Skip to content
جامع مسجد عالیہ حیدرآباد کی ۳۰۰۰ سے زائددینی محافل
دنیا بھر کی مساجد کے لئے مشعل راہ
از : مفتی سیدآصف الدین ندوی قاسمی ایم اے
ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف عربک حیدرآباد
@9849611686
اٹھ باندہ کمر ، کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
مسجد، مسلمانوں کےلئے ایک قدرتی وسیلہ ہے جہاں سے تعمیر قوم وملت کا کام سرانجام دیا جاسکتا ہے، جہاں سے انسانیت کو رب انسانیت سے جوڑا جاتا ہے، وہ ایک پاور ہاوز ہے جہاں سے اسلامی وایمانی پاو رسوسائٹی کو سپلائی کیا جاسکتا ہے،وہ مرکز ہےجہاں سے یقین وتوکل، اعتماد وروحانیت کے سرچشمے جاری ہوسکتے ہیں، اور اسی حقیقت کی پہلی ومثالی مسجد کا نام مسجد نبوی ہے، جہاں صفہ چبوترہ ہےتو دوسری طرف منبر رسول ﷺاور ایک طرف محراب نبوی ، اور اسی کے دامن میں اعتکاف کا ستون، ستون حرس ، ستون تہجد، ستون وفود ۔یہ سب کچھ ہماری مساجد کے لئے ایک عملی اور مثالی کردار ہے۔
شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد اپنی علم دوستی ،ادب پروری ،اصحاب علم وکمال کی قدر دانی کے لئے دنیا بھر میں معروف ومشہور ہے،او ر ہردور میں سرفہرست رہا ہے، اس سرزمین کی شہرت اس کے کشادہ دل بندوں، یہاں کے صاف دل لوگوں کی پذیرائی ومہمان نوازی سے ہے، یہی وہ تاریخی حقیقت ہے کہ ماضی میں اس نے علم وعمل کے گوہر پاروں کو اپنے دامن میں جگہ دی ہے، صاحب کمال کی جوہر شناسی سے انہیں اپنا گرویدہ بنایا ہے،یہی خوبی ہے کہ دکن میں ہر دور میں قابل وفاضل شخصیات کی کہکشاں رہی ہے،جوہر وگوہر کھینچ کھینچ یہاں پہنچے ہیں،اور پھر ان کی ضیاپاشیاں اس کے درودیوار کی رونقیں بڑھائی ہیں،وہیں خود دکن میں اصحاب علم وہنر، ز ندہ ضمیر ، اور تابندہ فکر کے حامل ذہنوں کی کاوشوں کے کارنامے رہے ہیں۔علم کےہمالا، عمل کے پیکر، روحانیت کے چراغ، فکر کے متوالے،دانش کے سرمایہ کار،قلم وزبان کے دھنی اس سرزمین سے اٹھے ہیں،اور دنیا بھر میں اپنا اور حیدرآباد کا نام روشن کیا ہے۔
جامع مسجد عالیہ سانچہ توپ گن فاونڈری اپنے محل وقوع کے اعتبار سے ایک پرسکون مسجد ہے،شہر کی گہماگہمی والے حصہ میںہوکر اور مصروف ترین علاقہ میں آباد ہونے کے باوجود وہاں بڑی دل آویزی اور کشش ہے،جیسے مسجد میں پارکنگ کی اچھی سہولت ہے، خواتین کے لئے سیلر کا نظم ہے ، مردانہ طہارت خانوں وضو خانوں کی کثرت ہے، خواتین کے لئے علاحدہ طہارت خانےہیں، باب الداخلے الگ الگ ہیں،مصلیوں کےلئےمسجد میں داخل ہونے اور باہر نکلنےکے راستے کئی ایک ہیں،اور ایک پورا وسیع وعریض ہال ہے جو بڑے سے بڑے پروگرام کے لئے کافی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں بڑی تعداد میں نکاح انجام پاتے ہیں، اور کئی ایک تنظیموں کے پروگرامس منعقد ہوتے ہیں،مسجد کے اندرون میں صفائی اور نفاست کا عمدہ انتظام ہے، اور بہترین امام وموذن ہیںاور وہیں جفاکش عملہ وانتظامیہ ہے۔