Skip to content
بحیرۂ احمر کی سیاست اور دارفور کی خاک
سوڈان میں جدید استعمار کی خونی بساط
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
دنیا کے سیاسی نقشے پر سوڈان آج محض ایک جنگ زدہ ملک نہیں، بلکہ عالمی طاقتوں کی تزویراتی کشمکش کا آئینہ بن چکا ہے۔ اس کے لہو سے رنگے ہوئے ریگزار، بین الاقوامی ضمیر کی خاموشی اور سفارتی مفادات کی ٹھنڈک کا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔ دارفور کے ملبوں سے اٹھنے والا دھواں صرف انسانی المیے کا اشارہ نہیں بلکہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ جدید جنگیں اب سرحدوں کے بیچ نہیں، بلکہ بحیرۂ احمر کے نیلگوں پانیوں، تجارتی راستوں اور خفیہ سفارتی معاہدوں کے پس منظر میں لڑی جا رہی ہیں۔ سوڈان کا المیہ اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ خون اور تیل، انسان اور مفاد، اب بین الاقوامی سیاست کی ایک ہی لغت کے مترادف الفاظ بن چکے ہیں۔ یہاں ہر گولی کے پیچھے ایک تجارتی سمجھوتہ، ہر تباہ شہر کے پیچھے ایک تزویراتی نقشہ اور ہر خاموش ضمیر کے پیچھے ایک عالمی مصلحت پوشیدہ ہے۔ یہی وہ تناظر ہے جس میں سوڈان کی جنگ خاص طور پر الفاشر کا قتلِ عام کو سمجھنا محض انسانی ہمدردی نہیں، بلکہ عالمی طاقتوں کے کھیل کی تہہ تک پہنچنے کی ایک اخلاقی ضرورت بن جاتی ہے۔
درجنوں معصوم جانوں کے خون سے رنگی ہوئی سوڈان کی سر زمین ایک بار پھر ظلم و بربریت کی الم ناک داستان سنا رہی ہے۔ مغربی دارفور کے شہر الفاشر میں ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے تازہ قبضے کے دوران جو کچھ ہوا، اسے تاریخ کے صفحات میں ایک اور سیاہ باب کے طور پر درج کیا جائے گا۔ انسانی ضمیر اس منظر پر لرز اٹھا ہے، اور دنیا کی بے حسی اپنی انتہاء کو چھو رہی ہے۔ سوڈان ڈاکٹرس نیٹ ورک نے اس المیے کو "ایک حقیقی نسل کُشی” قرار دیا ہے۔ ایک ایسی نسل کشی جس میں انسانوں کو صرف ان کے وجود کے جرم میں مٹا دیا گیا۔ تنظیم کے مطابق، آر ایس ایف نے صرف تین دنوں میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ بے گناہ شہریوں کو اس وقت موت کے گھاٹ اتار دیا جب وہ اپنے بچّوں کو لے کر شہر کے ملبوں میں پناہ تلاش کر رہے تھے۔ گولیاں ان کے پیچھے تھیں اور آگ ان کے سامنے۔
یہ کوئی اچانک جنون نہیں، بلکہ ایک منصوبہ بند و منظم قتلِ عام ہے، جس کی جڑیں اُس الم ناک واقعے سے جڑی ہیں جو ڈیڑھ سال قبل الفاشر ہی میں پیش آیا تھا، جب 14 ہزار سے زیادہ انسانوں کو بھوک، بمباری اور اجتماعی قتل کے ذریعے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا تھا۔ آج کا خون، اُس خون کا تسلسل ہے، ایک ایسا تسلسل جو عالمی ضمیر کی نیند پر طمانچہ ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اس قیامت کا بصری ثبوت پیش کرتی ہیں۔ زمین پر انسانی لاشوں کے جُھنڈ، سرخی مائل دھبے، اور تباہ شدہ عمارتوں کی راکھ میں دفن چیخیں، یہ سب کچھ اس حقیقت کا اعلان کر رہے ہیں کہ الفاشر اب ایک شہر نہیں، ایک اجتماعی قبرستان بن چکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، اس لرزہ خیز سلسلے کے آغاز سے اب تک کم از کم دو ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان میں وہ رضاکار بھی شامل ہیں جو زخمیوں کو سہارا دینے نکلے تھے، اور وہ ریڈ کریسنٹ کے کارکنان جو اسپتالوں اور مساجد میں پناہ گزینوں کی مدد کر رہے تھے۔ مگر ان کی انسانیت بھی گولیوں کی زد میں آ گئی۔ مئی 2024ء کے بعد سے، El-Fasher میں سماجی حالات، خوراک، دواؤں اور طبی سہولیات کی دستیابی انتہائی خراب ہوئی تھی۔ جنوری 2025ء میں، سعودی تدریسی میٹرنٹی اسپتال (Saudi Teaching Maternal Hospital) پر ڈرون حملہ ہوا، اور کم از کم 70 مریض اور ان کے رشتہ دار ہلاک ہوئے۔
اقوامِ متحدہ کی اطلاع انسانیت کی تاریخ پر ایک اور بدنما داغ بن کر ثبت ہو گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ الفاشر کے اسپتال میں موجود تمام 460 مریض اور پناہ گزین بے رحمی سے قتل کر دیے گئے ہیں۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ 460 زندگیاں، کہانیاں، اور خواب ہیں جو عالمی ضمیر کی بے حسی کے ملبے تلے دم توڑ گئے۔ اکتوبر 2025ء کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، جب ریپڈ سپورٹ فورس (RSF) نے شہر پر قبضہ کیا، اُس وقت اسپتال کے اندر موجود مریض، ان کے تیماردار، اور طبی عملے سمیت تقریباً 460 افراد ہلاک ہوئے۔ طبی و امدادی تنظیموں نے اسے انسانی المیے کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورا نظامِ صحت تباہ ہو چکا ہے، اسپتال ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں، اور شہری تحفّظ کا کوئی وجود باقی نہیں رہا۔
یہ صرف سوڈان کا المیہ نہیں، بلکہ انسانی ضمیر کی شکست ہے۔ جب دنیا کے دارالحکومتوں میں سفارتی بیانات اور مذمتی قراردادیں لکھی جا رہی ہیں، تب دارفور کی گلیوں میں انسانیت کی لاشوں پر خاک اڑ رہی ہے۔ یہ لمحہ انسانیت سے سوال کرتا ہے:
کیا اقوامِ متحدہ کے ایوان صرف فلسطین، روانڈا اور بوسنیا کی تاریخ دہرانے کے لیے بنے تھے؟ کیا ہم پھر وہی انتظار کریں گے جب خون سوکھ جائے، تصویریں بوسیدہ ہو جائیں، اور ایک اور نسل ملبوں میں جنم لے؟
الفاشر کے جلتے ہوئے افق پر دھوئیں کے بادل اب محض بربادی کی علامت نہیں رہے، بلکہ وہ بین الاقوامی سازش کے سائے کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کی سفاکانہ کارروائیوں نے جہاں سوڈان کی سرزمین کو خون سے رنگ دیا، وہیں اب ایسے شواہد سامنے آ رہے ہیں جو اس المناک باب کے پیچھے اسرائیلی ہاتھ کی موجودگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ سوڈان ٹرانسپیرنسی کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسیاں 2021ء کے اوائل ہی میں RSF کے کمانڈر محمد حمدان دگالو (حمیدتی) سے رابطے میں آ چکی تھیں۔ یہ وہی دور تھا جب سوڈان اندرونی انتشار کا شکار تھا اور بین الاقوامی قوتیں وہاں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے سرگرم تھیں۔
