Skip to content
"فلم دی تاج اسٹوری” تاریخ ہند پر کلنک
از : مفتی محمد سلمان قاسمی محبوب نگر
خادم تدریس ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد
+919052157421
ہندوستان کو انگریزوں کی آمد سے قبل سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا،اس کی کئی وجوہات میں سے ایک اس ملک کی خوب روئی بھی ہے،سرزمین ہند پر کئی قوموں نے زور آزمائی کی ہے،کسی نے اس ملک کا صرف استحصال کیا تو کسی نے اس کے حسن کو مزید نکھارا،ہندوستانی تاریخ کا ایک اہم حصہ مغل دور سلطنت ہے،شاہانِ مغل کی تاریخ کئی اعتبار سے قابل ذکر ہے،بالخصوص ملک کی تعمیر و ترقی میں مغل بادشاہوں کا جو عظیم کردار رہا وہ کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا،شاہان مغل میں ایک نام بادشاہ جہانگیر کا بیٹا و جانشین "خرم” معروف بہ شاہ جہاں ہے،یہ نام تاریخِ ہند کے افق پر اپنی شان و شوکت، عدل و انصاف، تعمیر و ترقی، اور حسنِ ذوق کے باعث تابندہ و پائندہ ہے۔
شاہ جہاں کا مختصر تعارف:
شاہ جہاں کا اصل نام خرم تھا، وہ بادشاہ جہانگیر کے فرزند اور مغل خاندان کے چشم و چراغ تھے،شاہ جہاں نے اپنے حسنِ تدبّر سے ملک کو استحکام بخشا۔ ان کے دور میں فنِ تعمیر، عدل و سیاست، اور تہذیب و تمدّن کا ایسا عروج ہوا جو آج بھی دنیا کے لیے مثال ہے۔
تعمیرات و فنون کا سنہری عہد:
شاہ جہاں کا نام سنتے ہی تاج محل کا ذکر زبان پر آتا ہے، وہ لازوال عمارت جو محبت کی علامت اور فنِ تعمیر کی معراج بن چکی ہے۔ لیکن تاج محل کے علاوہ بھی ان کے دور کی بے شمار یادگاریں آج تک ان کی فنی بصیرت اور جمالیاتی ذوق کی گواہی دیتی ہیں۔
لال قلعہ، جامع مسجد دہلی، موتی مسجد آگرہ، شالامار باغ لاہور، اور دیگر بے مثال عمارتیں شاہ جہاں کی تخلیقی ذوق و نظر کی روشن مثالیں ہیں۔ ان کے دور میں فنِ خطاطی، سنگ تراشی، نقش و نگار، اور باغبانی میں جو ترقی ہوئی وہ اس سے قبل برصغیر میں کبھی نہ دیکھی گئی تھی۔
شاہ جہاں کے دور میں سلطنتِ مغلیہ کی معیشت اپنے عروج پر تھی۔ تجارت کے راستے کھلے، امن و امان کی بدولت زراعت اور صنعت کو فروغ ملا۔ سڑکیں، سرائیں، پل اور نہری نظام عام لوگوں کی سہولت کے لیے قائم کیے گئے۔
تاج محل_حسنِ جاوداں کی تابندہ تصویر:
شاہ جہاں کے عظیم الشان کارناموں میں خصوصی طور پر قابل ذکر تاج محل ہے،
جب سورج کی کرنیں دریائے جمنا کے شفاف پانیوں پر جھلملاتی ہیں، تو ان لہروں میں جو سفید سنگِ مرمر کی عمارت اپنی لطافت اور شان کے ساتھ ابھرتی ہے — وہ ہے تاج محل، دریائے جمنا کا پرسکون پانی تاج محل کے عکس کو سینے میں سمیٹے خاموشی سے بہتا رہتا ہے، گویا اپنے ہی اندر اس حسن کو محفوظ کر لینا چاہتا ہو۔جب سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمکتا ہے، تو تاج محل اپنی سفید مرمری چمک سے آنکھوں کو خیرہ کر دیتا ہے۔ سنگِ مرمر پر تراشے گئے خوشنما پھول،بیل بوٹے،ان کے درمیان قیمتی و متنوع الالوان پتھروں سے بنے ہوئے نقوش،پتھروں میں کندہ قرآنی آیات کی خطاطی، سب کچھ روشنی میں جھلملاتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں،ہر زاویہ، ہر دیوار، ہر محراب میں توازن و تناسب کی ایک دنیا آباد ہے۔
