Skip to content
مون ورت بمقابلہ منہ پھٹ:
یاربے وفا کی عیاریاں
طنز و مزاح نگار: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
ہمارے بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ دوستی اور پاجامے کے ناڑے میں ایک قدرِ مشترک ہے۔ دونوں جب تک نبھیں، دنیا جنت لگتی ہے، اور جب بیچ چوراہے دغا دے جائیں تو عزت بچانا محال ہو جاتا ہے۔ خصوصاً وہ دوستی جو عوامی نمائش کے لیے کی جائے، اس کی مثال اس چینی گلدان کی سی ہے جو ڈرائنگ روم کی زینت تو ہوتا ہے مگر ہر آنے جانے والے کی ٹھوکر کی زد میں بھی رہتا ہے۔
اب آپ ہی بتائیے، ہم ٹھہرے پرانی وضع کے انسان! ہماری سمجھ میں تو آج تک یہ نہیں آیا کہ شطرنج میں گھوڑا ڈھائی گھر ہی کیوں چلتا ہے، تو بھلا عالمی سیاست کی یہ ٹیڑھی چالیں کیا خاک سمجھیں گے!
یہی سوچ کر جب ہم نے اخبار میں صدر ٹرمپ کا ’’آٹھویں جہاز‘‘ والا بیان پڑھا تو سیدھے اپنے دوست آرام دیو کے ہاں پہنچے۔ آرام دیو، جو یوگا کے آسن سے زیادہ سیاست کے پینتروں پر گہری نظر رکھتے ہیں، اس وقت اپنے باغیچے میں آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے۔ ہم نے اخبار ان کے سامنے رکھتے ہوئے کہا،
”آرام دیو جی! یہ کیا تماشا ہے؟ کل تک تو ’دو جسم ایک جان‘ کا عالم تھا، آج ایک دوست دوسرے کی عزت سرِعام نیلام کر رہا ہے!”
آرام دیو نے اخبار پر ایک سرسری نگاہ ڈالی، آنکھیں موندیں، ایک لمبی سانس لی اور بولے،
”میاں، پریشان کیوں ہوتے ہو؟ جب تعلقات میں شیرینی حد سے بڑھ جائے تو شوگر کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، اور جلد یا بدیر پرہیز کی نوبت آ ہی جاتی ہے۔ یہ دوستی نہیں، وقار کا عالمی نیلام ہو رہا ہے۔ بولی لگ رہی ہے، تم تماشا دیکھو۔”
وہ گلے ملنا، وہ ایک دوسرے کی شان میں قصیدے پڑھنا، وہ عوامی جلسوں میں ایک دوسرے کو ’عظیم دوست‘ قرار دینا، دیکھ کر ہمیں بھی گمان ہونے لگا تھا کہ شاید ہم ہی غلط تھے۔ سچ پوچھیے تو ”ہاؤڈی مودی” جلسے کے بعد ہم نے بھی اپنے دوستوں میں اس دوستی کی بڑی تعریفیں کی تھیں، اور اب آرام دیو کے سامنے شرمندہ بیٹھے تھے۔
آرام دیو گویا ہوئے،
”صدر ٹرمپ ایک ایسے شاطر نیلام کنندہ کے روپ میں سامنے آئے ہیں جو اپنے دوست کے ’قومی وقار‘ کی سرِعام بولی لگا رہا ہے۔ اور بولی بھی کیسی؟ ’آپریشن سندور‘ کی آڑ میں۔ نام کی خوبی ملاحظہ کیجیے — ’سندور‘ جو سہاگ کی علامت ہے، اب عالمی بدشگونی کا استعارہ بن گیا ہے۔ نیلامی شروع ہوئی: ’پانچ گرے ہوئے ہوائی جہاز… کون دے گا اس سے زیادہ سچی خبر؟… چھ جہاز… سات جہاز… اور یہ رہی آخری بولی؛ آٹھ جہاز!‘”
ہم نے بے چینی سے کہا،
”مگر یہ تو سراسر مہمل پن ہے! روز ایک جہاز بڑھا دینا؟”
”بالکل!” آرام دیو نے آنکھیں کھولیں،