رپورٹ کے مطابق، مئی 2021ء میں ایک خفیہ پرواز، جو ایک سابق اسرائیلی فوجی افسر سے منسلک تھی، نے 45 منٹ کے ایک مختصر توقف کے بعد خرطوم میں لینڈ کیا۔ اسی پرواز کے ذریعے جدید جاسوسی اور نگرانی کے آلات منتقل کیے گئے، جنہیں بعد میں RSF کے قبضے میں دیکھا گیا۔ رپورٹ کا جملہ اپنی معنویت میں نہایت گہرا ہے: "اسرائیل کے سوڈان میں روابط صرف سوڈانی فوج (SAF) تک محدود نہیں رہے، بلکہ وہ ریپڈ سپورٹ فورسز کے سربراہ حمیدتی تک بھی پہنچ چکے تھے”۔ مزید کہا گیا کہ "جدید جاسوسی آلات کی ترسیل” انہی خفیہ روابط کا عملی ثبوت تھی۔ آزاد محققین نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ RSF کے پاس موجود LAR-160 ملٹی پل راکٹ لانچرز۔ دراصل اسرائیل ملٹری انڈسٹریز کی ایجاد ہیں۔ یہ وہی ہتھیار ہیں جنہوں نے ماضی میں مشرقِ وسطیٰ کی کئی جنگوں میں تباہی پھیلائی تھی۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو الفاشر کی تباہی صرف ایک خانہ جنگی نہیں، بلکہ اسرائیلی دفاعی صنعت کی براہِ راست آزمائش کا میدان تھی۔
قاہرہ میں مقیم افریقی محقق، ماہرِ سیاست و دفاع، کریبسُو دیالو نے ایک گفتگو میں کہا کہ ان خفیہ روابط کے براہِ راست اثرات الفاشر کی جنگ میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی: "اگر یہ تعلقات ثابت ہو گئے تو یقیناً RSF کو اسرائیلی تعاون سے خفیہ معلومات، جدید مواصلاتی نظام اور عملی حکمتِ عملی کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہوگا”۔ "یہی بات شاید واضح کرتی ہے کہ وہ الفاشر کے محاصرے کو طویل مدّت تک برقرار رکھنے اور شہری علاقوں پر انتہائی منظم حملے کرنے کے قابل کیسے ہوئے”۔ دیالو نے مزید کہا کہ اگر یہ تعلقات بالواسطہ طور پر نجی اسلحہ فروش نیٹ ورکس کے ذریعے بھی قائم کیے گئے ہوں، تو یہ RSF کو ایک ایسا سیاسی تحفّظ اور بین الاقوامی بے خوفی (impunity) فراہم کرتے ہیں جو انصاف کے تمام راستوں کو مسدود کر دیتا ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ جدید جنگیں صرف میدانوں میں نہیں، بلکہ مخابراتی کمروں، دفاعی سودوں، اور بین الاقوامی میزوں پر لڑی جاتی ہیں۔ اگر الفاشر کے قتلِ عام میں اسرائیلی ساختہ ہتھیار اور ٹیکنالوجی شامل رہی، تو یہ نہ صرف اخلاقی زوال کی علامت ہے بلکہ یہ سوال بھی پیدا کرتی ہے: کیا انسانیت اب محض دفاعی تجارت کی قیمت بن چکی ہے؟ آج جب الفاشر کے ملبوں سے چیخوں کی بازگشت اٹھ رہی ہے، تو یہ سوال عالمی برادری سے مخاطب ہے کیا ان خفیہ تعلقات کی تحقیقات صرف رپورٹس میں دفن ہو جائیں گی؟ یا دنیا ایک بار پھر وہی غلطی دہرائے گی جو فلسطین، بوسنیا اور روانڈا میں کی گئی تھی؟ اگر عالمی ضمیر نے اس بار بھی خاموشی اختیار کی تو تاریخ یہ لکھے گی کہ الفاشر میں قتل صرف انسانوں کا نہیں، انسانیت کا ہوا تھا۔
جدید جنگوں کی ہولناک تاریخ میں ایک افسوسناک مماثلت ابھر کر سامنے آئی ہے۔ سوڈان کی ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نے، بقول مبصرین، وہی بیانیہ، طرزِ عمل اور قانونی موشگافیاں اپنانی شروع کر دی ہیں جنہیں اسرائیل نے غزہ میں اپنے مظالم کے جواز کے طور پر استعمال کیا۔ یہ محض حکمتِ عملی کی مماثلت نہیں بلکہ ایک اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ ایک ایسا سانچہ جس میں ظلم کو قانون، جارحیت کو دفاع، اور نسل کُشی کو "فوجی ضرورت” کے پردے میں چھپایا جاتا ہے۔ الجزیرہ کی تازہ ترین تحقیقی رپورٹ کے مطابق، آر ایس ایف نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کے "قانونی دلائل” کی نقل کرتے ہوئے شہری بستیوں اور پناہ گزین کیمپوں کو پہلے "فوجی علاقے” قرار دیا اور پھر ان پر حملہ کر دیا۔ زمزم کی بے گھر افراد کی بستی پر حملے سے قبل یہی حربہ استعمال کیا گیا تاکہ عالمی قانون کی نظر میں جرم کو "قانونی کارروائی” کا لبادہ پہنایا جا سکے۔
یہ طرزِ استدلال دراصل بین الاقوامی انسانی قانون (International Humanitarian Law) کی روح کے منافی ہے، جو شہریوں اور غیر مسلح افراد کو ہر حال میں تحفّظ فراہم کرتا ہے۔ لیکن جب "دشمن” کا مفہوم بدل کر کسی پوری آبادی یا نسل پر منطبق کر دیا جائے، تو انصاف کی بنیاد ہی متزلزل ہو جاتی ہے۔ ممتاز محقق پروفیسر لوئیجی ڈینیئیلی نے اس رجحان کو "خطرناک قانونی انحراف” قرار دیتے ہوئے کہا: "آر ایس ایف دراصل وہی زبان استعمال کر رہی ہے جسے اسرائیل نے اجتماعی سزا کے جواز کے طور پر رائج کیا۔ پورے علاقوں کو ‘فوجی زون’ قرار دینا، شہریوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنے کی ایک شعوری کوشش ہے اور یہ طرزِ عمل سب سے پہلے غزہ میں آزمایا گیا تھا”۔ یہ وہی نظریہ ہے جو طاقتور اقوام نے اپنے مفاد کے لیے وضع کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کمزوروں کے لیے ہے، طاقتوروں کے لیے نہیں۔
اقوامِ متحدہ میں سوڈان کے سفیر الـحارث ادریس الـحارث محمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں جذباتی مگر مدلل انداز میں کہا: "الفاشر میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض خانہ جنگی نہیں بلکہ ایک منظم نسل کُشی (Genocide) ہے۔ خواتین کی عصمتیں پامال کی جا رہی ہیں، بچّے بے دردی سے قتل کیے جا رہے ہیں، اور بستیاں مٹی میں ملا دی جا رہی ہیں۔ یہ 2023ء سے جاری نسلی تطہیر (Ethnic Cleansing) کے ایک منظم تسلسل کی شکل اختیار کر چکی ہے”۔
ان کے الفاظ محض ایک ریاستی نمائندے کی گزارش نہیں بلکہ ایک قوم کی چیخ ہیں جو عالمی ضمیر کی خاموشی میں دفن ہو رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ اور سوڈان دونوں محاذوں پر عالمی برادری کا سکوت دراصل سیاسی مصلحتوں کا نقاب ہے۔ جب بین الاقوامی طاقتیں انصاف کے بجائے تجارتی مفادات، جغرافیائی اثر و رسوخ، اور خفیہ معاہدوں کو ترجیح دیتی ہیں تو ظلم ایک ملک سے دوسرے ملک میں درآمد ہونے والا نظام بن جاتا ہے۔ افریقی محقق نے اس رویے کو نہایت گہرے انداز میں بیان کیا: "الفاشر میں بہنے والا خون مقامی نہیں رہا یہ عالمی طاقتوں کے اتحاد کی سرخی بن چکا ہے۔ فوجی ٹیکنالوجی، سیاسی پشت پناہی، اور خفیہ تعاون اب ظلم کو دوام اور مجرموں کو بے خوفی عطا کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانیت کی شکست عالمی مفاہمت بن جاتی ہے”۔
