Skip to content
بہار کا انقلاب،ملک کا مستقبل طے کرے گا
ازقلم:سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186
بہار میں ان دنوں الیکشن کی گہما گہمی اور انتخابی ماحول اپنے شباب پر ہے،وعدوں کی بوچھار اور خوابوں کا سیلاب ایک بار پھر عوام کے سامنے پیش کرکے انھیں گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،تمام پارٹیاں اور تمام امیدوار اپنے اپنے اعتبار سے ووٹر کو راغب کرنے میں مصروف ہیں،تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بہار ایک بار پھر انقلاب کی راہ پر کھڑا ہے،اس الیکشن میں یہاں کے لوگوں کی دانش مندی کا بڑا امتحان ہونے جا رہا ہے،یہ امتحان کیسا ہوگا؟اسکا نتیجہ کیا ہوگا اور سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا،لیکن اتنا تو طے ہے کہ بہار کا یہ الیکشن ملک کا مستقبل طے کرے گا اور ملک کس رخ پر چلے گا اسکو بھی واضح کرے گا،مولانا عبدالماجد دریا آبادی نے لکھا ہے کہ بہار کی سرزمین آج سے نہیں گوتم بدھ کے زمانے سے پربہار چلی آرہی ہے،کیسے کیسے عالم،درویش،حکیم،ادیب،مؤرخ اور شاعر اسی خاک سے اٹھے،وہی بہار جسکا پانی کوئی غبی پئے تو ذہین ہوجائے،یہ گیان کی سرزمین رہی اور یہاں آکر لوگوں نے گیان حاصل کی،بہار الیکشن جیتنے کےلئے
حکمراں محاذ این ڈی او انڈیا گٹھ بندھن دونوں اپنی طاقت صرف کررہا ہے،اس کے علاوہ کچھ اور پارٹیاں ہیں جو ان دونوں میں سے کسی کا حصہ نہیں ہے،اس میں پرشانت کشور کی نومولود جن سوراج پارٹی اور اسد اویسی کی ایم آئی ایم بھی ہے یہ پارٹیاں کسی بھی اتحاد کا حصہ نہیں ہے،اسلئے سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ اس جیسی پارٹیاں کھیل بگاڑ سکتی ہیں اور نتائج میں الٹ پھیر کرسکتی ہیں،کتنی سیٹوں پر کھیل ہوگا،اسکا فیصلہ نتائج آنے کے بعد ہوگا،بہار کی سیاسی ہلچل کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہاں خاص طور پر مسلمانوں کا ووٹ کئی جگہوں میں تقسیم ہورہاہے،حالات اس بات کی چغلی کھارہے ہیں کہ بہار میں اس بار مسلم ووٹ اور زیادہ بکھرے گا،پرشانت کشور اور اویسی نے زیادہ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیکر نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کو مہاگٹھ بندھن کے لائق بھی نہیں چھوڑا،یہ دونوں پارٹیاں،پانچ،دس مسلم امیدوار کو جتاکر مہاگٹھ بندھن کو پچاسوں سیٹوں کا واضح نقصان پہونچائیں گی،اسطرح بی جے پی آسانی سے اقتدار پر قابض ہوجائے گی۔