یہ چیزیں ممکن ہے دیگر مساجد میں بھی ملیں لیکن جامع مسجد عالیہ گن فانڈری حیدرآباد کی دینی محافل دنیا بھر کی مساجد کے لئے مشعل راہ ہے۔مشعل راہ اس میں معنی میں بھی ہے کہ استقامت وجہد مسلسل کی ایک سنہری تاریخ اب اس مسجد کی پہچان بن چکی ہے، ربع صدی سے زائد عرصہ سے تقریبا ۳۰ برس سے دینی محافل کا جو تسلسل ہے وہ دنیا بھر کی مساجد کے لئے ایک مثال ہے۔کسی کام کو شروع کرنا آسان ہے لیکن اس کو جاری ساری رکھنا یہ اصل کام ہے،ان دینی محافل کا سہرا سینئر ایڈوکیٹ و صدر انتظامی کمیٹی محترم جناب غلام یزدانی صاحب کی فکر رساں وجہدمسلسل، عزم وحوصلہ کے نام ہے۔اور ان کے اس عملی کام کو ان کے رفقائ وانتظامی کمیٹی نے جس پابندی کے ساتھ جاری رکھاہےوہ ایک ہماری تاریخ کا سنگ میل ہے۔رپورٹ میں منظرنامہ اور پس منظر کو بڑے خوبصورت پیرایے میں بیا ن کیا گیا ہے۔اس موقعہ پر جناب جاوید یزدانی نے اپنے والد بزرگوار کے مشن کو جاری رکھنے اور اس کو موثر بنانے کے لئے جن عزائم کا ارادہ کیا ہے ،اللہ تعالی اس کو شرمندہ تعبیر کرے۔
ہزارکا عدد ایک استعارہ ہے کسی چیز کی کثرت وزیادتی کے لئے لیکن جامع مسجد عالیہ کے دینی محافل کے لئے ایک حقیقت اور ایک تاریخ ہے، اور کیا خوب بات ہے کہ یہاں منعقدہونے والی تینوں محافل ، محفل اقبال شناسی،محفل تاریخ اسلام، محفل شریعت انفارمیشن کی ہزار سے زائد مجفلیں ہوچکی ہیں۔اور ان کی رسائی جدید وسائل کے ذریعہ لائیو اور ریکارڈنگ کی صورت میں ہزارہاں بندگان خدا تک پہنچتی ہیں۔اور وہیں پر اخبارات میں ان محافل کی رپورٹس شائع ہوکرسرمہ بصیرت بنتی ہیں،کام کرنا اور اس کو عوامی بنانا اس سے سیکھا جاسکتا ہے،آج کے دین بیزاری اور تن آسانی کے دور میں یہ کام ایک مشن ہے ۔اس تاریخی ویادگار موقع پر یہ کہا جاسکتا ہےواقعہ یہی ہےکہ آج مساجد کےذریعہ سوسائٹی کی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے، ہماری مساجد وہ واحد جگہیں ہیںجن کو مفید سے مفید تر ، پروڈکٹیواور کریٹیو صورت میں ایک مثالی کردار دیا جاسکتا ہے، اس کی ایک عملی ومثالی مسجد مسجد عالیہ ہے۔
دینی محافل کی خاص بات یہ ہےکہ ان محافل میں فکر وعمل،شعور وبصیرت کا سامان کیا جاتا ہے، عوامی جلسوں کی طرح لچھے دار وپرتکلف وپر تصنع الفاظ کی گھن گرج نہیں ہوتی ،مقررین کرام میں وہ منجھےہوئے اور قابل شخصیات ہیں جو اپنے موضوع اور سبجیکٹ پر اتھاریٹی سمجھے جاتے ہیں، جن کے ایک ایک خطاب میں موضوع کا سمندر سمیٹ دیا جاتا ہے،3000 محافل کو مخاطب کرنے والےمقررین کرام کی تعداد ۶۰ سے زائد بتائی گئی ہے،جن میں سے کچھ اللہ کو پیارے ہوگئے کچھ اپنی علالت ومصروفیات کی بنا