آج جب اسرائیل غزہ میں اور آر ایس ایف سوڈان میں "دفاع” کے نام پر اجتماعی قتلِ عام کر رہے ہیں، تو سوال یہ نہیں کہ مظلوم کون ہے بلکہ یہ ہے کہ قانونِ انسانیت کہاں ہے؟ یہ وہ لمحہ ہے جب اقوامِ متحدہ کی قراردادیں محض کاغذی نوحے معلوم ہوتی ہیں، اور عالمی عدالتِ انصاف کے دروازے مظلوموں کے لیے نہیں، طاقتوروں کے اشارے کے منتظر نظر آتے ہیں۔ سوڈان اور غزہ کی کہانیاں دراصل ایک ہی سانحے کے دو باب ہیں جہاں ظلم مختلف جغرافیوں میں جنم لیتا ہے، مگر اس کا سیاسی جواز اور اخلاقی بے حسی ایک ہی مرکز سے پھوٹتی ہے۔ اور شاید تاریخ ایک دن لکھے کہ جب زمین خون سے بھر گئی تھی، تب انصاف کے ایوانوں میں خاموشی کے چراغ جل رہے تھے۔
سوڈان کے موجودہ بحران میں اسرائیل کی دلچسپی محض وقتی سیاسی روابط یا عسکری تعلقات کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پسِ منظر میں گہرے تزویراتی مقاصد اور بعید المدى جغرافیائی حکمتِ عملی کارفرما ہے۔ ماہرین کے مطابق، اسرائیل کی نظریں سوڈان پر اس لیے بھی مرکوز ہیں کہ یہ ملک بحیرۂ احمر کے ساحل پر ایک نہایت اہم محلِ وقوع رکھتا ہے، ایسا محلِ وقوع جو نہ صرف افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہے بلکہ بین الاقوامی بحری تجارت، توانائی کی ترسیل، اور عالمی طاقتوں کی رسہ کشی میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔
بحیرۂ احمر، جو خلیجِ عدن سے لے کر سویز کینال تک پھیلا ہوا ہے، آج عالمی سیاست کا نیا تزویراتی محور بنتا جا رہا ہے۔ اس خطے میں اسرائیل کی موجودگی اسے ایران کے سمندری اثرات پر نظر رکھنے، چینی سرمایہ کاری کی پیش رفت کو محدود کرنے، اور بحری راستوں پر انٹیلی جنس کنٹرول حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ چنانچہ، سوڈان کا ساحلی خطہ اسرائیل کے لیے صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ سکیورٹی، انٹیلی جنس، اور طاقت کے توازن کا سنگِ میل بن چکا ہے۔ افریقی محقق کے بقول: "سوڈان اسرائیل کے لیے قرنِ افریقہ (Horn of Africa) اور ساحل (Sahel) کی وسعتوں تک رسائی کا دروازہ ہے۔ یہ خطہ شمالی افریقہ، خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک قدرتی پل کی حیثیت رکھتا ہے، اور جس کے ذریعے اسرائیل اپنے علاقائی اور عالمی مفادات کو بیک وقت محفوظ کر سکتا ہے”۔
اسرائیل نے سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل برہان اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر حمیدتی دونوں کے ساتھ تعلقات استوار کر کے ایک دو رخی سفارتی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد یہ ہے کہ اگر ملک میں طاقت کا توازن کسی بھی سمت جھکے، اسرائیل اپنے اثر و نفوذ سے محروم نہ ہو۔ یوں، ایک طرف اسرائیل سفارتی لچک کا مظاہرہ کرتا ہے، تو دوسری طرف اقتدار کی ہر ممکن سمت میں اپنی جڑیں مضبوط کر کے اپنے مفادات کو دوام دیتا ہے۔ تاہم، یہ توازن قائم رکھنے کی سیاست بظاہر ایک ہوشیار سفارتی چال دکھائی دیتی ہے، لیکن دراصل اس نے بین الاقوامی احتسابی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب سوڈان کی خانہ جنگی صرف ایک داخلی بحران نہیں رہی بلکہ علاقائی طاقتوں کی باہمی رقابت کا منظرنامہ بن چکی ہے جہاں اسرائیل، ایران، ترکیہ، مصر اور خلیجی ریاستیں اپنے اپنے مفادات کے دائرے میں اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سوڈان کے جلتے ہوئے میدانوں میں آج صرف سوڈانی عوام کا خون نہیں بہہ رہا، بلکہ یہ بحیرۂ احمر کی جغرافیائی سیاست کا وہ سنگین مرحلہ ہے جہاں طاقت، تجارت، اور تزویراتی تسلّط کی عالمی دوڑ ایک نئے رخ کے ساتھ سامنے آ رہی ہے۔
