Skip to content
الیکشن کا موسم ہے مسلمان پھر سے یاد آئے !
ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
ہمارا ملک ہندوستان دنیا کا ایک عظیم جمہوری ملک ہے اور اس کے جمہوری ملک ہونے پر ہم ہندوستانی فخر بھی کرتے ہیںکیونکہ جمہوریت میں عوام کو اپنے وؤٹ کے ذریعہ اپنے من پسند قائد اور حاکم منتخب کرنے کی آزادی حاصل رہتی ہے،ووٹ کو جمہوری ملک میں ایک طاقتور ترین غیر متشدد ہتھیار مانا جاتا ہے،ووٹنگ کے ذریعہ شہری حکومت پر اپنی ملکیت کا احساس رکھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر حق رائے دہی کے ذریعہ خاطر خواہ تبدیلی بھی لاسکتے ہیں کیونکہ جمہوریت میں ووٹ ہی ہر منصب کا فیصلہ کرتا ہے کہ کون حاکم بنے گا اور کون محکوم؟ کون وزیر اعلیٰ بنے گا اور کون وزیر اعظم؟ ، انتخابات میں حصہ لینے والا شخص ملک وملت کے لئے مفید اور خیر خواہ ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں، شہری اپنے ووٹ کے ذریعہ اسے حکومت کے عہدہ ومنصب پر فائز کر نے کی بھر پور طاقت رکھتے ہیں اور جو شخص ووٹ کے ذریعہ حکومت کے عہدہ ومنصب پر فائز ہوکر اس عہدہ کا ناجائز استعمال کرتا ہے اور اس کا استحصال کرتا ہے تو انتخابات میںاسے ووٹ کی طاقت کے ذریعہ عہدہ ومنصب سے بے دخل بھی کر سکتے ہیں ، جمہوریت اور اس کے دستوری ڈھانچے پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ووٹ میں غیر معمولی اور غضب کی طاقت ہے،ووٹر اسی طاقت کے ذریعہ نمائندوں کو بدلنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے،ووٹ کے بنیادی پانچ فائدے ہیں (۱) جمہوریت کی بقا(۲) دستور کاتحفظ(۳)سچے حکمران کا انتخاب (۴) شہری حقوق کا تحفظ(۵) اورنااہلوں کی چھٹی۔
ملک کے دستور نے شہریوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دے کر ان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد کی ہے، ووٹ کی قدر وقیمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی نااہل لالچی شخص عہدہ سنبھال کر اس کا استحصال کرتا ہے اور حق داروں کے حقوق پامال کرتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے وقت ووٹر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بحیثیت شہری اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرے اور جذبات کے بجائے غیر جانبدار ہوکر ملک وملت کے مفاد کی خاطر سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا ووٹ ڈالے ، جذباتی بن کر ووٹ ڈالنا یا غیر ذمہ دار شخص کو ووٹ دینا درحقیقت ووٹ کا غلط استعمال کرنا ہے ،یا حق رائے دہی سے دوری اختیار کرنا درحقیقت اپنی ذمہ داری سے جی چرانا بلکہ ایک طرح سے نااہلوں کو موقع فراہم کرنا اور شہریوں کو تکلیف میں مبتلاکرنے کے مترادف ہے ، ووٹر کی ذمہ داری ہے کہ ووٹ اسی شخص کو دے جو سچا خادم بن کر اور ذمہ داری کا پورا احساس رکھ کر کام کرنا جانتا ہے اور جس طرح انتخابات کے موقع پر گلی کوچوں کا چکر لگاتا ہے اسی طرح منتخب ہونے کے بعد بھی عوامی فکر میں گلی گلی چکر لگانے کا حوصلہ رکھتا ہو ، ووٹ ڈالتے وقت ووٹرکی ذراسی غلطی آگے چل کر ایک بڑا حادثہ بن جاتی ہے اور پھر اس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔
سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور اس کے اڑوس پڑوس ممالک اور یورپ کے جمہوری ممالک اور ان کی عوامی سوجھ بوجھ میں کافی فرق نظر آتا ہے ،یورپ وغیرہ میں انتخابات کے موقع پر سیاسی پارٹیوں کی جانب سے جو منشور جاری کیا جاتا ہے عوام اس کا پہلے باریک بینی سے جائزہ لیتی ہے پھر امیدوار وں کی لیاقت اور قائدانہ صلاحیت پرکھتی ہے اورپھر اس کی روشنی میں غور وفکر کرتی ہے کہ ان میں سے کونسی پارٹی اور کونسا امیدوار عوامی خدمت اور عہدوں کے لئے زیادہ مفید اور کار آمد ثابت ہوسکتاہے ،اس کے بعد متحدہ طور پر کسی ایک کی تائید وحمایت کرتی ہے،یہی وجہ ہے کہ بعد میں انہیں اس کا بھر پور فائدہ حاصل ہوتا ہے ،برخلاف عام طور سے ہمارے یہاں امید واروں کی صلاحیت وسیاسی حکمت وبصیرت دیکھی جاتی ہے اور نہ ہی منشور پر نظر ڈالی جاتی ہے بلکہ جذباتی نعروں ،ناقابل فہم وعدوں اور چہروں اور شور میں گم ہوکر بلا سونچے سمجھیں ووٹ دیا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یورپ وغیرہ میں ووٹ ڈال کر عوام اگلے الیکشن تک گھروں میں پر سکون زندگی گزارتے ہیں اور منتخب نمائندے گھروں سے باہر نکل کر ان کی خدمت میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ہمارے یہاں اول تو حق رائے دہی کے لئے گھروں سے نکلتے ہی نہیں اور جو نکلتے ہیں وہ قیمتی ووٹ کی قیمت نہیں سمجھتے جس کے نتیجہ میں الیکشن کے بعد نمائندے گھروں میں پر سکون زندگی گزارتے ہیں اور عوام گھروں سے نکل کر دردر کی ٹھوکریں کھاتی پھر تی ہیں ، اس لئے بصیرت رکھنے والوں نے سچ کہا ہے کہ سنجیدہ اور زندہ قو موں کی علامت یہ ہے کہ وہ پہلے لیڈران کو تولتی ہے پھر ووٹ ڈالتی ہے۔
جمہوریت میں ووٹ کی غیر معمولی قدروقیمت اور بلاکی طاقت ہوتی ہے، کاغذ کے ایک چھوٹے سے پرزہ پر ایک تائیدی مہر یا ووٹنگ مشین پر لگایا گیا ایک بٹن امیدوار کی قسمت بدل کے رکھ دیتا ہے،آن واحد میں بونا،پست قد قدآور بن جاتا ہے اور قدآور بونا اور چھوٹا ہوجاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اور ان کے امیدوار ووٹ کے حصول کے لئے نت نئے طریقے اپناتے ہیں اور عوام کو لبھاکر اپنی طرف راغب کرتے ہیں، بعض سیاسی جماعتوں اور بعضے امیدواروں کا طریقہ تو غیر مہذب بلکہ انتہاء درجہ کا گھٹیا ہوتا ہے جس سے ان کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے ،وہ اس طرح کی حرکت کرکے خود کے ساتھ ووٹ کی قدر و قیمت گھٹاتے ہیں جس سے عوام بدظن اور جمہوریت شرمسار ہوجاتی ہے ،مثلا جھوٹے وعدے کرنا،روپئے دے کر ووٹ خریدنا،مذ ہب کے نام پر ووٹ مانگنا ،ووٹنگ مشینوں میں الٹ پھیر کرنا وغیرہ وغیرہ، یہ وہ غیر جمہوری وغیر اخلاقی گھناونی حرکتیں ہیں جس سے جمہوریت شرمندہ ہوتی ہے ، ووٹ سے اعتماد اٹھ جاتا ہے ،سنجیدہ قسم کے لوگ ووٹ دینے سے کتراتے ہیں اور سب سے بڑی بات جمہوریت کا مقصد فوت ہوجاتا ہے ،اسی کو ووٹ میں کھوٹ کہاجاتا ہے ۔
جمہوری ممالک میں چونکہ عوام ووٹ کے ذریعہ اپنے قائد ین کا انتخاب کرتی ہے اور انہیں حکومت چلانے کی ذمہ داری دیتی ہے اس لئے نمائندہ کا انتخاب،حکومت کی تشکیل اور ملک کی ترقی وخوشحالی کے لئے عوامی ووٹ بڑی قدر وقیمت رکھتا ہے ،بسا اوقات ایک ووٹ امیدوار کے ساتھ حالات کی تبدیلی کا سبب بن جاتا ہےاس لئے اہل علم نے ووٹ کے استعمال کو ملکی ،ملی اور قومی فریضہ قرار دیا ہے، اہل علم نے ووٹ کی چار حیثیتیں بیان کی ہیں (۱) شہادت(۲)امانت (۳)وکالت (۴) سفارش، اس لئے خاص کر ملک میں بسنے والے ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال کرے ، آدمی اپنی ضرورت کے لئے چھابین کرکے کوئی سامان خریدتا ہے اور خرید نے سے پہلے اس کے نفع اور نقصان سے مکمل