تاج محل کا نقشہ ہندوستانی و اسلامی فنِ تعمیر کا حسین امتزاج ہے۔ اس کی بنیادوں میں فارسی نزاکت، ترک عظمت اور ہندی نرمی کا حسین سنگم ہے۔ چاروں مینار گویا محافظوں کی طرح گنبد کے گرد ایستادہ ہیں۔ وسط میں بلند گنبد آسمان کو چھوتا ہوا نظر آتا ہے،فی الجملہ تاج محل اپنے حسن و جمال اور تعمیراتی نقش و نگار میں نادل المثال ہے،دنیا بھر کے زائرین بڑی عظمت سے تاج محل کے دیدار کے لیے لمبی لمبی مسافتیں طے کرکے آگرہ پہونچتے ہیں،اور تاج محل کے دلکش مناظر میں کھو جاتے ہیں۔
محقق و مستند تاریخی روایات سے ثابت ہے نیز ساری دنیا جانتی ہے کہ شاہ جہاں نے تاج محل اپنی محبوب و عزیزترین اہلیہ ممتاز محل (اصل نام ارجمند بانو) کی یاد میں تعمیر کروایا تھا جب اس کی چودھویں بچے کے وضع حمل کے دوران خون کے زیادہ بہاؤ سے کم عمری میں ہی وفات ہوئی،بادشاہ کو چوں کہ اپنی اس اہلیہ سے حد درجہ لگاؤ اور بے پناہ محبت تھی تو اس نے اس کی یاد میں کوئی یادگار کام کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس کی مزار پر دنیا کی سب سے خوبصورت عمارت تاج محل کی تعمیر کی۔
فلم دی تاج اسٹوری:
ملک کی بدلتی فضا میں جہاں حکومت ہند اور ان کی کاسہ لیس میڈیا جو بدامنی پھیلا رہی ہے اور اسلام کی نفرت کے شیوع کے لیے جو طور طریقے اپنائے جارہے ہیں انہیں میں سے ایک اسلام مخالف فلموں کا تسلسل ہے،آج کل کی فلموں میں اسلامی تہذیب و شریعت ،اسلامی احکام اور ذاتی طور پر مسلمانوں کو ٹارگٹ کرکے ایک طرح کا منفی تاثر پیدا کیا جارہا ہے،ساتھ ہی فلموں کے ذریعے ہند میں مسلمان بادشاہوں کی جو گراں قدر خدمات ہیں ان پر پانی پھیرنے اور ان کو ملک کا غاصب و ڈاکو اور ہندوؤں کے حق میں ظالم و سفاک باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے،اس سلسلے میں انہوں نے سب سے زیادہ حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ کو نشانہ بنایا ہے،اور یہ سلسلہ مغل سلطانوں میں تقریباً انہیں کے حد تک محدود تھا،لیکن اب ان کے والد شاہ جہاں کے خلاف نشتر چل رہے ہیں،شاہ جہاں کا سب سے بڑا کارنامہ جس کے بوجھ تلے ہندوستان آج بھی دبا ہوا ہے "تاج محل” کی تعمیر ہے،جس کے ذریعے ہندوستان کا عالمی سطح پر نام بھی روشن ہے اور وہاں پر حاضر ہونے والے زائرین کے سبب حکومتِ ہند کو خطیر مقدار کا نفع بھی حاصل ہوتا ہے،حق تو یہ تھا کہ شاہ جہاں کے کارناموں کو سراہا جاتا،ان کی تاریخ و خدمات کو لوگوں میں عام کیا جاتا،نئی نسل کے سامنے ان کی خوبیاں بیان کی جاتیں،اس کے برعکس ان پر الزام لگایا جارہا ہے کہ تاج محل کو انہوں نے مندر پر بنایا ہے،وہ زمین پہلے ہندوؤں کی تھی،تاج محل کی جگہ تیجو مند آباد تھا وغیرہ وغیرہ،اب اسی سلسلے میں ایک فلم THE TAJ STORY (دی تاج اسٹوری) 31, اکتوبر,2025 کو منظر عام پر آنے والی ہے،فلم کا بنیادی کانسیپٹ ہندوؤں اور لبرل عوام کے ذہن کو جمالِ ہندوستان تاج محل اور اس کے بانی شاہ جہاں کے تعلق سے پراگندہ کرنا ہے،پہلے تو فلم کا ایسا پوسٹر سامنے آیا کہ تاج محل کے گنبد سے ہندوؤں کے بھگوان شیو جی نمایاں ہو رہے ہیں، پھر کچھ دنوں قبل فلم کا ٹریلر جاری کیا گیا جس میں صاف طور پر مسلم دشمنی ظاہر ہو رہی ہے، ٹریلر میں دکھایا گیا کہ ایک وشنو داس نامی شخص جو کئی سال تک تاج محل پر وارد ہونے والے سیاحوں کو گائیڈ کرتا تھا وہی تاج محل کے خلاف کھڑا ہو گیا، اس کو تاج محل کے بانی اور اس کے طرز تعمیر پر شک ہونے لگا تو اس نے تاج محل