Skip to content
تیجسوی یادو: ایک بہاری سب پر بھاری
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بہار کی انتخابی مہم ساتویں آسمان پر ہے۔ اس کھیل میں آخری فتح چاہے جس کی ہو مگر اس مرحلے میں تو تیجسوی یادو نے عوام و خواص کا دل اس طرح جیتا کہ ’ ایک بہاری سب پہ بھاری‘ ہوگیا ۔ پرشانت کشور اور چراغ پاسوان تو خیر ان کے مقابلے میں کہیں تھے ہی نہیں لیکن دیکھتے دیکھتےانہوں نے بہار کی سیاست کے گھاگ کھلاڑی نتیش کمار کو بھی مات دے دی اور پھر امیت شاہ کو دھوبی پچھاڑ دیا۔ فی الحال تیجسوی کے آگےوزیر اعظم نریندر مودی بھی پھیکے پڑ گئے ہیں ۔ مودی کے ہر اوٹ پٹانگ الزام کا جواب سن کرعقل دنگ رہ جاتی ہے۔ مودی جی پہلگام کا رونا لے کر کشمیر کے بجائے بہار پہنچے تو تیجسوی نے سوال کیا وہ دہشت گرد آئے کیسے؟ اور پکڑے کیوں نہیں گئے؟ بی جے پی والوں نے قومی سطح پر ذات پات کی مردم شماری کا وعدہ کیا تو عوام کو بتایا گیا کہ بہار میں اس پر جب عمل ہوا تو نتیش کمار بی جے پی کے نہیں آر جے ڈی کے ساتھ تھے اور تیجسوی یادو نائب وزیر اعلیٰ تھے۔گھر گھر سیندور کا نعرہ لگا کر بی جے پی نے ڈبیا تقسیم کرنے کی کوشش کی تواسے یاد دلایا گیاکہ یہ تو شوہر کا حق ہے۔ بیوی کسی اور کا دیا ہوا سیندور لگانا توہین سمجھتی ہے۔ اس پر امیت مالویہ صاف مکر گئے اور درمیان میں ہی بی جے پی کو دم دبا کر بھاگنا پڑگیا ۔
’تم ڈال ڈال ہم پات پات‘ کی اس دوڑ میں مودی اور شاہ نے جب دیکھا کہ سارے حربے ناکام ہورہے ہیں تو ایس آئی آر کے ذریعہ انتخاب لوٹنے کی سازش رچی گئی اور یہ کھیل اس قدر بھونڈے انداز میں کھیلا گیا کہ لینے کے دینے پڑ گئے۔ پہلے تو کہا گیا کہ یہ ایک ضابطے کی کارروائی ہے۔ رائے دہندگان کی فہرست کو چست درست کرنے کے لیے یہ کام ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا جھوٹ تھا کہ جو کسی گلے سے نہیں اترا کیونکہ اس سے قبل سرکاری اہلکار صرف یہ جانچتے تھے کہ جن کے نام موجود ہیں ان کا انتقال تو نہیں ہوا یا کوئی مستقل طور پر منتقل ہوگیا ہو تو اس کا نام کاٹ دیا جاتانیز نئے ووٹرس کا نام شامل کرلیا جاتا۔ سرکار کا منشاء یہ ہوتا تھا کہ زیادہ سے لوگوں کو انتخابی عمل میں شامل کیا جائے لیکن اب یہ صورتحال یکسر بدل گئی اور حکومتِ وقت زیادہ سے زیادہ ایسے لوگوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کرنے لگی جو بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے ۔ ان میں سرِ فہرست تو ظاہر ہے مسلمان ہیں لیکن دیگر پسماندہ طبقات بھی اس کی لپیٹ میں آگئے۔