فرقہ پرست طاقتیں،دوبارہ اقتدار پرقابض ہونے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو بہت غلط ہوگا، یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ ملک میں اب الیکشن کو اقلیت اور اکثریت کا بنایا جاتاہے،کھل کر نفرت کا پرچار کیا جاتاہے،مذہب اور ذات،برادری کے نام پر اشتعال انگیزی ہوتی ہے،بہار میں ذات برادری کا مسئلہ ایک لمبے عرصے سے چل رہاہے وہاں مسلمانوں کی آبادی تقریبا 18 فیصد ہے اور کئی سیٹ پر مسلمانوں کا ووٹ فیصلہ کن ہے،پوری ریاست میں صرف دوچار سیٹیں ایسی ہیں جہاں اکثریت کی وجہ سے مسلم امیدوار فتح یاب ہوسکتاہے،باقی ایسی سیٹیں ہیں جہاں مسلمان کم تعداد میں ہیں،وہاں کسی مسلم امیدوار کے جیتنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ایسی سیٹوں پر متحدہ ووٹ کے ذریعے کسی ایسے کنڈیڈیٹ کو ہی جتایا جاسکتا ہے جو برادران وطن کے ساتھ مسلمانوں کا بھی خیر خواہ ہو،ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بہار کا موجودہ الیکشن کوئی عام الیکشن نہیں ہے،بلکہ یہ آنے والے دنوں میں بہت کچھ طے کرے گا،مسلمان فطری طور پر ایک جذباتی قوم واقع ہوئی ہے،کچھ لوگ انکے جذبات سے کھیل کر اپنا الو سیدھا کرلیتے ہیں،اسکا نقصان بھولے بھالے عام مسلمانوں کو ہوتاہے،اسلئے ہمیں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے،یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بھارت کے مسلمانوں کا سب سے زیادہ نقصان جذباتی استحصال اور اشتعال انگیزی کے ذریعے ہوا ہے اور اب بھی ہورہاہے۔
ہندوستان جیسے ملک میں مسلمانوں کو جذبات نہیں بلکہ دانش مندی اور ہوش مندی کی ضرورت ہے،بھارت میں مسلمان دوسری سب سے بڑی اکثریت ہے،لیکن کہیں مسلک کے نام پر،کہیں علاقے کے نام پر کہیں پارٹی کے نام پر،کہیں جماعت اور تنظیم کے نام پر تو کہیں مخصوص فکرو خیال کے نام پر بٹے ہوئے ہیں،یہی وجہ ہے کہ آزاد بھارت میں ابوالکلام آزاد کے بعد مسلمانوں کا قومی سطح کا کوئی لیڈر نہیں ہوا،جو انھیں راستہ بتاسکے اور انکی قیادت کرسکے،جبکہ یہاں ہرذات،برادری کا قائد اور لیڈر موجود ہے، لیکن مسلم سماج یتیمی اور تنہائی کا شکار ہے،جولوگ مسلمانوں کے لیڈر بننے کے خواہش مند ہیں وہ اپنی ہی قوم کو طعن وتشنیع کا نشانہ بناتے ہیں،طنز کرتے ہیں، انکی توہین کرتے ہیں،اپنے اسٹیج سے کھلے عام گالیاں دیتے ہیں اور پھر یہ امید بھی کرتے ہیں کہ مسلمان انھیں اپنا قائد مان لے،وہ جو کہہ دیں مسلمان اسے ماننے کے لئے تیار ہوجائیں،حالانکہ ایسے لوگوں کے پاس نہ کوئی ویژن ہے،نہ کوئی دستور اور منشور ہے،نہ انکے پاس کوئی منصوبہ بندی اور مستقبل کا کوئی پلان ہے،لیکن وہ زبردستی مسلمانوں کے قائد بننا چاہتے ہیں وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ملک کا مسلمان بغیر سوچے سمجھے صرف مسلمان کے نام پر انھیں اپنا ووٹ دیدے اور وہ اپنی مرضی سے مسلمانوں کی تقدیر کا فیصلہ کریں،اسکے لئے جذباتی تقریریں کی جاتی ہیں اور جذباتی نعرے لگائے جاتے ہیں،جبکہ یہ مسلمانوں کے مسائل کا حل بالکل نہیں ہے اور ہندوستان کے مسلمان اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ خود تن تنہا اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔ظاہر ہے جب ہم انتشار کا شکار ہیں اور ہماری تعداد کم ہے تو ہمیں دانشمندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔جمہورت میں سرگنے جاتے ہیں اور آپ کے پاس جب سر ہی نہیں ہے تو پھر زور آزمائی کا کیا فائدہ ہوگا؟ہندوستان میں مسلم اور غیرمسلم کی بات انتہائی نقصاندہ ہے،اسکا خمیازہ ہم پہلے سے بھگت رہے ہیں،کچھ لوگ اب بھی چاہتے ہیں کہ یہ نقصان ہمیں آج پھر سے ہو۔
