Skip to content
غزہ،22؍اکٹوبر(ایجنسیز/ العربیہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کی کارروائیوں کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی اتحادی اُن کی درخواست پر غزہ میں داخل ہو کر کارروائی کریں گے۔
ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ امریکا کے کئی اتحادی ممالک غزہ جا کر "طاقت ور انداز میں حماس کا خاتمہ” کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن فی الحال اس کی ضرورت نہیں۔
انھوں نے اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر لکھا "میں نے ان ممالک اور اسرائیل سے کہا … ابھی نہیں ! اب بھی امید ہے کہ حماس درست رویہ اختیار کرے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو حماس کا انجام تیز اور سخت ہو گا۔ میں تمام ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے مدد کی پیشکش کی۔”
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر حماس نے اپنے رویے کو درست نہ کیا اور معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی … تو مشرقِ وسطیٰ اور اس کے اطراف کئی "عظیم اتحادی” ان کے کہنے پر غزہ جانے اور حماس کو سزا دینے پر آمادہ ہیں۔
اس دوران امریکی سفارتی سرگرمیاں مشرقِ وسطیٰ میں تیز ہو گئی ہیں تاکہ غزہ میں فائر بندی کے معاہدے کو برقرار رکھا جا سکے اور کسی نئی جھڑپ کو روکا جا سکے۔
اس سلسلے میں منگل کی دوپہر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسرائیل پہنچے، جہاں وہ غزہ میں جاری جنگ بندی کے استحکام پر بات چیت کر رہے ہیں۔
گذشتہ دنوں امریکی ثالثی سے طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ تشویش ناک حد تک کمزور ہوا ہے، کیونکہ تشدد کے نئے واقعات اور امن منصوبے کے اگلے مراحل پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وینس کی ملاقات اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ہو گی اور ان کی گفتگو کا محور غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی پیش رفت ہو گا۔
ابتدائی طور پر وینس کے غزہ کے دورے کا منصوبہ تھا، مگر اسرائیلی میڈیا کے مطابق کیورٹی خدشات کے باعث یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا۔ وہ اسرائیلی وزارتِ دفاع میں نصب خصوصی مانیٹرز کے ذریعے ڈرون کی براہِ راست ویڈیو سے غزہ کی صورت حال کا مشاہدہ کریں گے۔
ان کی آمد سے پہلے ہی امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کُوشنر اسرائیل پہنچ چکے تھے اور انھوں نے پیر کو نیتن یاہو سے ملاقات کی۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق، دونوں امریکی ایلچیوں نے نیتن یاہو کو غزہ میں جنگ بندی معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے سختی سے خبردار کیا اور پیغام دیا کہ "اسرائیل کو صرف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن اسے معاہدے کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔”
یہ انتباہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر نشر ہوا۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...