واقفیت حاصل کرتا ہے اور سچا مسلمان تو حلال وحرام کی تمیز کرنے بعد ہی اسے حاصل کرتا ہے اسی طرح خاص کر ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ ووٹ کا استعمال سوجھ بوجھ کر کرے اور ایسے شخص کو ووٹ دے جو اپنے اندر انسانیت کا درد رکھتا ہو، سچا اورامانت دار ہو، ملک وملت کی خدمت کا جذبہ رکھتا ہو اور سب سے بڑھ کر مخلص اور عہدہ کا صحیح استعمال کرنے ولا ہو،ملک کے موجودہ حالات میں ووٹروں اور بالخصوص سنجیدہ شہریوں کے کندھوں پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تعصب پرست، فرقہ پرست ذہنیت کے حامل اور سخت مزاج لوگوں کوناکام کرے اور جمہوریت پسند اور حقیقی سیکولر مزاج رکھنے والوں کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرتے ہوئے انہیں کامیاب کرنے کی کوشش کریں ، مگر یاد رکھیں اس کا فیصلہ اور متحدہ طور پر ووٹ کا صحیح استعمال کوئی آسان کام نہیں ہے بلکہ اس کے لئے مستقل کوشش کی ضرورت ہے ،اس کی سب سے بہترین شکل یہ ہوگی کہ وہ تنظیمیں جو ملکی اور سیاسی حالات پر گہری نظر رکھتی ہوں ، جنہیں سیاسی بصیرت حاصل ہے اور جو مستقبل میں رو نما ہونے والے حالات کو اپنی بصیرت کی آنکھوں سے دیکھتی ہوں وہ تنظیمیں پہلے سیاسی جماعتوں کے منشور کا بغور جائزہ لیں اور ہو سکے تو ان سے بات چیت کرتے ہوئے ان سے اس بات کا تیقن حاصل کریں کہ وہ مسلمانوں اور دیگر مظلوم طبقات کے لئے وہ سارے حقوق دلوانے کی کوشش کریں گے جو دستور نے ان کو دیا ہے ،اس طرح کی فکر اور حکمت عملی کے ساتھ جب ووٹ دیا جائے گا تو اس کا خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوگا اور ووٹ ڈالنے کا جو مقصد ہے اس میں عوام کو کامیابی حاصل ہوگا ،اللہ تعالیٰ نے انفرادیت کے مقابلہ میں اجتماعیت میں بڑی طاقت رکھی ہے ،انفرادیت میں وہ نفع نہیں ہے جو اجتماعیت میں ہوتا ہے ،اللہ تعالیٰ کی رحمت ان پر ہوتی ہے جو اجتماعی قوت وطاقت بن کر رہتے ہیں ،رسول اللہ ؐ کا ارشاد گرامی ہے :اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہے (ترمذی: ۲۱۶۶)۔
اس وقت ملک کی بڑی ریاست بہار اور دیگر صوبوں میں انتخابات کا موسم شباب پر ہے،اسی طرح تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے جوبلی ہلز حلقہ کا ضمنی انتخاب عروج پر ہے ،وہاں سے لے کر یہاں تک اور یہاں سے لے کر وہاں تک علاقائی اور مرکزی سیاسی جماعتیں متحرک ہیں اور ایک ایک حلقہ کی کامیابی کو وقار کا مسئلہ بنائے ہوئے ہیں،عوام سے بڑے بڑے وعدہ کئے جارہے ہیں ،حکمران اور سیاسی قائدین ایک دوسرے پر الزامات لگارہے ہیں اور سخت وسست جملے استعمال کر رہے ہیں ،سیاسی جماعتوں کے کارکنان اپنی اپنی پارٹی کے جھنڈے لئے کر گلی کوچوں میں گھوم رہے ہیں ،عوام کے دروازوں پر پہنچ کر اپنی پارٹی کے امیدوار کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کر رہے ہیں،اس وقت ہر سیاسی پارٹی ہمیشہ کی طرح مسلمانوں کے ووٹ کے حصول کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے، یہ لوگ گفتگو سے خود کو مسلمانوں کا انتہائی خیر خواہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں،کوئی ٹوپی پہن کر تو کوئی گلے میں رومال ڈال کر تو کوئی ماشاء اللہ ،سبحان اللہ جیسے مذہبی جملے استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، مسلمانوں کا بھولا پن کہئے یا شعور کا فقدان کہئے کہ باربار ٹھوکر کھانے کے باوجود ان کے دلفریب باتوںمیں گھر جاتے ہیں ،وہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی محبت غرضی اور فرضی ہے ، سچ یہ ہے کہ ان کی محبت صرف انتخابات تک ہی محدود ہے ،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک مسلمان صرف ووٹ بینک ہیں اور سیاسی جماعتوں کو مسلمان صرف اور صرف انتخابات کے وقت یاد کرتے ہیں ، آخر یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا؟