ملکی حالات کے تناظر میں اس وقت کی ذراسی چوک مسلمانوں کو بڑے نقصان کی طرف لے جائے گا، گھس پیٹھیا اور دراندازی کے نام پر ڈٹینشن سینٹر کی طرف لے جائے گا،ایک طرف بڑی تعداد میں ڈیٹینشن سینٹر تیار ہورہا ہے اور ملک گیر سطح پر ووٹرلسٹ میں ایس آئی آر کا کام چل رہا ہے یہ سب اسی مقصد کے تحت ہے،حکومت میں بیٹھے فرقہ پرست لوگ دھیرے دھیرے چاول کو چیک کررہے ہیں کہ چاول کیسا ہے،مسلمان آپس میں لڑرہے ہیں اور مسلم قیادت کے نام پر کچھ لوگ آگ میں گھی ڈالنے کا کام کررہے ہیں،مسلم قیادت اورمسلم پارٹی اپنے گھر کو مضبوط اور منظم کرنے کے بجائے پر جوش انداز میں کانگریس،سماجوادی اور دیگر سیکولر پارٹیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور پھر وہ امید بھی کرتے ہیں کہ ہم کو گٹھ بندھن میں لے لیا جائے تو ان کو پرانی باتیں بھی یاد رکھنی چاہیے،ایسے میں کوئی کیسے ان کو اپنے ساتھ شامل کرے گا؟ ہم اگر یہ سوچ کر کہ سامنے والا امیدوار مسلم ہے اور اپنا ووٹ ضائع کرنے سے اگر بی جے پی کا امیدوار جیت گیا تو اس کا ازالہ زندگی بھر نہیں کرپائیں گے،آنے والا وقت مسلمانوں کے لئے کیسا ہوگا،یہ سوچ کر ہی کلیجہ منھ کو آتاہے اور بدن میں سنسنی پیدا کررہا ہے،ابھی تو NCR کے ڈر سے ایک خودکشی ہوچکی ہے،بہار میں آپ کا ایک ایک ووٹ قیمتی ہے،اسکی قیمت کو پہچاننا ہوگا،اسے بکھرنے اور ضائع کرنے سے بچانا بے حد ضروری ہے،گزشتہ الیکشن میں بی جے پی اور اس کے الائینس کے صرف 12 ہزار ووٹوں کے فرق سے 42 سیٹیں جیتی گئی تھی،ابھی 80 لاکھ لوگوں کو ووٹرلسٹ سے باہر کردیا گیا ہے اور چور دروازے سے کتنوں کو اندر کیا گیا ہے معلوم نہیں، ایسے میں مسلم پارٹی کے امیدوار صرف ووٹ منتشر کریں گے جس سے بڑا نقصان ہوگا،اگر بہار میں بی جے پی کی حکومت آئی تو اہل بہار کو ممکنہ طور پر ان نقصانات کا سامنا کرنا ہوگا،مسلم تاجروں کی جانچ پڑتال ہوگی، مافیا کے نام پر انکاؤنٹر ہوگا،غیرقانونی کہہ کر بلڈوزر سے مکانات منہدم کئے جائیں گے،مسلم نوجوانوں کے ماب لنچنگ کی کثرت ہوگی،مسلم شہروں کے نام تبدیل ہونگے،گوشت کی دوکانوں پر کارروائی،مساجد و دینی مدارس پر نشانہ وغیرہ اور مسلمانوں پر بے تحاشا مظالم کا سلسلہ دیگر بی جے پی ریاستوں کی طرح شروع ہوجائے گا۔