اور اس کے بانی شاہ جہاں کے خلاف ہندوستانی عدلیہ میں عرضی داخل کی کہ تاج محل کی تحقیق کی جائے؛ اس لیے کہ یہ مندر کو گرا کر بنایا گیا ہے، اس میں مندر کے آثار کسی درجے موجود ہیں وغیرہ وغیرہ، نیز تاج محل کے اندرون حصے میں جو 20 یا 22 کمرے مقفل ہیں ان کا سراغ لگایا جائے کیونکہ ممکن ہے ان میں کچھ مورتیاں چھپی ہوئی ہوں اور مندر کے آثار موجود ہوں،پھر کچھ ایسے ڈائیلاگز بھی ہیں کہ تاج محل کے بانی "شاہ جہاں کا کام مندر بنانا نہیں بلکہ مندر توڑنا ہے” مقصد یہ ہے کہ مسلم بادشاہوں کی نفرت سماج میں بڑھتی جائے، ایک اور ڈائیلاگ یہ ہے کہ "ہندوستانیوں کے رگ رگ میں سناتن ہیں”،تاکہ یہ سب دیکھ کر اور سن کر ہندو مزید جذباتی اور مشتعل ہو جائیں، فلم میں اور کیا کیا زہر گھولا گیا اس کا تو ریلیز کے بعد ہی پتہ چلے گا۔
اس پروپگنڈے کا آغاز کہاں سے ہوا:
دراصل تاج محل کے تیجو محل ہونے کا مدعا اٹھانے والا سب سے پہلا شخص PN OAK یعنی پروشوتم ناگیش اوک ہے، یہ شخص بزعم خود مورخ ہے جس کا قلم صرف ہندوتوا کی تائید اور اس کے علاوہ مذاہب کی مخالفت میں چلتا تھا، اس نے لال قلعہ، تاج محل، لکھنو کے تاریخی مقامات حتی کہ کعبۃ اللہ اور مذہب عیسائیت کو بھی ہندومت سے جوڑنے کی کوشش کی ہے،اس نے عبارتوں کو توڑ مروڑ کر اور تاریخی کتابوں میں من مانی تصرفات کے ذریعے اپنے خطرناک نظریات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، اس جعلی مورخ کے نزدیک مستند تاریخی حقائق کے بالمقابل اس کے اپنے نظریات اور خیال میں پک رہا خناس اہمیت کا حامل ہے، اس نے اپنی مخصوص آئیڈیالوجی سے تاج محل کے تعلق سے دعوی کیا کہ یہ ایک ہندو مندر تھا اور عدالت میں تاج محل کی تعمیر کے خلاف ایک درخواست بھی پیش کی تھی۔
ویکیپیڈیا رپورٹ کے مطابق سال 2000ء میں بھارت کی سپریم کورٹ نے پی۔این۔ اوک کی وہ درخواست مسترد کر دی جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ تاج محل کو ایک ہندو بادشاہ کی تعمیر قرار دیا جائے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اوک کو تاج محل کے بارے میں ایک غیر معقول ضد یا خبط لاحق ہے۔
سن 2017ء تک اوک کے نظریے سے متاثر ہو کر مختلف عدالتوں میں کئی مقدمات دائر کیے گئے جن میں تاج محل کو ہندو مندر قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ تاہم محکمۂ آثارِ قدیمہ ہند (Archaeological Survey of India) نے اگست 2017 میں واضح طور پر بیان دیا کہ
"ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ تاج محل کبھی کسی مندر یا ہندو عمارت کے طور پر استعمال ہوا ہو۔”
معروف مؤرخ جائلز ٹلٹسن (Giles Tillotson) نے اوک کے دعوؤں کو
"تاج محل کو نیا مطلب دینے کی ایک مایوس کن کوشش”جعلی علمیت (pseudo-scholarship)”
قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق پی۔این۔ اوک نے پادشاہ نامہ میں مذکور اس بات کو غلط انداز میں پیش کیا کہ شاہ جہاں نے تاج محل کی زمین جے سنگھ اوّل سے خریدی تھی، جس زمین پر پہلے راجا کے کسی جد نے ایک عمارت تعمیر کی تھی۔ اوک نے اسی بنیاد پر یہ کہانی گھڑی کہ تاج محل دراصل ایک قدیم ہندو عمارت تھی۔
ٹلٹسن مزید لکھتے ہیں کہ:
اوک نے تاج محل کی تعمیر کو تیرہ صدی قبل (چوتھی صدی عیسوی) سے منسوب کرنے کی کوشش کی، حالانکہ اس زمانے میں ایسی پختہ عمارتیں بنانے کی تکنیکی صلاحیت ہندوستان میں موجود نہیں تھی۔
