Skip to content
قرض ِ حسنہ ایک بہترین صدقہ
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اللہ تعالیٰ کی صفتوں میں ایک خاص صفت ’’رحمت‘‘ ہے ، اسی صفت رحمت کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ہر موقع ترحم کا معاملہ فرماتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوقات پر محبت اور شفقت ہر آن بارش کی طرح برستی رہتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت ہی کا نتیجہ ہے کہ ہر مخلوق کے لئے ہر طرح کی ضرورت دنیا میں دستیاب ہے اور اس کے ذریعہ ہر مخلوق اپنی ضرورت پوری کرتی رہتی ہے، اس بات سے سبھی بخوبی واقف ہیں بلکہ سر کی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں ان تمام چیزوں کو پیدا کردیا ہے جن کی ضرورت ہر مخلوق کو ہے اور خصوصا جانداروں اور ان میں بھی انسانوں کو جسے اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے کے لئے ہر طرح کی سہولتیں فراہم کی ہیں ، سورج ، چاند ،سمندر ودریا،پانی وہوا،درخت وجبل اور زمین کے اندر مختلف غلوں کو اگانے کی صلاحیت اور بہت سی وہ چیزیں جس کا اندازہ کرنا انسان کے لئے بہت مشکل ہے سب کی سب انسانوں کی ضرورتوں کے لئے ہی ہیں اور انسان صدیوں سے بڑی آسانی سے ان چیزوں سے فائدہ اٹھارہا ہے ،ان میں بعض چیزیں تو وہ ہیں جن کے حاصل کرنے میں انسان کو کسی قسم کی دشواریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے اور بعض چیزیں وہ ہیں جن کی جس وقت ضرورت پیش آتی ہے معمولی سی کوشش کے بعد وہ حاصل ہوجاتی ہیں ،اللہ تعالیٰ کی محبت ورحمت اور اس کا فضل واحسان ہی ہے کہ ہر جاندار آکسیجن لے رہا ہے اور پانی کے قطروں سے اپنا حلق تر کررہا ہے اور سلامتی کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے،اگر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر سے اپنی نظر رحمت ہٹادیں بلکہ ایک لمحہ کے لئے نگاہ رحمت پھیر لے تو کسی بھی مخلوق کا دنیا میں برقرار اور زندہ رہنا ممکن ہی نہیں ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں سے محبت کو ماں کی محبت سے تشبیہ دیتے ہوئے رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا کہ ایک ماں اپنے لاڈلے،نور نظر اور لخت جگر سے جس قدر محبت کرتی ہے اللہ تعالیٰ اس ماں کی محبت سے ستر گنا زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ جس طرح اپنے تمام بندوں سے محبت کرتے ہیں اسی طرح بندوں کو آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے کا حکم بھی دے رکھا ہے کیونکہ تمام انسان آدمؑ کی اولاد ہیں اس لئے انسانی بنیادوں پر ایک دوسرے کا ایک دوسرے کے ساتھ گہرا رشتہ ہے اور خصوصیت کے ساتھ اہل ایمان کو ایک دوسرے کے ساتھ پیارو محبت کے ساتھ رہنے کی تعلیم فرمائی ہے کیونکہ اہل ایمان ایمانی رشتہ کی وجہ سے ایک دوسرے کے بھائی ہیں، جو لوگ ایمانی رشتہ کا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے محض اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ان کے لئے عرش الٰہی کے سایہ کی خوشخبری دی گئی ہے ، رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے میری عظمت کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے آج کہاں ہیں؟ میں انہیں اپنے سائے میں جگہ دوں گا کیونکہ آج میرے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہے (مسلم) ، رسول اللہؐ نے مختلف موقوں پر اپنی امت کو ایک دوسرے کے ساتھ محبت والفت اورمضبوط تعلقات قائم رکھنے کی تعلیم فرمائی ہے اور ضرورت کے موقع پر ایک دوسرے کی مدد ونصرت کرنے کی خاص لفظوں میں تلقین فرمائی ہے،یقینا جب ایک بندہ دوسرے بندہ کے ساتھ ترحم کا معاملہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ رحم کرنے والے پر اپنی رحمت کی بوندیں برساتا ہے ، رسول اللہؐ نے صحابہؓ کے سامنے ایک دوسرے سے محبت ومودت سے پیش آنے اور ایک دوسرے کی مدد ونصرت کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا : تم زمین والوں پر رحم کرو (ایک دوسرے کی مدد وضرورت کا خیال رکھو) تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا( یعنی آخرت میں اپنی خاص رحمت سے نوازے گا) (ابوداؤد )۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے درمیان انسیت رکھی ہے اور زندگی گزارنے کے لئے ایک کو دوسرے کا معاون بنایا ہے ،چنانچہ وہ ایک ددوسرے کی ضرورت میںکام آتے ہیں ،بات بھی یہی ہے کہ ایک دوسرے کی مدد کے بغیر ضروریات کی تکمیل دشوار ہوجاتی ہے انہی ضروریات میں سے ایک اہم ضرورت قرض ہے ، بعض موقوں پر آدمی کے لئے قرض لینا ناگزیر ہوجاتا ہے اگر قرض نہ لیا گیا تو آدمی سخت پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے چنانچہ تنگی دور کرنے اور اپنی ضرورت کی تکمیل کے لئے شریعت اسلامی نے قرض کو جائز اور مباح قرار دیا ہے ،قرض کے لین دین کا ثبوت قرآن وحدیث میں موجود ہے ،قرآن مجید میں قرض کے لین دین کے وقت مدت لکھنے کی تاکید فرمائی ہے (البقرہ: ۲۸۲)، قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائے کرام نے ایک طرف جہاں قرض لینے کو جائز اور مباح قرار دیا ہے وہیں دوسری طرف قرض دینے کو مستحب قرار دیا ہے کیونکہ قرض دینا نیکی اور بھلائی کا کام ہے، رسول اللہؐ نے ضرورت مند کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے قرض دینے کو صدقہ سے تعبیر فرمایا ہے، سیدنا ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا:کسی مسلمان کو دوبارہ قرض دینا ایک بار صدقہ کرنے کے برابر ہے(سنن بیہقی)سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: میں نے شب اسراء جنت کے دروازہ پر لکھا ہوا دیکھا کہ صدقہ کا ثواب دس گنا ہے اور قرض کا ثواب اٹھارہ گنا ہے (صدقہ کے ثواب کی زیادتی دیکھ کر) میں نے سیدنا جبریل ؑ سے پوچھا کہ قرض صدقہ سے افضل کیوں ہے؟ تو سیدنا جبریلؑ نے فرمایاکہ:(بسااوقات) سائل مال رکھنے کے باوجود سوال کرتا ہے اور اسے صدقہ دیا جاتا ہے برخلاف قرض کا خواہش مند ضرورت ہی پر سوال کرتا ہے (اس لئے قرض کے ذریعہ ضرورت مند کی ضرورت کا خیال کرنے پر اجر وثواب صدقہ کرنے والے سے بڑھ کر دیاجاتا ہے)( ابن ماجہ)،اسی طرح سیدنا ابودرداؓ سے مروی ہے کہ میں( کسی ضرورت مند کو) دودینار قرض دوں پھر وہ واپس آجائیں اور میں ان کو کسی اور ضرورت مندکو قرض دے دوں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں اس کو صدقہ کردوں۔
احادیث مبارکہ میں جائز ضرورت کے موقع پر جہاں قرض لینے کی اجازت دی گئی ہے اور مالدار کو قرض دینے پر اجر وثواب کی خوشخبری دی گئی ہیں ساتھ ہی قرض لینے والے اور دینے والے دونوں کو چند ضروری اور تاکیدی ہدایتیں بھی دیں ہیں ،قرض دینے والے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ قرض وصول کرنے میں سختی کا مظاہرہ نہ کرے بلکہ نرمی اور آسانی سے کام لے،ایک حدیث میں رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں حاضر ہونے والے اس شخص سے فرمائیں گے جو دنیا میں (قرض) معاف کرنے والا ،مالدارپر آسانی کرنے والا اور تنگدست کو مہلت دینے والا تھا میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ،اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو(مسلم)،ایک حدیث میں آپؐ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائیں گے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے( بخاری)،ایک جگہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کردیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا( ترمذی)،ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ تجھے اپنا کوئی اچھا عمل یاد ہے؟ اس نے کہا میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ،اس سے کہا گیا غور کرکے بتاؤ ،اس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھااور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا،مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دیتا تھااور تنگدست سے درگزر کرتا تھا یعنی معاف کرتا تھا،اللہ تعالیٰ نے فرشتہ سے فرمایا تم اس سے درگزرکرنا(احمد)،اسی طرح قرض لینے والے کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ جائز اور حلال مقصد کی تکمیل کے لئے قرض حاصل کرے اور حرام ومعصیت کے لئے ہرگز قرض نہ لے ،رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ ( جائز اور حلال کام کے لئے)قرض لینے والے کے ساتھ ہوتا ہے جب تک کہ وہ ادا نہ کردے سوائے ایسے مقصد کے لئے قرض حاصل کرے جو اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہو(ابن ماجہ) یا قرض حاصل کرے لیکن اداکرنے کا ارداہ نہ ہو ، جو شخص ڈبانے اور قرض ادانہ کرنے کی نیت سے قرض لیتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں گرجاتا ہے اور اس کا شمار چوروں میں کیا جاتا ہے، رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: جو شخص ادا نہ کرنے کی نیت سے قرض لیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں چور شمار کیا جاتا ہےاور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جو شخص دوسروں کے پیسے ڈبونے کی نیت سے قرض لیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کردیتے ہیں( ابن ماجہ) ایک موقع پر رسول اللہؐ نے قرض کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا : تم میں بہترین آدمی وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو( ابن ماجہ)،قرض کی ادائیگی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام نے مرنے والے کے ترکے میں سے پہلے اس کا قرض ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے بعد بچنے والے مال کو ورثاء کے درمیان شرعی طور پر تقسیم کی تلقین اور تاکید کی ہے۔
قرض دینے والے قرض کے سلسلہ میں سہولت اور آسانی کی تلقین کی گئی ہے اور قرض لینے والے کو وقت مقررہ پر قرض ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ساتھ ہی قرض ادائیگی میں سہولت وآسانی کے لئے دعائیں بھی سکھلائی گئی ہے ،آدمی کو چاہئے کہ وہ ہر معاملہ میں جہاں اسباب اختیار کرتا ہے وہیں دعاؤں کے اہتمام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی مدد کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہئے ،یقینا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں قبول کرتا ہے اور خاص طور سے مظلوم اورمجبور بندوں کی جلد دعائیں سنتا ہے ،چنانچہ جیسے جیسے قرض کی ادائیگی کا وقت قریب آتا جائے تو بندے کو چاہئے کہ کوشش کرتا ہے اور ساتھ ہی دعاؤں کا خوب اہتمام بھی کرتا رہے ،سیدنا علی مرتضیٰ ؓ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کیا کہ میں اپنی کتابت (کامال) ادا کرنے سے عاجز آگیا ہوں میری کچھ مدد فرمائیے تو آپؓ نے اس غلام سے فرمایا میں تجھے وہ کلمات نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہؐ نے سکھائے تھے (ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ اداکرادے ،تم یہ کلمات پڑھا کرو’’ اللہم اکفنی بحلالک عن حرامک واغننی بفضلک عمن سواک‘‘ (ترمذی)اے اللہ! مجھے اپنے حلال کے ذریعہ اپنے حرام سے کا فی ہوجا اور مجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے ۔
اس وقت بہت سے مسلمان مالی دشواریوں کا شکار ہیں اور بہت سے مسلمان قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں بلکہ قرض کی وجہ سے سودی دلدل میں بھنسے ہوئے ہیں، جن مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے مال ودولت سے نوازا ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اطراف واکناف اور محلے میں قرض حسنہ کا کچھ اس طرح نظام بنائیں کے ضرورت مندوں کی ضرورت پوری جائے اور وہ سودی لین دین کے گناہ سے بچ جائیں ، اس طرح کا عمل بہترین کار خیر کہلائے گا اور ضرورت مندوں کی ضروریات پوری ہوں گے اور مالداروں کو خرچ کئے بغیر صدقہ کا ثواب حاصل ہوگا۔
Like this:
Like Loading...