ہندوستان کا مسلمان بہت بری طریقے سے ایک بھیانک چکرویو میں پھنسا ہوا ہے،ان کے آگے کنواں اور پیچھے کھائی ہے،بظاہر کسی مسئلے کا حل سمجھ میں نہیں آتا، سیکولر پارٹیاں اپنی ذہنیت تبدیل کرنے اور مسلمانوں کو انکا حق دینے کےلیے تیار نہیں ہیں اور بھارت کا مسلمان اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ سیاسی اعتبار سے تن تنہا کوئی فیصلہ کر سکے،یہ سب ملک کی تقسیم کا نتیجہ ہے،اگرمان لیا جائے کہ مسلمان یکطرفہ کسی مسلم پارٹی کو ووٹ کر بھی دیتے ہیں تو اس کا خمیازہ آنے والے دنوں میں بہت خطرناک ہوسکتا ہے،ایسے میں سیدھا سیدھا مقابلہ سسٹم سے کرنا ہوگا،پھر ظاہر ہے کہ جنکے ہاتھ میں سسٹم ہوگا وہاں آپ کی شراکت نہیں ہوگی تو پھر تو آپ سسٹم سے الگ تھلگ کردئے جائیں گے،جہاں آپ کو آدھار کارڈ،ووٹر آئی ڈی،راشن کارڈ اور زمین وغیرہ کے دیگر بنیادی سرکاری کام کےلئے جو سرکاری ادارے ہیں،وہاں مسلمانوں کا کام نہیں ہوگا،دوسرے لوگ جائیں گے،ان کا کام آسانی سے ہوجائے گا،آپ اپنا کام کرانے کے لئے جائیں گے تو وہاں آپ کو مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا،انتظار کرنا پڑے گا یا آپ بغیر کام کے واپس کردئے جائیں اورآپ کا کام ہی نہ ہو،جس طرح آسام،یو پی،اتراکھنڈ،مدھیہ پردیش، ہریانہ اور کچھ علاقوں میں ہورہا ہے کہ پولیس اسٹیشن میں مسلمانوں کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی جارہی ہے،مطلب یہ ہے کہ جب آپ سسٹم سے الگ کردئے جائیں گے تو یہ کتنا بڑا بحران ہوگا؟ کیا اسکی پابجائی ہوسکے گی؟جو صورت حال اس وقت ہے، کیا یہ حالات تشویشناک نہیں ہونگے؟ پھر اس سے نمٹنے کی صورت کیا ہوگی؟ جب آپ کسی غیر مسلم کو ووٹ نہیں دیں گے تو سسٹم تو ان کے ہاتھ میں رہے گا اور جب سسٹم ان کے ہاتھ میں رہے گا،سسٹم ان کے تابع رہے گا تو وہ آپ کا کام کیسے اور کیوں کرائیں گے؟صرف مسلمان پارٹی کے نام پر اگر بھارت کا مسلمان کسی مسلم پارٹی کو سپورٹ کرتا ہے تو کیا مسلمان سسٹم سے لڑسکتا ہے کیا آپ کے پاس سسٹم سے لڑنے کی طاقت ہے؟ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آنے والے وقت میں مسلمانوں کا کوئی بھی جذباتی فیصلہ مشکلات اور مصائب کے دروازے کھولے گا،سیمانچل کے مٹھی بھر جذباتی مسلمان جو اپنی قیادت کا نعرہ لگا رہے ہیں،انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیمانچل کوئی مستقل اسٹیٹ ہوتا تو پھر وہاں سسٹم آپ کے ہاتھ میں ہوتا اور حالات کچھ تبدیل ہوتے،لیکن وہاں ایسا کچھ نہیں ہے،سیمانچل بھی بہار کا حصہ ہے،سیمانچل میں بھی وہی حکومت بنے گی جو پورے بہار میں اکثریت حاصل کرے گی،ایسے میں مسلمان بلکہ بعض علماء بھی جنہوں نے مسلک اور تکفیر کے شوق میں آج تک ملت کی وحدت کا بخیہ ادھیڑ رکھا ہے،اب سیاسی طور پر بھی نادانی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔اگر متحد ہوکر کسی مسلم پارٹی کو وہاں جتابھی دیا جائے تو یہ بہت بڑا کرشمہ ہوگا اور ابھی جیسے حالات ہیں مسلمانوں کے مزاج کو دیکھ کر یہ کرشمہ کب ہوگا؟کچھ نہیں کہا جاسکتا۔پھر ایسے میں مسلم سی ایم اور ڈپٹی سی ایم کے موضوع پر گفتگو کرنا اور بیان دینا کیا مناسب ہے؟
