Skip to content
اسرائیل،22؍اکٹوبر(ایجنسیز)اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے مصری خفیہ ادارے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حسن محمود رشاد سے ملاقات کی ہے تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ سے متعلق منصوبہ بندی کو آگے بڑھایا جا سکے۔
نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق، اس ملاقات میں ٹرمپ کے منصوبے پر پیش رفت، اسرائیل و مصر کے تعلقات اور دونوں ملکوں کے درمیان امن کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوا۔
مصری انٹیلی جنس چیف حسن رشاد نے اسرائیلی حکام سے مزید ملاقاتیں بھی کیں تاکہ غزہ میں انسانی امداد کے داخلے اور ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے پر گفتگو کی جا سکے۔ وہ امریکی مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو ویٹکوف سے بھی ملاقات کریں گے، جو ان دنوں اسرائیل کے دورے پر ہیں۔
یہ سرگرمیاں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح غزہ شہر میں الشجاعیہ محلے کے مشرقی حصے پر بمباری کی، حالانکہ جنگ بندی اور فائر بندی کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے مطابق ویٹکوف اور جیرڈ کُوشنر نے نیتن یاہو کو غزہ میں جنگ بندی معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے خبردار کیا۔ چینل کے مطابق دونوں امریکی ایلچیوں نے نیتن یاہو کو واضح پیغام دیا کہ "اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے، لیکن اسے اس معاہدے کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔”
یہ انتباہ اسرائیلی میڈیا میں نمایاں طور پر شائع ہوا، جبکہ امریکی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ امریکی ایلچیوں اور صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندر بڑھتی ہوئی تشویش پائی جا رہی ہے۔
اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک اعلیٰ امریکی اہل کار کے حوالے سے بتایا کہ کوشنر اور ویٹکوف نے تسلیم کیا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدہ، جس پر وہ خود مذاکرات کر چکے ہیں اب ٹوٹنے کے خطرے سے دوچار ہے۔
اخبار کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ویٹکوف اور کوشنر اس وقت ایک بنیادی مشن پر کام کر رہے ہیں : نیتن یاہو کو حماس پر مکمل حملہ دوبارہ شروع کرنے سے روکنا۔
امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ حماس کی قیادت مخلصانہ انداز میں مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہے اور حال ہی میں اسرائیلی فوجیوں پر ہونے والا حملہ حماس کے کسی "انتہا پسند ذیلی گروہ” کی کارروائی تھی، جیسا کہ صدر ٹرمپ کے الفاظ میں بیان کیا گیا۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...