رونق تقریب نا ہوسکے، اور جو بقید حیات ہیں وہ ہمارے دورکے لائق وفائق ،جید وباکمال شخصیات ہیں،جو مقررین کرام اس موقعہ پر تشریف لائے ان میں ڈاکٹرخواجہ ناصر الدین،جناب ضیائ الدین نیر،جناب حامد محمد خان،پروفیسر عبد المجید نظامی،پروفیسر مجید بیدار،ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد، پروفیسر راشد نسیم ندوی،ڈاکٹر ناظم علی، حافظ رشاد الدین، ڈاکٹر متین الدین قادری، جناب مولانامحامد ہلال اعظمی،ڈاکٹر غلام کرمانی،جناب مفتی تنظیم عالم قاسمی،جناب مفتی عرفان قاسمی،جناب سلطان محی الدین،جناب عمر شفیق وغیرہ ہیں۔ آج کے اس ترقی یافتہ کمپوٹر اور انٹرنیٹ اور ریلس کے دورمیں یہ دینی محافل ایک کام نہیں بلکہ ایک کارنامہ ہے۔موضوعات کا تنوع اور فکر وشعور کی آبیاری کاکام سونے پہ سہاگہ ہے۔۲۷، اکٹوبر ۲۰۲۵ کی عصر سے عشائ تک مقررین کرام کی تہنیت وشال پوشی کی تاریخی تقریب میں بطور مقرر راقم الحروف کی بھی تہنیت وشال پوشی ہوئی ، وہیں ایک نئی تصنیف محمد مصطفی ﷺ ہمارے حبیب کی رسم اجرائ بھی عمل میں آئی۔اس یادگار پروگرام کا حصہ بننے کی جو خوشی ہے وہ ناقابل بیان ہے،محض اللہ تعالی کا کرم ہے کہ اس عظیم کارواں کا ایک چھوٹا سا حصہ بننےکی توفیق بخشی،انتظامی کمیٹی نے مقررین کرام کی تہنیت وشال پوشی کرتےہوئے اچھا پیغام دیا۔نظامت کی کارروائی او انتظامات میں جناب انعام احمد،وجناب عظمت اللہ وجناب طاہر علی انچارج ودیگر حضرات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور عمدگی سے تقریب کو کامیابی سے ہم کنار کیا۔تمام شرکائ کے لئے پرتکلف عشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا۔
اس موقعہ پر مساجد کے ذمہ داران اور کمیٹیوں کے صدور ومتولیان کے نام ایک پیغام ضرور دینا چاہوں گا کہ وہ مسجد عالیہ کے ہزاروں دینی محافل کو سامنے رکھتے ہوئے عملی قدم اٹھائیں، اپنے اپنے علاقے کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مختصر مدتی اور طویل مدتی پروجیکٹ بنائیں، وہیں مسجد عالیہ کےخوش قسمت ومحنتی کارواں کے نام کے ایک پیام کہ ہزارکے ہندسے کو عبورکرکے آگےبڑھتے ہوئے زمانہ شناسی اور نئی دور کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے سامعین کے حلقے کو جوڑنے اور بڑھانے کی عملی تدبیریں کریں۔نوجوان اور نئی نسل کو راغب کرنے والا قدم اٹھائیں ،یہ کارنامہ سر ہوا اب اگلی منزل کی جانب سنجیدگی کے ساتھ لائحہ عمل بنائیں ، منصوبہ بندی کے ساتھ آگےبڑھنا ہے۔جامع مسجد عالیہ کا شاندار ماضی ہے تابناک مستقبل کا خواب سجانا ہے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔اور یہ یاد رکھیں کہ
جو کچھ ہوا ، ہواکرم سے تیرے
جو کچھ ہوگا ،ترے کرم سے ہوگا
29، اکٹوبر 2025
Post Views: 4
Like this:
Like Loading...