اسد اویسی اور ان کے حمایتی یہ کہتے ہیں کہ کانگریس سمیت آر جے ڈی،سماجوادی پارٹی اور دیگر تمام سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہیں کررہی ہیں،انہیں دھوکہ دے رہی ہیں،اس لئے یہ پارٹیاں قابل بھروسہ نہیں ہیں،ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا،یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں اس لئے مسلمان ان پر بھروسہ نہ کریں۔یہ بات بہت حد تک درست بھی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اویسی صاحب کے اوپر مسلمان کیوں بھروسہ کرے؟ آخر ان کے پاس ویژن کیا ہے؟ لائحہ عمل کیا ہے؟ انکا دستور کیا ہے؟ منشور کیا ہے؟ اپنی قوم کے لئے کیا کرنا چاہتے ہیں وہ یہ کیوں نہیں بتاتے ؟ اگر سیکولر پارٹیاں اور ان کے لیڈران ٹکٹ بیچتے ہیں،جھوٹ بولتے ہیں،حرام کھاتے ہیں،سود کھاتے ہیں،سودی کاروبار کرتے ہیں تو آپ بھی تو وہی کام کرتے ہیں،آپ بھی اپنے بینک میں 14 پرسنٹ سود لیتے ہیں،دوسری پارٹیاں ٹکٹ بیچتی ہیں تو آپ بھی اپنی پارٹی کا ٹکٹ بیچ رہے ہیں،دوسری پارٹیاں اورانکے لیڈران سیاست کررہے ہیں تو آپ بھی سیاست کررہے ہیں،پھر ان پر بھروسہ نہ کیا جائے،آپ پر بھروسہ کیوں کیا جائے؟،آپ تلنگانہ اور حیدرآباد کی دیگر سیٹوں پر اپنے امیدوار کیوں نہیں اتارتے؟اپنا گھر کیوں مضبوط نہیں کرتے؟تلنگانہ میں مسلم سی ایم اور ڈپٹی سی ایم کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟دوسری ریاستوں میں آپ کو حکومت میں حصہ داری چاہئے اور خود اپنی ریاست میں آپکا ایجنڈا مختلف کیوں ہے؟ آپ کو یوپی،بہار اور مہارشٹرا وغیرہ میں مسلم سی ایم،ڈپٹی سی ایم اور وزیر وغیرہ کا عہدہ چاہئے لیکن تلنگانہ میں آپ کا یہ جذبہ سرد کیوں پڑجاتاہے؟ آسام،یوپی،اترا کھنڈ اور دیگر بی جے پی ریاستوں میں مسلمانوں کے ساتھ جو ناانصافی اور ظلم وستم ہورہاہے کیا آپ اسکو صرف اپنے بیان کے ذریعے روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ اور کیا یہ مظالم آپ کے بیانات سے رک جائیں گے؟اگر نہیں تو پھر اسکا حل کیا ہے؟ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو بہار کے اس الیکشن میں خاص طور پرکئی محاذ پر کام کرنے کی ضرورت ہے،سب سے پہلا یہ کہ آپ کا ووٹ تقسیم نہ ہو متحد ہو کر کسی ایسے امیدوار کو دیا جائے جو امن وسلامتی کےلئے پابند عہد ہو اور وہاں کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہو،ووٹ کرتے وقت، آپ مذہبی اور جذباتی نعروں کا ہرگز شکار نہ ہوں، مسلم اور غیر مسلم کے نعرے کو بھی آپ نظر انداز کریں،زیادہ سے زیادہ ووٹنگ میں حصہ لیں،بہار کے مسلمان،سماجی کارکن اور علماء اگرچاہیں تو متحد ہوکر کرناٹک ماڈل پر بھی کام کرسکتے ہیں،کرناٹک میں مسلمانوں نے یہ طے کرلیا کہ ہرحال میں یہاں سے