Skip to content
جمعہ نامہ : رخصت و عزیمت کا قرآنی تصور
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’ہم نے اِس سے پہلے آدمؑ کو ایک حکم دیا تھا، مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اُس میں عزم نہ پایا‘‘۔ قرآن مجید کی اس آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت انسان میں اگر عزم کافقدان ہو تو اس سے کس قدر بڑی بھول سرزد ہوسکتی ہے ۔ ابتدائے آفرینش میں رب کائنات نے فرمایا :’’ یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو وہ سب تو سجدہ کر گئے، مگر ایک ابلیس تھا کہ انکار کر بیٹھا‘‘۔دیگر مقام پر اس نافرمانی کا یہ رد عمل بتایا گیا کہ”اچھا تو نکل جا یہاں سے کیونکہ تو مردود ہے اور اب روز جزا تک تجھ پر لعنت ہے۔‘‘ ابلیس چاہتا تو سرکشی کی راہ چھوڑ کر پلٹ آتامگر اس نے عرض کیا "میرے رب، یہ بات ہے تو پھر مجھے اُس روز تک کے لیے مہلت دے جبکہ سب انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا "اچھا، اُس دن تک تجھے مہلت ہے جس کا وقت ہمیں معلوم ہے” ۔ ابلیسِ بولا "میرے رب، جیسا تو نے مجھے بہکایا اُسی طرح اب میں زمین میں اِن کے لیے دل فریبیاں پیدا کر کے اِن سب کو بہکا دوں گا ‘‘۔یہ کمال ِ بغاوت ہے کہ کوئی جرم کا ارتکاب تو خود کرے مگر اس کا الزام دوسروں کے سرمنڈھے۔ شیطان کی یہ خامی اس کے شاگردوں میں بھی پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے کرتوتوں کے لیے دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ شیطان کو اعتراف تھا کہ اس کا زور متقیوں پر نہیں چلے گا اس لیے بولا :’’ سوائے تیرے اُن بندوں کے جنہیں تو نے اِن میں سے خالص کر لیا ہو” ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی توثیق میں فرمایا "یہ راستہ ہے جو سیدھا مجھ تک پہنچتا ہے ۔ بے شک، جو میرے حقیقی بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا تیرا بس تو صرف اُن بہکے ہوئے لوگوں ہی پر چلے گا جو تیری پیروی کریں ۔ اور ان سب کے لیے جہنم کی وعید ہے” ۔ ابلیس کے بعد خداوندِ قدوس نے حضرت آدمؑ کو خبردار کیا کہ "دیکھو، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے، ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑ جاؤ ‘‘۔ شیطان کے فتنے سے آگاہ کرنے کے بعد فرمایا گیا’’یہاں تو تمہیں یہ آسائشیں حاصل ہیں کہ نہ بھوکے ننگے رہتے ہو ۔نہ پیاس اور دھوپ تمہیں ستاتی ہے‘‘۔ شیطان نے ان کو پھُسلا نے کے لیئ بولا "آدم، بتاؤں تمہیں وہ درخت جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے؟“ حضرتِ انسان کو شیطان کے چیلے چاپڑ اسی طرح جھانسا دیتے ہیں اور وہ اس میں آبھی جاتا ہے ۔ فرمانِ قرآنی ہے :’’ آخرکار وہ دونوں (میاں بیوی) اُس درخت کا پھل کھا گئے نتیجہ یہ ہُوا کہ فوراً ہی ان کے ستر ایک دوسرے کے آگے کھُل گئے۔ اور لگے دونوں اپنے آپ کو جنّت کے پتّوں سے ڈھانکنے آدمؑ نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہِ راست سے بھٹک گیا‘‘ ۔
عزم مصمم کے نقصان سے بنی نوعِ انسان کو ابتدائی ایام میں ہی واقف کرادیا گیا لیکن افسوس کے آج بھی ابن آدم اور بنت حوا ابلیس کا ترنوالہ بن رہی ہے۔ حضرت آدمؑ نے رجوع کیا تو رب ذوالجلال نے :’’ اُسے برگزیدہ کیا اور اس کی توبہ قبول کر لی اور ہدایت بخش کر فرمایا "تم دونوں (فریق، یعنی انسان اور شیطان) یہاں سے اتر جاؤ تم ایک دُوسرے کے دشمن رہو گے۔ اب اگر میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اُس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مبتلا ہو گا‘‘۔انسان کی دنیوی زندگی کا آغازتو ہوگیا مگر کائناتِ ہستی میں رخصت کے مقابلے عزیمت کی تمہید میں ارشادِ فرقانی ہے:’’جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سر و سامان ہے، اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی‘‘۔ پہلی ہی آیت میں دنیا کی بےثباتی اور آخرت کی ابدیت بیان کرنے کے بعد یہ بشارت دی گئی کہ : ’’ وہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ‘‘۔
ایمان اور اعتماد کے درمیان چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ایسا فرد جو ایمان ہی نہیں لاتا اس کے لیے ہر وعدہ وعید بے معنیٰ ہے۔آگے کی آیت بتاتی ہے کہ انسانوں کے لیے خود کو جنت کا مستحق بنانے کی خاطر صرف ایمان کافی نہیں ہے بلکہ یہ توصرف بنیادی شرط ہے۔ جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے والے :’’ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور اگر غصہ آ جائے تو درگزر کر جاتے ہیں ‘‘۔ اس دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے کہ جو غصے کو سرے سے گناہ ہی نہیں سمجھتے ۔ یہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے بڑے گناہوں کی فہرست میں معاشرتی برائی یعنی بے حیائی اور اخلاقی خامی غصہ سے درگزر کے بعد ان عبادات کا حکم دیا گیا جنھیں سب سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ فرمانِ قرآنی ہے:’’ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں‘‘۔ حقوق اللہ کی تلقین کے بعد تنظیمِ ملت کا یہ اہم حکم ہے کہ :’’(وہ) اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں‘‘۔
اس حکم کو امت نے پوری طرح فراموش کردیا گیا ہے۔ بین الجماعت مشاورت تو دور مختلف جماعتوں کے اندر بھی مشورے کا عمل رک سا گیاہےحالانکہ اس کو جنت کی بنیادی شرائط میں شامل کیا گیا ہے۔ قرآن حکیم میں اس کے بعد انفاق کی باری آتی ہے اور فرمایا جاتا ہے:’’ ہم نے جو کچھ بھی رزق انہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ۔ اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں اُن کو ملامت نہیں کی جا سکتی ۔ ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘۔ اس سلسلے آخر میں فرمایا گیا کہ :’’البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے، تو یہ بڑی اولوالعزمی کے کاموں میں سے ہے ‘‘۔یہ ہے عزیمت کا انعام جو جنت کو یقینی بنادیتی ہے۔
Like this:
Like Loading...