”مطلق العنانیت کی سب سے بڑی نشانی ظلم نہیں، مہمل پن ہی ہے۔ تاریخ میں اس کی سب سے بڑی مثال کیلیگولا اور اس کا گھوڑا ہے۔ اس نے گھوڑے کو کونسل اس لیے نہیں بنایا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا تھا، بلکہ اس لیے کہ وہ انسانوں اور ان کے بنائے ہوئے اداروں کی تذلیل سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ یہ اعلان تھا کہ ’تمہاری ساری عقل اور دانش میرے گھوڑے کی ایک ہنہناہٹ پر قربان ہے‘۔ صدر ٹرمپ کا روز ایک جہاز بڑھا دینا بھی ایک ایسا ہی مہمل عمل ہے۔ اس کا مقصد حقیقت بیان کرنا نہیں، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ ’میں جو چاہوں کہہ سکتا ہوں، اور تم چپ رہنے پر مجبور ہو‘۔ اس دور میں گھوڑا کونسل بنا تھا، آج کل سچائی کو گھوڑا بنا کر اس کی تذلیل کی جا رہی ہے، اور پوری دنیا اس تماشے پر تالیاں بجا رہی ہے۔”
”اور پردھان منتری جی کا تو پوچھیے ہی مت!” ہم نے لقمہ دیا،
”انہوں نے تو ایسی چپ سادھ رکھی ہے…”
آرام دیو مسکرائے،
”لگتا ہے قومی وقار کی حفاظت کے لیے ’مون ورت‘ پر بیٹھ گئے ہیں۔ ان کے بھکت تو اسے ہی ’وشو گرو ڈپلومیسی‘ کہہ رہے ہیں۔” وہ رکے، پھر آنکھ مار کر بولے،
”میاں، یہ کوئی معمولی ورت نہیں۔ میں نے ایک پرانے گرنتھ میں پڑھا تھا کہ ایک ایسا یوگی بھی ہوتا ہے جو اپنی سانس روک کر کائنات کی گردش کو بھی روک سکتا ہے۔”
ہم نے پوچھا،
”تو کیا پردھان منتری جی بھی…؟”
آرام دیو نے ہنس کر کہا،
”کائنات کا تو مجھے معلوم نہیں، البتہ پورے ملک کی زبان ضرور روک دی ہے۔ رہی بات ٹرمپ کی، تو شاید سمندر پار ہونے کی وجہ سے روحانی لہریں وہاں تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ دیتی ہیں۔”
یہ سن کر ہم بھی قائل ہو گئے کہ واقعی، یہ کوئی روحانی معجزہ ہی ہے۔
آرام دیو نے اپنی داڑھی میں انگلی گھمائی اور بولے،
”میاں! پرانے وقتوں میں تاریخ فاتح لکھا کرتے تھے۔ اب تاریخ وہ لکھتا ہے جس کا ٹوئٹر اکاؤنٹ سب سے زیادہ پیروکار رکھتا ہو۔ سچائی اب کوئی مطلق حقیقت نہیں رہی؛ یہ تو ایک ’اسٹریمنگ سروس‘ بن چکی ہے، جس کا سبسکرپشن آپ کی جغرافیائی اور سیاسی وفاداری پر منحصر ہے۔ مجھے تو اندیشہ ہے کہ کل کلاں کو گوگل میپس بھی آپ کو راستہ دکھانے سے پہلے پوچھے گا: ’حضرت! پہلے یہ تو واضح فرمائیے کہ آپ کس ملک کے آفیشل بیانیے کو سبسکرائب کرتے ہیں؟‘”
پھر وہ گویا ہوئے،
”اور اس نیلامی کے تماشائی بھی کچھ کم دلچسپ نہیں۔ اقوامِ متحدہ کے کیفے ٹیریا کا منظر سوچو۔ چینی سفیر روسی ہم منصب سے سرگوشی میں کہہ رہا ہوگا، ’دیکھا! دوستی نبھانا سب کے بس کی بات نہیں۔ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ یہ ”میڈ اِن چائنا” نہیں جو سالہا سال چلے۔‘ اس پر روسی سفیر نے ٹھنڈی آہ بھر کر جواب دیا ہوگا، ’ہمارے ہاں بھی سرد جنگ کے زمانے میں ایسی دوستیوں کے چرچے تھے، جو ایک ہی میزائل ٹیسٹ کی نذر ہو گئیں۔‘”
ہم نے بے چینی سے پوچھا،
”آرام دیو جی، تو پھر پردھان منتری جی جواب کیوں نہیں دیتے؟ کہہ دیں کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں!”