اُس دور کی صرف سنگ تراشی یا چٹانوں کو تراش کر بنائی گئی عمارتیں ہی پائی جاتی ہیں۔
بعد میں اوک نے اپنی رائے بدل کر کہا کہ یہ عمارت بارہویں صدی کی ہے۔
اوک کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ مغلوں نے خود کچھ نہیں بنایا بلکہ قدیم ہندو عمارتوں کو تبدیل کرکے استعمال کیا۔
حتیٰ کہ انہوں نے مغربی ایشیا (West Asia) کی عمارتوں کو بھی "ہندو طرزِ تعمیر کی پیداوار” قرار دیا۔
تاریخی روایات کے مطابق یہ زمین شاہ جہاں نے راجہ جے سنگھ (راجپوت حکمران) سے خریدی تھی۔
بدایونی کی "واقعاتِ عالمگیری” اور محمد صالح کنبو کی "عمل صالح” (مشہور بہ شاهجهان نامہ) میں مذکور ہے کہ”یہ قطعۂ زمین جہاں تاج محل کی بنیاد رکھی گئی، پہلے راجہ مان سنگھ کے باغ کا حصہ تھا، جو اس وقت راجہ جے سنگھ کے قبضے میں تھا۔ شاہ جہاں نے اسے راجہ جے سنگھ سے قیمتاً خریدا، تب جا کر وہاں تعمیر شروع کی گئی۔”
(حوالہ: "عمل صالح” جلد دوم، ص ۴۰۵، مطبوعہ: مطبع نظامی، دہلی)
"بادشاہ نامہ” از عبدالحمید لاہوری
جو شاہ جہاں کے درباری مؤرخ تھے، وہ لکھتے ہیں:
"پہلے یہ زمین راجہ مان سنگھ کی ملکیت تھی۔ موجودہ راجہ جے سنگھ نے شاہی ضرورت کے پیشِ نظر یہ قطعہ بہ قیمت مناسب بادشاہ کے سپرد کیا۔”
(حوالہ: بادشاہ نامہ، جلد دوم، صفحہ ۴۰۱، ایڈیشن: نیشنل آرکائیوز آف انڈیا)
سر پرسی براؤن (Sir Percy Brown) اپنی کتاب
“Indian Architecture (Islamic Period)”
میں لکھتے ہیں:
> “The site of the Taj Mahal was originally the property of Raja Jai Singh, which Shah Jahan purchased before the construction began.”
(Reference: Percy Brown, Indian Architecture – The Islamic Period, Vol. II, p. 82)
[ASI (Archaeological Survey of India)]
کی سرکاری ریکارڈ رپورٹ میں بھی یہی ذکر ہے:
> “Historical documents confirm that the land was acquired from Raja Jai Singh of Amber by Shah Jahan in exchange for four havelis elsewhere in Agra.”
(Source: ASI Report on Taj Mahal, 1923, p. 17)
غرض ان تاریخی حقائق کو مدنظر رکھ کر یہ مسئلہ تو صاف ہوگیا کہ تاج محل کی عمارت کسی مندر وغیرہ پر نہیں بنائی گئی ہے،بلکہ ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے ہندو شخص سے بادشاہ نے اس کی رضامندی سے خریدا تھا اور فلم دی تاج اسٹوری سراسر جھوٹ اور پروپیگنڈہ پر مبنی ہے جس کو سچ کا عنوان دے کر تاریخ کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے،ہدایت کار و اداکار ایسی فلموں سے حکومت کی داد اور عوام کا پیسہ بٹورنا چاہتے ہے،نیز ملک کی پر امن فضا میں گندگی پھیلانا اور نفرت کو فروغ دینا ان کا مقصد ہے،ماحول کے اثرات سے کچھ عصری علوم سے وابستہ افراد بھی اسلامی شعائر اور مسلم حکومتوں سے بدظن ہورہے ہیں،ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنی نسلوں کو مسلم سپوتوں کے ناقابل فراموش کارناموں سے باخبر کریں اور اسلام کو بدنام کرنے والے فلموں ڈراموں بلکہ علی الاطلاق ان چیزوں سے باز رکھیں،اور اپنی طاقت و قوت کے بہ قدر ان باتوں کے خلاف آواز اٹھائیں،قانونی کروائی کریں،قومی شعور بیدار کریں؛یہ ہمارا قومی و ملی حق ہے۔
Post Views: 9
Like this:
Like Loading...