آخر مسلمانوں کا استحصال کب تک ہوتا رہے گا؟ آخر انہیں سبز باغ کب تک دکھایا جاتا رہے گا؟ اور ان کے ووٹوں سے سیاسی روٹیاں کب تک سیکھی جاتی رہیں گی ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے بارے میں مسلمانوں اور ان کے بڑوں کو سنجیدگی سے سونچنے کی ضرورت ہے،مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جذباتی اور میٹھی باتوں میں بہت جلد گرفتار ہوجاتے ہیں اور لفظوں سے متاثر ہوکر اپنی اتحادی قوت کھودیتے ہیں،افسوس تو اس بات پر ہے کہ ملکی حالات کے تیزی سے بدلنے کے باوجود مسلمان سنجیدہ ہونے سے قاصر ہیں ،مسلمان چاہے تو سنجیدہ ہوکر متحدہ طور پر اپنی ایک طاقت بناسکتے ہیں اور اس کے ذریعہ سیاسی منظر نامہ بدل سکتے ہیںاور اپنے اوپر ہونے والی ناانصافیوں اور ظلم وتشدد کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں نے اب تک کچھ نہیں ہے ،مسلمان اور ان کے آباواجداد نے بہت کچھ کیا ہے اور حالات کو بہتر سے بہتر کرنے کے لئے بہت کچھ کر سکتے ہیں مگر اس کے لئے سب سے پہلے انہیں اپنے اختلافات بالائے طاق رکھنا ہوگا،کسی نہ کسی پر اعتماد کرنا ہوگا ،بدگمانی کے خول سے باہر نکلنا ہوگااور اپنے اندر سیاسی شعور پیدا کرنا ہوگا اور زندہ قوموں کی طرح دور اندیشی جگانی ہوگی ،یاد رکھیں جب تک مسلمان متحدہ طور پر فیصلہ نہیں کرتے اور سیاست میں اپنی الگ پہچان نہیں بناتے اس وقت تک وہ کماحقہ اپنے حقوق بھی حاصل نہیں کر سکتے ،اس کے لئے انہیں دیگر سنجیدہ طبقات کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا اور دوٹوک انداز میں سیاسی پارٹیوں کے سامنے اپنی بات رکھنی ہوگی اور انہیں صاف لفظوں میں بتانا ہوگا کہ ان کی تائید وحمایت اسی وقت تک ممکن نہیں جب تک ان سے اپنے حقوق کے ملنے کا تیقن نہ کرلیا جائے، ہماری کمزوریوں سے سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین بخوبی واقف ہو چکے ہیں اور اسی کمزوری کا فائدہ اٹھارہے ہیں،مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی الندوی المعروف علی میاں ندویؒ نے کئی برس پہلے بہت ہی اہم بات ارشاد فرمائی تھی کہ مسلمانوں کو دنیوی سرخروئی اور آخروی کامیابی کے لئے جہاں دینی مسائل کا جاننا اور اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے ٹھیک اسی طرح ملک میں اپنی بقا اور روشن مستقبل کے لئے ملکی حالات سے واقفیت اور سیاسی بصیرت ضروری ہے،اگر مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا اور خواب غفلت میں پڑے رہے تو دن بدن حالات کٹھن اور زندگی مشکل ترین ہوجائے گی،حضرت مفکر اسلامؒ سچ فرمایا ہے لہذا مسلمانوں اور خاص کر ان کے رہنماؤں اور قائدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئےایسا قدم اٹھائیں جو ملک وملت اور خاص طور سے مسلمانوں کے لئے نفع بخش ہو اور آگے چل کر مسلمانوں سے ان کے حقوق کوئی چھین نہ سکے ؎
حالات پر رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوتا
کوشش کرنے سے حالات بدل سکتے ہیں
Like this:
Like Loading...