہری کے مقابلے بہاری‘ اچھال دیا اور اب یہ علاقائی وقار کا مسئلہ بن گیا ہے۔ الیکشن کمیشن سے بار بار اصرار کے باوجود درانداز وں کی تعداد کا بتانے کو ٹالتا رہا۔ ابھی تک جو اعدادو شمار سامنے آئے ہیں وہ300 سے کچھ زیادہ ہیں اور ان میں بھی اسیّ فیصد ہندو ہیں ۔ یہ فطری بات ہے کہ بنگلہ دیش کا ہندو تو کسی مجبوری کے تحت ہندوستان آسکتا ہے مگر مسلمان کا آنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس لے باوجود امیت شاہ وہی راگ الاپے جارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ آئندہ دس سالوں میں بہار سیلاب سے پاک ہوجائے گا وہ ایک صنعتی ریاست بن جائے گا لیکن سوال یہ ہے پچھلے بیس سالوں میں یہ کیوں نہیں ہوسکا ؟ مکمل طور سے نہ سہی تو اس میدان میں کس قدر کامیابی ملی؟ اور نہیں ملی تو اس کی کیا وجوہات ہیں؟ ان سوالات کا چونکہ امیت شاہ کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اس لیے وہ مخالفین کے اختلافات پر تبصرہ کر کے خوش ہورہے ہیں حالانکہ انہیں اپنے گریبان میں جھانک کردیکھنا چاہیے۔ ویسے وہ اگر اپنی آنکھیں موند لیں تب بھی عوام اندھی تھوڑی نا ہے؟ اس نے اس بار ان کا سی ٹی اسکین کرکے آپریشن تھیٹر سےگزار کر مردہ گھر بھیجنے کا ارادہ کرلیا ہے۔
بی جے پی کے لوگ فی الحال کس قدر پراگندہ ذہن ہیں کہ اس کی ا یک مثال مرکزی وزیر گری راج سنگھ کا اعلان ہے۔ انہوں نے ارول ضلع کے اندر ایک انتخابی جلسے میں کہا کہ انہیں "نمک حراموں” یا "ناشکروں” کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بولے جو شہری حکومت کی فلاحی اسکیموں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اُن پر حکمراں جماعت کو ووٹ دینے کی اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ اپنے خطاب میں اُنہوں نے مسلمانوں کی جانب اشارہ کر کے کہا کہ ’’میں نے اُن سے کہا کہ جو احسان کا اعتراف نہیں کرتا، اُسے نمک حرام کہا جاتا ہے۔‘‘ پچھلی بار انڈیا اور این ڈی اے کے رائے دہندگان کا فرق صرف بارہ ہزار تھا اور بی جے پی کے خلاف ووٹ دینے والے صرف مسلمان نہیں تھے ۔ گری راج سنگھ نے ان سب کو نمک حرام کہہ کر گالی دی ہے اور وہ انہیں ووٹ کی گالی سے سیاسی بن باس بھیج دیں گے۔
گری راج سنگھ کو پتہ ہونا چاہیے وزیر اعظم جن اسکیموں کا اعلان کرکے عوام میں روپیہ لٹاتے ہیں وہ ان کی جیب خاص سے نہیں جاتا بلکہ عوام کے ٹیکس سے جمع کی ہوئی رقم ہوتی ہے۔ بہار میں دس ہزار روپیہ قرض کو تحفے کا نام دے کر دھوکہ دیا ہے۔ یہ دراصل نفسیاتی فریب کاری ہے جس عوام کو جکڑنے کی سازش رچی گئی ہے۔ نمک حرامی تو یہ ہے کہ وزیر اعظم خود عوام کے ٹیکس پر عیش کرتے ہیں اور ان کا حق مار کر سرکاری خزانے کا بڑ ا حصہ اپنے مصاحبین پر خرچ کردیاجاتاہے۔ اس نمک حرامی سے مستفید ہونے والوں میں ایک بدمعاش کا نام گری راج سنگھ بھی ہے اس لیے یہ الزام الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے کے مترادف ہے۔ گری راج سنگھ کا یہ کہنا کہ ’’میں نے مولوی صاحب سے کہا، مجھے نمک حراموں کے ووٹ نہیں چاہییں۔‘‘ انگورنہیں ملے تو کھٹے کی مصداق ہے۔امت کے لیے یہ فخر کا مقام ہے کہ من حیث القوام وہی ایک ایسا گروہ ہے کو فسطائیت کی آندھی کے آگے ڈٹا ہوا ہے۔ وہ بغیر ڈرے اور جھکے ظالموں کا مقابلہ کررہا ہے۔اسی لیے گری راج سنگھ سمیت پورا زعفرانی ٹولہ پریشان ہے ۔
اپنوں پرایوں سے بی جے پی والوں کی نمک حرامی اوپر چند مثالوں کے ذریعہ پیش کی گئی لیکن ایک تازہ مثال سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی رہنما آر کے سنگھ کا بیان ہے جس میں انہوں نے بہار کے عوام سے اپنی ہی پارٹی کے نائب وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کردی ۔موصوف کو نریندر مودی نے مرکزی حکومت وزارت سے نوازہ تھا لیکن چونکہ اس بار کنارے کردیا اس لیے وہ بی جے پی کے خلاف نزلا اتارنےلگے ۔ کاش کہ گری راج سنگھ اپنی ہی برادری کے آر کے سنگھ کی نمک حرامی پر بھی اپنی چونچ کھولتے۔ آرکے سنگھ نے عوام کو نصیحت کی کہ وہ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے اُمیدواروں سے پرہیز کریں، ’’چاہے وہ آپ کی ذات سے ہی کیوں نہ تعلق رکھتے ہوں۔‘‘ وہ بولے اگر انتخابی میدان میں موجود تمام اُمیدوار داغدار ہیں تو عوام "نوٹا” (NOTA) کا انتخاب کریں۔این ڈی اے کے جن اُمیدواروں کا انہوں نے نام لے کر ذکر کیا، ان میں سمراٹ چودھری سمیت گینگسٹر سے سیاستدان بننے والے جے ڈی(یو) کے امیدوار اننت سنگھ، جگدیشپور اور سندیش شامل ہیں ۔ بی جے پی کی 45 رکنی انتخابی مہم کمیٹی اور انتخابی منشور کمیٹی سے نکالنے کے بعد آر کے سنگھ پریشان ہیں مگر کل کوجب گری راج سنگھ کو بھی ان کا مقام دِکھا دیا جائے گا وہ خود بھی نمک حراموں کی صف میں آجائیں گے۔ بی جے پی کا بیڑہ غرق کرنے کی خاطر ایسے احسان فراموشوں کی فوج کافی ہے۔
Like this:
Like Loading...