یہ دراصل چور دروازے سےاین آر سی نافذ کرنے کا حربہ تھاجس کا شکار مسلمانوں کے علاوہ ہندو سماج کے بھی بی جے پی مخالف لوگ ہونے لگے ۔ اس کے حق میں دلیل لائی گئی کہ ملک میں ووٹ ڈالنے کا حق صرف یہاں کے شہریوں کو ہے۔ ایسے میں جب الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ نے پوچھا کہ کیا شہریت کی جانچ پڑتال اس کی ذمہ داری تو جواب نفی میں اگر عملاً اس سےانحراف کرتے ہوئے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا گیا۔ کمیشن نے جن دستاویزات کو اپنی فہرست میں شامل کیا اس میں آدھار کارڈ تو دور اس کا اپنا جاری کردہ ووٹر کارڈ بھی موجود نہیں تھا۔ ملک کا کوئی اور ادارہ اگر ووٹر کارڈ کے تقدس کا منکر ہوتا تو چل جاتا لیکن خود الیکشن کمیشن کا ایسا کرنا اس کی نیت میں خرابی کا ثبوت تھا۔ اس معاملے جب ’شدھی کرن‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی تو بلی تھیلے سے باہر آگئی کیونکہ زعفرانیوں کے نزدیک مٹھی بھر نام نہاد اعلیٰ ذات کے علاوہ باقی سب اچھوت اور ناپاک ہیں۔ منو سرتی کے مطابق ایسے لوگوں کا ووٹر کی فہرست میں کیا کام ؟ اس لیے ایس آئی آر کے ذریعہ ایک ایک کرکے تمام ملیچھوں سے فہرست کو پاک کرنے کی ناپاک سعی کا آغاز کیا گیا ۔
ایس آئی آر کے نام پر جو مشق شروع کی گئی اس کا آخری مقصد ووٹرلسٹ کو شدھی کرن یعنی پاک صاف کرنا ہے۔ سنگھ پریوار کے نزدیک نام نہاد اعلیٰ ذاتوں سے تعلق رہنے والے لوگوں کے علاوہ سارے طبقات ملیچھ یعنی ناپاک ہیں ۔ ان ناپاک لوگوں کو حاصل برابر کا حق دراصل خود کو اونچا اور دوسروں کو حقیر سمجھنے والے طبقات کے لیے ناپسندیدہ بلکہ ناقابلِ برداشت ہے۔ اس لیے سنگھ کی دلی خواہش تو یہ ہے کہ ووٹرلسٹ میں سے برہمن، بنیا اور راجپوت کے علاوہ باقی سب کو نکال باہر کر دیا جائے مگر ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ لوگ نہایت قلیل اقلیت میں ہیں۔ ان کی تعداد اگر پچاس فیصد کے آس پاس ہوتی تو یہ بڑی آسانی سے مختلف حیلوں بہانوں سے باقی لوگوں کو نکال باہر کرتے لیکن اب یہ مشکل ہے ۔ اس لیے ایک سازش یہ کام کرنے کی کوشش جاری ہے۔ اس مقصد میں اگر یہ لوگ کامیاب ہہوگئے تو یہی طبقات اپنے میں سے کسی کو الیکشن کے ذریعہ منتخب کرلیں گے اور بلا شرکت غیرے حکومت کریں ۔ اس کے بعد دیگر طبقات کی سرکار میں حصہ داری کو ختم کرکے اپنی خدمت کے کام جوت دیا جائے گا ۔
سنگھ پریوار نے اپنی عمر کے 100؍ویں سال میں منو سمرتی کو نافذ کرنے کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے طریقہ نکالا ہے۔ یہ اس بات کا بلا واسطہ اعتراف ہے کہ زعفرانی جماعت ملک کے عوام کا دل جیت کر انتخاب جیتنے میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ ایسا چاہتے بھی نہیں ہیں۔بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں وزیر اعظم مودی کے نزدیک حکومت کرنے کا سب سے اچھا طریقہ روسی صدر پوتن کا طریقۂ کار ہے ۔وہ چند سرمایہ داروں کے سہارے بلا شرکت غیرےعرصۂ دراز سے اقتدار پر فائز ہیں۔ اپنے مخالفین کو ملک دشمن قرار دے کر جیل میں ٹھونسنے کے بعدوہ ہر انتخاب میں زبردست کامیابی درج کروا لیتے ہیں۔ چین کے اندر مودی جی کے چہیتے شی جن پنگ نے بھی تاعمر اقتدار میں رہنے کا منصوبہ بنالیا ہے ۔ ایسے میں مودی بھی یہی چاہتے ہوں ۔ اس کا سہل ترین راستہ الیکشن کمیشن کی مدد سے ایس آئی آر کی آڑ میں انتخابی عمل کو ہی یرغمال بنا لینا ہے۔