آرام دیو نے قہقہہ لگایا،
”میاں، تم سیاست نہیں سمجھتے۔ تم اسے شطرنج سمجھ رہے ہو، یہ تین پتی کا کھیل ہے۔ اگر وہ کہیں کہ ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں تو ٹرمپ ثبوت لے آئیں گے، اور ثبوت نہ بھی ہوئے تو ثبوت بنا لیں گے۔ اور اگر وہ مان لیں کہ ہاں، آٹھ جہاز گرے تھے، تو چھپن انچ کی چھاتی کا کیا ہوگا؟ وہ تو پچیس چھبیس انچ کی رہ جائے گی۔ اس لیے سب سے محفوظ راستہ خاموشی کا ہے۔ نہ اقرار، نہ انکار۔ بس ایک لمبی، گہری، پراسرار چپ، جس کا مطلب ہر کوئی اپنی اپنی سمجھ اور ضرورت کے مطابق نکالتا رہے۔”
”تو پھر فضائیہ کے سربراہ کو کیوں آگے کیا گیا؟” ہم نے سوال کیا۔
”ارے میاں!” آرام دیو نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا،
”جب گھر کے بڑے کی عزت داؤ پر لگی ہو تو کسی نہ کسی ملازم کو ہی آگے کیا جاتا ہے۔ انہیں ایک ایسی پریس کانفرنس میں بٹھا دیا گیا جہاں چائے کے ساتھ بسکٹ تو تھے، مگر بسکٹوں میں نمک اس قدر زیادہ تھا کہ قومی سلامتی کے تمام معاملات پھیکے لگنے لگے۔ انہوں نے ایک لکھا ہوا بیان پڑھتے ہوئے فرمایا کہ جنگ روکنے کا فیصلہ صرف اور صرف ہمارا اپنا تھا۔ گویا وہ نیلام کنندہ کو یاد دلا رہے تھے کہ ابھی مال بکا نہیں ہے، صرف بھاؤ تاؤ چل رہا ہے۔”
یہ کہہ کر آرام دیو اپنی جگہ سے اٹھے اور باغیچے میں ٹہلنے لگے۔
”میاں!” وہ چلتے چلتے بولے،
”یہ عالمی سطح پر جو تماشا ہو رہا ہے، یہ صرف دو رہنماؤں کی انا کی جنگ نہیں۔ یہ اس نئے دور کا اعلان ہے، جہاں سچائی، وقار اور تاریخ، سب قابلِ فروخت اشیاء ہیں۔ یہ ایک ایسا نیلام گھر ہے جہاں ہر ملک اپنی عزت بچانے کے لیے بولی لگانے پر مجبور ہے۔”
یہ کہہ کر آرام دیو خاموشی سے گلاب کے پودے کو دیکھنے لگے۔ میں نے پوچھا،
” تو پھر اس کہانی کا انجام کیا ہوگا؟”
انہوں نے گلاب کی ایک پنکھڑی کو انگلی سے چھوا اور بولے،
”میاں، کہانیاں ختم نہیں ہوتیں، صرف کردار بدل جاتے ہیں۔”
آرام دیو کی باتیں سنتے ہوئے ہم گھر کی طرف لوٹ رہے تھے۔
ہمارے ذہن میں اب آٹھ جہازوں کا شور نہیں تھا، بلکہ ایک گہری، تاریک خاموشی تھی۔
ہم سوچ رہے تھے کہ انسانیت کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہ نہیں کہ اس کے المیوں کی بنیاد مہمل وجوہات پر رکھی جاتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہر بار وہ انھی مہمل وجوہات کو نئی سنجیدگی سے قبول کر لیتی ہے۔
یہ دوستی کا ناڑا نہیں ٹوٹا تھا، یہ تو عقل اور دلیل کی وہ آخری ڈور تھی جو ہمارے ہاتھوں سے چھوٹ رہی تھی؛ اور ہم اسے پکڑنے کے بجائے ہوا میں تالیاں پیٹ رہے تھے۔
Like this:
Like Loading...
قابلِ ستائش لیکن میرے ناقص خیال میں ٹرمپ کی کچھ زیادہ ہی عزت اچھالی گئی ہے۔۔۔۔اور پردا ھنمنٹر ی جی کو تھوڑا سائڈ کردیا گیاہے ۔۔۔اور تحریر میں بار بار ایک ہے لفظ کا استعمال تھوڑے اور اچھے طریقے سے کیا جاسکتا ہے۔۔۔