مسلم دشمن پارٹی،جو ملک میں نفرت پھیلارہی ہے اورمسلمانوں کو نشانہ بنارہی ہے،امن پسند غیر مسلموں کو گمراہ کرکے مسلمانوں کے خلاف مشتعل کیاجارہاہے،اس صورت حال کے پیش نظر کرناٹک کا ہرفرد ایسی محنت کرنے لگا گویا کہ کنڈیڈیٹ اسی کے گھر کا کوئی اپنا فرد یا رشتہ دار ہو،جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ امن پسند ووٹروں کی مثبت فکر،اتحاد،حکمت عملی، دور اندیشی،انقلابی جذبوں اور دعاؤں کے طفیل کرناٹک میں ظالم حکمراں اقتدار سے بے دخل کردئے گئے۔بہار میں بھی اگر اس طرح کی محنت ہوتی ہے تو فرقہ پرستوں کو منھ کی کھانی پڑے گی، کیونکہ آزادی کے بعد سے اب تک بہار میں کوشش بسیار کے باوجود بی جے پی اپنے بل پر اقتدار حاصل نہیں کرسکی،کرناٹک میں بنگلور کے مؤقر علماء کا ایک وفد جناب اسد الدین اویسی سے ملا اور ان سے کہا کہ اس مرتبہ آپ کرناٹک اپنی پارٹی کو نہ بھیجیں،لیکن اسد الدین اویسی اپنے فیصلے پر مصر رہے،جس سے کرناٹک کے علماء مایوس ہوگئے،کرناٹک کا نتیجہ اویسی کے لئے انتہائی مایوس کن تھا،وہ سیٹیں جہاں مسلم ووٹر کا تناسب فیصلہ کن نہیں ہے وہاں گٹھ بندھن کے علاوہ کسی بھی دوسری پارٹی کو ووٹ دینا اپنی خودکشی کے متراف ہوگا۔کیونکہ پھر ایسے میں نفرت پھیلانے والوں کو اقتدار میں آنے سےکوئی نہیں روک سکتا، اگر بی جے پی اقتدار میں واپسی کرتی ہے تو بہار میں وہی سب ہوگا جو آسام، یوپی،اتراکھنڈ اور مہاراشٹرا وغیرہ میں ہورہاہے یعنی بلڈوزر راج کا بول بالا ہوگا، مسجدوں،مدرسوں اور درگاہوں وغیرہ کی کھدائی،کھلے عام مذہبی منافرت اور ظلم وبربریت کا راج قائم ہوگا۔
لہذا! بہار کے تمام دانشوران،فکرمند احباب،سماجی کارکن،امن پسند عوام،مسلم تنظیموں اور علماء سے گزارش ہے کہ اپنے اپنے حلقے،علاقے،محلے،گاؤں اورشہروں میں زمینی سطح پرکام کریں،لوگوں میں شعور بیدار کریں جو حضرات بہار سے باہر مقیم ہیں وہ علاقہ کے باشعور لوگوں سے اس تعلق سے بات کریں اورانکی ذہن سازی کریں۔بہار کے مسلمانوں کے ساتھ امن پسند برادران وطن کی بھلائی اور خیرخواہی اسی میں ہے۔کہیں ایسا نہ ہوکہ وقت نکل جائے اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں،لمحوں کی خطا ہو اور برسوں اسکی سزا بھگتنا پڑے۔سیکولر امیدوار سے آپ کو کچھ شکایت ہو سکتی ہے،ابھی ایک بڑے کاز کے لئے اسے بھول جائیں اور آگے کی فکر کریں،کیونکہ یہ الیکشن صرف بہار نہیں بلکہ پورے ملک کا مستقبل طے کرے گا،ملک کی سیاست کس رخ پر جائے گی یہ بھی یہیں سے طے ہوگا،بہار سے لیکر دلی تک اقتدار کی کرسی کس کے پاس ہوگی اور کتنے دن ہوگی؟ان سب فیصلوں کےلئے بہار میں ماحول گرم ہے،آپ کی شمولیت اس میں کس طور پر ہوگی خود غور کیجئے پھر فیصلہ کیجئے۔
(مضمون نگار:معروف صحافی اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)
sarfarazahmedqasmi@gmail.com
Like this:
Like Loading...