الفاشر کے ملبوں سے اٹھنے والی چیخیں اب صرف سوڈان کی نہیں رہیں، یہ پوری انسانیت کی چیخیں ہیں۔ وہ انسانیت جو طاقت کے ایوانوں میں سود و زیاں کی میز پر نیلام ہو چکی ہے۔ آج بحیرۂ احمر کے کنارے بہتا ہوا خون ہمیں یہ یاد دلا رہا ہے کہ جنگ صرف توپ اور گولی سے نہیں، خاموشی اور مصلحت سے بھی لڑی جاتی ہے۔ اور جب ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کر لی جائے، تو تاریخ ہمیشہ اس خاموشی کو جرم کے برابر ٹھہراتی ہے۔ سوڈان کے صحراؤں میں بکھری ہوئی لاشیں، غزہ کی مٹی میں دفن معصوم بچّے، اور دنیا کے ضمیر پر چھائی سرد مہری، یہ سب ایک ہی داستان کے مختلف ابواب ہیں۔ یہ داستان بتاتی ہے کہ جب طاقتور قومیں اپنے مفاد کو اخلاق پر ترجیح دیتی ہیں، تو انسانیت کا جنازہ بین الاقوامی معاہدوں کے کاغذوں میں لپٹ کر دفن کر دیا جاتا ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ مجرم کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ ناظر کون ہے؟ وہ دنیا، جو انصاف کے نعرے بلند کرتی ہے، آج خون آلود زمینوں سے نظریں کیوں چرا رہی ہے؟ اگر الفاشر، غزہ، اور دوسری لہو رنگ وادیوں میں بہتا ہوا خون ہمیں بیدار نہیں کرتا، تو شاید وہ دن دور نہیں جب انسان اپنے ہی بنائے ہوئے نظامِ انصاف سے خوف کھانے لگے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ عالمی ضمیر اپنے مصلحتی خول سے باہر نکلے۔ ظلم کے مقابلے میں غیر جانبداری بھی ظلم ہے، اور خاموشی سب سے بڑا جرم۔ دنیا کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ امن قراردادوں سے نہیں، عدل سے پیدا ہوتا ہے۔ اور جب تک عدل کو عالمی سیاست میں اس کا مقام واپس نہیں ملتا، الفاشر کے قبرستانوں سے لے کر غزہ کے ملبوں تک، زمین انسانوں کے خون سے رنگی رہے گی اور آسمان، ان کی مظلومیت کا گواہ۔
تاریخ خاموش نہیں رہتی؛ وہ لکھتی ہے، اور جو لکھتی ہے، وہ مٹتا نہیں۔ آج سوڈان کے الفاشر میں گونجتی چیخیں دراصل غزہ، حلب، صنعاء اور کابل کی چیخوں کا تسلسل ہیں۔ یہ ایک ہی ظلم کی مختلف تجلیات ہیں، ایک ہی سچائی کی مختلف تصویریں کہ طاقت کی دنیا میں کمزور کا خون سستا ہے، اور انصاف کی میزان ہمیشہ جھک جاتی ہے جہاں زر و زور کا سایہ پڑ جائے۔ وقت گزر جائے گا، مگر تاریخ اس سیاہ دور کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ خونِ مظلوم ہمیشہ پکار اٹھے گا! "گندم از گندم بروید جو ز جو، از مکافاتِ عمل غافل مشو!”
"اے ربّ العالمین! تو مظلوموں کی آہوں کا سننے والا ہے، ان کے آنسوؤں کا حساب لینے والا ہے۔ اس آگ کی لپیٹ کو ان ظالم و عیاش حکمرانوں کے اونچے محلوں تک پہنچا دے، تاکہ انہیں بھی احساس ہو کہ خونِ مظلوم رائیگاں نہیں جاتا”۔
(02.11.2025)
Like this:
Like Loading...