عدلیہ کو اس سازش کا احساس ہوگیا ہے مگر سپریم کورٹ محتاط ہے۔ اس کے اندر حکومت کی کھلی مخالفت کا حوصلہ نہیں ہے۔ اس کی جزوی مداخلت کے باوجود بی جے پی نےاپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے بہار میں تقریباً۶۶؍ لاکھ ووٹرس کا نام کاٹ دیا ہے ۔راہل گاندھی اور تیجسوی یادو کی جوڑی نے اس مشکل میں ایک موقع (آپدا میں اوسر) تلاش کرتے ہوئے گلی سے دلی تک ’ووٹ چور گدی چھوڑ‘ کانعرہ اچھال دیا۔ یہ اس قدر مشہور ہوا کہ ایوان پارلیمان کے اندر بھی اسی نعرے کے ساتھ وزیر اعظم کا استقبال ہوا نیز ایوانِ بالا میں امیت شاہ کے منہ پر ’ تڑی پارووٹ چور گدی چھوڑ‘ کہہ کرانہیں ذلیل کیا گیا۔ ایس آئی آر کا سیاسی جواز یہ پیش کیا گیا کہ بہت سارے بنگلہ دیشی درانداز ملک میں گھس آئے ہیں اور ان سے ووٹر لسٹ کو پاک کرکے ملک کو ’دھرم شالا‘ (مسافر خانہ) بننے سے بچانا ہے لیکن جب اس بابت الیکشن کمیشن سے پوچھا گیا کہ کتنے غیر ملکی نکلے تو وہ جواب ٹال گیا۔ نجی طور پر تحقیق کرنے والوں نے مختلف انکشافات کیے مثلاًایک میں پتہ چلا کہ جملہ ۶؍ ایسے لوگ ملے جو غیرملکیوں کے نام فہرست میں شامل کردیا گیا تھا اور ان میں سے ۳؍ انتقال فرما گئے۔ اس کو تو ’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ۷؍کروڈ ووٹرس میں ۷؍ غیر ملکی بھی نہ ہوں تو حکومت کس کو بیوقوف بنارہی ہے۔
ممبیا زبان کا ایک محاورہ ہے’کھایا پیا کچھ نہیں گلاس پھوڑا بارہ آنہ‘۔ در اندازی کے نام پر لوگوں کا نام تو نہیں نکالا جاسکا الٹا حکومت کے خلاف کئی سوالات کھڑے ہوگئے مثلاً سرحد کی حفاظت مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وہ کانٹے دار باڑھ لگا چکی ہے۔ اس کے باوجود اگر دراندازی ہورہی ہے تو وزیر داخلہ یا وزیر دفاع کیا کررہے ہیں؟ اس الزام نے نیم فوجی دستے بارڈر سیکیورٹی فورس کی کارکردگی پر شکوک شبہات پیدا کردئیے۔ لوگ سوچنے لگے کہ وہ کس بات کی تنخواہ لے رہے ہیں۔ ا ن سوالات نے بی جے پی کو دراندازی کے معاملے کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنے پر مجبور کردیا۔ اس کے خلاف تیجسوی نے بہاری اور باہری کا نعرہ دے کر عوام کو بتایا کہ مودی اور شاہ خود باہروالےلوگ ہیں۔ وہ اس بار نتیش کمار کو وزیر اعلیٰ نہیں بنانا چاہتے اس لیے پہلی بار یہ کہا جارہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کا انتخاب کامیاب ہونے والے ارکان اسمبلی کریں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ بہار میں بھی ایم پی اور راجستھان کی طرح مرکز کے کٹھ پتلی کو چٹھی کے ذریعہ مسلط کردیا جائے گا۔ اس وزیر اعلیٰ کی وفاداری ووٹ دینے والے رائے دہندگان کے بجائے دہلی دربار سے ہوگی اور وہ اس کے اشارے پر سارا بہار اڈانی جیسے لوگوں کو فروخت کردے گا۔ تیجسوی یادو نے امیت شاہ کو باہری قرار دے کر بی جے پی کی انتخابی بساط کو الٹ دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
Like this:
Like Loading...